Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تنقیدات

شہری حقوق اور عورتوں کو در پیش مسائل – امتیاز احمد علیمیؔ

by adbimiras ستمبر 21, 2020
by adbimiras ستمبر 21, 2020 0 comment

جب ہم تاریخ انسانی پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو یہ اندازہ کرنے میں ذرا بھی دشواری پیش نہیں آتی کہ عورت پوری تاریخ انسانی میں ہمیشہ مظلوم و معتوب اور کمزور تصور کی گئی ہے نیز اسے ہر عہد میں صرف جنسی سامان تسکین فراہم کرنے کا ایک آلہ تصور کیا گیا ہے۔اس کی عقل و فہم ،اس کی فکر و نظر  ،اس کے جذبات و احساسات اور اس کے افکار و خیالات کا کبھی پاس و لحاظ نہیں رکھا گیا۔سیاسی ،سماجی اورمعاشی تمام سطحوں پر اس کی حیثیت کی نفی کی گئی اور وحشت و بربریت کا ننگا ناچ اس کے ساتھ کھیلا گیا۔ معاصر منظر نامے پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ آج بھی بہت کچھ بدلا نہیں ہے۔

جب ہم پتھروں کے عہد (Stone Age)میںعورت کے رنگ روپ اور اس کی حیثیت پر غور کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اُس عہد کی عورت اور موجودہ عہد کی عورت کے مابین فرق صرف اتنا ہے کہ آج کی عورت مہذب اور تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ سیاسی ،سماجی اور معاشی سطح پر ترقی کے کئی منازل طے کر چکی ہے مگر اس کی فکر و نظر ہمیشہ بھٹکتی رہتی ہے۔اس کا اندرون وحشت کا شکار نظر آتا ہے اور بیرون میں بربریت نظر آتی ہے۔اس کے اخلاق و کردار پتھروں کے عہد سے کسی طرح مختلف نظر نہیں آتے کیونکہ آج بھی وہی سب کچھ ہوتا ہوانظر آرہا ہے جو کبھی پتھروں کے عہد میں ہوا کرتا تھا۔مثلاً آج بھی منصوبہ بند طریقے سے کسی خوبصورت حسین و جمیل دوشیزہ کا یا تو اغوا کیا جاتا ہے یا ان پر تیزاب وغیرہ ڈال کر ان کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتاہے یا کچھ ساتھیوں کی مدد سے ان کو اغواکرکے سنسان علاقے میں لے جا کر ان کی پاکیزہ عصمت و عفت کی دھجیا ں اڑائی جاتی ہیں جسے سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جبکہ مدافعت کی صورت میں اس کے منھ میں کپڑے ٹھونس دیے جاتے ہیںاور عصمت کی تاراجی کے بعد اس کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔آئے دن اخبارات کی رپورٹس اس بات کی شاہد ہیںکہ آج کا انسان پتھروں کے عہد کے انسان سے بہت کچھ مماثلت رکھتا ہے،حالانکہ آج کا انسان اپنی ترقی پر بڑا ناز کرتا ہے مگر وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ وہ آج سخت اقداری روایات اور اخلاقی بحران کا شکار ہے اور پورا انسانی معاشرہ سکون کی راہیں تلاش کر رہا ہے ۔پوری دنیا امن و امان کی تلاش میں سر گرداں ہے اور بنت حوا وحشت و بربریت کی شکار نظر آرہی ہے۔

عورت کے حقوق و مراعات کے حوالے سے جب ہم تاریخ کی ورق گردانی کرتے ہیں تو ہمیں مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ ہندوستان کے اس عروج و زوال میں عورت بھی مختلف نشیب و فراز ،افراط و تفریط کے کئی منازل سے گزری ہے۔ کسی عہد میں اس کا شاندار استقبال کیا گیا تو کسی  میں اس کی بہت زیادہ درگت بنائی گئی۔کبھی وہ مرد کے اعصاب پر رقص کرتی نظر آئی تو کبھی اس کے پائوںمیں تڑپتی دکھائی دی۔یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک ہندوستان جو جنت نشان بھی ہے ،کئی تضادات کا حامل دکھائی دیتا ہے۔یہاں بظاہر عورتوں کو دیوی کا درجہ دیا جاتا ہے اوراس کو لکشمی،کالی ماں،سرسوتی اور نہ جانے کتنے ہی رنگوں میں اس کی پوجا کی جاتی ہے اور اس کی عظمت و رفعت کے گُن گان گائے جاتے ہیں لیکن جب سماجی،سیاسی اورمعاشی سطح پر مرد اور عورت کے درمیان حقوق و اختیارات کی بات آتی ہے تو عام طور پر عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ نا انصافی برتی جاتی ہے۔اسے ہر محاذ پر نیچا دکھایا جاتا ہے ،اس کے افکار و نظر یات کی کوئی قدر نہیں کی جاتی اسے محض ایک کھلونا سمجھا جاتا ہے جس کے ٹوٹنے بکھرنے کا کوئی غم نہیں ہوتا۔ہم جس سوسائٹی میں سانس لے رہے ہیں اس میں دوردور تک کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جس میںعورتوں کو ان کے سارے حقوق دیئے گئے ہوں۔یہاں خواتین کے ساتھ مختلف النوع رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور ان رویوں میں بہت زیادہ جانبداری برتی جاتی ہے۔جہیز کی لعنت ہو یا وراثت کی تقسیم،تعلیم کا حق ہو یا  بچوں کی پرورش و پرداخت ،ان سب میں لڑکیوں کو جان بوجھ کر تمام حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

عورتوں کو ان کے تمام حقوق سے محروم رکھنا یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ عہد قدیم سے چلا آرہا ہے۔عہد قدیم میں جب ہم زمینداری عہد میں عورتوں کے حقوق کے سلسلے میں مطالعہ کرتے ہیں تو بڑی مایوسی ہوتی ہے کیونکہ اس عہد میں بھی عورت کی حیثیت اور اس کے حقوق و مراعات کی یکسر نفی کر تے ہوئے اس کا مرتبہ حد درجہ پست کر دیا گیا تھا۔وہ اس عہد میں انتہائی مظلوم و بے بس تھی،نہ تو گھر میں اس کا کوئی وقار تھا اور نہ ہی کوئی اختیار حاصل تھااور نہ ہی عوامی سطح پر اس کی کوئی عزت و توقیر تھی۔وہ صرف ظالموں ،جابروںاور نفس پرستوں کے لیے ایک کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھی۔عورت کا سب سے قیمتی سرمایہ’عصمت‘ زمینداروں کی نظر میںکسی اہمیت کی حامل نہیں تھی۔اس عہد میں نہ تو اس کی تعلیم و تربیت کا کوئی نظم و نسق تھا اور نہ ہی اسے اپنی شخصیت کے نکھارنے کا کوئی موقع دیا جاتا ۔وہ صرف اور صرف ایک زر خرید غلام تصور کی جاتی تھی۔اس کے معاشی اور معاشرتی حقوق سب سلب کرلیے گئے تھے۔زمینداری نظام زندگی میں عورت کا نہ تو جائداد میں کوئی حق تھا اور نہ ہی وراثت میں۔عورت کے لیے یہ عہد بھی بڑا بھیانک تھا جس میں یہ ظالم و جابر اور نفس پرست انسانوں کی نفسانی خواہشات کی شکار تھی۔ عورت کی تقریباً یہی صورت حال جاگیر داری عہد میں تھی مگر قدرے  بدلی ہوئی۔اس عہد میں جاگیردار اپنی جبلی خواہشات کی تکمیل کے لیے’نتھ اترائی‘ جیسی بیہودہ رسم کو ایجاد کرکے باکرہ لڑکیوں کی زندگی کو تباہ برباد کرتے تھے ساتھ ہی ایک دوسری رسم ’رسم خواصی‘ کا بھی اہتمام کیا جاتا تھا۔اس عہد میں بھی عورت گھر،جائداد اور زندگی میں اس کے کوئی مالکانہ حقوق نہیں تھے۔وہ عبادات اور رسومات زندگی میں تو آزادتھی مگر گھر کے باہر عبادات و رسومات اور حق رائے دہی سے محروم تھی۔دور شاہی اور دور ملوکیت میں اس کی حیثیت کچھ بدلی اور آٹے میں نمک کے برابر کچھ حقوق و مراعات دی گئیںمگر اس پر بھی تہذیب و ثقافت ِشاہی کے اصول و قوانین عائد کر دیے گئے ۔ وہ حقوق و مراعات جو اس عہد میں عورتوں کو دیے گئے وہ ناکافی تھے۔مثلاً دور ملوکیت میں عورت داد رسی اور انصاف کے لیے شاہی محل کا دروازہ کھٹکھٹا سکتی تھی یہ اس کا قانونی حق تھا مگر ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا تھا۔

اس طرح ایک سر سری جائزہ لینے سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ عورت ہر خطے اور ہر قوم میں مظلوم تھی چاہے وہ یونان و روم ہویا مصروعراق ۔چین ہو یاعرب ہر جگہ اس پر ظلم ہو رہا تھا ۔بازاروں اور میلوں میں اس کی سر عام خرید و فروخت کی جاتی تھی اور حیوانوں سے بد تر اس کے ساتھ سلوک کیا جاتا تھا۔عرب میں لڑکیوں کو زندہ در گور کرنا اور ہندوستان میں ستی کرنا یہ ایسے اعمال تھے جو عورتوں کے حقوق اور مراعات کے منکر تھے۔اس طرح دنیا کی بیشتر تہذیبوں میں عورت کی کوئی سماجی حیثیت نہیں تھی،اس کے سیاسی اور معاشی حقوق نہیں تھے۔کہیں کہیں پر بالا دستی قائم بھی ہوئی مگر اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا اور مسلسل اس کے حقوق پر دست درازیاں جاری رہیں۔ مگر جمہوری عہد میں عورت کی حیثیت یکسر بدل گئی۔اس کو وہ تمام حقوق و مراعات حاصل ہو گئیں جو اس سے قبل اس کے لیے خواب سے تھے۔

جمہوری حکومت کے معنی ہیں حکومت عوام کی ہونی چاہیے۔حکومت عوام کے لیے ہونی چاہیے اور حکومت عوام کے ذریعہ ہونی چاہیے۔تمام ہندوستانیوں نے اس جمہوری طرز حکمرانی کو تسلیم کیا جس میں مر د اور عورت کو مساوی حقوق دیے گئے۔اس جمہوری طرز حکمرانی میں عورتوں کے وہ بنیادی حقوق جو انھیں آئینی طورپر دیے گیے وہ درج ذیل ہیں۔

(۱)حق مساوات:(Right for Equality)

۱۔ مملکت کسی شخص کوہندوستان کے علاقے میں قانون کی نظر میں مساوات یا قوانین کے مساویانہ تحفظ سے محروم نہیں کرے گی۔(آرٹیکل14)

۲۔ مملکت محض مذہب ،نسل،ذات، جنس یا مقام پیدائش یا ان میں سے کسی کی بنا پر کسی شہری کے خلاف امتیاز نہیں برتے گی۔]آرٹیکل15(1)[

۳۔اس آئین میں کوئی امر اس میں مانع نہ ہوگا کہ مملکت عورتوں اور بچوں کے لیے کوئی خاص توضیع کرے۔ [آرٹیکل15(3)[

۴۔تمام شہریوں کے لیے مملکت کے تحت کسی عہدے پر ملازمت یا تقر ر سے متعلق مساوی موقع حاصل رہے گا۔کوئی شہری محض مذہب ،نسل،ذات، جنس،نسب،مقام پیدائش،بود و باش،یا ان میں سے کسی کی بنا پر مملکت کے تحت کسی ملازمت یا عہدے کے لیے نہ تو نا قابل ہوگا اور نہ اس کے خلاف امتیاز برتا جائے گا۔[آرٹیکل16(1اور2)[

(۲)حق آزادی(Right to Freedom)

۱۔تمام شہریوں کو حق حاصل ہوگا

(الف)تقریر اور اظہار کی آزادی کا؛

(د)بھارت کے سارے علاقے میں آزادانہ نقل و حرکت کرنے کا؛[آرٹیکل19]

۲۔کسی شخص کو اس کی جان یا شخصی آزادی سے قانون کے ذریعہ قائم کیے ہوئے ضابطہ کے سوا کسی اور طریقے سے محروم نہ کیا جائے گا۔[آرٹیکل21]

۳۔کسی شخص کو جسے گرفتار کیا جائے اس کو ایسی گرفتاری کی وجوہ سے جس قدر جلد ہوسکے آگاہ کیے بغیر حوالات میں نہ رکھا جائے گااور نہ اس کو اپنی پسند کے قانونی پیشہ ور سے صلاح لینے اور پیروی کروانے کے حق سے محروم کیا جائے گا۔[آرٹیکل22]

(۳)استحصال کے خلاف حق(Right to against exploitation)

۱۔انسانوں کی تجارت اور بیگار اور دوسرے ایسے ہی اقسام کی جبری خدمت کی ممانعت کی جاتی ہے اور اس حکم کی کوئی خلاف ورزی جرم ہوگی جس کی قانون کے مطابق سزا دی جا سکتی ہے۔[آرٹیکل23(۱)]

۲۔اس دفعہ کا کوئی امر مملکت کے اغراض عامہ کے لیے جبری خدمت لینے میں مانع نہ ہوگا اور ایسی خدمت لینے میں مملکت محض مذہب،نسل،ذات یا طبقہ یا ان میں سے کسی کی بنا پر امتیاز نہ برتے گی۔[آرٹیکل23(۲)]

۳۔چودہ سال سے کم عمر کا کوئی بچہ کسی کارخانہ یا کان میں کام کرنے کے لیے مامور نہیں کیا جائے گااور نہ کسی دوسرے خطرناک کام پر لگایا جائے گا۔ [آرٹیکل24]

٭مرد اور عورت سب شہریوں کو مساوی طور پر معقول ذرائع معاش کا حق حاصل ہو؛[آرٹیکل39(الف)]

٭عورتوں اور مردوں دونوں کے لیے مساوی کام کے لیے مساوی یافت ہو۔[آرٹیکل39(د)]

٭کام گر مردوں اور عورتوں کی صحت ،طاقت،اور بچوں کی کم سنی سے بے جا فائدہ نہ اٹھا یا جائے اور شہری معاشی ضرورت سے ایسے حرفے میں جانے پر مجبور نہ ہوںجو ان کی عمر یا طاقت کے لیے نا مناسب ہوں۔[آرٹیکل39(ہ)]

٭مملکت کام کرنے کے مناسب اور انسانیت پر مبنی حالاتنیز امدادزچہ کی نسبت ضمانت دینے کے لیے توضیع کرے گی۔[آرٹیکل42]

٭بھارت کے ہر ایک شہری کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ عورتوں کی عزت وتوقیرکرنی ہوگی اور تحقیر آمیز کلمات سے دستبردار ہونا پڑے گا۔[آرٹیکل51A(e)]

٭ تمام پنچایتی الیکشن میں کل سیٹ کا ایک تہائی حصہ خواتین کے لیے محفوظ رکھا جائے گا۔[آرٹیکل243D(۳)]

٭تمام سطح پر پنچایت میںچیئرپرسن کے آفس کے کل تعداد کا ایک تہائی حصہ خواتین کے لیے محفوظ رکھا جائے گا۔[آرٹیکل243D(۴)]

٭ہر ایک میو نسپلٹی میں براہ راست الیکشن میں کل تعداد کا ایک تہائی حصہ خواتین کے لیے محفوظ رکھا جائے گا۔[آرٹیکل243T(۳)]

مذکورہ بالا آئینی حقوق کے علاوہ 2005اور 2013میں عورتوں کے حقوق کے سلسلے میں بعض اہم ترمیمات کی گئی ہیں جن کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ وہ حقوق جو آج ہمیں ہمارا آئین دے رہا ہے وہ آج سے چودہ سو سال سے بھی قبل اسلام نے ہمیں دے دیا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ ان اسلامی قوانین کا نفاذ ہر جگہ نہیں ہوسکا۔جس کی وجہ سے آج بہت سارے مسائل جنم لے رہے ہیں۔اسلام کی آمد سے قبل جب ہم عورت کے حقوق پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اسے کچھ بھی حاصل نہیں تھا ۔پیدا ہوتے ہی اسے زندہ در گور کردیا جاتا تھا۔لیکن اسلام نے اسے ذلت و رسوائی اور تحت الثریٰ سے نکال کر وہ تمام حقوق اور مراعات عطا کیں جن کا وہ اس سے قبل تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں۔اسلام سے قبل جن کا تصور ناممکن اور معدوم سا تھا ۔مگر آج یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ اسلام نے عورتوں کو اس کے جائز حقوق سے محروم کر رکھا ہے اور اس کے ساتھ عدل و انصاف اورمساوات کا معاملہ نہیں کیا جارہا ہے۔حالانکہ اگر تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو یہ اندازہ لگانے میں ذرا بھی دیر نہیں لگے گی کہ اسلام نے جس با وقار طریقے سے عورت کو اس کے تمام معاشرتی حقوق سے نوازا ہے وہ کسی اور ملک کے آئین میں نہیں ہے۔اسلام نے عورتوں کو جو حقوق عطا کیے ان میں سب سے پہلا حق زندہ رہنے کا حق عطا کیا۔دنیا میں کسی بھی انسان کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کی ’جان ‘ہوا کرتا ہے۔شہریت کے تمام حقوق میں ’جان‘ یعنی زندہ رہنے کا حق سب سے مقدم ہے۔کیونکہ اگر کسی انسان کا وجود ہی نہیں رہے گا تو اس کے شہری حقوق کی بات کار عبث ہوگی۔جب ہم اسلام سے قبل کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ عورتوں کو جان کا حق حاصل نہیں تھا کیونکہ عرب دور جاہلیت میں لڑکیوں کوزندہ در گور کردیا کرتے تھے لیکن اسلام کی آمد کے بعد عورتوں کو وہ سارے حقوق ملے جن سے وہ محروم تھیں۔ان سارے حقوق میں پہلا حق ’جان‘یعنی زندہ رہنے کا حق ملا۔ہمارا ہندوستانی آئین بھی اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ کسی کو نا حق قتل نہیں کیا جائے گااور یہی قرآن کا فرمان بھی ہے۔اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ قرار دیا۔دیگر اقوام کے بر عکس اسے ذاتی جائدادو مال رکھنے کا حق عطا کیا۔شوہر سے ناچاقی کی صورت میں خلع کا حق عطا کیا۔وراثت میں اس کا حصہ مقرر کیا۔اسے معاشرے کی قابل احترام ہستی قرار دیا۔اسے سیاسی حقوق بھی دیے ،وہ سیاست میں رائے اور مشورے دے سکتی ہے۔اسے تنقید اور احتساب کا حق حاصل ہے۔عورت پر کسی کی معاشی ذمہ داری نہیں ہے لیکن معاشی جدوجہد کا حق حاصل ہے۔اسے تعلیم کا حق حاصل ہے۔اسے کاروبار اور عمل کی آزادی کا حق حاصل ہے۔یہ سارے حقوق ایک مسلمان عورت کو اسلامی دائرہ کا ر میں رہ کر حاصل ہیں ۔یہ اور بات ہے کہ مسلمان اپنی کم علمی کی بنیاد پر انھیں ان تمام حقوق سے محروم رکھتے ہیں۔

(۴)تعلیم کا حق:

انسان کی ترقی علم سے وابستہ ہے ۔کوئی بھی فرد یا گروہ جو علم سے بے بہرہ ہو وہ زندگی کی تگ و دو میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ نہ تو اس کی فکری پرواز بلند ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کی مادی ترقی کا بہت زیادہ امکان رہتاہے۔لیکن اس کے باوجود بھی تاریخ کا ایک طویل دور ایسا گزرا ہے جس میں عورت کے لیے علم کی اہمیت اور اس کی افادیت کو محسوس نہیں کیا گیا۔علم کا میدان صرف مردوں کا میدان سمجھا جاتا رہا۔مردوں میں خاص طبقات کے لوگ علم حاصل کرتے تھے۔عورت علم کی بارگاہ سے دور کوسوں جہالت کی زندگی بسر کرتی تھی۔اسلام نے علم کے دروازے مرد اور عورت دونوں کے لیے کھول دیے اور ان کے راہ کی پابندیاں ختم کر دیںاور علم کا حصول مرد اور عورت دونوں کے لیے واجب قرار دے دیا۔اورلڑکیوں کی تعلیم و تربیت کی طرف خصوصی توجہ دلائی اور ترغیب دیتے ہوئے اسے کار ثواب بتایا۔جبکہ ہمارے ہندوستانی آئین میں یہ تما م چیزیں بہت بعد میںشامل کی گئیں ۔آرٹیکل 21Aکے ذریعہ 2009میں ہمارے ملک میں چھ سے چودہ سال تک کے عمر کے بچے اور بچیوں کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق دیا گیا۔یہ حق تو دیا گیا لیکن اس کا نفاذ کس حد تک ہو رہا ہے ہمارے اور آپ کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہے۔

(۵)نکاح کا حق:

عورت کو جس طرح زندگی کے اہم معاملات و مسائل میں بولنے کا حق حاصل نہیں تھا اسی طرح وہ اپنی شادی اور نکاح کے بارے میں بھی زبان کھولنے کے حق سے محروم تھی۔اس کے ماں باپ یا خاندان کے بزرگ جس شخص کے ساتھ اس کا رشتہ کر دیتے اس سے انکا ر کرنے کی اس کے اندر مجال نہیں ہوتی تھی۔شادی کے معاملے میں لڑکی کا زبان کھولنا سخت نا پسندیدہ اور معیوب سمجھا جاتا تھا۔ہمارے ہندوستانی معاشرے میں بہت سارے علاقے ایسے ہیں جہاں یہ تمام باتیں آج بھی ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔یہ اور بات ہے کہ ہمارے آئین نے اس بات کی اجازت دے رکھی ہے کہ عورت عاقل اور بالغ ہونے کے ساتھ کم ازکم اٹھارہ سال کی عمر ہونی چاہیے۔ایسی صورت میں وہ اپنی پسند اور مرضی سے شادی کر سکتی ہے۔

(۶)مال اور جائداد کا حق:

دنیاکی بیشتر قوموں میں عورتوں کو ان کے حق ملکیت سے محروم رکھا گیا تھا۔خاندانی جائداد میں اس کا کوئی حق نہیں تھا۔وہ جو کچھ بھی اپنی محنت اور لگن سے حاصل کرتی تھی وہ بھی ماں باپ،بھائی ،بیٹے،شوہر یا خاندان کی ملکیت تصور کیا جاتا تھا۔آج بھی بعض مقامات پر ایسا ہی تصور کیا جاتا ہے اورعورتوں کو ان کے حق ملکیت سے محروم رکھا جاتا ہے۔مگر اسلام نے عورتوں کو ان کا حق ملکیت عطا کیا اور اس میں مداخلت کو غلط اور ناجائز ٹھہرایا۔خاندانی جائداد پر مرد اور عورت دونوں کو حق ملکیت عطا کیا۔ہندوستانی آئین میں بھی آرٹیکل 31میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ کوئی شخص قانونی اختیار کے بغیر اپنی جائداد سے محروم نہیں کیا جائے گا اور اس کا اطلاق مرد اور عورت دونوں پر ہوتا ہے۔

(۷)عزت و آبرو کا حق:

عزت و آبرو انسان کی بڑی قیمتی متاع ہے۔اس سے کھیلنے اور اس پر دست درازی کرنے کی کسی کو اجازات نہیں دی جا سکتی۔دنیا کے بیشتر ممالک میں ہمیشہ سے عورتوں کی عزت و آبرو پر مسلسل حملے ہوتے رہے ہیں اور عورت اپنی کمزوری کی وجہ سے اس کی حفاظت میں بہت زیادہ کامیاب بھی نہیں رہی۔اسی لیے آئین نے انھیں زنا،قتل،ریپ،اغواجیسے حادثات و واقعات سے محفوظ رہنے کا حق دیا ۔

مذکورہ تمام حقوق کے پیش نظر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ آج کا دور ترقی یافتہ دور ہے اور اس ترقی یافتہ دور میں معاشرے کے اندر زندگی گزار رہی خواتین کے روایتی کردار اور اس کے فکری رویے میں بہت زیادہ تبدیلی آئی ہے۔خواتین اپنی روایتی ذمہ داریاں پوری کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہائے زندگی مین بھی نمایاں کر دار ادا کر رہی ہیں۔اس کی سب سے بڑی اور اہم وجہ خواتین میں تعلیم حاصل کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔مغربی دنیا میں حقوق نسواں کی تحریک انیسویں صدی میںفرانسیسی سر زمین سے شروع ہوئی جسے تانیثیت (ٖFeminism)کا نام دیا گیا ۔اس تحریک کا بنیادی مقصد خواتین کو ان کا سماجی حق دلانا تھا۔جس میں ووٹ ڈالنے کا حق سب سے مقدم تھا۔نسائیت کی تحریک کے مقاصد میں عورتوں کے لیے حق رائے دہی،مساوات،عورتوں کی ضروریات،حق وراثت،آزادی رائے،خود کفالت،اور آزاد خیالی کے ساتھ ساتھ خانگی ایذا یا گھریلو تشدد اور آبرو ریزی سے تحفظ وغیرہ جیسے مسائل بھی شامل تھے۔یہ تمام حقوق مغربی عورتوں کو رفتہ رفتہ مل گئے لیکن ابھی بھی معاشرے کے بہت سارے شعبوں میں مردوں کے مساوی حقوق نہیں ملے ہیں۔اگر ہم مشرقی معاشرے میں عورتوں کے حقوق کی بات کریں تو یہاں بہت بری حالت ہے۔سخت سے سخت جد وجہد کرنے کے بعد بھی عورتوں کو ان کا جائز مقام نہیں دیا گیا۔ہمارے معاشرے میں بڑی بحث و تکرار ،زدوکوب اور بغاوت و احتجاج کے بعد عورتوں کے بعض بنیادی حقوق تسلیم توکر لیے گئے لیکن وہ تمام حقوق صرف کاغذی ثابت ہو رہے ہیں۔عملی طور پرآج بھی انھیں ان کے جائز حقوق سے کوسوں دور رکھا جاتا ہے۔کچھ تعلیم یافتہ خواتین نے اس سلسلے میں پیش رفت کی ہے اور اپنی بات منوانے میں کامیاب بھی ہوئی ہیںمگرجو بنیادی حقوق ہندوستان میں عورتوں کو دیے گئے ہیںاسلام نے وہ سارے حقوق چودہ سو سال قبل ہی دے دیا تھا۔اس لیے نہیں دیا تھا کہ عورتیں اس کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں یا اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہی تھیں بلکہ اس لیے دیا تھا کیونکہ وہ سارے حقوق عورتوں کے فطری حقوق تھے جو انھیں ملنے چاہیے تھے۔

عورتوں کو درپیش مسائل:

ہندوستان جیسے جنت نشان ملک میں خواتین کسی ایک یا دو مسئلے سے دو چار نہیں ہیں بلکہ متعدد نوعیت کے مسائل سے دوچار نظر آتی ہیں۔یہاں اعلیٰ،ادنیٰ اور اوسط درجے کی خواتین کے الگ الگ مسائل ہیں۔ان تمام مسائل کا احاطہ ممکن نہیں، البتہ یہاں وہ مسائل پیش کیے جائیں گے جو شبانہ روز ہماری زندگی میں رونما ہوتے رہتے ہیں ۔ ویسے یہ بات بہت حد تک درست ہے کہ عورتوں پر ظلم و ستم ،استحصال،جبر و تشدد اور امتیازی سلوک کا رویہ تقریباً دنیاکے تمام خطوں میں یکساں تصور کیا جاتا ہے البتہ ان رویوں کا اطلاق الگ الگ ممالک میں الگ الگ حیثیت سے ہوتا ہے۔مذکورہ مسائل نہ صرف ہندوستان کے ہیں بلکہ یہ پوری دنیا کے مسائل ہیں جن کا شکار عورتیں ہیں۔عورتوں کے حقوق کی پامالی صرف ہندوستان میںہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ہورہی ہے جس کی وجہ سے وہ مختلف مسائل سے جوجھتی نظر آرہی ہیں۔مثلاً زمانہ جاہلیت کی طرح ہندوستانی معاشرے میں بھی لڑکی کی پیدائش پر غم و اندوہ اور لڑکے کی پیدائش پر جشن منایا جاتا ہے۔لڑکیوں کی پیدائش آج بھی ہندوستانی معاشرے میں بہت زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔اسی لیے ہماری حکومت کو لڑکیوں کی بقا اور ان کے تحفظ کے لیے ’لا ڈلی‘ ’بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو‘جیسی اسکیمیں چلانی پڑ رہی ہیں تاکہ لوگوں کی نظر میں بیٹی کی قدر و قیمت بڑھے اور وہ اسے بھی وہی مقام اور مرتبہ دیں جو بیٹوں کو دیتے ہیں۔حالانکہ بسا اوقات یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ بیٹی کے دنیا میں آنے سے قبل ہی رحم مادر میں  ہلاک کر دیا جاتا ہے اور جو کسی وجہ سے بچ جاتی ہیں انھیں کئی طرح کی مشکلات اور خطرات پوری زندگی لاحق رہتی ہیں ۔مثال کے طور پر لڑکیوں کی شادی سے قبل ان کے وہ بنیادی حقوق جو ہندوستانی آئین نے انھیں عطا کی ہیں وہ ان سے محروم کر دی جاتی ہیں  اور شادی کے بعد تو پھر پوری زندگی انھیں مشکلات کا ہی سامنا کر نا پڑتا ہے۔ہندوستان میں زیادہ تر مسائل و مشکلات کا سامناشادی شدہ عورتوں کو کرنا پڑتا ہے ۔مثلاً شادی شدہ عورت کا سب سے پہلا مسئلہ سسرال میںہم آہنگی یعنی ایڈ جسٹمنٹ کا ہوتا ہے۔ایڈ جسٹمنٹ  نہ ہونے کی صورت میں اسے مختلف طرح کے طعن و تشنیع،بد کلامی، اور ظلم و زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کبھی کبھی معاملہ اور بھی سنگین ہوجاتا ہے اور مسئلہ طلاق،خلع،قتل اور مقدمہ تک جا پہنچتا ہے۔موجودہ صورتحال میں ہندوستان میں خواتین کے لیے یہ سب اہم مسئلہ ہے۔دوسرا اہم مسئلہ ولادت سے قبل جدید آلات کی مدد سے لڑکیوں کی شناخت کر کے رحم مادر میں ہی انھیں قتل کر دینااور پھر اسقاط حمل کے وقت بعض دفعہ مائوں کاجاں بحق ہوجانا۔تیسرا اہم مسئلہ ِتلک یعنی نقدی رقم اور جہیزکا مطالبہ کرنااور مطالبہ پورا نہ ہونے یا تاخیرسے پورا ہو نے کی صورت میں عورت کے ساتھ بد سلوکی کا رویہ روا رکھنا۔چوتھا مسئلہ یہ ہے کہ لڑکی کی شادی میں بارات کی شکل میں ایک جم غفیر کا آنااور  پھر باراتیوں کے لیے معقول قسم کے کھانے پینے اور رہنے سہنے کا نظم و نسق کرنا اور یہ سب کرنے کے بعد بھی دولہا کے سر پرست ،رشتہ دار اور باراتیوں کا دلہن والوں کو ذلیل و رسوا کرنا اور گھر پہنچنے کے بعد دلہن سے مزید رقم اور سامان کا مطالبہ کرنا اور مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں اسے ذہنی اورجسمانی اذیت دینا ۔ایسی صورت میں عورت کا خود کشی پر مجبور ہونا بہت بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔

مذکورہ بالا مسائل اور مشکلات کے علاوہ کچھ ایسے اور بھی مسائل ہیں جن کا آئے دن ہندوستانی خواتین کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔مثلاً عورتوں کو زندہ جلانا یا انھیں طلاق دینا یا خلع کے لیے مجبور کرنا۔عورتوں کو گھر میں برابری کا مقام دینے کے بجائے انھیں خادمہ اور نوکرانی کا مقام دینا۔اغوا ،زنا بالجبر،چھیڑ چھاڑ اور فحش اشارات و کنایات سے ان کی عزت و آبرو کو پامال کرنا۔اغوا کر کے،بہلا پھسلا کر،خرید وفروخت کرکے یا دولت و ثروت اور نوکری کا لالچ دے کر انھیں جسم فرووشی کے کاروبار میں لگا دینا یا  معاشی مجبوری اور شادی کی دشواریوں کی وجہ سے ان کا اس پیشے سے وابستہ ہوجانا۔متعدد نوعیت کے تجارتی اور کمرشیل مقاصد کے حصول کے لیے ان کو جسموں کی نمائش پر اکساکر عریانیت اور فحاشی کی طرف مائل کرنا یا شوہر اور ان کے رشتہ دار کی طرف سے انھیں اس کام میں ملوث کر دینا یا سماجی بندھن مضبوط نہ ہونے کی صورت میں خواتین کا ان کاموں سے وابستہ ہوجانا۔یہ تمام مسائل وہ ہیں جن کا تعلق ہمارے روز مرہ کی زندگی سے ہے ۔اس کے علاوہ امور خانہ داری کی ذمہ داریوں کے مسائل،عصمت دری کے مسائل،عوامی مقامات پر جنسی تشدد کے مسائل،انٹر کاسٹ میریج یا لَو میریج کے مسائل،مناسب کام یا روزگار کی تلاش کے مسائل، گھر، کالج، اسکول،گلی نکڑ،عوامی مقامات،دوران سفر،آفس وغیرہ میں،گھر پڑوسی،رشتہ دار،عزیزو اقارب کے ذریعہ جنسی استحصال کے مسائل،بیوہ عورتوں کے مسائل،یہ تمام مسائل ایسے ہیں جو آئے دن ہمارے سماج اور معاشرے میں وبا کی طرح پھیل رہے ہیں۔کرائم ریکارڈ بیورو آف سنٹرل ہوم منسٹری کی رپورٹ کے مطابق ہر 44منٹ پر ایک عورت کا اغوا کیا جاتا ہے۔ہر 47منٹ پر ایک عصمت دری کی جاتی ہے اور تقریباً روزانہ 17اموات جہیز کی بنیاد پر ہوتی ہیں اس کے علاوہ گھر وں میں تشدد کا نشانہ بننا وہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ ان تمام مسائل کے لیے وہ تمام تنظیمیں جو صرف عورتوں کے تحفظ، ان کی بقااور حقوق کی بازیابی کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہیں اور وہ مفکرین جو صرف عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں  وہ سب عورتوں کے در پیش مسائل و مشکلات سے دو چار نظر آرہے ہیں  اور ایسے موثر اقدامات کرنے سے قاصر ہیں جو ان کے سارے مسائل کا مداوا کرسکے،حالانکہ ہر سال عالمی سطح پر ’دن برائے زن‘(Womens day) منایا جاتا ہے۔اس دن عورتوں کے حقوق اور ان کے در پیش مسائل پر سیمینار اور کانفرنسیںہونے کے بعد تجاویز بھی پاس ہوتی ہیںاور ان مقالات کی نشر واشاعت بھی کی جاتی ہے لیکن افسوس کہ سر کاری اور غیر سرکاری تنظیموں اور شخصیات کی جانب سے عورتوں کے حقوق کی بازیابی کی کوشش کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہو رہے ہیں اور آئے دن ان کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔

معاصر خواتین کے مسائل اور مشکلات پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جنسی عدم مساوات کے مسائل سے سب سے زیادہ دوچار نظر آتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مرد اساس معاشرہ جنس کی بنیاد پر ان کے ساتھ غیر مساویانہ رویہ رکھتا ہے۔اس لیے ہم مرد اساس معاشرے کے بالمقابل ایک ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں جس میں مرد اور عورت دونوں کو مساوی حقوق دیے جائیں اور عورتوں کے ساتھ ان کی جنس کی بنیاد پر کسی طرح کا کوئی بھید بھائو نہ کیا جائے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمیں ہر معاملے میں مساوی حصہ دیا جائے مثلاً روٹی ،کپڑا، مکان،خوشیوں ،لذتوں،لطف اندوزیوں،کھانے کھلانے، پینے پلانے، موٹر،تھیٹر، بس،ٹرین، پب، ڈسکو، فلم، سیاست، معیشت، تعلیم، نوکری، غرض  انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں اور ذاتی زندگی کے ہر گوشے میں ہم سب مساوات کے طلب گار ہیں۔ان تمام معاملات کے علاوہ مرد اور عورت کی برابری کے نام پر معاصر خواتین اس بات کا بھی مطالبہ پیش کر چکی ہیں کہ جب مرد اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری عورت سے لطف اندوز ہوتا ہے تو ہم بھی اپنے مرد کے علاوہ کسی اور خوبصورت و خوبرو مرد سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں ۔اسی لطف اندوزی نے معاصر خواتین کو نئے نئے مسائل و مشکلات سے ہم کنار کر رکھا ہے۔حالانکہ اس طرح کی لطف اندوزیاں ایلیٹ کلاس(Elite Class) معاشرے میں ایک فیشن کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہیں جو مستقبل قریب میںہندوستان میں بھی ایک کلچر کی صورت اختیار کر لیں گی ۔ لیکن بہر حال یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور فکر کی ضرورت ہے اورجدید ذہن کی خواتین کو ان مسائل سے نکالنا بھی ہے۔

اکیسویں صدی کی خواتین کا ایک اور اہم مسئلہ جن سے مرد اساس معاشرہ جوجھ رہا ہے وہ یہ ہے کہ آزادی نسواں اور مساوات مرد وزن کے نام پر افزائش نسل اور تسلسل انسانی کو بر قرار رکھنے کے معاملے میں مرد کو مجبور و بے بس بنا رکھا ہے۔آج کی خواتین یہ کبھی نہیں چاہتیں کہ مرد عورت کی جنین کو اپنی ملکیت سمجھے یا اس کی مرضی کے خلاف کوئی بچہ پیدا ہویا وہ اپنے نو مولود بچے کو اپنے چھاتی کا دودھ پلائے،اپنی اولاد کی تربیت اور نگہداشت میں اپنا وقت برباد کرے۔ان کا ماننا ہے کہ اگر یہ ساری ذمہ داریاں ہم اپنے سر لے لیں گے تو ہم زندگی کی تمام مسرتوں اور شادمانیوں اور اس کی لذتوں سے محروم ہو جائیں گے اس لیے وہ  استقرار حمل کے لیے جلدی تیار نہیں ہوتیں۔وہ نہیں چاہتیں کہ کسی بچے کی ماں بنیں کیونکہ ماں بننے کی صورت میں صحت کے بگڑنے،حسن و جمال کے ماند پڑنے،اپنے اندر کشش ختم ہونے کا خطرہ محسوس کرتی ہیں اسی لیے بعض اوقات مباشرت تک سے انکار کر دیتی ہیں اور پھر خاندانی منصوبہ بندی،ضبط تولید اور اسقاط حمل کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا شروع کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے انھیں بعد کی زندگی میں بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حالانکہ اس طرح کے بیشتر مسائل کا تعلق اعلیٰ سوسائٹی کی خواتین سے ہیں لیکن ان کے زیر اثر یہ وبا متوسط اورنچلے طبقے کی خواتین میں بھی پنپنے لگی ہے۔اس طرح کی وبا کا پنپنا ہی آج کی خواتین کے مسائل ہیں۔

اکیسویں صدی کی خواتین کا ایک مسئلہ ان کا تمام تر فطری اور طبعی خصوصیات سے محروم ہونا ہے۔اس محرومی کی وجہ اس کا ہر میدان میں مردوں کی ہمسری کرنا اور اس ہمسری میں سخت جسمانی محنت اور ذہنی کشمکش سے دوچار ہونا ہے۔ یہ ہمسری کسی ایک سطح پر نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں خواہ وہ کھیل کود کا مقابلہ ہو یا ورزش اور جسمانی کرتب بازی ۔ریس کا میدان ہو یا تیراکی اور دنگل کا۔باد بانی کا ہو یا جہاز رانی کا۔سیاست میں ہو یا مذہبی و سماجی معاملات میں، وہ ہر جگہ مردکو ٹکر دے رہی ہے اور اس کی ہمسری کی کوشش کر رہی ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنی تمام تر فطری صلاحیت، طبعی خصوصیات اور نسائی حسیت سے محروم ہوتی جارہی ہے ۔ایک عورت کا نسائیت اور نسائی حسیت سے محروم ہونا بڑے نفسیاتی مسائل کو دعوت دینا  ہے۔ عورت کے جذبہ ہمسری،تقابل،تصادم، اور رقابت نے صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ازدواجی زندگی کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ذرا ذرا سی باتوں پر لڑنا جھگڑنا،نااتفاقی ،ایک دوسرے کو نفرت کی نگاہوں سے دیکھنا،مقدمہ بازی کرنا،طلاق ،یہ سب ایسی عملی صورتیں ہیں جن سے ہم سب کا واسطہ پڑتا ہے اور آئے دن ہمارے آپ کے گھروں میں رونما ہوتے رہتے ہیں۔اکیسویں صدی کی خواتین زیادہ ترانھیں مسائل کا شکار نظر آتی ہیں۔

مذکورہ مسائل کے علاوہ اور بھی جن مسائل سے دوچار ہیںان میںہم جنس پرستی کا مسئلہ،بغیر شادی کے جنسی رشتہ قائم رکھنے کا مسئلہ، ایک سے زائد مردوں سے رشتہ قائم رکھنے کا مسئلہ،جنسی بے راہ روی کا مسئلہ ،قحبہ گری کا مسئلہ،انٹر کاسٹ لَو میریج  یا لَو میریج کا مسئلہ،جنسی استحصال کے مسائل وغیرہ قابل ذکر ہیںجن میں انھیں آزادی اور برابری چاہیے۔ان تمام مسائل کو لے کر مرد اساس معاشرے سے جو سوال قائم کرتی ہیں وہ یہ کہ جب مرد اور عورت قانون کی نظر میں برابر ہیں تو پھر مرد اور عورت میں امتیازی سلوک کیوں ہے؟ جو مقام مرد کو حاصل ہے وہ عورت کو کیوں نہیں حاصل ہے؟جو کام مرد کرسکتا ہے وہ عورت کیوں نہیں کر سکتی؟جب مرد اور عورت دونوں کی عقل و دانش اور لیاقت وصلاحیت کو مساوی مانا گیا ہے تو پھر مرد حاکم اور عورت محکوم کیوں ہے؟آخر دونوں انسان ہیں پھر مرد کی حاکمیت کے کیا معنی؟مر دایک سے زائد شادیاں کر سکتا ہے تو عورت کیوں نہیں؟مر دجب چاہے طلاق دے سکتا ہے توعورت کیوں نہیں؟مرد شراب و سگریٹ نوشی کرسکتا ہے تو عورت کیوں نہیں؟ ان تمام سوالات کو لے کر آج کی خواتین میدان عمل میں اتر چکی ہیں اور آزادی نسواں کے پُرفریب نعروں کے جال میں د ن بدن پھنستی چلی جا رہی ہیں جس کے سبب طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کررہی ہیں۔ان تمام مسائل میں برابری کے سلسلے میں پہلے انھیں اپنی فطری اور طبعی صلاحیتوں پر غور کرنا چا ہیے اور اپنی نسائی حسیت کو کھونے کے بجائے اس کی بازیافت کی کوشش کرنی چاہیے اور مرد اساس معاشرے سے ان تمام حقوق کاپوری طاقت سے مطالبہ کرنا چاہیے جو ان کے لیے غیر فطری کے بجائے عین فطری ہوں۔

Refrences:

1:Constitution of India (Urdu Version) Published by Taraqqi Urdu Beaurau,New Delhi,1982

2:Hashmi,AbdulAzeez,Tareekh-e-Niswan,Published by M.R Publications,delhi,2011

 

نوٹ: مضمون نگار این سی ای آر ٹی سے وابستہ ہیں۔

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثحقوق نسواں
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
سولر پلیکسس، ستیہ پال آنند اور سہسرر -حقانی القاسمی
اگلی پوسٹ
موپاساں اور منٹو میں موضوعاتی یکسانیت – محمد ریحان

یہ بھی پڑھیں

جون 27, 2023

ماہِ رمضان اور ہماری زندگی – میر امتیاز آفریں

اپریل 6, 2022

فروری 4, 2022

دبستانِ ضلع بجنور کی خواتین قلم کار –...

اکتوبر 7, 2021

ادب کی ماحولیاتی شعریات اور اردو افسانہ حصہ...

جون 28, 2021

دھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کا...

جون 16, 2021

دھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کاتفصیلی...

جون 13, 2021

شبلی کی استعمار شناسی (سوانح،سفرنامہ اورمقالات کے حوالے...

جون 12, 2021

ادب اطفال اور آج کے ادیب۔ایک جائزہ –...

جون 9, 2021

محمد آصف مرزا کی شعری حسیات’’ستارہ ہے خاک...

مارچ 7, 2021

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں