شیر میسور کا لقب پانے والا ٹیپو سلطان اپنے قول کا سچا،ایفائے عہد کا پابند، محب وطن،خود دار،اور سپاہیانہ کردار کا حامل سپہ سالار تھا۔اسے اس دار فانی سے کوچ کئے تقریاً 216سال کا عرصہ دراز بیت جانے کے با وجود اس کی شخصیت میں کمی آنے کے بجائے دن بدن بڑھتی جا رہی ہے ۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ 20نومبر 1750ء میں بنگلور کے قریب ایک قصبہ میں ٹیپو سلطان کی پیدائش ہوئی اور جنوبی ہند کے ایک معروف بزرگ ٹیپو مستان کے نام پر اس کانام ٹیپو سلطان رکھا گیا جب کہ اصلی نام فتح علی خان اور ابوالفتح کنیت تھی۔ ٹیپو سلطان کی شخصیت کے حوالے سے کتب تاریخ میںاس بات کا ذکر بھی ملتا ہے کہ وہ ایک سچا ،پکا مسلمان اور عظیم سپاہی کے، ساتھ ساتھ ہفت زبان بھی تھا ۔ وہ کم عمری میں ہی مختلف زبانوں مثلاً عربی، فارسی، انگریزی، فرانسیسی ،اردو، تامل،اور کنڑ جیسی زبانوں پر کامل دسترس حاصل کر چکا تھا ۔اس کے علاوہ علوم اسلامیہ ،ریاضی اور سائنس وغیرہ میں بھی مہارت حاصل کر لی تھی ،فن حرب وضرب،سپہ گری،تیر افگنی،نیزہ بازی ،تفنگ اندازی،اور تیراکی میں بھی کما حقہ کمال حاصل کیا۔وہ کردار و عمل کا ایسا غازی تھا کہ کبھی اس کی نمازیں قضا نہیں ہوئیں وہ ہر وقت با وضو رہا کرتا اور نماز فجر کے بعد بلا ناغہ تلاوت قرآن کرتا اور مکروہات و لغویات سے مکمل اجتناب کرتا اور اپنے شاہی فرمان کی پیشانی پر اپنے ہاتھ سے بسم اللہ لکھتا۔یہ تو اس کی سیرت ،شخصیت اور کردار کا ایک زاویہ ہے جس پر مورخین اور مصنفین نے بہت کچھ لکھا ہے دوسرا زوایہ یہ ہے کہ1782ء میں سلطنت خدا داد میسور کے بانی اور ٹیپو کے والد نواب حیدر علی کے انتقال کے بعد ٹیپو سلطان نے جب 1783ء میں ریاست میسور کا نظم و نسق سنبھالاتو ان برسوں میں اس نے حکمرانی کی ایک نئی داستان رقم کی، ہمت و جرأت اور شجاعت وبہادری کی ایک نئی کہانی لکھی ۔اس نے تقریباً 17 سال تک حکمرانی کی اس سترہ سال کے دوران کم عمری میں ٹیپو سلطان نے جو کارنامے انجام دئیے وہ رہتی دنیا تک بھلایا نہیں جاسکتا۔اس کی مختصر سی مدت حکمرانی جنگ وجدل ،انتظام و انصرام اور متعدد اصلاحی و تعمیری امور کی نذر ہوگیا مگر اس قلیل مدت حکمرانی میں بہت ہی نظم و نسق سے تمام امور کو انجام دیا۔ٹیپو کو وراثت میں جو جنگ و جدل ،سازش ،اور داخلی و خارجی مسائل کے ساتھانگریزوں کا بے جا جبر و سلوک ملا تھا ان سب کو اس نے اپنی خدا داد صلاحیت، دور اندیشی اور اعلیٰ حوصلگی سے بہت ہی قلیل مدت میں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ متعدد تعمیری اور اصلاحی کام بھی کیا اور مثبت طرز فکر کو پروان چڑھا یا نیز سیاسی ،سماجی،معاشی، معاشرتی،صنعتی،اور تعمیری شعبوں میں اپنی ریاست کو خود کفیل بنانے کی بھر پور کوشش کی۔فوجی انتظام و استحکام پر بھر پور توجہ دی ،نئے فوجی قوانین اور ضابطے رائج کئے اور فوج کے لئے با قاعدہ ایک کتاب ’فتح المجاہدین‘ لکھوائی جس میں وہ فوجی اصول اور قاعدے درج تھے جو یوروپ میں رائج تھے اس کے علاوہ اس میں سلطان نے اپنے وضع کردہ فوجی قواعد بھی شامل کئے،اسلحہ سازی کے کارخانے قائم کئے گئے جن میں جدید ترین ٹکنالوجی کے تحت اسلحہ اور راکٹ بھی تیار کیا گیا۔اس نے بحریہ کے قیام اور اس کے فروغ پر زور دیا ،نئے بحری اڈے قائم کئے گئے،بحری چوکیاں قائم کی گئیں،بحری جہازوں کی تیاری کے مختلف مراکز قائم کئے گئے۔اپنی فوج کو جدید ترین ٹکنا لوجی سے آراستہ کیا،بیرونی ممالک سے تعلقات استوار کیا ۔اس نے اپنی ریاست میں امن و امان قائم کرنے اور قانون کی بالا دستی کے احترام سے نہ صرف عوام کو روشناس کرایا بلکہ اس پر سختی سے عمل بھی کرایا۔یہ ٹیپو سلطان کی شخصیت اور اس کی مختلف جہتوں کا ایک اجمالی خاکہ تھا جو مذکورہ بالا سطور میں پیش کیا گیا ۔اس کی شخصیت کی چند دوسری جہتیں کچھ اس طرح ہیں۔
1۔ ٹیپو سلطان کی شخصیت اور اس کی مختلف جہتوں میں سے ایک جہت یہ بھی ہے کہ وہ ایک بہترین حکراں اور بہترین منتظم بھی تھا ۔اس با ت کا اعتراف اس عہد کے نہ صرف ہندوستانی مصنفین و مورخین نے کیا ہے بلکہ انگریز مصنّفین و مورخین نے بھی کیا ہے اور لکھا بھی ہے کہ ٹیپو اپنی فوج اور تنظیم میں یوروپ کے کسی مہذب ملک سے پیچھے نہیں تھا۔اس زمانے کے تمام مشرقی حکمرانوں میں وہ سب سے بہترین منتظم تھا ۔سلطنت کے بہترین نظم و نسق کے لئے متعدد شعبے قائم کئے جس پر مرکزی شعبے کی نظر رہتی تھی۔مرکزی حکومت کی نگرانی میں جو وزارت تھے ان میں وازارت مالیات،وزارت تجارت بری،وزارت تجارت بحری،وزارت دفاع،وزارت حفاظت اسلحہ،وزارت حفاظت خزانہ،وزارت عدل و انصاف،وزارت فوج میسور،وزارت اطلاعات و نشریات وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اس کے علاوہ مرکزی حکومت کے تحت جو مزید وزارتیں تھیں ان میں محکمہ تعمیرات،غلاموں کی دیکھ بھال کا شعبہ،اور مذہبی مقامات کی وزارت اہم ہیں ،ان تمام وزارتوں اور محکموںکے انتظامی امور کے مطالعے سے یہ اندازہ ہوا کہ سلطان ٹیپو ایک مرتب رکھتا تھا مذکورہ بالا انتظامی امور اس کے مرتب ذہن ہونے کا عملی نمونہ ہیں۔
2۔ ٹیپو سلطان کی شخصیت کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ایک طرف سچا اور پکا محب وطن تھا تو دوسری طرف وہ دین اسلام کا مخلص سپاہی بھی تھا۔وطن کی آزادی اور دین اسلام کی خدمت ،دونوں کے جذبات و احساسات بیک وقت اس کے اندر موجود تھے۔اسی لئے وہ اس بات کو ہمیشہ دہراتا رہتا تھا کہ انگریز اسلام اور ہندوستان دونوں کے لئے خطرہ ہیں ان کے وجودسے وطن کی سر زمین کو پاک کرنا اسلام اور وطن دونوں کی سب سے بڑی خدمت ہے،اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے اندر اتحاد اسلامی کا جذبہ کافی حد تک پایا جاتا تھا ۔بعض معاملات میں اس نے مذہبی سختی بھی برتی۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے سلطنت میں شراب و منشیات کی خرید و فروخت اور اس کے استعمال پر بغیر کسی مذہبی تفریق کے سب کے لئے منع کر دیا تھا،یہانتک کہ اس کی فوج میں شامل غیر ملکی سپاہیوں کو بھی اس کے استعمال کی اجازت نہیں تھی اور حد تو یہ کہ اس نے کھجور کے علاوہ ان تمام پھلوں کے درخت بھی اپنی سلطنت سے کٹوا دیئے جس سے عام طور پر شراب بنائی جاتی تھی ۔مگریہ اس نے سلطنت اور اس کی رعایا کو سماجی ، اقتصادی اور اخلاقی اعتبار سے بہتر بنانے کے لئے کیا تھا۔
3۔ ٹیپو سلطان کا تیسرا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ایک روشن خیال اور مذہبی روادار سلطان تھا۔مورخین نے اس کی روشن خیالی اور وسیع النظری کی داد دی ہے۔اس حوالے سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اس کی مذہبی رواداری جس کے لئے اسے سب سے زیادہ بد نام کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ وہ ایک انتہائی متعصب سلطان تھا اس نے اپنے حکمرانی کے دوران ہند ؤوں اور عیسائیوں پر ظلم کیا ،مندروں کو ڈھا کراس کی جائیدادیں ضبط کیں،غیر مسلموں کا اجتماعی ختنہ کروایا اور جبراً بے شمار لوگوں کو مسلمان بنایا۔مذکورہ بالا باتوں کی نفی مسٹر بھگوان ایس گڈوانی کی اس تحقیق سے ہوتا ہے جو انھوں نے لندن کے پوشیدہ ذخیروں کو کھنگالنے کے بعد ٹیپو سلطان کے جو اقوال اور ارشادات پیش کئے ہیںوہ سلطان ٹیپو کی روشن خیالی اور مذہبی رواداری کی مکمل عکاس ہیں چندوہ اقوال و ارشاد جو سلطان کی روشن خیالی اور مذہبی رواداری کو نمایاں کرتی ہیں سید مصطفی رضوی کی کتاب شیر ہندوستان ٹیپو سلطان چند تاریخی حقائق سے ملاحظہ ہوں :
(۱)۔’’میرے وام کون ہیں؟۔۔یہ جو مندروں میں گھنٹی بجاتے ہیں ،یہ جو مسجدوں میں سر جھکاتے ہیں ،یہ سب میرے عوام ہیں۔یہ ملک ان سب کا ہے اور یہ ملک میرا ہے۔‘‘(۲۱۳) ص۱۸۱
(۲)۔’’ہم اعلان کرتے ہیں کہ میسور میں کسی کو کسی پر مذہب،عقیدے،یا ذات پات کی بنیاد پر فوقیت اور امتیاز نہیں ہوگا۔‘‘(۳۰۔۲۲۹) ص۱۸۱
(۳)۔’’مذہبی رواداری قرآن پاک کا بنیادی اصول ہے… قرآن پاک کی تعلیم ہے کہ ہمارا خالق ایک ہے اور ہم اسی کے آگے سر جھکاتے ہیں ۔ہمیں خدا کا بخشا ہوا یہ قانون اور ارشاد عزیز ترین ہے جو انسانی عظمت اور مساوات کا درس دے رہا ہے ۔ہم نے مقدس ویدوں کا بھی مطالعہ عقیدت اور احترام سے کیا ہے۔ان کی تعلیم بھی عالمی اتحاد اور بھائی چارے پر مبنی ہے اور یہ تعلیم ہے ویدوں کی کہ خدا ایک ہے چاہے وہ کسی بھی نام سے پکارا جائے۔‘‘ (۲۲۹)ص۱۸۱
مذکورہ بالا مثا لوں سے واضح ہوتا ہے کہ سلطان ایک روشن خیال اور مذہبی روا دار شخص تھا اور دیگر مذاہب کے ساتھ رواداری کا عملی ثبوت بھی دیا اور ملک میں ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے کی بھر پور کوشش کی ۔اس نے میسور کی حکومت میں ہندو وزرا تعینات کئے ،ملازمتوں میں ہندوؤں کو بھر پور حصہ دیا ۔ہندو مندروں کی تعمیر اور مرمت کے لئے بہت ساری رقمیں جاری کیں،مذہبی عبادت گاہوں کے لئے وظائف مقررکئے ،مذہبی پیشواؤں کو تحائف سے نوازا،یہی نہیں بلکہ میسور میں پہلا چرچ سلطان ٹیپو نے خود تیار کروایا تاکہ فرانسیسیوں کے ساتھ پائدار تعلقات استوار کیا جا سکے۔ مورخین اس بات پر حیران ہیں کہ سلطان ٹیپو مذہبی جذبہ رکھنے کے با وجود کس قدر غیر متعصب اور روادار شخص تھا ،مگر افسوس یہ کہ انگریز مورخین نے ٹیپو سلطان کے اس رویے کو تعصب کی عینک لگا کر اسے مسخ کر کے پیش کیا ،جب کہ میسور کا ایک ایک ذرہ آج بھی سلطان ٹیپو کی رواداری اور بے تعصبی پر گواہ ہے۔میسور کے قدیم مندروں میں سلطان کی عطا کردہ جاگیروں کے فرمان اور دستاویزات آج بھی موجود ہیں ۔اس سلسلے میں مہاتما گاندھی نے اپنے اخبار ’’ینگ انڈیا ‘‘مورخہ ۲۳ جنوری ۱۹۳۰ء میں لکھا تھا کہ:
’’ٹیپو نے مندروں کے لئے بڑی فیاضی سے جائدادیں وقف کیں ،اور خود اس کے محل کے چاروں طرف سری وینکٹا رمنّا،سری نواس اور شری رنگناتھ کے مندروں کی موجودگی سلطان کی وسیع النظری اور رواداری کا ثبوت ہے۔ ‘‘
اس روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کی تمام تاریخی شخصیات میں تنہا ٹیپو سلطان کی ذات ایسی ہے کہ اس کے متعلق لکھنے والوں کی اکثریت اس کی ہم مذہب نہیں ہے لیکن اس کی ذاتی زندگی اور اس کی سیرت کا جائزہ لینے والے مصنفین و مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ سلطان اپنی غیر معمولی مذہبی روادری کے با وجود اپنے مذہب سے بڑی عقیدت و محبت رکھتا تھا۔ ( یہ بھی پڑھیں سلطنت خداداد کی تجارتی و زرعی پالیسیاں – ڈاکٹر عادل حیات)
4۔ ٹیپو سلطان کی شخصیت کا چوتھا اہم پہلو ایک عالم با عمل اور علم کے قدر دان کی ہے ۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود سلطان کے محل میں اس کا ذاتی کتب خانہ تھا جس میں مختلف علوم و فنون پر کتابیں منگواکر جمع کروا رکھی تھیں ۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے بلکہ مسلمان بادشاہوں نے اپنے زمانے میں نہ صرف یہ کہ علم اور تعلیم کی اشاعت کا بند و بست کیا بلکہ بیشتر حکمراں خود بھی بہت بڑے عالم اور صاحب فضیلت ہوا کرتے تھے ۔ان کے کتب خانے، ان کا شوق مطالعہ،ان کی علمی قدر دانی،کتابوں کی فراہمی کا ذوق ،کتب خانوں کی آرائش کا اہتمام، جِلدبندی،نقش کاری وغیرہ ان کے اعلی درجے کی شائستگی اور حسن ذوق کا پتہ دیتی ہیں۔سلطان ٹیپو ایسے ہی علم دوست اور علم پسند سلطانوں میں سے ایک تھا۔سلطان کی علم پسندی ،علم دوستی اورعلم پروری کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ اس نے ’جامع الامور‘ کے نام سے سری رنگا پٹم میں ایک ایسی یونیورسٹی قائم کی تھی جہاں دینی اور دنیاوی دونوں علوم و فنون کی تعلیم دی جاتی تھی۔ الیاس احمد ندوی اپنی کتاب ’سیرت سلطان ٹیپو شہید‘ میں اس تفصیل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
’’خود اس کے محل میں اس کا ذاتی کتب خانہ موجود تھا جس کی نگرانی کے لئے ایک ناظر کتب خانہ بھی مقرر تھا ،کتابوں کی جلد سازی کے لئے دارلسلطنت میں ایک مستقل شعبہ قائم کیا گیا تھا ۔جلد سازی کے بعد سر ورق پر اللہ،محمد،اور اہل بیت و خلفائے راشدین کے نام لکھے جاتے اوپر سلطنت خدا داد اور سب سے نیچے اللہ کافی لکھا جاتا سلطان جس کتاب کا مطالعہ کرتا اس پر اپنی مہر ودستخط ثبت کرتا ،کتب خانوں کی اکثر کتابوں پر اس کی دستخط موجودتھی۔‘‘ ص۴۷۸
لیکن سلطان کی شہادت کے بعد اس کا ذاتی کتب خانہ انگریزوں کے ہاتھ لگ گیا چونکہ انگریز اس کی اہمیت اور افادیت سے خوب واقف تھے اس لئے وہ ساری نادر کتابیں اور مخطوطات سب مال غنیمت کے طور پر اپنے ساتھ لے گئے ۔سلطان کے علمی ذوق و شوق اور جستجو کا عالم یہ تھا کہ جنگوں میں مسلسل مصروفیت کے با وجود ۴۵ سے زائد کتابیں مختلف موضوعات پر یا تو خود لکھیں یا اپنی سر پرستی میں کسی معتمد خاص سے لکھوائیں۔ٹیپو کے علم دوست ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اس کے عہد میں بہت سے علما و شعرا موجود تھے جن کا تفصیلی ذکر مورخین نے کیا ہے ان سے سلطان امور دینیہ اور امور دنیویہ دونوں میں مشورے وغیرہ کرتا تھا اور ان سے رہنمائی بھی حاصل کرتا تھا ۔
5۔ ٹیپو سلطان کی شخصیت کا پانچوا ں اہم پہلو سماجی و معاشرتی مصلح کی ہے۔اس نے سماج اور معاشرے کی اصلاح اس طرح کی کہ غلاموں اور لڑکیوں کی خرید و فروخت پربالکل پابندی عائد کرکے ان کے لئے یتیم خانے بنائے۔زمینداری کا خاتمہ کرکے مزدوروں اور کسانوں کو زمین کا مالک بنا یا ۔زمین کو رعایا کی ملکیت قرار دیا ۔اس نے اپنی تمام رعایا کو اپنے مذہب کے مطابق عمل کرنے کی آزادی دے رکھی تھی مگر بہت سارے غیر فطری اعمال پر روک لگا رکھی تھی ۔اس نے ہندؤوں اور مسلمانوں میں پائی جانے والی خرافات و بدعات اور غیر فطری اعمال پر قدغن لگایا ۔مثلاً ہندوؤں میں سماجی اصلاح اس طرح کی کہ اس وقت سلطانت خدا داد میں بعض ہندو عورتوں کے پاس بیک وقت چار چار شوہر ہوا کرتے تھے اور ان کے بچے ماں کی طرف منسوب ہوتے تھے۔اس پر پابندی لگا دی گئی۔مالا بار کی عورتیں سینہ کھلا رکھ کر بازاروں میں بلا تکلف آ تی جاتی تھیں اس کو بھی سختی سے منع کر دیا گیا ۔کچھ کالی مندروں میں دیوی کو خوش کرنے کے لئے بھینٹ چڑھائی جاتی تھی اس پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ ہندوؤں میں غلامی کا رواج تھا بڑے بڑے شہروں میں ہندو عورتوں کو فروخت کرنے کے لئے منڈیاں لگتی تھیں ،قحبہ گری کے لئے لونڈیوں کو گھروں میں رکھنے کا رواج تھا،ایک سرکاری فرمان جاری کرکے ان سب کا خاتمہ کر دیا ۔یہ سب سلطان نے اپنی رعایا کی خوشحالی کے لئے کیا، اسی لئے تو ہندو اور مسلمان دونوں اس سے حد درجہ عقیدت رکھتے تھے۔ ( یہ بھی پڑھیں ٹیپو سلطان کی مذہبی رواداری – ڈاکٹر محمد تحسین زماں)
مذکورہ بالا پہلوؤں کے علاوہ چند پہلو اور ایسے ہیںجو سلطان ٹیپو کی شخصیت میں مزید چارچاند لگاتے ہیں وہ ہے صنعت و حرفت اور زراعت وتجارت کا میدان۔اس میدان میں سلطان نے جو اصلاحات کی ہیں وہ آج بھی قابل توجہ ہیں ۔یہی وہ شعبے ہیں جو اس کے عہد حکومت میں اپنے عروج پر تھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ سلطان نے تجارت کے فروغ کے لئے بیرونی ممالک سے تعلقات اور رابطے کو استوار کر رکھا تھااس لئے صنعت وحرفت کی ترقی عہد ٹیپو میں اس کے پڑوسی ممالک سے کہیں زیادہ تھی ۔آخر میں اس بات کو دہراتا چلوں کہ سلطان واقعی اپنی دماغی قابلیت ،جدت طرازی،اور بلند حوصلگی میں اپنے تمام عم عصر بادشاہوں سے بلند اور آگے تھا ۔ اس میں سلطنت کے اندر اصلاحات کرنے کی اور اسے بلندیوں سے ہمکنار کرنے کی حقیقی تڑپ تھی۔چنانچہ جو اصلاحات اسنے جاری کی تھیں ملک میں واقعی ان کی اشد ضرورت تھی ،اگر ہمارے ملک کی ترقی کو بدیسی حکومت اپنے اغراض پورا کرنے کے لئے روک نہ دیتی اور ہمارے ملک کے بچوں کی ذہنی ترقی کو تباہ و برباد کر کے ان کو غلامی کے لئے تیار نہ کرتیں تو صحیح رہنمائی کے ساتھ سلطانی اصلاحات مملکت میسور سے نکل کر پورے ہندوستان میں پھیل جاتیں اور ہمارا ملک اب سے ایک صدی قبل ہی دنیا کے متمدن ،مہذب اور ترقی یافتہ ممالک کے دوش بدوش چلتا ہوا نظر آتا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] فکر و عمل […]