شہر میں اِک چَراغ تھا، نہ رہا
خدا انہیں غریق رحمت کرے۔ان کی دعا اورقرآن کی تلاوت سے صبح کا آغازہوتے ہی گھرکے کبوتربھی بیدار ہوجاتے اوردیکھتے ہی دیکھتے گھر کے کئی افراد تہجد ادا کرکے فجرکی تیاری میں مشغول ہوجاتے ۔کیا مجال گھریا باہر مدرسے میں کوئی بھی شخص سویا رہ جائے!۔لوگ کہا کرتے مسلمانوں کے لیے نماز اورغیرمسلموں کے لیے صبح کا الارم ہیں!
لوگ ان سے محبت کرتے،ہرعمر اورہرسطح کے افراد ان سے اپنی قربت محسوس کرتے اورفیض پاتے۔باتیں بہت کرتے لیکن کام کی،وہ ان لوگوں میں نہیں تھے جو سننا نہیں جانتے ۔سنتے توحسن سماعت کامنظر ہوتالیکن غیر ضروری او رادھوری بات سننا ان کے لیے بے حد مشکل تھا۔حکمت اورہومیوپتھی سے خاص لگاؤ تھا،زندگی کے خواب اورخوابوں کی تعبیرسے خوب واقف،کتابیں پڑھنے اورجمع کرنے کا شوق اتنا کہ پوراگھرعمدہ کتابوں سے مزین رہتا،شایدہی کوئی اورکسی مسلک کا اسلامی مجلہ ہوجو ہر مہنیے گھر کی زینت نہ بنتا ہو۔ کتابیں صرف جمع ہی نہیں کرتے بلکہ تقسیم بھی کرتے ۔کہیں سے کوئی ملاقاتی آجاتا تواسے تحفتاً کتاب پیش کرتے۔ قرآن کی تقسیم کا ایسا شوق کہ جہاں سے ممکن ہوتا منگواتے یا خودلاتے اورہرجگہ تحفتاً بھیجتے۔ اکثرمدارس کے طلبا اورعصری تعلیم حاصل کرنے والوں کو اپنے پاس بٹھا کرمختلف کتابیں پیش کرکے نئی نسل کو مطالعہ کی جانب راغب کرتے اورکہتے جسم کی صحت کے لیے اچھی غذا،روح کی صحت کے لیے اچھی عبادت اورعقل سلیم اورمعیاری ذہن کے لیے عمدہ کتاب بے حد ضروری ہے۔
میں نے اپنی پوری زندگی میں ان کے سوا کسی عالم کونہیں دیکھا جو تمام مسالک کی مساجد میں امامت وخطابت کرتاہو اورتمام مسالک کے لوگ اس سے یکساں محبت کرتے ہوں جب کہ وہ کبھی بھی عقیدہ سلف ِصالحین سے قطعاً سمجھوتا نہ کرتے۔ تا عمربشیرونذیربن کررہے،بیجا تعریف اورقصیدہ خوانی سے ان کی طبیعت ہمیشہ گریزاں رہی۔اکثرکہاکرتے اللہ اپنے بندوں سے چاہتاہے کہ وہ بشارت و خوشخبری دینے والے اور نذیریعنی اللہ کے عذاب وعقاب سے باخبرکرنے والے اورڈرانے والے بن کررہیں نہ کہ قصیدہ خواں بن کر۔ وہ یہ بھی کہتے کہ اس وقت اکثر لوگ مفتی ہیں کاش داعی ہوتے تو فتوے بازی کے بجائے اصلاح ودعا سے سماج میں مثبت تبدیلیاں ممکن ہوتیں۔امت مسلمہ کے مسائل کوپیش نظر رکھنے والے۔عذاب وعقاب پراللہ کی رحمتوں کومقدم رکھنے والے تھے!۔ کہاکرتے کہنبی کریم ﷺنے ابوجہل تک کے لیے دعا کی تھی لیکن ان کی امت کے اکثرناعاقبت اندیش غیروں کوتو کیا اسلام کی طرف راغب کرتے خوداپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔اللہ اگر صحابہ سے پوچھے گاکتنے لوگ آپ کے ہاتھ پر ایمان لائے وہ جواب دینگے بستی کی بستی! جب اِن فتوی باز مقررین اور نادان امتیوں سے یہی سوال دہرائے گا تویہ ندامت سے کہیں گے !ہم نے توکافربنایا !۔
شہرکے عجیب وغریب ،نیک نام اوربدنام،خوش عقیدہ او ربدعقیدہ ہرقسم کے لوگوں سے ان کے تعلقات تھے۔ ایسے افرادکی تعلیم و تربیت اورجائز حدودمیں تعاون اُن کا وطیرہ تھا۔ اکثرکہتے اللہ نے انبیا صرف اچھے افراد کے لیے نہیں بلکہ سرکش لوگوں کی اصلاح کے لئے مبعوث کئے تھے اس لیے صرف نیکوکاروں کے دائرے میں سمٹ کے رہ جانا ٹھیک نہیں۔مخالفین کے حق میں دعائے خیرکرنے والا، زیادتیوں کے باوجودکلمہ خیرکہنے والا اورہر لمحے ان افراد سے تعاون کرنے والانہ رہا۔حالی کی زبان میں تھوڑا بدل کرکہیں تو :
شہرمیں تھیں تو اس کی باتیں تھیں
لے چلیں اب وطن کو کیا سوغات
لاکھ مضموں اوراس کا ایک ہی قول
سو تکلف اوراس کی سیدھی بات
یاں اگر بزم تھی تو اس کی بزم
یا ں اگرذات تھی تواس کی ذات
معاشرے میں پھیلے مظالم پردوٹوک قرآن وسنت کا فیصلہ سنانے والا،دن کودن اوررات کو رات کہنے والا۔سنت رسول کے خلاف کسی کوبھی کسی بھی جگہ ٹوک دینے والا،کسی بھی غیر اسلامی شادی میں شرکت سے انکارکرنے والااورہر شادی میں علی الاعلان یہ شعر پڑھنے والا :
رسم بارات رسم مشرکانہ
اس میں سلامی ہویاکھانا
اشعار میں تبدیلیاں کر کے کہا کرتے دیکھو میں نے اسے بہتر شعر بنادیا ہے مثلاً بشیر بدرکے ایک شعر کوترمیم کے ساتھ یوں پڑھا کرتے :
الٰہی اپنی یادوں کے اجالے ساتھ رہنے دے
نہ جانے کس گھڑی اس زندگی کی شام ہوجائے
جس نے بھی اپنی زندگی کے جملہ مسائل ومعاملات میں خیرالبشرﷺ کواپناآئیڈیل اورنمونہ ٔ زندگی بنایااس کی زندگی بہترین، موثراورانسانی خوبیوں سے مزین ہوگئی۔محبت رسول ﷺاورصحابہ کاطرز عمل ہماری زندگی کے مختلف النوع گوشوں کو منورکرنے کا سبب بن جاتاہے۔ میرے والد محترم کی پیشانی کشادہ،چمکتا ہوا پروقاروجیہ اوربارعب وباریش، کتابی چہرہ،داڑھی کے بال تقریباًسفید،دل کش خدوخال، گندمی رنگ،ستواں ناک،میانہ قد،سڈول جسم،ہتھیلی ملائم،سرکے بال سیاہ اورسفید کا مرکب، شخصیت جاذب نظر،زبان بے باک ،مسحورکن آواز اور آوازمیں صفائی وبلند آہنگی، دین کے داعی ،مزاج میں سنجیدگی اورزندہ دلی ،فن تفسیروحدیث اورعقائد کے ماہر اور کامیاب مدرس،علم دوست ، بااخلاق ، مریضوں کے نباض ! مجسم اعتبارو پیکرِاعتماد،خارزارِ دعوت کے رفیق،یہ تھے ڈاکٹرمولانا طاہرندوی ، سلفی اور مدنی ۔طاہر ذہن ، طاہر طینت، طاہرنام ۔
نکتہ داں ، نکتہ سنج ، نکتہ شناس
پاک دل، پاک ـذات،پاک صفات
ولی صفت ،شریف النفس ،اقبال مند ،دعاؤں کے پیکر،نماز کے رسیا۔شرع کے پابند،صرف اللہ سے ڈرنے والے، مسلکی منافرت سے دور،تمام تر مذہبیت کے باو جود دیگر مذاہب کے افرادسے انسانی بنیادوں پر رواداری کے پیغامبر، مہمان نواز،غریب پرور، اہل علم کے قدردان،شاعرانہ مزاج کے حامل،قرآن وسنت کے پابند،چہرے پر بشاشت اورمسکراہٹ ، زبان میں قطعیت اور فصاحت ،متانت وسنجیدگی سے لبریز پرنور چہرہ اور زبان پرہرلمحے دعا ۔
کبوتر پالنا،انہیں دانہ ڈالنا،وضوکرتے وقت ان کا پانی بدلنا ،لوگوں کوکبوترکے بچے تحفتاً بھیجنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ ان کے انتقال کے بعد گھرکے کبوتر کئی دنوں تک اداس رہے جو ان کے بیدارہوتے ہی غٹرغوں غٹرغوں کرنے لگتے تھے ، گویا انہیں سانپ سونگھ گیا ہو۔بلی کوبٹیرکی ہڈی کھلانا،بکری پالنا، خودبھی اس کی دیکھ ریکھ کرنااورہم بھائی بہنوں سے بھی اس کی دیکھ ریکھ کرواناان کے فرائض میں شامل تھا ۔اکثرانبیاے کرام کا ذکرکرکے کہتے جانتے ہو انبیا نے بکریاں کیوں چَرائیں؟ اوروجہ بھی خودہی بتاتے۔ تاکہ دعوت وتبلیغ کا کام کرناآسان ہوجائے اور معتدل رویہ قائم رہے کیوں کہ بکری بھی انسان کی طرح جلدی قابو میں نہیں آتی۔ قربانی کے بکرے کا نام ضیف الرحمن رکھتے۔ قربانی چاہے بڑے کی ہویا چھوٹے کی اس کو خود ذبح کرتے اور کرواتے۔ چمڑے اورگوشت وغیرہ کٹوانے کاکام اپنے بچوں سے ہی کرواتے،اپنی بیٹیوں سے بھی ذبح کرنے کوکہتے اورکہتے کہ اگرکوئی ظالم تمہاری طرف دست درازی کی کوشش کرے تو یہ عیدالاضحی ہمارے لیے اللہ کی طرف سے ٹریننگ ہے۔ میں نے کبھی بھی اپنے گھرمیں قصاب کوعیدالاضحی میں آتے نہیں دیکھا۔اس لیے ہمارے گھرمیں سب سے پہلے قربانی ہوتی تھی۔جن کے یہاں قربانی نہیں ہوتی یا دیر سے ہوتی والد صاحب ان کے یہاں فوراً گوشت بھجوادیتے۔ایام تشریق کے آخری دن یعنی تیرہ ذوالحجہ کو قربانی کا خاص اہتمام کرتے اور لوگوں کوخاص طورپر مدعوکرتے۔ غیرمسلم پڑوسیوں کو بھی قربانی اور عقیقے کا گوشت بھیجتے ۔
میاں نذیرحسین محدث دہلوی کے شاگردمولانا عبدالعزیز رحیم آبادی کے میدان دعوت وتبلیغ کے خطّوں میں سے ایک خطہ ضلع سیتامڑھی ہے۔ا س خطے میں بَرہروا،مُرول،مولانگر،شاہ پور،بچھارپور کے بیچ ایک مردم خیزبستی آواپورآباد ہے۔اسی بستی میں مقیم مولانا ڈاکٹرمحمدطاہرسلفی مدنی نے ابھی ناظرہ قرآن مکمل ہی کیاتھاکہ شفقت پدری سے محروم ہوگئے۔ بچپن میں جسمانی طورسے اس قدر کمزور تھے کہ لوگ انہیں پان کے پتے سے تشبیہ دے کر پان بابو تک کہنے لگے۔ میرے والد محترم کا زمیں دار گھرانا میدانِ علم وعمل میں معروف تھا۔ والد صاحب کے انتقال کے چندروزبعد ایک خط نے مجھے چونکادیا یہ خط مدرسہ سلفیہ آراسے تعزیتی پیغام کے طورپرارسال کیاگیا تھا۔ اس خط اورفون پررابطے کے بعدجومعلومات مجھے حاصل ہوئیں وہ یہ تھیں کہ مدرسہ سلفیہ آرا کو میاں نذیرحسین محدث دہلوی کے ایک دوسرے شاگرد رشید مولانا حافظ ابو محمد ابرہیم آرویؒ نے 1880سے پہلے قائم کیاتھا۔اس علمی درسگاہ میں تقریباً بارہ سو سے زیادہ طلبہ رہاکرتے تھے۔ یہاں مصروشام اورعرب ممالک سے بھی دینی تعلیم کی پیاس بجھانے بڑی تعدادمیں طلبہ تشریف لاتے اوردریائے علم کے شناور بنتے۔سلفی مکتبۂ فکر کی ا س معروف اور عظیم دینی درس گاہ میں آزادی سے بہت پہلے میرے پرداداجناب مولانا قمرالدین صاحبؒ کو بھی درس وتدریس کے فرائض انجام دینے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ یہ تومعلوم تھا کہ میرے دادا مولانا محمد یعقوب صاحب نے اسی درسگاہ سے اپنی تعلیم مکمل کی تھی لیکن میں اس بات سے لاعلم تھاکہ میرے پردادا نے بھی وہاں تدریسی خدمات انجام دی ہیں۔ دادا محترم کے بارے میں والد صاحب اکثر فرمایاکرتے کہ وہ نہایت غیورمسلمان تھے اور صوم وصلوٰۃ کے ایسے پابندکہ گھرمیں مارشل لا نافذرکھتے اورمہمانوں کی تعظیم میں بچھے رہتے۔
3 اکتوبر1965کومیری والدہ جب بیاہ کرآوا پورتشریف لائیں ا س وقت ہمارے والد کے گھر کی مالی حالت قدرِخراب تھی۔ہماری دادی جان مفلوج اورنہایت کمزورتھیں لیکن نازوںمیں پلی میری والدہ ہمیشہ اورہروقت گھر کے تمام کاموں میں حصہ لیتیں، دادی فضیلۃ النساء کی تمام تر تیمارداری اورصفائی ستھرائی کا کام اپنے ذمہ رکھتیں ۔دن رات ان کی خدمت میں لگی رہتیں جس سے دادی بہت خوش ہوتیں اور دعائیں دیتیں۔محلوں جیسے ماحول سے آئی ہوئی میری والدہ کبھی کسی بھی حال میں حرف شکایت زبان پرنہ لاتیں،مجھے یادہے کہ ہمارا گھرمٹی اورجھانجھ یعنی بانس کا بناہواتھا ۔ میرے گاؤں میں پختہ چھت دارایک مکان تھا جس کی سیڑھیوں پرچڑھ کر میں اکثرکھیلا کرتا ،وہاں موجود ایک بزرگ خاتون جو بہت پیاری سی تھیں میرے گرنے کے ڈرسے کبھی کبھی مجھے ڈانٹ دیتیں اورایک مخصوص جملہ اکثر دہراتیں جس کو برامان کر میں اپنی والدہ سے کہتا کہ شبیر بھائی کے پاس چھت والا مکان ہے ہمارے پا س کیوں نہیں ؟ والدہ فرماتیں انشاااللہ اللہ جلدعطا کردیگااور ہم نے دیکھا کہ پانچ سال کے اندرہی اللہ نے ہمیں آواپور اوردربھنگہ شہرمیں پختہ اور عمدہ مکان عطا کردیا۔ہماری والدہ کوپندرہ بچے ہوئے جن میں تین جڑوا ں پیدا ہوئے لیکن انہیں کبھی کسی ڈاکٹرکے یہاں جانے کی ضرورت نہ پیش آئی، والد کی دعا اور ہومیوپیتھی ہی کافی وشافی ہوتی۔پندرہ بچوں میں سے سات کا انتقال ہوگیالیکن میں نے ہمیشہ انہیں صابروشاکر پایا۔میری دادی بھی بہت نیک خاتون تھیں،کمزورترین حالت میں بھی تہجدفوت نہ ہونے دیتیں اور فجرکی نماز کے بعد ذکر واذکار اور دوسرے اشعار کے ساتھ یہ شعرکثرت سے دہراتیں:
دکھادے یاالہٰی وہ مدینہ کیسی بستی ہے
جہاںپررات دن مولاتری رحمت برستی ہے
میں نے دادا یا دادی میں سے کسی کونہیں دیکھا لیکن والد صاحب یہ شعرپڑھ کراکثرفرماتے کہ میری والدہ کی یہ دعا ایسی قبول ہوئی کہ خاندان کے تقریباً تمام افراد نے مکہ مدینہ دیکھ لیا۔ میں نے ان کی طرف سے حج وعمرہ ادا کیا،شہر مدینہ سے تعلیم حاصل کی اورقبولیت کی حد تو یہ ہے کہ تمہارے چچا زاد بھا ئی مظفر الاسلام عمری مسجد نبوی میں داعی ہیں اوران کا بیٹا مجاہد مسجدنبی ﷺمیں قرآن پڑھا تا ہے۔ اللہ اکبر!(الحمدللہ علیٰ احسانہ )
گھرکے افراد دیندار ہونے کے ساتھ ساتھ خوددار اورغیور بھی تھے۔دل کھول کر،اعلانیہ اورپوشیدہ خرچ کرنے والے اس گھرانے میں ایک دفعہ جب نمک ختم ہوگیا تو میری پھوپھی حفصہ نے کہا کوئی بات نہیں آج ہم نمک کے بغیر ہی کھانا کھالیں گے کم از کم کوئی یہ تو نہیں کہے گا کہ یعقوب کے گھر میں کل نمک ختم ہوگیاتھااور اس گھر سے کوئی نمک مانگنے آیا تھا ۔میرا عقیقہ میری پھوپھی حفصہ نے ہی کیا تھااس میں انہوں نے اپنے گھرکے پلے ہوئے دو بکرے ذبح کیے تھے۔ ابھی میں چھ ماہ کا ہی تھا کہ وہ اس دارفانی سے رخصت ہوگئیں۔
والد ماجد کو اپنی سسرال پرہمیشہ ایسا فخررہا کہ انتقال کے چنددن پہلے کسی نے ایک جگہ اُس گاؤ ں کے خلاف کچھ کہہ دیا تو ناراض ہوگئے۔ان کی بڑی تمنا تھی کہ ہم بھائیوں میں سے کسی کی شادی دیورا بندھولی میں ہو،اکثرکہاکرتے تم میں سے کسی کو میری جیسی سسرال نہ ملی۔ اس گاؤں میں میں نے کئی ایسی خوبیاں دیکھیں جو مجھے کسی دوسری جگہ نہ دکھائی دیں،میرے والدجب وہاں جاتے توایسا معلوم ہوتاجیسے و ہ پورے گاؤں کے دامادہیں،دامادکی ایسی خاطرداری میں نے کہیں اورنہیں دیکھی۔ جب بھی اس گاؤں کے کسی گھرمیں کوئی مہمان آتاتو پڑوس کے گھروں سے بغیر کہے فوراً ایک دو سالن اورکھانے پینے کی دوسری اشیا آجاتیں۔نمازیوں کودعوت دینے کا رواج تھا۔ یہ رواج بھی میں نے کسی دوسرے گاؤں میں نہیں دیکھا۔ میرے چھ ماموں ہیں۔ سب کے سب میرے والد ین پرجان نچھاورکرتے تھے۔ماموں کے علاوہ میری خالہ اورممانی وغیرہ بھی میرے والدین سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ والد صاحب بھی ان کی تعلیم وتربیت کے لیے کوشاںرہتے ۔ میری نانی اور ماموں گاہے بگاہے ہمارے گھرتشریف لاتے رہتے اورساتھ ہی ہرموسم کے پھل خصوصاً اپنے باغ کے عمدہ آم اور پکوان وغیرہ کثرت سے لاتے۔ہم بھائی بہنوں نے اپنے بچپن کا بہت سا وقت نانہال میں گزاراہے ۔ہمارانانہالی کنبہ بھراپُراتھا لوگ ایک دوسرے میں گھلے ملے اوربے تکلف تھے اکثرمذاق کا دوربھی چلتا لیکن حدادب ملحوظ رہتا۔ میرے والد صاحب کی کوششوں سے ہی میرے چچازاد بھائی مظفرالاسلام عمری ،حافظ مظہراورمیرے ماموں شکیل عمری اور معراج سلفی وغیرہ تعلیم سے بہرہ ور ہوئے۔والد صاحب اپنے بھائیوں سے بے پناہ محبت کرتے اگرکسی کی حالت کمزوردیکھتے تو اپنی رہائش کی زمین بھی حسب ضرورت اس کے نام کرنے سے نہ چوکتے۔
جناب مسعود امین صاحب میرے چچابے حد نڈر اورخوش عقیدہ تھے ۔ایک بھکتا( تانترک) طرح طرح کے شعبدے دکھا کر گاؤں کے بھولے بھالے لوگوںپر اپنی دھاک جمایاکرتاتھا۔ اسی علاقے میں ان کی پوسٹنگ تھی ۔ چچا کوجب معلوم ہوا تو کہنے لگے کہاں ہے ؟میرے سامنے اپنا شعبدہ دکھائے! بہرحال بات یہ طے پائی کہ وہ گرم کھیرکے تسمۂ(برتن )میں اپناہاتھ ڈالے گا ۔چچا نے اسے چیلنج کرتے ہوئے کہا!ڈال کر دکھا!۔توبے ایمان!ایسا کرہی نہیں سکتا۔ اگلے دن اس تماشے کودیکھنے پورا گاؤ ںجمع ہوگیالیکن ان کی ایمانی طاقت کے سامنے اسے راہ فرار اختیارکرنی پڑی۔ میرے چچامسعود امین والدمحترم کے سب سے بڑے بھائی تھے انہوں نے ہی میرے والدکی تعلیم کا ساراخرچ اٹھایاتھا۔والد صاحب زندگی بھران کے ممنون رہے۔بھائی محمود،بہن حفصہ اوربھائی طیب کے احسانات بھی جو ان کے بچپن کے دنوں کے تھے ہمیشہ یاد رکھتے اوران کے لیے روروکردعائیں کرتے ۔
ہمار ے آبائی مکان سے متصل والد ماجدنے ایک جگہ لے کرپختہ مکان بنوایاتھا۔یہ اپنے محل وقوع کے اعتبار بڑی پرفضاجگہ ہے اوربے حد خوبصورت مناظر کا حامل ہے۔ا س مکان کے چاروں طرف کھیت ہیں اورگھرکے دو اطراف میں والد محترم نے مختلف قسم کے پھلوں کے پیڑ لگوادیے تھے ۔یہاں سے جب بھی سیلاب کاپانی گذرتاہے توہمارا گھرایک جہاز کے مانند ہوجاتاہے لیکن پانی گھرمیں داخل نہیں ہوتا۔ ہم اپنے گھرکے باہر نکل کر یا کھڑ کی کے اندر سے مچھلی کاشکارکرتے۔ مچھلی کا شکار بھی ایک فن ہے، کانٹا اور ڈور کب کھینچنا ہے اورکس طرح کھینچنا ہے ا س فن میں بھی والد محترم طاق تھے۔ہم تمام بھائی بہنوں میں ان سے بہتر مجھلی کاشکار کوئی نہیں کرسکتا تھا۔
ان کی خواہش ہوتی کہ ان سے متعلق کوئی شخص اگردربھنگہ آئے توہمارے گھرضرور تشریف لائے ۔ میرے چچازاد بھائی ظفر اورگاؤں کے بہت سے لوگوں کوملاقات کے دوران اور فون پرباربار آنے کوکہتے۔
اخبارت ورسائل میں مستقل مسلکی منافرتوں اورمذہبی تشددکے بارے میں پڑھ اورسن کرمیں نے ایک دن ان سے سوال کیاکہ کیا نعوذباللہ ِان سب مذہبی فسادات واختلافات کاذمہ داراللہ ہے؟ جس نے انسانوں کو مذہب ومسلک میں بانٹ کرلڑائی کا درس دیاہے؟۔ فرمانے لگے بیٹے کتابیں پڑھو انعام دوں گا ۔اس طرح بہت سی کتابوں کا مطالعہ کروایااور فرمایا جسے تم تسلیم کرو وہاں کوئی غلطی نہیں ہونی چائیے کیوں کہ اللہ غلطی نہیں کرسکتا۔ جسے تم مانو وہ ایسا قانون زندگی ہوجو ہرجگہ کے لیے ایپلی کیبل اورنیچرل ہو۔ ایسا نہ ہوکے وہ کسی ایک ملک یاخطہ کی چیزہو بلکہ اسے یونیورسل اورفطری ہوناچائیے۔ جسے تم قبول کرووہ اللہ کی جانب سے ہونا چاہئے نہ کہ مذاہب کے علماسو یا فلسفیوں کی طرف سے۔یہ سارا جھگڑامذہب کے نام پردکان چلانے والے سیاست داں اوردوسرے نام نہاد مذہبی افرادکا کھڑاکیاہواہے۔ میں ان حقائق کی روشنی میں اللہ اوردنیاکی حقیقتوں سے آشنا ہوتاگیااورمیراایمان پختہ سے پختہ ترہوتاگیا الحمدللہ۔
مولاناآزاد سے ابوجان کوبڑالگاؤ تھاان کی کتابیں اکثر مطالعے میں رہتیں۔ خصوصاًترجمان القران اور اس کا مقدمہ خودبھی پڑھتے اورلوگوں کو بھی پڑھنے کا مشورہ دیتے۔ طالب علمی کے زمانے میں علی گڑھ میٹرک کا امتحان دینے گئے تو کسی نے پوچھاعلامہ شبلی کوجانتے ہو؟ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے فرمایا’’ اپنے باپ کو کون نہیں جانتا‘‘۔ سیرت کی کئی کتابوں کے ساتھ مولانا کی سیرت النبی ہمیشہ ان کی الماری میں دھری رہتی۔مسدس حالی،اکبرالہ آبادی، سعدی اور دوسرے اردو اور فارسی شعرا کا کلام اکثرموقع بہ موقع سناتے۔تعلیم کا شوق ایساتھا کہ جب مستی چک،ضلع چھپرا میں انہیں ہائی اسکول میں سرکاری نوکری ملی توہومیوپیتھی پڑھنے کے شوق میں نوکری تک چھوڑدی! اسکول کے ہیڈماسٹر صاحب نے سال بھر انتظار کیا لیکن والد محترم تعلیم چھوڑنے پرآمادہ نہ ہوئے اورسنہاکالج سے ہومیوپیتھی کی ڈگری حاصل کرتے ہوئے دار العلوم احمدیہ سلفیہ میں مدرسی کے فرائض انجام دینے لگے۔
ایک دفعہ میں نے قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒکی داڑھی پرسوال کرتے ہوئے پوچھا کہ اتنے بڑے عالم دین ہیں اور ان کی داڑھی نہیں ہے ؟دراصل ان کوقدرتی طورسے داڑھی تھی ہی نہیں لیکن میرا بچپنا! میری سمجھ اتنی ہی تھی !والد محترم مجھے ان کے پاس لے گئے اوران سے پوچھنے کوکہا۔میرے شرمانے پروالد صاحب نے سوال دہرایا ،ایک فارسی شعرپڑھ کرمذاق کے انداز میں کچھ کہا اورپھروہاں موجود دتمام احباب بھی مسکرانے لگے۔
ایک دفعہ میں نے ،مفسرقرآن ڈاکٹرلقمان صاحب حفظہ اللہ پربعض اعتراضات کئے جومیں نے چندناکارہ اورجوہرسے خالی نافہموں سے سنے تھے۔ والد محترم مجھے چندن بارہ جامعہ امام ابن تیمیہ لے گئے جو ایک سال ہی سہی میری بھی مادر علمی رہی ہے ۔شیخ کے کمرے میں مجھے تنہا بھیج کرکہا جاؤ اپنے تمام سوالات ان کے سامنے رکھو۔ میں ان کے کمرے میں کوئی دس بجے رات کوسلام کرکے داخل ہوااوروہ تمام سوالات دہرائے جو والدصاحب سے کئے تھے ۔شیخ نے میرے تمام اعتراضات بغورسنے اورہر سوال کا تشفی بخش جواب دیا۔ جس کا لب لباب یہ تھاکہ بیٹے میں بھی ایک انسان ہوں غلطیاں کرتا ہوں لیکن جب کام کرنے نکلا ہوں توہزارہا راہزن ،بدقماش اورمنافقین نیک کام میں رکاوٹ بنتے ہیں، بس گنتی کے لوگ ایماندار ی سے کام کرتے ہیں ایسے میں کئی بار ایسی باتیں ہوجاتی ہیں۔ میں نے کوئی ایسا کام ہرگز نہیں کیا جس سے کسی کی حق تلفی یا کسی پرظلم ہولیکن میں تمام لوگوں کی امیدوں پرکھرا بھی نہیں اترسکتا۔ جولوگ اصلاح وتعاون کی بجائے وہ کام کرتے ہیں جو سب کے لیے نقصان کا باعث بنتاہے انہیں میرے لیے دعاکرنی چاہئے اوراپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ اللہ مجھے بھی بہتر کاموں کی ہدایت دے۔ فجرکی جماعت کے بعد طلبہ سے مخاطب ہوکرفرمانے لگے رات ابن طاہرسے میرا مناقشہ ہواجس میں ابن طاہرنے مجھ سے یہ اوریہ سوالات کیے جن کے میں نے یہ اوریہ جوابات دیے۔ بچو!جوکام جہاں اور جو لوگ بھی کررہے ہیں ان کے معاون بنئے اورجو کام ہورہا ہے اسے مزید بہترہونے کی دعا اورسعی کیجیے اورجوکام مجھ سے نہیں ہوپارہا یا مجھ سے آپ کوشکایت ہے اس کام کے لیے اپنے آپ کوابھی سے تیارکیجئے ۔
ابوجان سفرسے بہت لطف اٹھاتے ،معمول سے زیادہ کھاتے پیتے اوراپنے ہم سفروں کو بھی کھلاتے پلاتے اور خوب باتیں کرتے۔گفتگوکا اکثرحصہ علامت قیامت،بعث بعدالموت اورحالات حاضرہ ہوتا، سفرمیں سنترے، گزک(گجک) ، مونگ پھلی وغیرہ کثرت سے استعمال کرتے، اس معاملے میں اپنے ایک دوست مولانا عبدالسمیع جعفری ؒکے طرِزعمل کو بہت پسند کرتے ۔والدصاحب کو میٹھا،مٹھائی اورآئس کریم بہت پسند تھی۔ٹرین میں کوئی بھی سامان بیچنے والاآتاتواس سے ضرور خریدتے اوردوران سفرکسی بزرگ یاکسی خاتون کے آنے پر انہیں جگہ دینے کوکہتے ۔لوگوں کے سامان رکھنے اور اتارنے میں تعاون کی ہدیات کرتے ۔والدمحترم ملک کے کسی بھی حصے کا سفرکرتے تواپنے ساتھ کسی کوضرورلے جاتے۔اپنے بیٹے بیٹیوں میں سے سب کی باری مقرر کرکررکھی تھی کہ ایک دفعہ یہ بیٹا یایہ بیٹی والد محترم کے ساتھ سفرپر جائیں گے ۔ اس طرح ہم تمام بھائی بہنوں نے ملک کے کئی شہر اورقصبات دیکھ لیے۔والد صاحب جب کبھی ہمارے آبائی وطن آواپور ٹرین سے جاتے اگر کبھی بھیڑ کی وجہ سے ٹکٹ نہیں لے پاتے تو منزل مقصود پرپہنچ کرٹکٹ لیتے اور اسے پھاڑ دیتے دیانت وتقوی کا یہ انداز بھی والد محترم کے یہاں ہی دیکھا۔
فضول خرچی کو نہایت قبیح عمل تصور کرتے۔ کپڑے جوتے اوردوسری ضروری چیزیں بھی دوتین جوڑے سے زیادہ نہ رکھتے ۔اگرہم بھائی بہنوں میں سے کوئی لے آتا توناراض ہوتے اور اسراف و تبذیرپر قرآنی آیات کی تفسیربیان کرتے ہوئے آخرت میں جوابدہی کااحساس دلاتے اورکہتے کے اگرفضول خرچی جائز امور میں ہوتو یہ حرام ہے اوراگرحرام اشیا میں ہوتو ایسے اشخاص کو اللہ نے شیطان کابھائی قراردیاہے اس لیے اللہ سے ڈرتے رہو اوردوسرے ضرورت مندوں کی مدد کرو۔
مردوں کے پردے پر بھی اتناہی زوردیتے جتنا عورتوں کے پردے پر۔ہاف آستین کی بنیان پہنتے، گھرمیں آتے ہی تہ بندباندھ لیتے لیکن گھرسے باہرکسی بھی صورت میں پاجامہ پہنے بغیرباہرنہ جاتے، دوسروں کو بھی سختی سے تہبند میں باہرنکلنے سے منع کرتے۔ گر مجھے غسل خانے سے باہر آنگن میں غسل کرتے دیکھتے تو منع کرتے۔ ’’کہتے حیانہیں توجو چاہو کرو‘‘۔گھرمیں آتے ہی اچھی طرح صابن سے ہاتھ دھوتے اوردھلواتے ۔ مسجدو مدرسہ یا کسی رفاہی کام میں پیسہ دیتے تواس کی خریداری میں بھی حصہ لیتے ۔کسی بھی مسجدو مجلس میں وقت مانگ کر لوگوں کو اللہ اوراس کے رسول کا پیغام سناتے ۔زندگی کی حقیقت کوواشگاف کرنے والے قرآنی واقعات اوردسرے قصے انہیں بہت یادتھے جنھیں وقتاً فوقتاً سناتے رہتے۔ آج کے حالات سے نبردآزماوالدین پرگفتگوکرتے ہوئے اکثرکہاکرتے ’’اس دور میں ہرصاحب اولاد بے اولاد ہوگیا‘‘۔ مدارس ومساجد قائم کرتے ،ان کی سرپرستی فرماتے لیکن عہدے کبھی قبول نہ کرتے۔ہر سال بہت سا اصلی شہدخریدتے اوراپنے خاص دوستوں کو بطورہدیہ بھیجتے۔
ناراضگی یا غصہ زندگی کا وہ احساس ہے جو ہر غیرت مند اورمحبت کے ساتھ دھڑکنے والے دلوں میں وجودپذیر ہوتا ہے ۔ غصہ اورناراضگی کے بغیر محبت کے احساسات بھی اکثر پھیکے ہی رہتے ہیں۔ غصہ نرمی کے ساتھ ،ناراضگی محبت کے ساتھ ، ڈانٹ مخصوص جملوں کے ساتھ اورکبھی کبھی سخت ناراضگی بادل کی گھن گرج کی طرح ۔لیکن کوئی نہ تھا جو اسے برا سمجھتا۔ان کی ڈانٹ ہمارے لیے زندگی میں سائبان اور نغمۂ زندگی کی طرح تھی۔طلبا اساتذہ اور ہم بچوں کے لیے غلطیوں میں ڈھال اورغلط روش سے مثبت زندگی کی نویدتھی۔جس سے ناراض ہوتے اس سے گفتگومیں اور بلا بھیجنے میں یا فون کرنے میں پہل بھی وہی کرتے ۔
لب پہ احباب سے بھی تھانہ گلا
دل میں اعداسے بھی غبارنہ تھا
کوئی بھی کام کرتے تو مشورہ ضرورکرتے۔کسی کام میں رکاوٹ بننے والے یادلچسپی نہ لینے والے افراد کوبھی راغب کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہتے کہ پتہ نہیں کب کس کادل اللہ پھیردے۔
انہیں بیٹیوں سے بڑی محبت تھی،جیسے ہی کسی کے یہا ںبیٹی کی پیدائش کی خبر سنتے تو کہتے’’ تمہیں جنت کا ٹکٹ مبارک ہو ‘‘،افسوس کہ بیٹیوں کو بوجھ نہیں بلکہ رحمت سمجھنے والا، بیٹوں سے زیادہ بیٹیوں سے محبت کرنے والا، بیٹیوں کو جنت کا ٹکٹ کہنے والا ، ان کے حقوق کاخیال رکھنے والا نہ رہا ۔ہر وقت بچوں کی تعلیم وتربیت پر زوردینے واالا ،تربیت بھی ایسی کہ میری چھوٹی بہن مریم جب محض پانچ سال کی تھی اوریاسر عرفات رحمہ اللہ کی ان کی اہلیہ کے ساتھ برہنہ سر تصویر دیکھی تووالد سے پوچھنے لگی ابو!مجاہد کی بیوی تو بہن فاطمہ رضی اللہ عنہا جیسی ہوتی ہیں نا ؟ان کے سرپر دوپٹہ نہیں! پھریہ مجاہد کی بیوی کیسے ہوسکتی ہیں؟۔
ایک اورواقعہ سن لیں!اپنی چھوٹی بہن سعدیہ عالیہ سے ایک دن میں نے کہا کہ وہ میرے ساتھ بازار چلے تاکہ اس کی ضرورت کی کچھ اشیا اسے دلوادوں کہنے لگی بھائی میں ذرااپناعبایہ لے لوں میں نے کہا تمہارالباس پوری طرح ساترہے اورپھرشام بھی ہوچکی ہے چلوایسے ہی چلومیرے اصرار پرکہنے لگی ،بھائی! میں اگراس حالت میں بازار جاؤں گی تو کتنے لوگ میرے چہرے کی جانب بہن کی نگاہ سے دیکھیں گے؟میں نے کہا ایک بھی نہیں توکہنے لگی کیا یہ بدبخت اس لائق ہیں کہ میں انہیں اپنی شکل دکھاؤں جبکہ اللہ نے غیرمحرموں سے پردے کاحکم دیاہے۔یہ والدصاحب ہی کی تربیت کا ثمر تھا جو ہرچھوٹی سے چھوٹی بات پراپنے بچوں اورغیروں کو ٹوکتے اورعمدہ سے عمدہ تربیت دیتے۔
صبح دعا پڑھاکرجگاتے اورکہتے ،میں یہ دعا تب سے تمہیں پڑھاتا ہوں جب تم والیہن نتھور پڑھا کرتے تھے۔اکثردہلی مجھے فون کرتے اورکہتے بیٹے اٹھو فجرکا وقت ہوگیا،دورکعت تہجدکا اہتمام کیا کرو۔ شاہ فہدکے والدانہیں امریکہ میں فجرکے لیے جگایا کرتے تھے اورمیں تمہیں وطن عزیز کی راجدھانی دہلی فون کرکے جگاتا ہوں اٹھو۔ اتنی دعائیں دینے والا،مسنون دعائیں یادرکھنے والا،اپنے اساتذہ ، ان کے بچوں اورشاگردوں کو اپنی دعاؤ ں میں یاد رکھنے والا نہ دیکھا،نہ سنا۔
بچوں کے نام ر کھنے والا،ان کے روشن مستقبل اورخوبصورت احساس کو حاصل کرنے اور دوسروں پرنچھاور کرنے کے واسطے سب سے بہترین نام چنتاہے اورچاہتا ہے کہ ہربچہ اسم بامسمیٰ ہو۔والد محترم کو ناموں کے انتخاب میں اورقرآنی آیات کوکسی ماحول ،افراداورجماعت کے لیے عنوان بنانے اور چسپاں کرنے میں کمال کا ملکہ حاصل تھا۔ ناموں کی قافیہ پیمائی بھی انہیں خوب آتی تھی ،اپنے بچوں کے ناموں کومقفّٰی کرکے اسے ایسا مزین کرتے کہ ہم عش عش کراٹھتے اورسوچا کرتے کہ آخر ہم ایسا جوڑ کیوں نہیں بٹھاپاتے ،گھرکے بچوں تک کو ناموں کے وہ متعلقات ازبرہوتے ۔ میری بھانجی یمینہ اورمیری بیٹی قانتہ اکثریہ دہراتیں’’میں یمینہ جنت کی سفینہ ہوں اور تائبہ جنت کی شائبہ ہے اورقانتہ رب کی بات مانتاہے‘‘۔فائز جومری بڑی بہن کا لڑکاتھا اکثراسے یہ لوری سناتے فائز فائزالمرام جنت المقام صبح ہویاشام تحیتہ وسلام ۔
اپنے بچوں میں والد محترم اس بچے سے زیادہ قریب ہوجاتے جو کوئی دینی کام بہترڈھنگ سے کرتا، جو دین سے قریب وہ ان سے قریب جودین سے دوروہ ان سے د وریعنی الحب للہ والبغض للہ کی بھی بہترین تصویرتھے ۔میرے بھانجے حافظ فاتح جسے والد محترم اپنے لیے اورمیری والدہ کے لیے صدقۂ جاریہ خیال کرتے تھے سے اکثرکہتے فاتح آپ کوفاتح عالم بنناہے اوریہ مصرع پڑھاکرتے
ِیقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
اسی طرح میرے بھتیجے قمرنے جب داڑھی بڑھالی اورنماز کا پابند ہوگیا تو والد محترم اس سے مختلف اوقات میں اپنے دل کی باتیں اس طرح کرتے جیسے کوئی راز و نیاز کی باتیں کررہے ہوں۔اپنے بچوں سے ہمیشہ کہاکرتے بے غرض ملو خوش رہوگے ،حساب کتاب ہرجگہ دو اوراسے برابر رکھو قیامت سے پہلے قبرمیں حساب دیناہے اورہرشخص اپنی قبرمیں تنہاہوگا اکثرایک جملہ ان کی زبان پرہوتا:’’ حساب جوجو بخشش سوسو‘‘۔لوگوں کی مددکے لیے جاؤ لیکن بقیہ اوقات میں لوگوں کو اپنے یہاں بلاؤ۔بچپن سے ہی اسلامی دائرے میں عمدہ لباس کی تلقین کرتے یعنی بیٹے کوٹخنوں سے اوپر اور بیٹیوں کو ٹخنوں کے نیچے لباس پہننے کی نصیحت فرماتے۔میں نے دیکھا ہے کے ہمارے گھرکے بچے کو سردی کے دنوں میں بھی اگر کوئی پاجامہ ٹخنوں سے نیچے پہنادیتا تو اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں وہ بچہ خوداسے فولڈکرنے کوکہتا،یہ والدمحترم کی تربیت کااثرتھا۔
والد صاحب کو بچوں سے بڑالگاؤ تھا۔گھرکے تمام بچے ان کے اردگردمنڈلاتے رہتے۔کھیلتے کودتے اوران سے ہومیوپیتھی کی گولیوں کے طالب ہوتے۔والد صاحب بھی انہیں الگ الگ اوقات میں مختلف رنگ وڈھنگ سے پیار کرتے، کبھی گودمیں اٹھاتے، کہانیاں سناتے ،دعائیں یادکرواتے اور دعائیں دیتے۔میری بیٹی قانتہ چونکہ دبلی پتلی اورہلکی پھلکی ہے اس لیے اسے خاص کرگودمیں اٹھالیتے ۔قانتہ اکثر ابو سے ہومیوپیتھی گولیاں مانگا کرتی اورخوب مزے سے کھاتی۔کبھی کہتی ابو ابو آرنیکا دیجے نہ چوٹ لگ گئی ہے! چاہے چوٹ لگی ہویانہ لگی ہومنع کرنے پرکہتی نہیں نہیں مجھے چوٹ لگی ہے !سچ میں! ۔ابو جان کواس سے بڑا انس تھا۔ فرماتے مول سے زیادہ دادا کوسودپیارا ہوتاہے۔ میری بیوی روش نگارفاطمہ کو فاطمہ کے علاوہ کسی اورنام سے پکارنے کوپسند نہ فرماتے ۔ جس دن والد محترم کولحدمیں اتارا اس دوران میری بیٹی حفصہ مہدمیں واردہوئی۔ہم تمام اہل خانہ اس انتظار میں تھے کہ بیٹاآئے لیکن والد محترم کاکہنا تھا کہ اگربیٹی ہو تواس کا نام رائحۃ الفردوس رکھاجاسکتا ہے لیکن ڈاکٹرلقمان صاحب نے مفردنام پرزوردیا۔ انہوں نے بھی چندنام بتائے لیکن ان ناموں پر اتفاق نہ ہوسکا۔والدصاحب کی دیرینہ خواہش تھی کہ ان کی ہم شیرہ حفصہ کے نام پرکسی بچے کانام ہو۔چنانچہ میرے چھوٹے بھائی محمدغازی کے مشورے پرا س کانام حفصہ رکھا گیا ۔ اس بچی کا انتظار والد ماجد بڑی بے صبری سے کررہے تھے۔بار بار میری زوجہ کو کھانے پینے اورادویات کے وقت پرلینے کی تلقین کرتے رہتے۔ جوجوں وقت نزدیک آرہاتھا انہیں مناسب ڈاکٹر اوردائی کی بڑی فکر رہتی تھی۔ ایک باپ کی طرح خیریت دریافت کرتے اورمجھے کہا کرتے جلد آجاؤ۔ میں چونکہ دہلی سے دربھنگہ آنے ہی والاتھا توبار بار دن گنتے کے آدم کوبس اتنے دن رہ گئے ہیں۔ آخری صبح انہوں نے فون کیا!اورمیرے آنے سے متعلق دریافت کیا! مجھے کیامعلو م تھا کہ میری ان سے یہ آخری گفتگو اورخموشی چھاجانے سے پہلے کی جھلک ہے۔
ع ایک شخص سارے شہرکوویران کرگیا
ابوجان فجرکے بعدحریرہ پیتے اورچندکھجوریں یاکوئی میٹھی چیزکھاتے۔ان کا دستورتھا کہ دن کا کھانا ظہرکے فوراً بعداوررات کا عشاکے بعدہماری والدہ اورگھرکے بچوں کو دسترخوان پرساتھ بٹھا کرکھلاتے اورکھاتے۔ اگرکوئی مہمان آجائے تو پھرمہمان کے ساتھ ہی کھاناکھاتے اور مہمانوں سے سوالات پوچھنے کوکہتے۔افراد کے اعتبار سے دسترخوان چھوٹا بڑاہوتا رہتااور جگہ بدلتی رہتی۔والد ماجدمجلس میں نمازیوں کی طرح اور دوران طعام دایاں پیر اٹھا کراوردوسرا پیرگراکربیٹھتے۔کھانے کے دوران پالتی مار کر بیٹھنے کوسخت ناپسند کرتے۔ایک دفعہ ان کے ایک شاگردمولانا علاء الدین نے ان سے بحث کی تووالد محترم نے انہیں چند عربی کتابوں جیسے عون المعبود،تحفۃ الاحوذی اورکچھ دوسری کتابوں کا حوالہ دیا اورکہا جاؤ دیکھ کرآؤ ۔ شاگرد کتب بینی کرکے واپس لوٹا اوربتانے لگا کہ شیخ واقعی علماء نے پالتی مارکربیٹھنے کومتکبرین کی علامت قراردیاہے۔دعوت میں جاتے توہڈی والاگوشت کھاتے اورجس سے قربت ہوتی اسے بھی نکال کر دیتے اور ہڈی والا گوشت کھانے کو کہتے ۔ خودمسجد میں نئے لوگوں کی تلاش میں رہتے کہ کوئی اجنبی ملے اوروہ اسے گھر لے جاکرکھانا کھلائیں۔
ہمارے گھرکے قریب دومدرسے ہیں، ایک مدرسہ امدادیہ اوردوسرا احمدیہ سلفیہ ۔دونوں مدارس میں چھوٹے اوربڑے ہر عمر کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔انہیں درجۂ حفظ کے بچوں اور ان کے ناشتے کی صبح وشام فکردامن گیررہتی۔ ان کوپکڑلاتے یا دروازے پر بیٹھ کر ان کے گذرنے کا انتظارکرتے، اوران کے آجانے پراپنے گرداکٹھا کرکے انہیں ناشتہ کرواتے اورخودبھی ان کے ساتھ کھاتے،ان ننھے فرشتوں سے خوب باتیں کرتے ،ان کے گھرکا پتا پوچھ پوچھ کر ان سے طرح طرح کے رشتے جوڑتے، کبھی نہیں لگاکہ وہ بچے ان کے اپنے نہ ہوں۔ابھی چنددن نہیں گذرے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو میں مجھے گیسٹ فیکلٹی کے بعد اسسٹنٹ پروفیسر(عارضی) کی حیثیت سے جگہ ملی توکہنے لگے کہ بیٹے اپنی پہلی کمائی سے قرآن کے چندنسخے لیتے آنا، حفظ کے بچوں کو ضرورت رہتی ہے۔ اپنے بیگانوں سے خلوص ومحبت سے پیش آنے والا اوربچوں سے شفقت و ہمدردی کرنے والا رخصت ہوا ۔اوراب۔۔۔کوئی ویسانظر نہیں آتا
کیا طلبا ،کیا اساتذہ اورکیاعلماء سب ان کے قدردان، وہ سب کے قدردان ،ان کے ایک شاگرد مفتی دارالعلوم احمدیہ سلفیہ مولانا عرفان سلفی اورمولانا اشرف صاحب صدرمدرس حفظہما اللہ کو ایک دن نماز کے بعد اپنے ساتھ لے آئے اور کہنے لگے مجھے انار ،آٹھ دانہ انار بہت مرغوب ہے۔ میرا بیٹا آدم کلکتہ سے لایا ہے اورقرآن میں اللہ فرماتاہے ،لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّی تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَی فَإِنَّ اللّہَ بِہِ عَلِیْمٌ(92)(سورۃ آل عمران3)ترجمہ : تم لوگ بھلائی ہرگز نہیں پاؤگے،جب تک (اللہ کی راہ میں ) وہ مال نہ خرچ کروگے جسے تم محبوب رکھتے ہو،اور تم جوخرچ کروگے، اللہ اسے خوب جانتاہے۔یہ آیت پڑھ کر کہنے لگے رکیے میں آپ کوانار کھلاتا ہوں اورچھیل کراوردانے چھڑا چھڑا کر کھلانے لگے۔ دوسروں کے لیے وہی پسند کرتے جو اپنے لیے پسند کرتے ،اللہ ان کے درجات بلند کرے آمین ۔
گفتگوکا ایسا ملکہ کہ جہاں جاتے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیتے ،زندگی کے ہر میدان میں ہرجگہ جہاں بھی وہ جاتے وہاں کے کمزوروں سے خاص تعلق قائم کرلیتے، ان سے عمدہ اورپیاری گفتگوکرتے ،جس طرح کے تعاون کی ضرورت ہوتی کرتے۔انہیں کبھی اعلیٰ ادنیٰ میں فرق کرتے نہیں دیکھابلکہ جنہیں لوگ ادنی سمجھتے ہیں ان کا زیادہ خیال رکھتے ،ہمیشہ ہر قسم کے مسابقے اورمقابلہ جاتی دوڑسے ان کی زندگی مبراہی رہی ۔کسی بھی موضوع پربلاجھجک ،بے خوف ہوکر گفتگوکرتے، اکثرمیں نے دیکھا ہے کہ ریل گاڑی میں متشدد اورمتنفر سنگھیوں کواللہ اور رسول کاپیغام سناتے،ہروہ بات کہتے جودوسرا کہے توقتل عام ہوجائے لیکن ان کی گفتگوکا انداز ایسا نرالا اورحقیقت پرمبنی ہوتاکہ بڑے سے بڑاسرکش ان کے رعب میں آجاتا،اُن سے اظہارعقیدت کرتا اورظالموں کے ظلم کو ظلم کہتا۔ ایک واقعہ مولانا عرفان صاحب مفتی دار العلوم احمدیہ سلفیہ نے سنا یاکہ ایک دفعہ ہم لوگ دہلی جارہے تھے ایک متشدد ہندو نوجوان گاڑی میں آ کربیٹھا اور’’بھج ‘‘کے زلزلے کا ذکرکرنے لگا تووالد محترم نے برجستہ کہا کہ نوجوان! زلزلے یوںہی نہیں آتے،جب ظلم ہوگا ،انسانیت کچلی جائیگی، مسلمانوں کوبلاوجہ قتل کیاجائیگا ،عورتوں کی آبرواورربچوں کی جان سے کھلواڑکیا جائے گا توعذاب توآکررہیگا ،پھرتفصیل سے 2002کے فسادات اوراللہ کی پکڑ کا تذکرہ کرنے لگے ، مولانا کا بیا ن ہے ہم ڈرے اورکہنے لگے کاش شیخ خاموش رہتے ،جگہ دیکھ کربات کرنی چاہیے لیکن کیا دیکھتا ہوں کہ چندلمحے میں ہی اس نوجوان پر شیخ کا ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ ان کا بھگت بنا بیٹھاتھا اورہر بات میں ہا ں میں ہاں ملارہاتھا۔
سبق ایسا پڑھادیا تونے دل سے سب کچھ بھلادیاتونے
اللہ سے ڈرتے اس کے ماسواکسی سے نہیں علاقے کے ایک نامی غنڈے نے ایک شریف گھرانے کی لڑکی کا اغوا کرلیااور زبر دستی نکاح بھی ہوگیا۔ والد محترم نے عدالت میں لانکاح الابوليسے استدلال کرتے ہوئے نکاح کے باطل ہونے کی گوہی دی اِس پرجب اُس غنڈے نے ایک دوسرے غنڈے کوڈرانے دھمکانے کے لیے بھیجاتووالد محترم کا صاف اورسیدھا جواب تھا’’یہ زمین اللہ کی ہے تواس پرقانون بھی اسی کا چلے گا جو بات میں نے کہی ہے وہ نبی رحمت ﷺکی ہے تم اس معاملے میں نہ پڑوورنہ تمہاری تباہی پکی ہے‘‘
مدرسے کے بچے توبچے ہی ہوتے ہیں ایک دفعہ ایک نامی گرامی باس کے رشتہ دارسے مدرسے کے ایک بچے کی لڑائی ہوگئی باس کوجب پتا چلاتو چیختا چلاتا ہوا آپے سے باہرمدرسے میں داخل ہو اوربچوں کو دھمکانے لگااسی درمیان والد محترم آپہنچے اوراسے سخت سست کہاجب اس نے یہ کہا کہ کیا آپ مجھے نہیں جانتے ؟ تووالد صاحب نے کہا اگرکوئی شکایت ہے توذمہ داران سے کہو یوں ہنگامہ کروگے توایک اشارے میں تمہاری بوٹی بھی نہیں بچے گی۔کمال تویہ تھاکہ ان واقعات کے بعدوہ غنڈے والد صاحب کے جیسے مرید ہوگئے۔صحیح کہاگیاہے من کان للہ کان اللہ لہ۔
میں نے بارہا دیکھا ہے کہ وہ عموماًغیرمسلموں کو قرآن اورسیرت رسول کی کوئی کتاب دیاکرتے اوران سے کہا کرتے میں تمہیں ہول لائف ٹاسک(Whole Life Task) دیتاہوں زندگی میں کم سے کم ایک دفعہ قرآن اورمحمد صاحب کی جیونی ضرور پڑھو۔
ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ مولانا علی میاں ندویؒ نے خط بھیجا کہ طاہر مدرسہ نورالاسلام نسواںمہپت مئؤ، لکھنؤ میں جلسہ ہے آپ بھی آجائیں۔میں بھی اس جلسے میں اپنے والدمحترم کے ہمراہ شریک ہواتھا۔ والد صاحب تقریر فرماتے ہوئے کہنے لگے میں نے عرب وعجم کی جامعات میں تعلیم حاصل کی لیکن یہ باراتی کا لفظ نہ قرآن میں ملا نہ حدیث میں! اتنے میں علی میاں ندویؒ چھوٹے مائک سے یوں گویاہوئے :طاہر ٹھہرو میں بتاتا ہوں باراتی کا ذکر قرآن میں ہے اورمولانانے سورۃ الأنفال کی یہ آیت تلاوت فرمائی و لاَ تَکُونُواْ کَالَّذِیْنَ خَرَجُواْ مِن دِیَارِہِم بَطَراً وَرِئَاء النَّاسِ وَیَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ ِوَاللّہُ بِمَا یَعْمَلُونَ مُحِیْطٌ(47)
ترجمہ :اورتم لوگ ان کے مانندنہ ہوجاؤ جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اورلوگوں کے سامنے ریاکاری کرتے ہوئے نکلے،اوران کا حال یہ تھا کہ وہ لوگوں کواللہ کی راہ سے منع کرتے تھے،اوراللہ ان کے کارناموں سے پوری طرح واقف ہے۔ یہ پوری آیت پڑھ کرحضرت مولانا فرمانے لگے طاہر!اس آیت میں باراتیوں کا ہی تو تذکرہ ہے۔!!!اورپھردونوں ایک دوسرے کودیکھ کرمسکرانے لگے۔
ایک دفعہ والد صاحب مجھ سے ہم کلام تھے تبھی بات چل نکلی بیعت کی۔والد صاحب نے کہا کہ میں نے بھی اعتراض کے ساتھ مولاناعلی میاں ندوی ؒ کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیاتھا۔ میں نے فوراً کہا توبہ کریں، میرے اس اندازتخاطب سے والد صاحب ناراض ہوگئے اورکہنے لگے کیا مجھے کافرسمجھتے ہو؟میں نے کہا ہرگزنہیں ۔ آپ نے ہی سکھا یا ہے قرآن وسنت کے سوا کسی کی نہیں ماننا ! بہرحال کچھ دن بعد پھراس موضوع پرگفتگوہوئی تومیں نے پوچھا کہ کیا آپ نے ان سے نہیں کہاکہ اسلام میں بیعت ایک وقت میں ایک ہی کے ہاتھ پرممکن ہے؟ ۔توکہنے لگے کہ میں نے علی میاں ندوی ؒسے کہاتھا کہ شیخ قطب اورابدال وغیرہ قرآن واحادیث سے ثابت نہیں۔ تو مولانانے آہستہ سے میرا ہاتھ دباکر جواباًکہاکہ طاہر حدیث وقرآن میں تو نہیں لیکن دیکھا گیاہے! ۔
وہاں بھی اپنی بات ضرورکہتے جہاں عام لوگوں کی زبانیں گنگ ہوجایاکرتی ہیں۔نرمی اس لیے برتتے کہ سختی سے کون سا کام ہوا ہے؟
اپنے اساتذہ سے ایسی محبت کہ مسجد کے باہرکھڑے رہتے کہ میرے استاد باہر نکلیں تومیں ان کو ان کی جوتی سیدھی کر کے دوں ۔ان میں سے ایک جن کو میں نے اپنے بچپن میں دیکھاہے،مولانا ظہوررحمانی تھے، وہ جب بھی دربھنگہ آتے ہمارے گھرضرورتشریف لاتے ،باہرہی سے زور زور سے آواز لگاتے ہوئے کہتے طاہر!اے طاہر ، انداز ایسا کرخت کہ ایک دفعہ تو میری بڑی بہن صادقہ کواچھا نہ لگا توٹوکنا چاہاہی تھاکہ میرے والد محترم نے فوراً منہ پرانگلی رکھ کر بڑی محبت سے اشارہ کیا کہ وہ میرے استاذ ہیں خاموش رہو۔ خیرجب بھی آتے والد صاحب ان کی خدمت میں بچھے رہتے ،مولانا بھی والد ماجد سے بے پناہ محبت کرتے اورہمارے گھرکے مسائل پربھی توجہ فرماتے۔ میری بڑی بہن کا رشتہ انہی کی کوششوں سے عمل میں آیاجونہ صرف ہمارے ہردل عزیز نوشے بھائی ہیں بلکہ ہمارے والدین کے حق میں بیٹے سے بڑھ کرثابت ہوئے،بھائی بدرعالم سلفی شیخ الحدیث اوربہترین تاجر بھی ہیں۔
ہرانسان کے کچھ رویے ایسے ہوتے ہیں جن کا حسن اس انسان کو یادرکھنے کا ذریعہ بن جاتا اور دوسرے شخص کی پہچان کا سبب بھی بنتاہے ،مولانا رحمانی جب بھی تشریف لاتے والد محترم ان سے کھانا کھانے کی ضد کرتے اوروہ منع فرمادیتے ،لیکن والد صاحب اصرارفرماتے اورکہتے کھالیں عمادالدین کی ماں نے بہت عمدہ گوشت پکایاہے ، وہ کہتے نہیں نہیں مجھے ڈاکٹرنے گوشت کھانے سے منع کیاہے ،والد صاحب فرماتے شیخ شورباہی کھالیں بہر حال وہ کھانا شروع کرتے اورخوب سیر ہوکرکھاتے ۔استاذ اورشاگردکی یہ رشتہ تاعمرقائم رہا۔ ان کے بچوں سے والدصاحب کا رویہ اوران کے بچوں کا والد صاحب سے پیارتاعمرقائم ودائم رہا ،مولانا کے انتقال کے بعداکثروالد صاحب ان کے بچوں کے یہاں پہنچ جاتے اوران کے بچے عمررفاروق حمانی اور خالدسیف اللہ رحمانی بھی انہیں اپنے والد جیسا پیاردیتے۔ جس دن والد محترم کا انتقال ہوا توعمر رحمانی اپنی آرا مشین سے تختے لے آئے اورانھیں بغیر قیمت دینے کی ضدکرنے لگے جب ان سے کہاگیا کہ ان کی تدفین میں مولانا کا اپنا پیسہ ہی لگایا جارہا ہے ان کے بچوں سے بھی نہیں لیاجارہا توبڑے افسردہ ہوکرکہنے لگے میرے پاس آج جوبھی ہے مولانا کی دعاؤ ں کی وجہ سے ہے،میں نے دیکھا ہے کہ رحمانی کاٹج کے لوگ جب بھی اپنا کوئی پٹرول پمپ یا گیس ایجنسی وغیرہ شروع کرتے توکسی سیاسی لیڈر سے نہیں بلکہ ہمشہ اس امرکے لیے والد محترم کو اپنے ساتھ لے جاتے ۔
اپنے عہد کی عبقری شخصیات نے انہیں اپنی نیابت سونپی، اپنا ساتھی بنایااورذمہ داریاں سونپیں۔ ڈاکٹرعبدالحفیظ سلفی جو میرے والد کے محسن بھی تھے جن کے احسانات کا ذکروہ ہمیشہ دعاؤں کے ساتھ کرتے، جب وہ کمزور ہوئے تومحلہ چک زھرہ میں واقع عیدگاہ کی امامت والد صاحب کوسونپ دی جہاں برسوں سے شہرکے مردوزن عیدین کی نماز باجماعت ادا کرتے ہیں۔والدصاحب کی خطابت میں شیرینی آمیزجوش و ولولہ تھا۔ بہت کم لوگ ایسے ملے جن کی باتوں میں اس قدر اثر ہو۔مولانا مختاراحمدندویؒ بھی آپ سے بے پناہ محبت کرتے تھے، میں نے سنا ہے کہ بہارمیں کہیں بھی کسی مسجدیا مدرسے کوتعاون دینا ہوتاتوجب تک والد محترم اس کی تصدیق نہ کرتے مولانا چندے کا ایک پیسہ نہ دیتے ، ان کی امانت وصداقت بھی لوگوںمیںمثالی اورلائق اعتبار تھی۔ صائب الرائے ،معاملہ فہم اوراس قدر تعمیری ذہن کہ جب ڈاکٹرلقمان سلفی نے اپنے آبائی وطن چندن بارہ میں جامعہ امام ابن تیمیہ قائم کرنے کا ارادہ کیاتو سب سے پہلے میرے والدکوکعبۃ اللہ لے گئے اورحلف اٹھانے کوکہا تووالدمحترم نے پوچھا کیسا حلف ہے؟ ڈاکٹرصاحب نے کہا آپ وعدہ توکریں اس پر والد محترم نے کہااگرکوئی معاملہ اللہ اوراس کے رسول کے دین کا ہواتوآخری سانس تک وگرنہ ’’ھذٰا فراق بینی وبینکم‘‘ترجمہ: میرے اورتمہارے درمیان جدائی کی یہی گھڑی ہے۔ آخری سانس تک ا س ادارے سے وابستہ رہے اوراپنی اولاد کو اس ادارے سے محبت کا درس دیتے رہے۔ڈاکٹرلقمان سے بے پناہ محبت کرتے اورلقمان صاحب کوبھی ان سے وہی لگاؤ تھا جو ایک دوست اوربھائی کوایمان کی بنیادپرہوسکتاہے ۔ڈاکٹرموصوف نے ایک دن مجھ سے کہا بیٹے وہ ہم سب کے رہنما، مربی اورمعلم تھے میں نے ان سے بہت کچھ سیکھاہے۔ ان کی زندگی کاہرگوشہ اسلام کی مکمل تصویرتھا ۔ ایک دفعہ عبدالحمیدرحمانی صاحب سے راہ چلتے ملاقات ہوئی توکہنے لگے اپنے والد سے میری صحت کے لیے دعا کوکہنا ،جو اشخاص بھی قوم وملت کی بہتری کے لیے کام کرتے والد صاحب ان سے بے پناہ محبت کرتے ان کے محاسن بیان کرتے اوراگر کوئی ان جیسی شخصیات پر زبان دارز کرتا توکہتے ان لوگوں نے جتنا کام کردیا ہے بہتوں کو سوچنے کی صلاحیت نہیں ،تم صرف تنقیدکرتے ہوکام کرکے دکھاؤ!پھربات کرنا۔اپنے حالات کا جائزہ لے کردیکھو کام کرنا کتانا مشکل ہے اورتنقید کس قدر آسان۔
اپنے باصلاحیت شاگردوں سے کہا کرتے صرف اداروں میں پڑھانے سے کام نہیں چلے گا اورمحض تحریرو تقریر کافی نہیں بنیادی کام اداروں کاقیام ہے۔امت کواداروں کی سخت ضرورت ہے۔خودبھی پوری زندگی مدارس و مساجد کے قیام اور ان کی بقاء کے لیے کوشاںرہے ۔مختلف مدارس ومکاتب اوربہت سی مساجد اُن کی کوششوں سے وجودمیں آئیں ۔
اگرچہ انہوں نے قلمی نگارشات بہت زیادہ نہیں چھوڑیں،لیکن انہوں نے کئی مضامین تحریرکیے تھے جو ماہنامہ الہدیٰ میں وقتافوقتاً شائع ہوچکے ہیں۔ ایک مقالہ عربی میں سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ پرالحروب الصلیبیہ کے عنوان سے لکھا تھا جو کسی وجہ سے شائع نہ ہوسکا۔ان کی آخری تحریرجوہم تمام بھائی بہنوں کے نام تھی یقینا پوری امت کے لیے مختصراور جامع راہ عمل ہوسکتا ہے۔ اس وصیت سے والدصاحب کا ذہنی خاکہ بھی واضح ہوجاتا ہے۔ ا س وصیت نامہ کا ایک بڑاحصہ پیش خدمت ہے ،لکھتے ہیں:
مرے عزیز ازجان بیٹے اوربیٹیو!
السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
میں نے تم لوگوں کی تعلیم وتربیت میں حتی المقدور اپنی پوری انرجی لگادی بفضل اللہ۔اوراسی کا نتیجہ ہے کہ تم لوگوں کواللہ نے اپنے علاوہ کسی کا محتاج نہیں بنایاہے،میری دلی دعاہے کہ آئندہ بھی تم لوگوں کواللہ دنیامیں رزق حلال دے، عزت دے اورآخرت میں جنت دے۔آمین ! تم ایک خامی ہے اوردوخوبیاں ہیں اورخامی یہ ہے کہ طبیعت جذباتی ہے اسکے نتیجہ میں کبھی کبھی غلط قدم بھی اٹھ جاتاہے اوردوخوبیاں ہیں پہلی خوبی،’’عفودرگزر‘‘اوردوسری خوبی ’’تعاون علی البر‘‘ ان ہی دوخوبیوں کوسامنے رکھ کرزندگی گزارو،ایک دوسرے کی آپس میں مددکرواورایک دوسرے کومعاف کرتے رہو،میں نے تم لوگوں کے لئے اپنی قبراورتم لوگوں کی قبرسے زیادہ جائدادچھوڑی ہے۔آخرت کومدنظررکھتے ہوئے ایک دوسرے کی مددکرتے رہوایک دوسرے کو اجاڑ نے کے بجائے بسانے کی کوشش کرتے رہو۔۔۔۔۔۔۔اپنے گھرہی سے عبرت حاصل کرو تمہارے سامنے ہی تمہاری ماں کی روح نکل گئی اورتم لوگ دیکھتے رہ گئے کچھ نہیں کرسکے اسکے بعدغسل کراکرکفن میں لپیٹ کرقبرستان بھیج دیا جنازہ کے بعد قبرمیں ڈال دیا اورچلے آئے اسی طری میرا اورتمہارابھی حشرہوگایہ سب عبرت کی چیزیں ہیں غور کرکے زندگی گزارواورکوشش کروکہ دنیابگڑے توبگڑے آخرت نہ بگڑے دنیاکانقصان ہوتو ہو آخرت کا نقصان نہ ہو،اللہ تم لوگوں کوہدایت دے ۔۔آمین یارب العالمین۔آخرمیں ایک بات جان لو میری متروکہ جائداد میں سب بیٹے اوربیٹیوں کا حصہ ہے اسکوکام میں لاؤ اور وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃ(9) سورۃ الحشرگرچہ اپناکچھ نقصان ہودوسرے کوترجیح دواللہ اس کا بدلہ دیگا۔انشاء اللہ‘‘
مختلف قصبات سے یتیم وناداربچوں کولا کرمختلف اداروںمیں ان کا داخلہ یقینی بناتے ،کسی جلسے میں جاتے توکبھی نذرانہ یا سفرخرچ قبول نہ کرتے البتہ کہتے ’’حق موسوی نہیں چھوڑون گا ‘‘یعنی کھانا ضرور کھاوں گا۔کہا کرتے مومنین گھوڑا پالا کرتے تھے میں گاڑی رکھتا ہوں اوریہ مری دعوت کے لیے وقف ہے۔
حلال کی فکر،جنت اوربچوں کی عمدہ تربیت میں سب سے اہم کردارادا کرتی ہے۔اپنے بچوں کو ہرحال میں حلال کھلاتے اورحرام سے بچنے میں حد کمال تک احتیاط برتتے ۔والد صاحب کے ذریعہ مدارس ومساجد کوبہت سی امدادی رقوم خط، سفارش، فون یا ان کے اسفار سے حاصل ہوتیں لیکن ان صدقات وخیرات کی رقوم میں سے ایک پائی بھی قطعاًنہ لیتے۔ انہوں نے مکتب کے لیے اپنی ایک زمین وقف کی تھی اورارادہ تھا کہ آواپور والے گھرکو بھی تعلیمی درسگاہ کے لیے استعمال کریں گے لیکن محمدبدرالحسن امین صاحبؒ کے ذریعہ زمین مہیا کئے جانے کے سبب والد صاحب ؒاس ارادے پرکاربند نہ ہوسکے۔
والدصاحب میری والدہ عائشہ سے بے پناہ محبت کرتے تھے،انہیں ہرلمحہ یادرکھتے ،جب بھی میں دہلی سے آنے والا ہوتا اورپوچھتا کیاکیا لے کرآؤں توفرماتے اپنی والدہ کے لیے جوجو ملے لیتے آنا میرے لیے کچھ بھی نہیں۔ جب باحیات تھیں تو ہمیشہ اس بات کے لیے فکرمندرہتے کہ میرے بعد تمہاری والدہ کاکیا ہوگا۔لیکن والدہ، والد صاحب سے آٹھ ماہ تیرہ دن پہلے ہی داغ مفارقت دے گئیں اللہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اورجنت کے آٹھوں دروازوں سے داخلے کا پروانہ عطاکرے آمین۔
آسماں تری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورُستہ اس گھرکی نگہبانی کرے
اللہ اوررسول کے ذکرودعوت کے بعدوالدمحترم ہمیشہ اپنی زبان کووالدہ کے ذکرسے تررکھتے۔انتقال سے صرف بائیس دن قبل میرے چھوٹے بھائی محمدغازی کورخصت کرتے ہوئے فرمارہے تھے بیٹے تمہاری ماں چلی گئی میں بھی نہیں رہوں گا، لیکن اللہ حی وقیوم ہے، اس سے رشتہ رکھو ہمیشہ خوش رہوگے۔ہماری آمدکا انہیں شدت سے انتظار رہتا۔ہم جب بھی فون کرتے والد ہ کے اس سوال کا سامنا کرنا پڑتا’’ بابوگھر کب آؤگے‘‘۔ جب بھی ہم سفرکے لیے نکلتے والد صاحب متعدد بارکال کرکے خیریت پوچھتے اوربہت سی دعائیں دیتے رہتے ۔ہمارے گھرپہنچنے تک کھانے پہ انتظارکرتے۔
کس کو اب ہوگا وطن میںآہ میراانتظار
میری والدہ کمال کی خاتون تھیں گویا اپنے عہدکی آخری عورت،اتنے کمالات کم خواتین میں ایک ساتھ یکجاہواکرتے ہیں، وہ بھی والد صاحب سے بے پناہ محبت کرتیں۔ جب ان کے آخری دنوں میں ہوش بھی کم ہی تھا اس حالت میں بھی والد صاحب کا کہا نہیں ٹالتی تھیں اوردعا کے علاوہ اکثرایک جملہ ان کی زبان پر ہوتا ’’اللہ اپنا کوئی نہ اپنا ‘‘۔ یا یہ شعر:
بندگی کرتے رہوتازندگی
تاکہ محشر میں نہ ہوشرمندگی
یا یہ مصرع زندگی بے بندگی شرمندگی
دلکش وپرکشش گول چہرہ،لمباقد،گندمی رنگ،ستواںناک،تواناجسم اورشگفتہ ادارکھنے والی میری ماں پورے گاؤں اورمحلے کی ہمدردتھیں۔مسلم غیرمسلم ہرطرح اورہرقماش کی خواتین والدہ کے پاس آکرخانگی امورکادرس لیتیں۔ان کی شفقت ہرکس وناکس پرابرکرم کی طرح برستی ۔سب کا دکھ درد بھانپ لیتیں اور ہرپیشے اورمیدان کے مردوعورت سے اس کے مرتبے کے مطابق معاملہ کرتیں۔والد محترم انہیں ہوم منسٹرکہاکرتے،ان کے پردے نے ان کے رعب و وجاہت میں مزیداضافہ کردیاتھا۔ مزدور، خوانچہ فروش،سبزی والی ،مچھلی والی ،تربوز اورپھونٹ والی،چوڑی ہارن،دفالن، قریب و دورکے پڑوسی، دوسرے گاؤں کی امیر وغریب عورتیں،نانہالی اوردادہیالی خواتین سب ان سے فیض اٹھاتیں،وہ سب کی فکرمیں رہتیں اور سب کومحبتوں اورعطیات سے نوازتیں۔کیاشان تھی ان کی۔میرے نانااخترصاحب جو زمیندار اور تقریباً نواب تھے ، نفاست ،وقاراورغریب پروری ان کا چہرہ تھا ، نانی آمنہ !وہ توجیسے گاؤں کی حکیم تھیں پوراگاؤں ان خواتین کی عظمت و نیکی کا گواہ تھا۔ان دو نفوس کی خوبیاں والدہ کے اندرجمع ہوگئی تھیں۔پھرمیرے والد عالم باعمل تھے ان کی شخصیت کی نیکی،مہمان نوازی،دینی حمیت، لوگوں سے بلاتفریق مذہب وملت محبت اورخلوص نے بھی والدہ کو مزید باوضع،باکردار، دیندار، غریب پروراورہردل عزیزی کارتبہ عطاکیاتھا۔ذ ہنی طورسے کمزورسمجھی جانے والی خواتین بھی والدہ سے بے پناہ محبت پاتیں اوران سے گھنٹوں گفتگو کرتیں، رات کے کسی بھی پہرمیں کوئی مہمان آجائے تواٹھ کراس کے لیے ایک سے ایک کھانا تیار کرتیں،عمدہ کھانے والی اور لذیذترین کھاناپکانے والی میری ماں بہت تھوڑے وقت میں کباب ،سالن اور مچھلی کی کئی اقسام تیارکرلیتیں۔دنیا بھرسے لوگ آئے اوران کے تیارکردہ کھانے جس نے بھی چکھے اپنی انگلیاں چاٹتے رہ گئے۔ مختلف اقسام کے اچارتوایسا مزے کاتیارکرتیں کہ ان کے بعدمیں نے اچارکھانا ہی چھوڑدیا۔ والدہ کواللہ سے کیاتعلق تھا اس کا اندازہ مجھ سے ان کی آخری گفتگو سے لگایاجاسکتاہے ،جب میں نے پوچھا امی ! امی نانی کے یہاں جائیں گی ؟ بولیں نہیں۔ پھرمیں نے پوچھا آواپوریعنی میرے دادیہال؟ کہنے لگیں نہیں میں نے پوچھا مکہ جائیں گی؟کہنے لگیں لے چل نہ! لے چل اوران کی آنکھیں اشک بارتھیں۔
والد صاحب اکثراپنی پلیٹ خوددھوتے اوربچوں کوبھی تلقین کرتے،کتنی بارمیں نے دیکھاکہ خودسے جھاڑو لگارہے ہیں، گھریلوکام میں ہاتھ بٹارہے ہیں اورپھربڑ ی مشکل سے والدہ ان کو روک پاتیں۔ میں نے اپنے والدین کوکبھی بھی کسی دینی کام میں رکاوٹ بنتے نہیں دیکھا ۔میری والدہ کوکتنابھی ضروری کام کیوں نہ ہواگران سے کہہ دیتا کہ نماز کے لیے جارہاہوں توکہتیں جاؤ پہلے نماز اداکرو۔
تربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہوا
گھرمِرے اجدادکا سرمایۂ عزت ہوا
دفترِ ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات
تھی سراپادِین ودُنیا کا سبق تیری حیات
میں اپنے بچپن میں کئی دفعہ فیل ہوا حتی کہ تمام مضامین میں بھی فیل ہوالیکن کبھی میں نے اپنے والدین کے ماتھے پرشکن نہیں دیکھی لیکن اگرنماز چھوڑدی! تووالدصاحب نے جوتے سے خبرلی ۔ ہرملنے والے کون ماقائم کرنے کی نصیحت کرتے۔ میں نے اپنے والدین کوآپس میں کبھی لڑتے نہیں دیکھا ۔ایک کچھ کہتا یاکسی بات پرناراض ہوتا تودوسرا اسے خاموشی سے سن کرمحبت ومذاق کا کوئی جملہ ادا کرتا اوراس طرح ماحول خوش گوار ہی رہتا۔والدہ کی زندگی میں امی جان ہی ہمارے گھرکی بینک مینیجرتھیں اس دوران بڑی بہن صادقہ، بہن ناجیہ ،سامیہ ،عالیہ اور پھرمریم ایک ایک کرکے والد صاحب کے خزانوں کی امین تھیں اور اللہ کے فضل سے ہماری تمام بہنیں ہمیشہ والد صاحب کی امانتوں پر نگراں اورامین رہیں، نہ جانے کتنے اقسام کے فنڈ ہواکرتے ،صرف والدصاحب ہی نہیں تمام گھرکے لوگوں کوا س معاملے میں کبھی ان سے کوئی شکایت نہ ہوئی۔ یہ دراصل والدصاحب کا اپنی بیٹیوں کی تربیت کا ایک بہترین طریقہ بھی تھا۔
والدصاحب جب مدرسے سے واپس آتے تواکثروالدہ سے پوچھتے کس کا انتظارکررہی ہیں!۔والدہ مسکراکر کہتیں آپ کا اورکس کا!۔موسمی پھل کے زمانوں میں پورا گھرپھلوں سے بھردیتے۔ انہیں پھل دار پیڑ پودے لگانے کابہت شوق تھا۔ ان کے لگائے ہوئے کتنے ہی پیڑہیں جو زمانے سے مسافروں کو شکم سیرکررہے ہیں۔
پھیری والے،سبزی والیاں، فقراء مساکین سب سے الفت ومحبت کا معاملہ کرتے ہرقماش اورہرمرتبے کے افراد سے حسن سلوک کرتے ہوئے اس کے مراتب کا خیال رکھتے ۔اگرہم میں سے کوئی غربامساکین کے مرتبے کا خیال نہ رکھ پا تا تواس سے معافی منگو اتے اوراگران کولگتا کہ یہ کافی نہیں توجب بھی وہ واقعہ یاد آتا توکہتے فلاں شخص کے حق میں دعا کرو۔ دربھنگہ کی ایک روایت ہے کہ سبزیاں اورمچھلی عموماً خواتین ہی بیچتی ہیں۔سبزیاں مسلمان خواتین جو راعین برادری سے تعلق رکھتی ہیں ،بے حد ایماندار اورغریب،والدصاحب شہر کے مضافات میں مختلف قصبات کے ساتھ ان کے قصبات کوجاتے اوران کی مساجد میں تقریرکرتے،ان کے بچوں کوتعلیم کی جانب راغب کرتے۔ بہر حال یہ خواتین ہوتی بے حد ایماندار ہیں،سودا ہمشہ جھکتا ہوا تولتی ہیں،جبکہ ملاح خواتین مچھلی اورپھل وغیرہ فروخت کرتی ہیں۔جھکتا ہواوہ بھی تولتی ہیں لیکن ڈھائی سوگرام کم۔جب وہ عورتیں گذرتیں تووالدصاحب انھیں سے سودا خریدتے، ہم کہتے ابوجان گھرمیں سب کچھ تو موجودہے لیکن پھربھی آپ ان سے سبزی اورپھل خریدتے ہیں وہ کہتے غریب ہیں لے لو۔ مول بھاؤ بھی کرتے ، انہیں نماز کی تلقین اوربچوں کوتعلیم دلانے کی ہدایت کرتے۔اگرکوئی اپنی بیٹی کولے کرسبزی بیچنے کے لیے نکلتی تواس کواس عمل سے روکنے کی کوشش کرتے اوراس کی جلدشادی کا مشورہ دیتے۔
ایک فقیر صدابلندکرتے ہوئے کہتا!۔۔۔اللہ حویلی کو آباد رکھے۔ ۔۔خدا کی رحمت ۔۔۔اس فقیر کے بارے میں مشہورتھا کہ وہ بہت امیرہے والدصاحب کے پاس آتا اورکہتا او بادشا اللہ حویلی کوآباد رکھے ۔والد صاحب اسے ایک روپیہ نکال کردیتے ،وہ کسی بھی شخص سے ایک روپے سے کم نہیں لیتا تھا جب کہ ان دنوں فقرا کو پانچ پیسے اوردس پیسے ملاکرتے تھے ۔ایک دفعہ جب ہم نے اس کی وجہ پوچھی توفرمانے لگے کہ اما م مالک کے پاس ایک فقیرآیا امام صاحب ؒ نے اسے ایک دینار دیا لوگوں نے اعتراضاً کہا آپ اسے ایک دینار دیتے ہیں، یہ گوشت کھاتا ہے اورآپ کو دال پرگذرکرنی پڑتی ہے امام صاحب نے اسے بلابھیجا اورفرمایا اسے ایک دینار اوردو مجھے لگا وہ دال روٹی کھاتا ہے ،اس کے بعد والدمحترم نے وضاحت فرمائی کہ کھلانے والا اللہ ہے پھر کون کیا کھائے گا تم کیوں متعین کرناچاہتے ہو۔ تمہارا کام دیناہے دو۔ اورقرآن کی آیت وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْہَرْ (10) سورۃ الضحیکی تلاوت فرمائی ۔ترجمہ : آپ مانگنے والے کو نہ جھڑکئے۔
رمضان کا اہتمام رمضان کی آمدسے قبل کرتے اورافطارہرصورت میں مسجدمیں ہی کرتے اوردوسروں کوبھی سختی سے اس کی تلقین کرتے۔کہتے نماز پڑھنا بھی آسان اورمسافروں کے لیے افطارکا انتظام بھی ۔بھلا گھرمیں کیا خیر۔جب تک صحت مندرہے ہمیشہ اعتکاف کرتے رہے اوراپنے بچوں کو بھی کرواتے رہے۔
تعلیم وتعلم ایک ایسا عمل ہے جس میں ایک استاذکے لیے مطالعہ بہت اہم ہوتا ہے جس کے بغیرطلبہ کی ذہنی آبیاری ممکن نہیں۔میرے والد چونکہ میرے استاذ بھی تھے اس لیے میں نے خود دیکھا ہے اوربہتوں نے مجھے بتایا کہ وہ بہت محنت سے اوربہترین ڈھنگ سے پڑھاتے تھے ۔تلفظ کی درستگی پربہت زوررہتا۔ان کا اچھا خاصا وقت مطالعہ پر صرف ہوتاتھا۔بنیادی طوپرعلم تفسیراورحدیث کے استاذ تھے۔چار پانچ تفاسیرمطالعہ کرکے پڑھاتے تھے ۔دارالعلوم کے اساتذہ کا بیان ہے کہ مدرسہ احمدیہ سلفیہ میں ان سے بہترتفسیرقرآن کوئی نہیں پڑھاتا تھا۔وہ اپنی طرف سے زیادہ باتیں کرنے کے بجائے قرآن وسنت، صحابہ اورمفسرین کے اقوال ہی کوزیادہ پیش کرتے ۔ہرچھوٹی اوربڑی غلطی پر وہ طلبا کو تنبیہ کرتے،کہتے الفاظ اتنے ہی اہم ہیں جتنا عمل۔ صرف گفتارکے غازی نہ بنوعملی زندگی کو بہترکرو،اکثرکہتے تمہارے پاس ’’نماز نبوی تو ہے‘‘ کیا تمہاری زندگی میں نمازنبوی ہے؟تعلیم کے ساتھ تربیت پر بہت زور دیتے۔مجھے اورمیرے تمام بھائی بہنوں کوجتنی بھی دعائیں یادہیں ایک آدھ کوچھوڑکرسب انہوں نے ہی یاد کروائی ہیں۔ اکثرانہیں کوئی دعا یاد آجاتی یا کہیں پڑھ لیتے توفوراً فون کرکے ہم بھائی بہنوں کو یادکرواتے۔ مدرسے کی مسجد میں بچوں سے ہرجمعرات فجرمیں درس قرآن یا درس حدیث دلواتے ،وفات سے چنددن پہلے یہ ذمہ داری مولانا عرفان سلفی کے سپرکردی تھی۔وقت کے بہت پابندتھے،امتحان میں مشکل سوالات کے بجائے بنیادی سوالات کچھ اس طرح تیار کرتے کہ پورانصاب بچوں کے سامنے رہے وہ اپنے اس انداز میں ہمیشہ ایک جیسے ہی رہے۔سب کوپتہ تھا کہ شیخ کا سوال پورے نصاب سے ہوگا اوربیجا پیچیدگیوں سے پاک ہوگا۔کہاکرتے باپ تین طرح کے ہواکرتے ہیں،علمی یعنی استاذ، شرعی یعنی خسراورصلبی یعنی والدحقیقی۔
والد صاحب تعلیم وتعلم کی غرض سے جب باضابطہ دربھنگہ میں رہنے لگے تو باربارکرائے کا مکان تبدیل کرنا پڑتا بالآخر سلفیہ کے فیملی کواٹرمیں منتقل ہوگئے۔اپنے مکان کی آرزو کسے نہیں ہوتی! دعاکرتے کہ اللہ مجھے جب بھی مکان دینا تومسجدسے قریب ہی دینا۔ اکثرکہاکر تے دیکھواللہ نے میری دعا یوں قبول کی کہ نہ صرف مسجد کے برابربلکہ میرے مدرسے کے قریب ہی مکان عطاکردیا۔
کسی شخص میں حس مزاح کاہونا خوش مزاج ہونے کی دلیل ہے۔میر ابوجان میں یہ خوبی بدرجۂ اتم موجودتھی۔ ابوجان کی زندگی دیہی اورشہری خوبیوں کا مرقع تھی۔ ایک مذاق جو اس وقت مجھے یادآتاہے بچوں سے اکثرپوچھا کرتے اچھابتاؤ چاچا سے چاچی،نانا سے نانی ،دادا سے دادی پھرپاپا کی پاپی کیوں نہیں؟
مذہب انسانی زندگی کا آئین ودستورہے۔ نیکوکارکا دنیادار نہ ہونا یا دنیا سے صرف اتناہی دل لگانا جتنا گذران کے لیے ضروری ہو،نہ سادہ لوحی ہے نہ حماقت اورنہ ہی دنیا سے اس کی لاعلمی کامظہر۔ زندگی کا عرفان ہی انسان کو غیرمفید وناپائیدار اشیا سے زندگی میں محدود وابستگی کا درس دیتا ہے۔اس طرح وہ ابدی لذتوں کامشتاق اور رب دوجہاں کافرماںبرداربن جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایمان والا تارک دنیا بن جائے یادنیوی لذتوں سے یکسر دست بردار ہوجائے۔ وہ جائزدائروں میں دنیاکی تمام لذتوں سے مستفید ہوتاہے تاہم جہاں سے حدودالہی شروع ہوتی ہیں وہاںوہ خودکوبے عقلی کے راستوں سے خودروک لیتاہے۔ ہر غلط کام کرنے والا اپنے آپ کو بہت عقلمند سمجھتاہے لیکن اس کی سب سے بڑی بدعقلی غلط راہ کاانتخاب ہے کیوں کہ غلط کاانجام بہرحال غلط ہی ہوگا اورجوعمل بھی قرآن وسنت کے خلاف ہے وہی بیوقوفی ہے۔
انسان ایک ایسی مخلوق ہے جوروتے ہوئے پیداہوتی ہے،شکایت کرتے ہوئے جیتی ہے اور پچھتاتے ہوئے مرجاتی ہے۔لیکن میرے والدماجدایک ایسی شخصیت کے مالک تھے جوروتے ہوئے ضرور پیدا ہوئے لیکن پوری زندگی اپنی اوردوسروں کی شکایات دورکرتے ہوئے بسرکی اورپچھتاتے ہوئے اس دنیاسے نہیں گئے بلکہ اللہ کے دیدار،پیارے حبیبﷺ سے ملاقات اورجنت کے طلبگارہوکراس دارفانی سے رخصت ہوئے ۔آخری دنوں میں ان کے سرہانے حضرت مولانامحمدصادق سیالکوٹی کی کتاب’’ آخرت کا سفر‘‘ہواکرتی جب موقع ملتا اسے پڑھتے رہتے۔ طویل عمرسے اللہ کی پناہ مانگتے۔عمدہ زندگی بسرکی ۔ارذلِ عمرسے اللہ نے ان کی حفاظت فرماکران کی دعاقبول کی اور اس حال میں انہیں اپنے پاس لے گیاکہ اللہ نے انہیں اپنے سواکسی کا محتاج نہ بنایا،نیک نام جئے اورنیک نام ہی رخصت ہوئے،مجھے ایک عجیب مگردلچسپ واقعہ میرے بڑے بھائی ڈاکٹرعمادالدین سلفی نے سنایا کہ ایک دفعہ کسی سفرمیں ایک افسرکی بیوی مسلمانوں کی گندگی کارونارورہی تھی میرے بڑے بھائی اللہ انہیں صحت وعافیت عطاکرے انہوں نے اس خاتون کو والدِمحترم کی تصویراپنے موبائل میں دکھائی، تصویر دیکھتے ہی اس خاتون کی زبان یوں بدلی :’’ہم را سب کے بڑھوا سب کے چہرہ بڑھ ہولا پرچائیں لے کھکاہو جائی چھئی اورمیاں سب کے بڑھوا سب کے چہرہ چمکے لاگئی چھئی‘‘ یعنی غیرمسلم مردزندگی کی محرومیوں،مرنے کے بعدکے مسائل سے عدم واقفیت اورموت کے انتظارمیں ان کے چہرے چورکی طرح ہوجاتے ہیں لیکن مسلم مردجوں جوں بوڑھاہوتاجاتاہے اس کے چہرے کی بشاشت ورونق اورچمک میں مزیداضافہ ہوتاجاتاہے یقینا یہ اللہ سے تعلق ،توبہ واستغفار، اس سے بہترامید اور نماز کی برکت ہوتی ہے۔
والدصاحب میں سیاسی بصیرت بھی کم نہ تھی وہ حالات کے رخ کوبھی بہت عمدہ انداز میں سمجھتے اورسمجھاتے۔مثلاً وطن عزیز کے حالات پرپریشان ہونے کے بجائے سکوت اور پھرعملی اقدام کی دعوت دیتے ،جب بھی فجرکی امامت فرماتے قنوت نازلہ پڑھتے اوراس میں بہت سی دعاؤں کے ساتھ ظالمین کا نام جوڑتے۔ایک بات وہ اکثر مشرکین وموحدین کوسنایا کرتے کہ یہ زمین اللہ کی ہے وہ جسے چاہتاہے اُسے زمین کا مالک ووارث بنادیتاہے۔یہاںرجواڑے حکومت کررہے تھے مسلمانوں کی کشتی پکڑلی مسلمانوں پرظلم کیااللہ نے محمدبن قاسم ؒ کے ذریعہ مسلمانوں کے اس زمین کا مالک بننے کا راستہ ہموار کردیا۔یہاں مسلمانوں نے تقریبا آٹھ نوسوسال حکومت کی جس وقت مسلمان حکمراں تھے اس ملک کی مجموعی پیداوار(جی ڈی پی) ۲۵فیصدی دنیامیں سب سے زیادہ تھی جو آج تک نہ ہوسکی اسی لیے یہ ملک اس وقت سونے کی چڑیاتھا۔ کم ازکم اُس وقت مذاہب کے درمیان محبت واخوت تھی کبھی کوئی مذہبی دنگا فساد نہ ہوالیکن جب انہوں نے بھی عیاشی بے دینی کواپنا شعاربنایااللہ نے انہیں بدل دیاکیوں کہ حکومت بدلنے سے حالات نہیں بدلتے بلکہ اعمال بدلنے سے حالات بدلتے ہیں۔ پھرانگریز آئے اللہ کا عذاب بن کرکچھ دن وہ بھی اچھے رہے لیکن جب انھوں نے گڑبڑکی تو صرف ڈیڑھ سوسال آٹھ سوسال کا ون فورتھ ہی حکومت کرسکے۔پھریہیں کے عوام کواللہ نے کانگریس کی شکل میں اکٹھاکردیا، وہ ڈیڑھ سوسال کا ون فورتھ ۴۵سال ہی حکومت کرسکی ،اللہ نے دیکھا یہ بی جے پی اورآر ایس ایس والے بڑی اچھل کود کررہے ہیں اللہ نے کہا آؤ تم بھی آجاؤ وہ بھی آٹھ دس سال۴۵سال کا ون فورتھ! یہ اللہ کی زمین ہے یہاں بھی ہمارے لیڈراپنی تمام حدوں کوپار کرچکے ہیں۔یونس علیہ السلام توصالح تھے اپنی قوم کی بدتمیزیوں سے تنگ آکرچلے گئے تھے لیکن یونس علیہ السلام کو غائب پاکرقوم نے اپنی اصلاح کرلی اوربچ گئے اگرہم نے اپنی اصلاح کرلی لیڈورں کوکوسنا چھوڑدیاتوہماری نجات یقینی ہے وگرنہ تاریخ گواہ ہے ،اللہ کسی اورکواس ملک کا مالک وحکمراں بنادیگا! اوریہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی :قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ اسْتَعِیْنُوا بِاللّہِ وَاصْبِرُواْ إِنَّ الأَرْضَ لِلّہِ یُورِثُہَا مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ(128) سورۃ الأعراف
ترجمہ : موسی نے اپنی قوم سے کہاکہ اللہ سے مددمانگواورصبرکرو،بے شک یہ زمین اللہ کی ہے،وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتاہے اس کا مالک بنادیتاہے،اورآخرت کی کامیابی اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے ہے۔
کسی حالت میں بھی کسی سے مرعوب نہ ہوتے ایک دفعہ کہنے لگے محمدبن قاسم ؒ نے ۱۷برس کی عمرمیں ہندوستان فتح کرلیا تم نے کیاکیا،میں نے برجستہ کہاان کے والدین نے انہیں وہ ماحول دیا ہمارے والدین نے ہم سے چھین لیا، بڑی سنجیدگی سے بغیرناراض ہوئے کہنے لگے بیٹے کیا آپ کی تعلیم وتربیت میں میں نے کچھ کمی کی ہے ؟میں نے کہا اللہ جانتا ہے جو آپ نے کیا شایدہی کوئی کرتا۔یعنی جب میری کندذہنی اورتعلیم سے بے رغبتی دیکھ کرلوگ میرے والد کومشورہ دیتے کہ اسے کسی کام میں لگادیں توان کا ہمیشہ یہ جواب ہوتاکہ میں اپنے بیٹے کوکسی کی چائے ڈھونے اورگالی سننے کے لیے نہیں چھوڑسکتا،جب والدہ میرے لیے فکرمندہوتیں تووالدصاحب میرے لیے اللہ سے دعاکرتے ،جس کے نتیجے میں ایک خواب دیکھا کہ میں سائیکل ریس کے میدان میں ایک ٹوٹی پھوٹی سائیکل پرسوارہوکرسب سے آگے نکل گیاہوں۔کہتے میں جب تک زندہ ہوں اپنے بیٹے کوپڑھانے کی کوشش کرتارہوں گا۔ اللہ میرے بیٹے کو ضرور کامیاب کریگا۔ ان شاء اللہ
بہرحال میرے جواب پر کہنے لگے اب تم وہ کچھ کروجوآج دنیاکے انسانوں کے لیے مفیدہے اورامتِ محمدیہ کی عظمت وافتخار کا باعث بنے۔الحمدللہ میرے والدین اس دنیاسے اس حال میں رخصت ہوئے کہ مجھے لگتا تھاکہ وہ دونوں مجھ سے سب سے زیادہ خوش ہیں۔ میرے والدکی ایک صفت یہ بھی تھی کہ وہ اپنے تمام بچوں سے اس طرح پیارکرتے کہ لوگ سمجھتے کہ یہ ان کی اکلوتی اولاد ہے اورہربچے کومحسوس ہوتاکہ والدصاحب مجھ سے سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔ان کی سب سے خوبصورت عادت یہ تھی کہ اپنے بچے اوردوسرے افراد سب سے اُن کے مزاج کے مطابق معاملہ کرتے ۔
شافی ہومیوکلینک ایک رفاہی مرکز ہے جس میں والد صاحب مدارس ومکاتب کے طلبہ اوراساتذہ کا مفت علاج کرتے ۔محلے کے غیرمسلمین کا علاج بھی مفت ہی کرتے۔ محلے کے بچے دادا جی داداجی کرتے ہوئے کھیلتے کودتے ان سے دوا لیتے اور شفایاب ہوتے ،عورتیں چاچاجی چاچاجی کہہ کردوائیں اوردعائیں پاتیں۔زندگی کی پچھتربہاریں دیکھنے کے باوجود اپنے تمام بچوں اوراپنے عہدکے لوگوں میں سب سے زیادہ جوان تھے ۔سفر میں ایسی تیزی کہ کہا کرتے کہ سفرمجھ سے پناہ مانگتا ہے اورنماز تو جیسے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ،دل کا سروراور سانسوں کی ڈورتھی۔تبھی تو سفر آخرت پرروانگی کی صبح بھی تہجد،فجراورطلبہ کوسنت ادا کرنے کی تلقین کی اورچاشت کی نماز کے بعدرخصت ہوگئے۔جاتے جاتے بھی ہروہ کام کیا جو زندگی بھران کا معمول رہا۔یعنی اس دن صلاۃ تہجد ادا کی،فجر کے لیے اپنے گھر والوں کو اورمدرسہ کے طلبہ کوجگایا،طلباکوفجر کے پہلے اوربعد سنتوں کی تلقین کی،عادت کے مطابق مسجد سے کسی شناسایا اجنبی کو ساتھ لاتے اورناشتے یا کھانے میں شریک کرتے ۔ اس دن بھی ایک شنا ساکو ساتھ لائے، ان کی ضیافت کی،قرآن کی تلاوت کی ، تھوڑا آرام کیا، پھرقرآن کی تلاوت کی اور معمول کے مطابق بیٹی مریم کے ساتھ ناشتہ کیا ، وضو کرکے چاشت کی نماز ادا کی ،ایک سیب کھایا اورقرآن کی تفسیرکا درس دینے مدرسہ کے کلاس روم کی جانب بڑھے، جیسے ہی کلاس کی سیڑھی پر قدم رکھا، اللہ کا فرشتہ وہاں موجود تھا، جو انہیں مالکِ حقیقی تک لے گیا۔اناللہ واناالیہ راجعون ۔
اب نہ دنیامیں آئیں گے یہ لوگ
کہیں ڈھونڈے نہ پائیں گے یہ لوگ
غم سے بھرتا نہیں دلِ ناشاد
کس سے خالی ہواجہاں آباد
والد صاحب پوری دنیا کا علاج کرتے ۔لوگوں کے امراض میں تیمارداری کرتے لیکن اپنے علاج میں کوتاہی برتتے یا جب تک مجبورنہ ہوتے دعاؤں اورہومیوپیتھی سے ہی کام چلاتے اور کہتے کہ:’’ علاج سے کوئی بچتانہیں اوربیماری سے کوئی مرتا نہیں‘‘۔انتقال سے آٹھ نوماہ قبل کا ذکرہے کہ میں بیوی بچوں کے ساتھ کلکتے گیاتھاابھی تین دن ہی گذرے تھے کہ والدمحترم کی کال آئی بیٹے دربھنگہ آجائیں میں بیوی بچوں کواپنے سسرالی رشتہ داروں کے یہاں چھوڑکردربھنگہ آگیا ۔اگلے ہی دن والد صاحب پریشانی محسوس کرنے لگے میں نے ناظم دارالعلوم ڈاکٹرعزیزصاحب کے صاحب زادے ڈاکٹرفیصل یوسف کوفون کیا وہ فوراً گھر تشریف لے آئے،ای سی جی مشین منگوائی پھراپنی گاڑی میں ہاسپٹل لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اُن کی حالت نازک بتائی بہرحال اللہ نے شفا دی۔ وقفے وقفے سے ڈاکٹر سے رجوع کرنا قلب کے امراض میں بہترہوتاہے لیکن والدصاحب اسے پسند نہ کرتے۔بیٹی سامیہ اورداماد سیدمحمدطالب کی ضدپربنگلورتشریف لے گئے لیکن نماز کے لیے مسجد نہ جاسکنے کے سبب انہیں وہاں رہنا گوارہ نہ ہوا ۔اورپھر ان کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ جب میرا انتقال ہوتومیرے جنازے میں کم از کم چالیس مومنین شریک ہوں اوراس وقت سلفیہ مدرسہ کھلاہواہوتاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ اوراساتذہ کے ساتھ دوسرے اشخاص بھی جنازے میں شریک ہوسکیں۔یہ دعا بھی اللہ نے ایسی قبول کی کہ لوگوں کا بیان ہے کہ دربھنگہ میں ہم نے اتنا بڑاجنازہ نہیں دیکھا۔ تاحدنظرلوگوں نے نمازجنازہ اداکی۔اس کے علاوہ ملک کی مختلف مساجدحتی کہ مسجدنبوی ﷺمیں بھی باب الرحمہ کے قریب لوگوں نے غائبانہ نماز جنازہ اداکی ۔اللہ مغفرت فرمائے آمین یارب العلمین۔
کچھ نہیں فرق باغ وزنداں میں آج بلبل نہیں گلستاں میں
شہر سارابناہے بیتِ حزن
ایک یوسف نہیں جوکنعاں میں
جس دن والد صاحب کا انتقال ہوا اس دن اوراس کے بعدکے دنوں میں کئی افراد نے فون پراور ملاقات کے دوران دردانگیز آواز میں اورکچھ لوگوں نے روتے ہوئے کہا آدم ۔۔۔۔۔ہمارے لیے دعاکا ایک بہت بڑادروازہ بندہوگیا۔ جنازے میں آئے ایک صاحب نے کہابھائی ہمیں بھول نہ جانا آپ کے والد کے بڑے احسانات ہیں ہم پر۔۔ میں نے پوچھا بتائیں کس طرح کے؟ توکہنے لگے :برسوںپہلے کی بات ہے ہمارے گاؤں میں کوئی ادارہ نہیں تھاآپ کے والد ہمارے گاؤں میں داخل ہوئے اورکچھ دروازں پر دستک دی اورپوچھا کہ کیایہاں کی عورتیں بانجھ ہی رہیں گی؟ ہم نے کہاالحمدللہ ہم تمام صاحب ِاولاد ہیں آپ کے اس جملے سے آپ کی کیامراد ہے ؟ توکہنے لگے جس گاؤں میں مسجد،مدرسہ نہ ہوجس گاؤں میں اچھے علماء پیدا نہ ہوں اس گاؤں کی عورتیں بانجھ ہی توہوئیں۔ پھرہم لوگوں سے مخاطب ہوکر کہنے لگے کس کس کے پاس کتنی زمین ہے ہم نے بتایا توکہنے لگے آپ اتنا اوراتنا دے دیں اس طرح انہوں نے ہمارے قریہ میں مسجد اور مدر سے کی تعمیر وبقاکے مصارف کاانتظام کیا۔والد کے انتقال کے بعدجب میں گاؤں پہنچاتومعلوم ہوا کہ کچھ غرباکوماہانہ تنخواہ دیتے تھے ،کسی سے کہہ رکھا تھا اس بار جب یہ کیلے تیارہوجائیں تواس کوبیچ کرفلاں کو اس کا پیسہ دے دینا، ہم سے بہت سے خیرکے کام کرواتے لیکن ہمیں یہ باتیں ان کے دارِ فانی سے رخصت ہونے کے بعد پتاچلیں۔ایک مسجد کے مؤذن کومیرے چھوٹے بھائی نے بیٹے کی مبارک باددینے کے لیے فون کیا جو نہایت غریب اورکمزورآدمی ہیں تووہ کہنے لگے آپ کے والدصاحب کی بڑی تمناتھی کہ میرے گھربیٹاہو،ان کی دعاقبول ہوئی اورہاں آپ کے والد صاحب نے پانچ ہزار روپے بھیجے تھے وہ مل گئے۔ اپنوں اور غیروں کا خیال کرنے والے کااللہ حامی وناصرہو آمین !اوراس طرح پورے گاؤں اورپورے شہرکے لوگ مختلف وجوہ سے ان سے رابطہ کرتے اوراپنی مراد پاتے۔میرا ایک دوست ابوبکر ملا کہنے لگا آدم مجھے تمہارے والدکے انتقال کاکوئی غم نہیں دکھ اس بات کا ہے کہ امت کا اتنا بڑا خسارہ ہواجو کسی بھی طرح پورانہیں کیاجاسکتااللہ ان کا نعم البدل پیداکرے ، آمین گویااس صدی کا آخری آدمی تھاآہ ۔۔۔
ایک روشن دماغ تھا نہ رہا
شہر میں اِک چراغ تھا نہ رہا

