دنیا ترقی کی راہوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔ قوم تہذیب کی بلندیوں کے نزدیک پہنچ رہی ہے۔ سماج وسیع النظر ہو رہا ہے۔ لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو رہا ہے۔ معاشرہ ترقی یافتہ ہونے پر فخر محسوس کر رہا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ خواتین ہمیشہ اور ہر دور میں فعال رہی ہیں اور انہوں نے ہر میدان میں اپنی عظمت کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ خواتین نے اپنی فضیلت، حیثیت، صلاحیت کو ہمیشہ تسلیم کرایا ہے۔
اردو کی بقاء میں خواتین نے اہم ذمہ داری نباہی ہے۔ بچوں کی نشو و نما، انکی تربیت کے لئے سب سے پہلا مکتب ماں کی گود ہوتی ہے۔ ماں جس طرح بچے کی پرورش کرتی ہے، اس کا اثر زندگی بھر تک انسان پر رہتا ہے۔ اردو کی جتنی بھی شخصیات ہوئی ہیں ،ان کو بام و عروج پر پہنچانے میں خواتین کا نمایاں کردار رہا ہے۔
تاریخ ادب اردو کا جائزہ لیا جائے تو اردو ادب میں خواتین بڑی زمہ داری اٹھاتی نظر آتی ہیں۔ یہ بات دیگر ہے کہ بعض وجوہات کی بنا پر لا تعداد خواتین کے نام، ان کی کو ششیں، صلاحیتیں منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔ پروین شاکرؔ، عفت موہانیؔ، جیلانیؔ بانو، قرۃؔ العین حیدر، عطیہ پروین، ہاجرہ شکورؔ، بانو سرتاجؔ، عصمت ؔچغتائی، امر تاؔپریتم، مسرور جہاں، رفیعہ منظو ر الا مین، صغریٰ مہدی، امراؤ جان ادا، زہرہ نگار، ساجدہ زیدی، انجم رہبرؔ اور واجدہ تبسمؔ اردو ادب کے وہ نام ہیں جن پر اردو کو ناز ہے۔ ( یہ بھی دیکھیں تعلیمِ نسواں:تاریخ اور عصری تقاضے – ڈاکٹرعبدا لرزاق زیادی )
ہماری شاعری یعنی اردو شاعری ہو یا دنیا کی دوسری زبانوں کی شاعری، اس میں خواتین کا حصہ کم ہے، لیکن ہندوستان میں بالغ نظر شاعرات کا فقدان نہیں ہے۔ پروفیسر زاہدہ زیدی، پروفیسرساجدہ زیدی کی ادبی خدمات مردوں سے کم نہیں ہیں، ڈاکٹررفیعہ شیخ عابدی، پدم شری ممتاز مرزا، عزیز بانو داراب ؔو فا علم و ادب کا بڑا نام ہیں۔ مسعودہ حیات، جمیلہ بانو، نسیم مخموری، شہناز ہنی، نسرین نقاش، ملکہ نسیم، ڈاکٹر نسیم نکہتؔ، ریحانہ نواب ، ڈاکٹر ذکیہ انجم شاعرات اپنی ادبی شناخت رکھتی ہیں۔ مشاعروں کے حوالے سے ساحرہ قزلباشی، تسنیم صدیقی، ترنم کانپوری،ثریا رحمانی، انجم رہبرؔ، حنا تیموری، لتاحیاؔ، شانتی صباؔ،عارفہ شبنم، ریحانہ شاہینؔ، سنبل فیضانی، ایکتا شبنم نے اپنا مقام بنایا ہے۔ ان کے علاوہ نزہت پروین بھاگلپور، رباب جعفری بمبئی، سید ہ شان معراج شاہجہانپوری، بیگم ممتاز امید بھوپال،نصرت مہدی ،بشریٰ پروین علیگڑھ، ممتاز نازان (بمبئی)،علینہ عترت(نوئیڈا)،پروفیسر مہ جبیں سیتا مڑھی، فہمیدہ ناز مالیگاؤں، بیگم ممتاز بنگارپیٹ، نمّی رضا پورنیہ، سیدہ نسرین نقاش نوا کول سری نگر، حنا نیازی برنپور (مغربی بنگال)، تبسم پرویز سنبھل، شگفتہ طلعت، سیما کولکاتہ، فاطمہ تاج حیدر آباد، راشدہ رخسانہ کودگ(ایم پی)، ڈاکٹر شبانہ نذیر (نئی دہلی)، ڈاکٹر عفت زیدی ،سعدیہ انصاری(بمبئی)، سیدہ عنوان چشتی ، صبوحی پروین مونگیر، قریشہ بانو روحی ؔ (لکھنؤ)، صابرہ نکہت (لکھنؤ)،عظیمہ نشاط نگینوی(نگینہ)، غزالہ مسرور (چمپارن)، حناانجم(بلرام پور)، قمر قدیر ارم ،مینا نقوی(مرادآباد) وغیرہ خواتین اردو شاعری میں طبع آزمائی کر رہی ہیں۔
اردو شاعری میں اودھ کی شاعرات کا بڑا نام ہے۔ وقا ر فاطمہ اخترؔ جائسی، انیس بانو انیسؔ لکھنو یــ ،پار ساؔ لکھنوی، سیدہ خیر النساء بہترؔ ،معصومہؔ تسنیم ملیح آبادی۔ جانیؔ بیگم، جعفری لکھنوی، دلہن فیض آبادی ، خورشید لکھنوی، کنیز فاطمہ حیاؔ لکھنوی، حورؔ لکھنوی، حسرؔ ماں خیر آبادی، شیبہؔ لکھنوی، شیریں لکھنوی ، زینت زہرہؔ خیر آبادی، زیباؔ کاکوری، مہک ؔلکھنوی ،نازؔ سندیلوی، نیہا ؔ ردولوی، نازؔ لکھنوی وغیرہ کے نام اودھ کی شاعرات کی تاریخ میں بمع کلام ملتے ہیں۔اردو ادب کی ابتداء میں خواتین شاعری کا بڑا ذخیرہ ہے۔
افسانہ نگاری کی شروعات بیسوی صدی میں ہوئی۔ افسانہ نگار خواتین کو ہندوستان کے ادب کا منظر نامہ فراموش نہیں کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر رشید جہاں اردو کی پہلی خاتون افسانہ نگار سمجھی جاتی ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعہ کا نام ’’انگارے‘‘ ہے۔ ان کے بعد حجابؔ اسمٰعیل اور نذرؔ سجاد حیدر کے افسانے اردو میں نظر آئے۔ اردو افسانہ نگاری میں عصمت ؔچغتائی کا نام کئی دہائیوں تک پھیلا۔صدیقہؔ بیگم سیوہاروی نے بھی کئی اردو افسانے لکھے۔ شکیلہ اختر کے افسانوں کی کتاب ’’درپن‘‘ اردو افسانہ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ اردو کی منفرد افسانہ نگار قرۃ العین حیدر نے اردو ہی نہیں،ہندوستانی ادب کے فکشن میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے رضیہ سجاد ظہیر کے افسانے ترقی پسندانہ نظریات کے حامل ہیں۔ صالحہ ؔعابد حسین اردو کی مؤقر افسانہ نگار ہیں۔ سلمیٰؔ صدیقی نے متو سط طبقہ کی زندگی پر افسانے لکھے۔ ان کے علاوہ حیدر آبادکے فرخندہ باد کی جہاںؔ بانو نقوی، زینت ساجدہ، نجمہ نگہت کے نام سامنے آتے ہیں۔ جیلانیؔ بانو ترقی پسند تحریک کی پروردہ ہیں۔ حیدر آباد کی مشہور افسانہ نگار واجدہؔ تبسم کے افسانے موضوع سخن بنتے رہے۔ عفت موہانی، آمنہ ابو الحسن ، رفیعہ منطور الامین، الطاف ، کوثر جہاں، وسیم بانو قدوائی، فرحت جہاں، کشور جہاں، سعیدہ سلمیٰ ، ڈاکٹر شمیم نکہت، حمیرہ اقبال، حسن بانو، صائمہ ضنّور، مہناز وغیرہ کے نام نمایاں طور پر آتے ہیں۔
ناول ادب کی انتہائی اہم صنف ہے۔خاتون ناول نگاروں نے بیسوی صدی کے آغاز میں ناول کی تخلیق شروع کی۔ آج کئی خاتون ناول نگار بین الا قوامی شہرت کی مالک ہیں۔ ابتدائی خاتون ناول نگاروں نے اپنے ناولوں میں عورتوں کے بنیادی مسائل کو جگہ دی ہے۔ اس ضمن میں محمد بیگم کے ناول ’’آجکل‘‘،’’ سگھڑھ بیٹی ‘‘اور’’ شریف بیٹی‘‘ وطیبہ بیگم کا ناول ’’انوری بیگم ‘‘قابل ِذکرہیں۔ نذر سجاد کا ’’اختر النساء‘‘ میں عورتوں کی تعلیم و تربیت پر کافی زور دیا گیا ہے۔
عطیہ پروین اور بشریٰ رحمن اس دور کی مقبول ناول نگار ہیں۔ مسرور جہاں کا ناول اجالے، اچانک، عفت موہانیؔ کا ناول بھور، پھول، مینا ؔناز کا ناول ’’بدنام‘‘ دیباؔ خانم کا ناول’’ پتھر کے صنم ‘‘رضیہ ؔبٹ کا ’’روپ ‘‘ جمیلہ ؔہاشمی کا ناول’’ داغِ فراق‘‘ وغیرہ مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔
ان تمام تر حوالوں سے یہ ثابت ہے کہ اردو کی بقاء میں خواتین کا کردار بھی اہم رہا ہے۔ لیکن آج جس طرح سے کانوینٹ اور انگلش کلچر بڑھا ہے اور طالبات بھی انگریزی کو گلے لگا رہی ہیں اور اردو سے دور ہو رہی ہے۔ اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وقت رہتے اگر بیدار نہیں ہوئے تو مستقبل کی مائیں اپنے بچوں کو اردو نہیں پڑھا پائین گی ،کیونکہ مشرقی تہذیب میں خواتین ماضی میں گھر پر ہی تعلیم حاصل کر تی تھیں، وہ تعلیم لازمی طور پر اردو ہوتی تھی اور جب ان پر خاندان یا بچوں کی پرورش کی ذمہ داری آتی تھی تو وہ اردو کی تعلیم ضرور دیتی تھیں۔
کیونکہ پہلا مدرسہ ماں کی گود ہوتی ہے، اس لئے خواتین کو چاہیے کہ وہ تہذیب کی زبان، پرکشش اور شیریں زبان اردو کو ختم نہ ہونے دیں بلکہ خاص طور پر خود بھی اردو کی تعلیم حاصل کریں اور اپنے بچوں کو بھی اردو تعلیم سے آراستہ کریں۔ پر ائمری انگریزی اسکولوں میں استاد کی حیثیت سے خواتین کی تعداد زیادہ ہے، اس لئے اردو کی بقاء کے لئے خواتین کی ذمہ داریاں زیادہ ہو گئی ہیں کیونکہ اردو کی جانب بچوں کو رغبت دلانے کے لئے ٹیچر س اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اردو کا شاندار ماضی ہے۔ روشن اور تابناک مستقبل۔ اس لئے اردو کی بقاء کے لئے بلا تفریق مذہب و ملت اور صوبائی تفرقے میں پڑے بغیر اچھی تہذیب ، شیر یں گفتگو اور پرُ اثر پیش کش کے لئے اردو کو عام کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے خواتین کو آگے آنا ہوگا۔
)فیضان راقم ۔ شیخ نگینوی)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

