زندگی کی تلخ حقیقت سے واقف کراتی ہوئی حقیقت پر مبنی ایک لڑکی کی کہانی۔
ہر انسان زندگی کی گاڑی میں بیٹھ کر سفر کر رہا ہے۔ اس گاڑی کے سہارے اسے بہت سی منزلیں طے کرنی ہوتی ہیں۔ کچھ کی زندگی میں یہ گاڑی ہر دو قدم پر دھوکا دیتی ہے اور اُسے بار بار مرمت کروا کر گرتے پڑتے اپنی منزلیں طے کرنی پڑتی ہیں۔ اور کبھی تو یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ منزل تک پہنچ بھی نہیں پاتا اور زندگی اسے اللہ حافظ کہہ دیتی ہے۔
وہیں کچھ لوگوں کے زندگی کی گاڑی اِس رفتار سے سفر کرتی ہے کہ بنا کوئی مشکل پیش آئے با آسانی اپنی تمام منزلیں طے کرتا چلا جاتا ہے۔ یا اگر مشکل پیش بھی آۓ تو پہلی گاڑی کے مقابلہ میں تو مشکلیں کم ہی رہتی ہیں۔
فاریحہ کی زندگی کی گاڑی بھی پہلی مثال کے مطابق ہی چل رہی تھی۔ ہر دو قدم پر خراب، اور ہر بار مرمت کروانے کے بعدوہ اس امید پر گاڑی میں بیٹھتی کہ اس بار تو ضرور منزل تک پہنچ جاۓ گی مگر کہاں پہنچنے والی، پھر خراب ہو جاتی۔ ویسے اب تک تو فاریحہ کے ساتھ یہ ہمیشہ ہوتا آیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی عمر کے مقابلے دوسروں سے بہت پیچھے چل رہی تھی مگر تجربے اور مشاہدات میں شاید ان لوگوں سے کافی آگے نکل چکی تھی۔
خیر, ١٢ جولائی ٢٠٢٠ کو فاریحہ زندگی کی گاڑی میں بیٹھ کر پھر ایک نئے سفر کی شروعات کرنے جا رہی تھی، اس دوران اسکے دل کی کیفیت کچھ اس طرح تھی کہ اسکے تین حصے ہو گئے تھے۔ دل کا پہلا اور سب سے بڑا حصہ جس میں یہ ڈر بسا ہوا تھا کہ کہیں پھر سے ہمیشہ کی طرح اسکی گاڑی خراب نہ ہو جائے اور اس بار بھی وہ منزل تک نہ پہنچ پاۓ۔ دل کے دوسرے اور بہت چھوٹے سے حصے میں معصوم خواہشیں تھیں جو مچل رہی تھیں اور شاید یہی اسکی تھوڑی سی خوشی کی وجہ بھی تھیں۔ دل کا تیسرا اور کافی چھوٹا حصہ پُر امید تھا کہ اس بار بنا گاڑی خراب ہوۓ وہ منزل تک پہنچ جاۓ گی۔ دن گزر رہے تھے گاڑی بھی اپنی رفتار سے چل رہی تھی لیکن چونکہ اسکے دل کا بڑا حصہ ڈر کا شکار تھا اس لیے آنے والی ہر نئی صبح اسکے دل میں بہت سے بُرے اندیشے لاتی تھی۔ مگر گاڑی کی صحیح رفتار دن کے آخری پہر سارے بُرے اندیشوں کو منفی ثابت کر دیتی۔ جیسے جیسے اندیشے منفی ثابت ہوتے جا رہے تھے ویسے ویسے فاریحہ کے دل کے اُس چھوٹے سے حصے میں جہاں تھوڑی سی خوشیاں چھپی تھیں، اضافہ ہو رہا تھا۔ دل کی کیفیت تبدیل ہوتی دیکھ فاریحہ کا دماغ بھی آگے کے راستے متعین کرنے لگا۔ کن راستوں پر کیسے گزرنا ہے، راستے میں آنے والی مشکلات سے کیسے نپٹنا ہے، ہموار راستوں پر بھی کن چیزوں کا خیال رکھنا ہے اور دشوار راستوں سے گزرنے کے لیے ابھی سے کیا تیاریاں کرلینی چاہیے… غرض ہر ضروری تیاریوں کی طرف دماغ اسکی توجہ مرکوز کر رہا تھا اور وہ دل کے مثبت رخ یا یوں کہہ لیجیے گاڑی کی صحیح رفتار کو دیکھتے ہوۓ دماغ کی بتائی ہوئی تمام ہدایتوں کو عملی جامہ پہنا رہی تھی۔ آخر وہ اپنی ہر ذمہ داری کو خلوص اور لگن سے کرنے کی عادی جو تھی۔ خیر ان تمام چیزوں نے بہت زیادہ دنوں تک اسے دھوکے میں نہیں رکھا، مشکل سے تیس دن گزرے ہونگے ١٢ اگست ٢٠٢٠ کی صبح، پھر ایک نئی آزمائش اسکی منتظر تھی۔ جی ہاں! وہ گاڑی جس میں ١٢ جولائی کو وہ سوار ہوئی تھی، بالآخر رک گئی۔ فاریحہ کے زندگی کی یہ تاریخ اسے پھر ایک نیا سبق سکھانے والی تھی، وہ آزمائش کے پھر ایک نئے پہلو سے آشنا ہونے والی تھی، اسکے صبر کا پھر امتحان ہونا تھا، اسکے آنسوؤں کو پھر بہت سا بہنا تھا، اسکے دل کو پھر بہت سا ٹوٹنا تھا، اسکی بکھرتی امیدوں کو اسے پھر سے سنبھالنا تھا، نئے خواب نئی امیدوں کے ساتھ پھر سے بننے تھے، پھر ایک نامعلوم مدت تک اسے منزل پر پہنچنے کا انتظار کرنا تھا۔ بہت مشکل تھا یہ سب، مگر جینے کے لیے اسے کرنا تھا۔ اور وہ کر رہی تھی، اور وہ کر رہی ہے اور کرتے رہے گی، جب تک گاڑی منزل تک نہ پہنچ جاۓ۔
ہماری زندگی میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا سفر بھی ہمارے ساتھ شروع ہوتا ہے مگر زندگی کی گاڑی مختلف ہوتی ہے۔ پھر آپ دیکھتے ہیں کہ ساتھ سفر شروع کرنے کے باوجود وہ بہت آگے نکل جاتے ہیں اور آپ گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انکی گاڑی کبھی خراب ہی نہیں ہوگی اور بنا رکے وہ منزل تک پہنچ جائیں گے۔ ہو سکتا ہے تھوڑی لمبی مسافت طے کرنے کے بعد انکی گاڑی خراب ہو۔ دیر یا سویر البتہ گاڑی تو سب کی خراب ہونی ہی ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ بغیر آزمائش کے کوئی منزل تک پہنچ جائے۔ فرق بس اتنا ہو سکتا ہے کہ ان کی آزمائشیں کم ہوں اور آپکی زیادہ لیکن جتنی زیادہ آزمائشیں ہیں اتنی ہی زیادہ نوازشیں بھی تو ہیں۔ اور زیادہ آزمائشیں بھی تو انہیں کے ساتھ ہیں نہ، جن سے رب کی محبت بھی زیادہ ہے۔ بس یہی کچھ مثبت سوچ اور امیدیں ہیں جن کے سہارے فاریحہ اپنی زندگی کی تکلیفیں برداشت کر رہی تھی اور صرف وہی نہیں بلکہ شاید اُس جیسی بہت سی لڑکیاں اِنہیں امیدوں پر زندگی کی مختلف آزمائشوں میں تکلیف برداشت کرتے ہوۓ لمبی عمر گزار دیتیں ہیں۔ اور ہو بھی کیوں نہ، یہی تو وہ امیدیں ہیں جسکے سہارے تکلیف برداشت کر لی جاتی ہے، صبر کر لیا جاتا ہے، مچلتی ہوئی خواہشوں پر چھری چلا دی جاتی ہے۔
مگر حقیقت تو یہ ہے کہ بہت تکلیف ہوتی ہے، دل بہت روتا ہے، آنکھیں بہت آنسو بہاتی ہیں، ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ آپکو خود اپنی ذات پر ترس آنے لگتا ہے کہ کیسی گاڑی میں بیٹھ گئے کہ سفر کا مزہ بھی نہیں لے پا رہے۔ لیکن افسوس آپ اپنے دل کا یہ حال کسی سے بیان نہیں کر سکتے سوائے اس ذات کے جس نے بزات خود آپکے لیے اس گاڑی کا انتخاب کیا ہے۔ جو آپکے دلوں کے ہر حال سے واقف ہے، جسے آپکو اپنے ٹوٹے بکھرے ہوۓ وجود کی وجہ اور داستان نہیں سنانی پڑتی، بس آپکو اپنے وجود کی ان ٹوٹی کِرچیوں کو جمع کرکے اسکے حضور پیش ہونا ہوتا ہے اور وہ عالم الغیب مانو انتظار میں بیٹھا ہوتا ہے کہ زخم اسکے حضور لاۓ جائیں اور وہ اسے مندمل کردے۔ وہ سمیع البصیر جسے کچھ کہنا نہیں پڑتا مگر وہ سن لیتا ہے ہر اس آہ کو جو زندگی کی ہر سخت آزمائش میں آپکے دل سے نکلتی ہے۔ دل کرتا ہے نہ کہ اللہ آپ سے باتیں کرے، آپکو دلاسہ دے، آپکے آنسو پوچھے، اکیلے میں اس سے بات کرتے ہوۓ جیسے آپ تصور کی دنیا میں جینے لگتے ہیں۔ یہی اس زندگی کی حقیقت ہے۔ تلخ… بہت تلخ حقیقت، جسے مجبوراً ہم سب کو قبول کرنا پڑتا ہے جس طرح فاریحہ کر رہی تھی۔
نوٹ:افسانہ نگار کا تعلق ممبئی سے ہے
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

