ہندوستان کی تاریخ آزادی بالخصوص 1857کے بعد کا جائزہ لیا جائے تو بلا تامل یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستانی اخبارات نے اگر نوآبادیاتی نظام کے خلاف محاذ قائم نہ کیا ہوتا تو آج صورت حال مختلف ہوتی۔اس میں شک نہیں کہ نوآبادیاتی فکر نے ہندوستانی ذہن و دل پر گہرے نقوش ثبت کیے، انھیں نئے زاویے سے سوچنے اور غور و فکر کرنے پر مجبور کیا۔ ہمارے بعض علمائے ادب نوآبادیاتی ذہن سے اتنا مرعوب ہوئے کہ انھیں اپنے ادبی سرمائے سے سنڈاس کی بو آنے لگی۔ غرض کہ اپنی ادبی اور تہذیبی روایت پر شرمندگی کا احساس شدید ہوتا گیا۔ انھیں مشرق کی ہر شے لغو و بے کار اور غیر مہذب معلوم ہونے لگی، لیکن اس بھیڑ میں ایسے شعرا، ادبااور رہنما بھی تھے جو کسی صورت میں نوآبادیاتی ذہن یا طرز معاشرت کو قبول کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ لہٰذا انھوں نے اپنی مقدور بھر کوشش جاری رکھی اور اس نظام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے رہے۔
اخبار مدینہ بجنور جو یکم مئی 1912کو پہلی بار منظر عام پر آیا۔ اس اخبار نے بھی استعماریت کے خلاف آواز بلندکی۔ یہ ایک ہفتہ وار اخبارتھا جس نے بعد میں سہ روزہ کی شکل اختیار کرلی۔ مولوی مجید حسن نے مقدور بھر وسائل کا سہارا لیتے ہوئے اسے روزنامہ بنانے کی بھی سعی کی مگر آخری شمارے تک یہ سہ روزہ ہی رہا۔ پالیسی کے اعتبار سے یہ کانگریسی طرز خیال کا حامی تھا۔ زبان کافی صاف، سلیس اور رواں تھی جس کی وجہ سے تقریباً ہر عمر کے لوگ اس سے مستفیض ہوتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ اس کی اشاعت روز بہ روز بڑھتی چلی گئی، یہاں تک کہ اس کے شمارے بنگال، بہار، پنچاب، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، ہریانہ، دلی، کیرالا اور کشمیر وغیرہ میں باآسانی دستیاب ہونے لگے۔
جس زمانے میں اخبار مدینہ کا وجود عمل میں آیا اس وقت تک ”الہلال“ منظر عام پر آیاتھا نہ ہی ”ہمدرد“ اور ”زمیندار“ کی ادارت تو ابھی ظفر علی خاں نے سنبھالی ہی تھی۔ان اخبارات کا ذکرمیں نے اس لیے کیا ہے کہ بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں ان ہی اخبارات نے صحافت کے مزاج اور رنگ و آہنگ کو اس قدر تقویت بخشی کہ پوری صحافت کی تاریخ میں اس کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔ اس لحاظ سے اگر اس دور کو اردو صحافت کا دور زریں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ صحافت کی تاریخ میں اخبار مدینہ کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کہ بیسویں صدی کی دوسری دہائی سے آٹھویں دہائی تک وہ بدستور جاری رہا۔ اس دوران اس پر جرمانے بھی عائد کیے اور بندشیں بھی لگائی گئیں، لیکن اس کے باوجود اس کے ارادے متزلزل نہیں ہوئے، البتہ اشاعتی گراف میں کمی ضرور واقع ہوئی۔ مثال کے طور پر 7/مئی 1919کو حکومت کی جانب سے جب اخبار مدینہ پر یہ پابندی لگا ئی گئی کہ اس کے پرچے ریاست پنجاب میں فروخت نہیں کیے جاسکتے تو اس نے نام کی تبدیلی کے ساتھ اپناکام جاری رکھا، یعنی ”مدینہ“ کے بجائے ”یثرب“ کے نام سے شائع ہونے لگا۔ یثرب کے نام سے یہ اخبار 25/اگست 1919 تا 17/ستمبر1919تک جاری رہا۔ اس کے بعد اس نے اپنی پرانی شکل اختیار کرلی۔پنجاب میں داخلے کی نسبت سے اخبار مدینہ پر پابندی کیوں لگائی گئی اس کی طرف کوئی واضح اشارہ موجود نہیں۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ اخبار مدینہ کے سب سے زیادہ پرچے ریاست پنجاب میں ہی فروخت ہوتے تھے۔ اس امر کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس پر قدغن لگانے کی وجہ شاید اس اخبار کی ہردلعزیزی رہی ہو۔ ”غالباً جرائم کی فہرست میں ہر دلعزیزی بھی آج کل داخل کرلی گئی ہے۔“ [1] یا حکومت نے یہ خیال کیا ہو کہ مدینہ پریس کی سب سے زیادہ آمدنی چوں کہ ریاست پنجاب سے ہوتی ہے لہٰذاپنجاب کی آمدنی پر کسی طرح روک لگا دی جائے تو پریس کو مجبوراً بند کرنا پڑے گا اس طرح حکومت اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے گی۔ بہرحال جب حکومت کی جانب سے یہ نوٹس جاری ہوا کہ اخبار مدینہ کے پرچے پنجاب میں داخل نہیں ہوسکتے تو اخبار مدینہ نے فوراً اپنے مقاصد کا اعلان کیا تاکہ ان مقاصد کے پیش نظر حکومت برطانیہ کا رویہ اس کے تئیں کچھ نرم ہو اور اسے پنجاب میں داخلے کی اجازت مل جائے:
”اخبار مدینہ بجنور جو ہفتہ میں دو بار شائع ہوتا ہے۔ یہ اخبار دینی، اخلاقی، سیاسی اور وقتی ضرورتوں کا ذخیرہ، خبروں کا مجموعہ، قوم اور اسلام اور ملک کا سچا خادم، پیغمبر خداﷺ کی یاد کو تازہ کرنے والا، جذبات عشق خدا و نبی کی افزائش کرنے والاہے۔“[2]
اخبار مدینہ کے ذریعہ پیش کیے گئے ان مقاصد میں چوں کہ ایسی کوئی بات نہیں جو حکومت وقت کے منشا کے خلاف ہو، اس کے باوجود حکومت نے ایک نہ سنی۔ شاید حکومت اخبار مدینہ کے بیان کردہ مقاصد کی روح سے آگاہ ہوچکی تھی کہ جو اخبار دینی، اخلاقی اور سیاسی خبروں کا مجموعہ ہو، جو قوم، اسلام اور ملک کا سچاخادم ہو وہ کیوں کر استعمار کے ذریعہ ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز بلند نہ کرے گا؟یا نوآبادیاتی نظام کی تشہیر میں وہ کیوں کر معین و مددگار ثابت ہوگا؟وغیرہ وغیرہ۔اخبار مدینہ کے مختلف شماروں کے مطالعہ کے بعد ہم اس نتیجہ پر باآسانی پہنچ سکتے ہیں کہ اس اخبار کے تئیں نوآبادکاروں کا خیال بے جا نہ تھا۔ ابتدائی دور میں اخبار مدینہ نے حکومت کے تئیں گرچہ مصالحانہ رویہ اختیار کیا لیکن آہستہ آہستہ اس نے اپنے بال و پر نکالنے شروع کیے اور وقفہ وقفہ سے ایسے اداریے، مضامین اور کالم سامنے آئے جن سے اپنی تہذیب اورادبی تاریخ کے تئیں قدر کا جذبہ پیدا ہوا۔ ساتھ ہی اس اخبار نے نوجوان ذہنوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ مشرقیت پر مغربیت کا غلبہ کس حد تک قابل قبول ہے؟
جیسا کہ عرض کیا گیا ابتدا میں اس اخبار نے مصالحانہ طرز بیان اختیار کیا تھا جس کی واحد وجہ استعمار کا خوف تھا۔ مولوی مجید حسن جو اس اخبار کے روح رواں تھے چوں کہ انھیں گفتگو عوام سے تھی لہٰذا سردست یہی مناسب معلوم ہوا کہ اخبار کی ترقی یا اشاعت کے لیے ضروری ہے کہ مخالفت کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا جائے تاکہ براہ راست یا طنز و مزاح کے انداز میں عوام کو حکومت کی کارکردگیو ں سے متنبہ کیا جاسکے۔ ابتدا میں ہی اگر مخالفانہ رویہ اختیار کیا جاتا تو ممکن تھا کہ دیگر اخبارات کی طرح اس پر بھی جرمانے عائد کیے جاتے یا ضمانت ضبط کرلی جاتی۔شایدحکومت کے تئیں نرم گوشہ رکھنے کی وجہ سے پہلے شمارے سے آخری شمارے تک اخبار مدینہ بدستور شائع ہوتا رہا۔ مصالحانہ رویہ اختیار کیے جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مجید حسن نے یہ سوچا ہوکہ اگر حکومت کے ساتھ ہمدردی و اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے تو ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں اور انگریزوں کے مابین بگڑے ہوئے تعلقات استوار ہوسکتے ہیں۔ مگر یہ ایک خیال خام تھا۔ اخبار مدینہ نے عوام سے پُر زور اپیل کی:
”گورنمنٹ ہند کے زیر اثر رہ کر ہمیں جس قدر آزادی حاصل ہے اس کا منشا یہ ہے کہ ہم ہر وقت گورنمنٹ ہند کی خوشنودی کو اپنا نصب العین سمجھیں اور گورنمنٹ کی خیر خواہی کرتے رہیں۔“[3]
درج بالا اقتباس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انگریزی حکومت کے تئیں اخبار کی کیا پالیسی تھی۔ سوال یہ ہے کہ برطانوی حکومت کے زیر اثر ہندوستانیوں کو کون سی مراعات یا آزادی حاصل تھی جس کے باعث گورنمنٹ کی خوشنودی حاصل کی جاتی۔ اقتباس کا یہ جملہ ”ہمیں جس قدر آزادی حاصل ہے“ اس بات کی طر ف اشارہ کرتا ہے کہ نوآبادکاروں کے ذریعہ مقامی باشندوں کو جتنی بھی سہولیات میسر تھیں خواہ وہ سانس لینے تک ہی محدود کیوں نہ ہو، خیر خواہی کا دم بھرتے رہنا چاہیے۔ اقتباس کو پڑھ کر مدینہ پریس کے کارکنان پر استعماری قوتوں کے خوف اور ان کی برتری کو قبول کرنے کا بھی شدید احساس ہوتا ہے۔
اخبار مدینہ نے ابتدائی دور میں تواتر کے ساتھ اسی قبیل کے کئی مضامین اور اداریے شائع کیے جس میں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ نوآبادکاروں کے توسط سے ہندوستان نے ترقی کے کئی منازل طے کیے بلکہ یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ لہٰذا ہندوستانی عوام کو چاہیے کہ وہ حکومت کا دم بھرتے رہیں۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران جب خلافت عثمانیہ نے برطانیہ کے حق میں جنگ کا نعرہ بلند کیا تو اخبار مدینہ نے مصلحت کوشی کے پیش نظر ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں کو دولت عثمانیہ کے بجائے حکومت برطانیہ کا ساتھ دینے کی اپیل کی:
”دولت عثمانیہ یورپ کے ہولناک جنگ میں شامل ہوگئی ہے۔ ہم ترکی کے موجودہ روش کو ہرگز پسند نہیں کرتے اور نہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ برطانیہ سے برسرجنگ ہو کر سات کروڑ وفادار حکومت مسلمانان ہند کے جذبات کے خلاف کام کرے۔ دولت عثمانیہ سے ہمارا مذہبی رشتہ اخوت ہے اور برطانیہ سے دینی رشتہ عقیدت ہے اس لیے ہمارا فرض اس وقت بہت نازک ہوگیا ہے اور اب ہم بجز اس کے کچھ نہیں کرسکتے کہ کمال عقیدت کے ساتھ دولت برطانیہ کے وفادار رہیں اور کوئی حرکت اس قسم کی نہ کریں کہ ہماری وفاداری کو صدمہ پہنچے۔“[4]
اقتباس کا جملہ ”ہم ترکی کے موجودہ روش کو ہرگز پسند نہیں کرتے“ قابل غور ہے۔ یہ تحریر کرنے سے پہلے ان اسباب پر غور کرنا چاہیے تھا کہ آخر کیا وجہ تھی کہ ترکی کو برطانیہ کے خلاف محاذ قائم کرنا پڑا۔ واقعہ یہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران ترکی جنگ کے متعلق بالکل غیر جانبدار تھا لیکن اس کے باوجود برطانیہ نے ترکی کے دو جنگی جہاز جو برطانیہ کے ہی کارخانے میں تیار ہوئے اور جس کی قیمت ترکی ادا کرچکا تھا، ضبط کرلیے۔ دارالخلافہ قسطنطنیہ میں اس حادثے کا بہت ہی گہرا اثر پڑا۔ بالآخر ترکی اپنے حقوق کی حصولیابی کی خاطر جنگ کا حصہ بننے پر مجبور ہوگیا۔ ان عوامل کے پیش نظر اگر یہ کہا جائے کہ ”ہم ترکی کے موجودہ روش کو ہرگز پسند نہیں کرتے“ یا مذہبی رشتہ کے بجائے دینی رشتہ کو مقدم رکھنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں تو یہ استعماریت کے خلاف اپنی کمزوری اور کوتاہی ظاہر کرنے کے سوا کچھ نہیں۔
اخبار مدینہ نے حکومت عثمانیہ سے رشتہئ اخوت اوربرطانیہ سے رشتہئ عقیدت کی جو بات کی ہے اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ عقیدت کے نزدیک اخوت کی کوئی حیثیت نہیں، حالاں کہ جہاں مذہبی اور دینی رشتے کی بحث ہو وہاں اخوت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اخوت کا درجہ عقیدت سے مقدم ہے ؎
بنی آدم اعضای یک دیگرند
کہ در آفرینش زیک گوہرند
جو عضوی بہ درد آورد روزگار
دیگر عضوہا را نماند قرار
تو کز محنت دیگران بی غمی
نشاید کہ نامت نہند آدمی
قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے:
”جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔“[5]
آیت کریمہ میں واضح لفظوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ بلاوجہ کسی ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے تو پھر یہ کیوں کر ممکن ہے کہ برطانیہ جو بلاوجہ ترکوں کے خون کی دشمن بنا بیٹھا تھا، کی حمایت کی جائے۔ اخبار مدینہ نے فقط حمایت کی بات نہیں کی بلکہ ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں کو ہر اس عمل سے گریز اختیار کرنے کی تلقین کی جو ترکوں کی حمایت اورانگریزوں کی مخالفت کی طرف اشارہ کرتا ہو۔ جیسا کہ درج بالا سطور سے کسی حد تک اس امر کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ اخبار مدینہ نے مذہبی اور دینی رشتے کی بحث چھیڑ کر ہندوستانی مسلمانوں کو ایک محدود دائرے میں مقید کرنے کی کوشش یا ترغیب دی ہے جب کہ قرآن میں انماالمومنون اخوۃ فاصلحوابین اخویکم واتقواللہ لعلکم ترحمون[6]کا ذکر موجود ہے۔مندرجہ بالا سطور کے مطالعہ کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ اخبار مدینہ نے اپنی ساکھ برقرار رکھنے اور حکومت کی نگاہ میں سرخرو ہونے کے لیے غلط بیانی کا سہارا لیتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ابتدائی دور میں اخبار مدینہ کے ذریعہ پیش کیے گئے اس قسم کے کئی اداریوں میں نوآبادیات کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا مشورہ جا بجا نظر آتا ہے۔ جس سے اخبار مدینہ کی شبیہ مشکوک ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے کہ آیا یہ اخبار نوآبادیاتی نظام کا خیر خواہ تھا یا مظلوم ہندوستانیوں کا ترجمان؟
بہرحال وقت گزرنے اور ہندوستان میں پے درپے رونما ہونے والے حادثات، واقعات اور سانحات نے مولوی مجید حسن اور ان کے عملہ کو نئے انداز سے سوچنے پر مجبور کیا۔ یعنی انگریزوں کو حاکم سمجھ کر ان کے ہر حکم کی تعمیل نہیں کی جاسکتی یا یہ خیال کرنا کہ جب خدا نے ملک پر انگریزوں کو مسلط کردیا ہے تو ہمیں ایک مہذب رعایا بن کر رہنا چاہیے۔”اس کے یہی معنی ہیں کہ ہم میں اور انگریزوں میں ایک طرح کا معاہدہ ہوگیا کہ انگریز حاکم ہونے کی حیثیت سے ہمارے حقوق کی حفاظت کریں اور ہم رعایا ہونے کی حیثیت سے ان کی اطاعت۔“ (نذیر احمد)سراسر اپنی ذات اور اپنی قوم پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا ان خیالات کے پیش نظر اخبار مدینہ نے بالکل مخالفانہ رویہ تو اختیار نہیں کیا لیکن ایسی راہ ضرور اختیارکی جس سے یہ پیغام جائے کہ ہمیں اپنی عزت نفس بہت عزیز ہے۔ عزت نفس کا تعلق فرد واحد سے تو ہے ہی انیسویں صدی کے سیاق میں عزت نفس کی ترکیب کا مطلب تمام ہندوستانیوں کی اپنے ملک و قوم کے تئیں جذبہ محبت بھی ہے۔ مثال کے طور پر نوآبادیاتی نظام نے جہاں سیاسی، اقتصادی، تہذیبی، تمدنی اور علمی معاملات میں ہندوستانیوں کو احساس کمتری میں مبتلا کر کے اپنی برتری ثابت کی، وہیں معاشی اعتبار سے مقامی باشندوں کے دست و بازو مفلوج کردیے۔ یہاں تک کہ دیسی اشیا قابل مذمت اور یوروپین اشیا کے استعمال کو باعث افتخار سمجھا جانے لگا۔ اس ضمن میں اخبار مدینہ میں ملک الکلام امروہوی کی ایک نظم شائع ہوئی جس کے ذریعہ عوام کو عظمت رفتہ کی یاد دہانی کراتے ہوئے صنعت و حرفت کے فوائد اور یوروپین ساز و سامان کے مقاطع کی ترغیب دی گئی ؎
کبھی آکر ہمارے سامنے گردن جھکاتے تھے
یہ صنّاعان یورپ، جرمنی ہوں یا کہ یونانی
ہمیں تھے موجد ایجاد حیرت خیز دنیا میں
ہماری ہی ہوا کرتی تھی تعریف و ثنا خوانی
مگر اب تو نہ عزت ہے نہ دولت ہے نہ صولت ہے
نہ وہ جاہ و حشم، کرتے ہیں جس کی مرثیہ خوانی
ضرورت کی ہر اک شے دوسرے ملکوں سے آتی ہے
نہ کیوں ہو مفلسی کا دور، کیوں جائے پریشانی
نظم میں اس حقیقت کی جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ ہمارا ماضی کس قدر شاندار تھا اور آج ہم ان نوآبادکارورں کے ہاتھوں کیسی ذلت بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ لہٰذا ایسی صورت حال میں ہم اگر دوبارہ سرخ رو ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں صنعت و حرفت اور تعلیم و تعلم پر دھیان دینا پڑے گا ؎
کرو پھر اپنی مردہ صنعت و حرفت کو تم زندہ
دکھا دو تم مسیحائی بنو تم عیسیٰئ ثانی
ضرورت کی جو چیزیں ہیں بناؤ آپ تم ان کو
اگر منظور ہے کھوئی ہوئی پھر آبرو پانی
تمہارا مال کیوں اغیار کی جیبوں میں بھر جائے
اگر تم صنعت و حرفت میں پھر ہوجاؤ لاثانی
سکھاؤ اپنے بچوں کو ہنر، تعلیم دو ان کو
کہ آئندہ جو نسلیں ہوں نہ ہو ان کو پریشانی
غرض کہ اس پوری نظم کے ذریعہ ہندوستانیوں کو خواب غفلت سے بیدار کر کے انھیں مستقبل کے تئیں فکر مند اور خود کی ذمہ داری کا احساس دلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اکبر کی شاعری یا اس طرح کی شاعری کو ہم رد استعماریت کا نام دے سکتے ہیں لیکن ایک بات قابل ذکر یہ ہے کہ ایسی تمام نظموں کامزاج ایک معنی میں صحافیانہ ہے یعنی اپنی بات کو کھلے طور پر پیش کرنا۔ کہیں نہ کہیں ابہام کا کوئی پہلو پیدا ہوجاتا ہے مگر مجموعی طور پر ایسی تمام نظمیں نثر زدہ کہی جاسکتی ہیں۔ سرسید تحریک کے زیراثر جو نئی حقیقت پسندی اور منطقیت فروغ پا رہی تھی غیر شعوری طور پر اس کا اثر ان لوگوں پر بھی ہورہا تھا جو سرسید کے ہم نوا نہیں تھے۔ اس طرح اکبر اور اس قسم کی دوسری انگریز مخالف شاعری کا رشتہ اس جدید نظم سے قائم ہوجاتا ہے جس کی بنیاد محمد حسین آزاد وغیرہ نے ڈالی تھی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انگریزوں کے ہندوستان آنے کے بعد ہی نظام تعلیم کو بہتر بنانے، عورتوں کے حقوق کے تحفظ یا معاشرے میں پھیلی برائیوں کے تئیں بیداری کیوں پیداہوئی؟کیا ان سے پہلے ہمارا تعلیمی، سیاسی، سماجی، معاشی، اقتصادی، تہذیبی و تمدنی حالت اتنی غیر تھی کہ باہر سے آئی ہوئی قوم ہمیں غیر مہذب سمجھے اور کہے؟ علاوہ ازیں ہمارا ادبی سرمایہ بھی ان کی نگاہ میں اس قدر بے وقعت ٹھہرا کہمغربی عینک کے پیش نظر اصلاح کی گنجائشیں نکل آئیں۔ ان تمام عوامل کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ نتیجہ بآسانی اخذ کیاجاسکتا ہے کہ نوآبادکاروں نے اپنی تہذیب، فن اور کلچر کو اس انداز سے پیش کیا کہ ہندوستانیوں یا مفتوح قوم کی آنکھیں چکا چوند ہوکر رہ گئیں اور وہ احساس کمتری کے شکار ہو بیٹھے۔
اخبار مدینہ جو ابتدا میں نوآبادیات کا حمایتی یا اس کی بقا کو ہندوستان کے لیے باعث رحمت سمجھ رہا تھا، نے بعدمیں کسی نہ کسی طور پراس کی مخالفت شروع کردی، کیوں کہحقیقت اب منکشف ہوچکی تھی ؎
ع چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر
یعنی ہندوستان میں انگریزوں کا قیام بظاہر تو سودمند معلوم ہوتا تھا لیکن درحقیقت اس کے پیچھے استعمار کی ایک گہری سوچ تھی۔ مثال کے طور پرطریقہئ تعلیم میں اصلاح کی ضرورت کا احساس پیدا کر کے انگریزوں نے مشرقی کے بجائے مغربی نظام تعلیم کو ضروری بتایا۔ بالخصوص زبان کی حد تک وہ اس قدر حساس تھے کہ ہندوستانیوں کو حتیٰ المقدور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ انگریزی زبان سے ناآشنائی ان کے لیے ترقی کی راہیں مسدود کرسکتی ہے۔ ان سب باتوں کا اثر عوام پر پڑنا تھا، سو پڑا۔ مولوی مجید حسن باقاعدہ مولوی تو نہیں تھے لیکن انھیں اس بات کامل یقین تھا کہ مغربی طرز تعلیم کے زیر اثر نوجوان بے راہ روی کا شکار ہو کر رہ جائیں گے کیوں کہ اس تعلیم کا مقصد حصول علم و ادب نہیں بلکہ کسب معاش ہے۔ لہٰذا اکتوبر 1913 کے شمارے میں ”طریقہئ تعلیم میں اصلاح کی ضرورت“ کے عنوان سے ایک اداریہ پیش کیا گیا جس میں تعلیم کی ضرورت اس کی اہمیت و افادیت وغیرہ پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ ساتھ ہی اس نکتے کی جانب بھی قارئین کو متوجہ کیا گیا کہ موجودہ نظام تعلیم کیوں اور کس قدر ہمارے لیے ضرر رساں ہے:
”تعلیم انسان کو جہالت اور تاریکی سے نکالتی ہے یہ پاکیزہ مقصد بالکل فوت ہو رہا ہے۔ موجودہ طریقہئ تعلیم کا منبیٰ چوں کہ اس امر پر رکھا گیا ہے کہ انسان تعلیم پا کر ملازمت حاصل کرے۔اس لیے متعلم تعلیم کو صرف حصول ملازمت کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔“[7]
ان باتوں کی طرف اشارہ کرنے کے بعد اخبار مدینہ نے موجودہ طریقہئ تعلیم کے نقائص پر تبصرہ کرتے ہوئے قارئین کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ اس کے ذریعہ عوام تعلیم تو حاصل کرلیتے ہیں لیکن تہذیب سے یکسر نابلد ہی رہتے ہیں:
”(1) سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ متعلم گرد و پیش کی چیزوں اور معلموں کی زندگی سے تکلف کا سبق حاصل کرتا ہے اور نمایشی اشیاء کی جانب راغب ہو کر آہستہ آہستہ ایک پورا یوروپین لباس کا جنٹلمین بن جاتا ہے….. چوں کہ آج کل تعلیم پانے والے لڑکے عموماً متوسط طبقے کے ہیں اس لیے ان کے اخراجات تعلیم و تکلف اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ والدین ان کو برداشت نہیں کرسکتے اور ان کی تعلیم کو جاری رکھنے کا متحمل ہونا انھیں مشکل ہوجاتا ہے۔
(2) جب متعلم تکلف پسند ہوجاتے ہیں تو انھیں چھوٹے چھوٹے مکانات متوسط درجہ کی غذائیں، مراسم خاندان وغیرہ معیوب معلوم ہونے لگتی ہیں….. آزادی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ گھر کا کوئی کام اپنے ہاتھ سے انجام نہیں دے سکتے۔ خاندان کے معمولی لڑکوں اور بزرگ خاندان کی صحبتوں میں ان کا دل نہیں لگتا….. یہ تمام باتیں ایسی ہیں کہ متعلم کی آئندہ زندگی کو خراب کردیتی ہیں۔
(3) اول تو مدرسوں کا طریقہئ تعلیم اس قدر ناپسندیدہ اور لغو ہے کہ متعلم اس سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے دوسرے مدرس چوں کہ با اخلاق نہیں ہوتے اور تکلف و فیشن بھی ان کا بہت زیادہ ہوتا ہے اس لیے متعلموں کی حالت پر بھی ان کا اثر پڑتا ہے۔“[8]
مندرجہ بالا اقتباس کے ذریعہ اخبار مدینہ نے مغربی طرز تعلیم کے جس پہلو کوسخت طنز کا نشانہ بنایا وہ اس کا ’نمائشی‘ پہلو ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ متعلم نصاب کے علاوہ گرد و پیش کے ماحول اور معلم کی زندگی سے بھی سبق حاصل کرتا ہے لہٰذا جب معلم ہی فیشن ایبل ہوجائیں تو متعلم اس سے کیوں کر اثر انداز نہ ہو۔ ان امور کی جانب متوجہ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ عوام مشرقی طرز تعلیم کی روح کو پہچان سکیں کہ حصول علم فقط دولت کمانے کاذریعہ نہیں بلکہ اپنی تہذیب اور وراثت کی بقاکا ضامن بھی ہے۔
تعلیم نسوا ں کے تئیں اخبار مدینہ نے خصوصی توجہ صرف کی۔ مختلف اداریے، مضامین، نظمیں، غزلیں، رباعیات اور قطعات وغیرہ کے ذریعہ عورتوں کی تعلیم و تربیت کو ضروری قرار دیا لیکن اسی حد تک کہ ؎
خاتون خانہ ہوں وہ سبھا کی پری نہ ہوں
اسی ضمن میں اکبر الہ آبادی کی متعدد نظمیں، غزلیں اور رباعیات شائع ہوئیں جن میں عورتوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کی تلقین تو کی گئی لیکن ساتھ ہی اپنی تہذیب، کلچر اور مذہب سے روگردانی یا اسے حقیر و لغو سمجھنے سے بعض رکھنے کی بھی کوشش کی گئی۔اکبر کی نظم ’تعلیم نسواں‘ کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
تعلیم عورتوں کی ضروری ہے آج کل
بے علم استری سے ہے آرام میں خلل
لیکن ضرور ہو کہ مناسب ہو تربیت
جس سے برادری میں بڑھے قدر و منزلت
آزادیاں مزاج میں آئیں نہ تمکنت
ہو وہ طریق جس میں ہو نیکی و مصلحت
یہ کیا؟ زیادہ گن نہ سکے پانچ سات سے
لازم ہے کام لے وہ قلم اور دوات سے
تعلیم کی طرف ابھی اور ایک قدم بڑھیں
صحت کے حفظ کے جو قواعد ہیں وہ پڑھیں
پبلک میں کیا ضرور کہ جا کر تنی رہو
تقلید مغربی پہ عبث کیوں ٹھنی رہو[9]
اکبر جو مغرب کی تقریباًہر نئی شے سے بیزار تھے وہ بھی مغربی تعلیم سے کسی حد تک عورتوں کو آراستہ دیکھنا چاہتے تھے، تاکہ وہ اس میدان میں کسی کی محتاج یا ماتحت نہ رہیں اور بچوں کی پرورش و پرداخت میں معین و مددگار ثابت ہوں۔ لیکن ان تمام امور کے باوجود وہ اس کے بھی خواہاں تھے کہ مغربی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایسا نہ ہو کہ شخصیت میں تمکنت و غرور کا عنصر شامل ہو جائے یا آزادی اور حقوق کے نعرے بلند کیے جائیں۔ یہی وجہ تھی کہ اکبر نے تعلیم کو ضروری تو قرار دیا مگرمغرب کی اندھی تقلید سے حتی المقدور روکنے کی کوشش کی۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے مشرقی اور مغربی طرز زندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ جب مغرب والے مشرقی علوم و فنون اور طرز معاشرت سے بیزار ہیں تو ہم مغرب کی تقلید میں سرگرداں کیوں پھریں۔ مشرق اور مغرب کے فرق کا اظہار نظم کے آخری شعر میں ہوتا ہے ؎
مشرق کی چال ڈھال کا معمول اور ہے
مغرب کے ناز و رقص کا اسکول اور ہے
اخبار مدینہ میں نوآبادکاروں کے خلاف اکبر کی کئی تخلیقات شائع ہوئیں۔ طنزیہ و مزاحیہ انداز میں وہ مغرب اور مغرب پرستوں کونشانہ بناتے رہے۔درحقیقت اکبر کو مشرقی روایت اور تہذیب سے خواہ وہ لباس، خوراک یا وضع قطع وغیرہ ہو، اس قدرمحبت تھی کہ وہ کسی اور کلچر کو برداشت ہی نہیں کرسکتے تھے۔ ایک رباعی میں مغربی فیشن سے متاثر نوجوانوں کی صورت کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں ؎
کردیا کرزن نے زن، مردوں کی صورت دیکھئے
آبرو چہرہ کی سب فیشن بنا کر پونچھ لی
سچ یہ ہے انسان کو یوروپ نے ہلکا کردیا
ابتدا داڑھی سے کی اور انتہا میں مونچھ لی[10]
موجودہ دورمیں ہم اسے کٹھ ملائیت یا مذہب پرستی وغیرہ سے تعبیر کرسکتے ہیں لیکن غور طلب امر یہ ہے کہ جب ایک بھیڑ مغرب کی ہر اچھی بُری شے کو فیشن سمجھ کر اپنانے پر آمادہ تھی، اس وقت اکبر کی زبانی کیے گئے یہ طنز کوئی معمولی بات نہ تھی بلکہ اس مخالفت کی اپنی ایک تہذیبی معنویت بھی ہے۔
غرض کہ آہستہ آہستہ اخبار مدینہ نے تقریباً ہر محاذ پر نوآبادیاتی نظام کے خلاف آواز بلند کی۔ ملک میں جب سودیشی، مقاطع یا ترک موالات کی تحریک کا آغاز ہوا تو ہندوستانیوں سے اپیل کی گئی کہ ہر سطح پر وہ مغربی طرز زندگی یا اشیا کا بائیکاٹ کریں۔اس تحریک کا اخبار مدینہ نے پُرجوش خیر مقدم کیا۔ اس ضمن میں اخبار مدینہ کا اختصاص یہ ہے کہ اس نے مردوں کے بالمقابل عورتوں پر خصوصی توجہ صرف کی۔ انھیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ ان کے بغیر استعماری قوت سے نجات ممکن نہیں:
”…ہماری آزوؤں کی سطح، ہماری مرادوں کی جولان گاہ، ہماری جدوجہد کی آخری کڑیاں ابھی باقی ہیں اور یہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں۔ جب کبھی دنیا نے کروٹ لی ہے، جب کبھی بدن کی سوئیاں نکالی گئی ہیں، جب کبھی غلامی کے تابوت میں کیلیں ٹھوکی گئی ہیں تو آخری سوئی اور آخری کیل صنف نازک کے ہاتھ میں ہوئی ہے۔ پس اب جب کہ ہم موت و حیات و قومی کی آخری منزل میں ہیں….. ہماری نگاہیں بھی اسی طرح اٹھ رہی ہیں، ہماری نظریں بھی چلمن، نقاب و برقع کی طرف متوجہ ہیں۔“ [11]
اخبار مدینہ نے اس انداز کے اداریے یا مضامین لکھ کر بالخصوص مسلمان عورتوں کو اس احساس کمتری سے نجات دلانے کی کوشش کی ہے جس میں وہ مبتلا تھیں۔ عورتوں کی ذمہ داریاں گھر کی چہاردیواری تک ہی محدود ہوتی ہیں،سیاسی، معاشی، اقتصادی یا سماجی معاملات میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ یہ ساری باتیں طبقہئ نسواں کے دل ودماغ میں اس درجہ سرایت کرچکی تھیں کہ ان کا ذہن خود بھی اس پر آمادہ نہ تھا کہ وہ کسی قسم کی ملکی و قومی خدمات انجام دیں۔ بہرحال اس بت کو مسمار کرنے کے لیے اخبار مدینہ نے یوروپ، امریکہ، افریقہ کی مثالیں پیش کیں تاکہ ان کی فکریں تبدیل ہوسکیں۔ ایک طرف اخبار مدینہ نے یہ سلسلہ جاری رکھا تو دوسری جانب عورتیں نوآبادیاتی نظام سے مرعوب یا متاثر نہ ہوجائیں، انھیں تنبیہ بھی کرتا رہا:
”… اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ ہماری خواتین انگلستان کی حقوق طلب عورتوں کی طرح وزیر اعظم کی ٹوپی اتارلیں یا آئرلینڈ کی سن فین عورتوں کی طرح بم سازی و بم بازی میں مشغول ہوجائیں۔ ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ مصر کی طرح قومی مظاہروں میں بے نقاب آپ سڑکوں اور گلیوں میں پھرتی رہیں۔ ہمارا دل ابھی یہ بھی گوارا نہیں کرسکتا کہ اناطولیہ کی مظلوم و بے کس خواتین کی طرح تم فوج میں بھرتی جاؤ۔ہماری غیرت ابھی یہاں تک بھی مفقود نہیں ہوئی ہے کہ ہم دو شیزگاں سمرنا و تھریس کی طرح تمہیں بے خانماں دیکھیں، لیکن ہاں ہم چاہتے ہیں اور ضرور چاہتے ہیں کہ تم مردانہ وار عمل صالح میں سرگرم ہوجاؤ۔“ [12]
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عورتیں وزیر اعظم کی ٹوپی نہ اتاریں، بم سازی یا بم بازی نہ کریں، سڑکوں یا گلیوں میں بے نقاب نہ پھریں یا فوج میں بھرتی نہ ہوں تو پھر وہ کیوں کر استعماریت کی تابوت میں آخری کیل ٹھونک سکتی ہیں؟ یہاں ”مردانہ وار عمل صالحہ“ سے اخبار مدینہ کا منشا دراصل یہ تھا کہ عورتیں مقاطع یا ترک موالات کی تحریک میں برابر کی شریک ہوں۔ خود بھی بدیشی اشیا کے استعمال سے کنارہ کشی اختیار کریں اور اپنے شوہروں، بھائیوں، بیٹوں وغیرہ کو بھی سرکاری ملازمتوں مثلاً وکالت، آفیسری یا دلالی وغیرہ حتیٰ کہ بدیشی اشیا کی سوداگری سے بھی بعض رکھنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئیں تو لازماً اس کا اثر حکومت کی Economy پر پڑے گا اور چوں کہ کسی حکومت کی معاشی حالت کا خراب ہونا اس کے زوال کی علامت ہے۔ لہٰذا وہ اس طرح ہندوستان کو نوآبادیاتی نظام سے نجات دلانے میں کامیاب ہوجائیں گی۔
اخبار مدینہ بجنور کے اداریے، مضامین یا شعری حصے کے مطالعے کے بعد یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس نے گرچہ ابتدا میں استعماری قوتوں کے تئیں نرم رویہ اختیار کیا لیکن خرمن میں دبی چنگاری آہستہ آہستہ بھڑک اٹھی اور زمانے نے دیکھا کہ بڑے بے باکانہ انداز میں اس نے رد استعماریت کے نعرے بلند کیے۔ یعنی نوآبادیاتی نظام جس نے اپنی تہذیب اور کلچر کی چمک دمک کے ذریعہ ہندوستانیوں کی آنکھیں خیرہ کر رکھی تھیں یا انھیں احساس کمتری میں مبتلا کر رکھا تھا، اس کا اعتبار کم ہونے لگا۔ اس اخبار نے ہندو مسلم اتحاد، تعلیم نسواں، اردو ہندی رسم الخط کے مسائل، ملک میں رونما ہونے والے فسادات وغیرہ پر خصوصی توجہ صرف کی۔ چوں کہ نوآبادکاروں کی پالیسی ”پھوٹ ڈالو حکومت کرو“ تھی لہٰذا اخبار مدینہ نے ابتدا سے ہی اس کے خلاف محاذ قائم کر رکھا تھا۔ المختصر اخبار مدینہ ساری زندگی نوآبادیاتی نظام کے خلاف صف آرا رہالیکن اس کے باوجود وہ اس نظام کی خوبیوں سے عوام کو مستفید ہونے کی تلقین بھی کرتا رہا۔ اس لحاظ سے یہ اخبار ہندوستانیوں کے حق میں مشیر بھی تھا اور مصلح بھی۔
٭٭٭
حواشی:
1 یثرب کا داخلہ پنجاب میں بند، اخبار ’یثرب‘ بجنور، 13/ستمبر 1919، ص۔3
2 اخبار”مدینہ“،بجنور، 21/مئی 1919
3 اخبار مدینہ، شذرات، 15/اپریل 1913، ص۔2
4 اخبار مدینہ بجنور، اداریہ، 8/نومبر 1914، ص۔2
5 قرآن کریم، سورۃ مائدہ، آیۃ نمبر۔32
6 قرآن الحجرات، آیۃ نمبر۔10
7 اخبار مدینہ، اداریہ: طریقہئ تعلیم میں اصلاح کی ضرورت، 15/اکتوبر 1913، ص۔3، جلد۔2،نمبر۔38
8 اخبار مدینہ، اداریہ: طریقہئ تعلیم میں اصلاح کی ضرورت، 15/اکتوبر 1913، ص۔3، جلد۔2،نمبر۔38
9 اخبار مدینہ، تعلیم نسواں از اکبر الہ آبادی، 22/جون 1915، ص۔15، جلد۔4، نمبر۔24
10 اخبار مدینہ، رباعی از اکبر الہ آبادی، 9/ جولائی 1920، ص۔1، جلد۔9، نمبر۔51
11 اخبار مدینہ بجنور،اداریہ: خواتین ہند اور قومی جد و جہد، 28/مئی 1921، ص۔2، جلد۔60، نمبر۔40
12 اخبار مدینہ بجنور،اداریہ: خواتین ہند اور قومی جد و جہد، 28/مئی 1921، ص۔2، جلد۔60، نمبر۔40


3 comments
یقیناً اردو صحافت میں اخبار مدینہ کا نہایت اہم کردار ہے. ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی نے بڑی عرق ریزی سے مضمون تحریر کیا ہے. اس کی سب سے قابل توجہ بات یہ ہے کہ صاحب مضمون نے جس طرح لکھا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے مدینہ کی فائلوں کا براہ راست مطالعہ کیا ہے. صرف تاریخی اور تنقیدی تحریروں پر اکتفا نہیں کیا. یہی وجہ ہے کہ تحریر سے صاحب تحریر کی بصیرت بھی جھلکتی ہے. بعض اشاراتی نوعیت کے جملے دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہیں. ادبی میراث نے ایک اچھے مضمون کا انتخاب کیا جس کے لیے ان کا حسن انتخاب لائق ستائش ہے.
ڈاکٹر مقیم صاحب اپنے گراں قدر خیالات سے نوازنے اور ہمت افزائی کے لیے بہت شکریہ.
مدینہ پر اچھا مضمون پڑھنے کو ملا
مدینہ پر ابھی اور کام کی ضرورت ہے
ادبیات مدینہ پر کام بجنور میں ہو رہا جلد منظر عام پر آنے کے امکان ہے۔