سونالی بہار کے مظفرپورضلع سے تعلیم حا صل کرنے دلی آ ئی تھی اوراس نے انسٹیٹیوٹ آف ہیومن بیہیویر اینڈ الائیڈ سائنسس میں داخلہ لیاتھا۔یہ ادارہ اپنے طلبہ و طالبات کو ذہنی طور پر کمزور بچوں اور بچیوں کی تعلیم کے لئے تیار کرتا تھا۔
دوسرے تعلیمی سال میں ہر شخص کے ذمے فیلڈ ورک بھی تھا۔ چونکہ سونالی نوئیڈا سیکٹر چونتیس میں قیام پذیر تھی، اسی لئے اس نے فیلڈ ورک کے لئے اسی سیکٹر میں واقع این ٹی پی سی (NTPC) کا انتخاب کیا۔
وہاں اس کی رسائی این ٹی پی سی میں کلرک کی حیثیت سے کام کرنے والے چیتن گپتا کے گھر میں ہوئی۔ وہاں، گپتا جی اور ان کی بیوی مدھو لیکا کے علاوہ دو بیٹیاں منجو(چودہ سال) اور ممتا (بارہ سال)، اور ایک بیٹا ابھیشیک (اٹھارہ سال) تھا۔ ( یہ بھی پڑھیں میرا کمرہ – ڈاکٹر ذاکرفیضی)
غربت کے علاوہ اس خاندان کا بڑا مسئلہ ابھیشیک تھا۔ اگرچہ ابھیشیک کشیدہ قامت، مضبوط جسم، اور اچھی شکل و صورت والا نوجوان تھا، مگر ذہنی طور پر کمزور تھا۔
وسائل اور معلومات کی کمی کے باعث والدین ابھیشیک کو کسی ایسے ادارے یا اسکول میں نہیں بھیج پائے تھے جہاں اس کی طرح کے بچوں کو کارآمد اور خود کفیل بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
دورانِ گفتگو گپتاجی نے سونالی سے بتایاکہ ”ابھیشیک کے اندر گذشتہ پانچ مہینوں سے ایک عجیب و غریب قسم کی تبدیلی پیدا ہوگئی ہے۔ وہ جمعہ کے روز دو پہرمیں گھرسے باہر چلا جاتا ہے۔ پتہ نہیں کہاں جاتا ہے اور کیا کرتا ہے۔وہ رات میں گھر لوٹتا ہے۔ ہفتہ کے باقی دن وہ گھر پہ ہی رہتا ہے مگر…“
جب خموشی نے طول کھینچا، تو سونالی نے عرض کیا: ”مگر کیا،انکل؟“
گومگو میں پھنسے گپتاجی سوچ رہے تھے: ”آخر اس لڑکی کو کیا بتاؤں اور کیسے بتاؤں؟“
”گپتا انکل، آپ کچھ بتارہے تھے۔“
سونالی کی آواز نے گپتا جی کے خیالات کی لہروں کو لگام دیا۔
”دراصل وہ گھر میں ہست میتھون کرتا ہے۔سب کے سامنے۔ میرے سامنے۔ اپنی ماں کے سامنے۔ اپنی بہنوں کے سامنے۔“
یہ سن کر سونالی ہکا بکا رہ گئی۔
”ہم لوگوں کی تو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیسے اس سمسیا کو حل کریں۔ ماں باپ تو چلو بچوں کو ہر حال میں دیکھتے ہیں۔ مگر بہنیں۔ ہے بھگوان!“ شرمندگی سے گپتا جی کا سر جھک گیا۔
سونالی کے منہ سے چون و چرابھی نہیں نکلا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھاکہ اسے کبھی اس مسئلہ کے بارے میں کسی سے گفتگو کرنی پڑے گی چہ جائیکہ کسی مرد سے۔ اور وہ بھی اس کے باپ کی عمر کا۔
کچھ دیر تک کمرے میں خاموشی طاری رہی۔ پھر سونالی بولی: ”انکل، آپ پریشان نہ ہوں۔ ہر سمسیا کا سمادھان ہے۔“
سونالی گپتا جی کے گھر میں تواتر کے ساتھ آنے لگی تھی اور ابھیشیک کے علاوہ باقی لوگوں سے ہل مل گئی تھی۔ ایک دن وہ منجو اور ممتا سے بات چیت میں محو تھی کہ اچانک سے کمرے میں ابھیشیک وارد ہوا اور وہ عمل دہرانے لگا جس کی وجہ سے گپتاجی پریشان تھے۔ تینوں لڑکیوں نے اپنی اپنی نظریں اپنی اپنی گود میں گاڑ لیں۔ دونوں بہنوں نے تو اپنی اپنی انگلیاں بھی اپنے اپنے کانوں میں ٹھونس لیں۔ لیکن سونالی نے ایسا نہیں کیا۔ چند ثانئے کے بعد آہ۔آہ۔آہ کرتے ہوئے کراہنے کی آواز سونالی کے کانوں سے ٹکرائی۔
یہ بات سونالی کے لئے حیران کن تھی کہ اس نے اپنے اندر تکدّر یا انقباض کیوں محسوس نہیں کیا۔ دراصل اس کے دل میں ابھیشیک کے لئے یک گونہ ہمدردی پیدا ہوگئی تھی جو شاید اس تعلیم کا نتیجہ تھی جو وہ حاصل کر رہی تھی۔ اب اس نے گپتاجی اور ان کے گھر والوں سے محض رسمی گفتگو کرنے اور سروے کے فارم بھرنے کے، ابھیشیک کو سمجھنا شروع کیا۔
اگلے جمعہ کو ابھیشیک جب حسب معمول دوپہر کے وقت گھر سے باہرنکلا، تو سونالی اس کے تعاقب میں پیھے پیھے چلنے لگی۔ سونالی کو پتہ کرنا تھا کہ وہ کہاں جاتا ہے اور کیا کرتا ہے۔
تقریباً پندرہ منٹ کی پیدل مسافت کے بعد سونالی نے دیکھا کہ ابھیشیک سیکٹر باون کی ایک بڑی سی سبزی منڈی میں داخل ہوا۔ اس نے جیب سے کچھ روپئے نکالے اور ادھیڑ عمر کے ایک پھل فروش کودئے جو اپنی نشست پر بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ دکاندار نے ابھیشیک کو ایک ایک کیلو سیب کی دو تھیلیاں تھما دیں۔
جب ابھیشیک وہاں پر سے جا چکا تو سونالی اس پھل فروش کے قریب گئی اورابھیشیک کے بارے میں سوال کیا۔ پھل فروش بولا: ”یہ نوجوان پچھلے پانچ مہینوں سے ہر جمعہ کو دوپہر کے وقت یہاں آتا ہے۔ اس کے پاس پچیس پچاس روپئے ہوتے ہیں جو یہ مجھے دیتا ہے اور میں اسے تھوڑا پھل دے دیتا ہوں۔ اس نوجوان کو دیکھتے ہی مجھے بڑا اچھا محسوس ہوتا ہے۔ دراصل اس کی شکل میرے بڑے بیٹے سے بڑی حد تک مشابہ ہے جو دو سال پہلے ڈینگی کی چپیٹ میں آکر اس دنیا سے رخصت ہو گیاتھا۔“
”آئی ایم سوری۔ آپ کے بیٹے کے بارے سن کر بیحد افسوس ہوا۔“ سونالی نے اظہار تعزیت کیا۔
پھر وہ ذرا آگے بڑھی اور سوچنے لگی کہ گپتا جی یا ان کی بیوی نے تو کبھی نہیں بتایا کہ ابھیشیک پھل لیکر گھر آتا ہے۔ تو آخر وہ اس پھل کا کرتا کیا ہے؟
تجسس نے سونالی کو اُدھر کا رخ کرنے پر مجبور کیا جدھر ابھیشیک گیا تھا۔ تھوڑی دیر چلنے کے بعد اس کی نظر ابھیشیک پر پڑی جو شاہراہ کے کنارے کھڑا تھا۔
سونالی نے دھوپ سے بچنے کے لیے ایک دیوار کی آڑ میں پناہ لی اور اپنے بیگ سے چپس کا پیکٹ نکال کر آلو کے قتلے کھانے لگی۔ اس کی نظرابھیشیک پر ٹکی ہوئی تھی۔ آدھے پونے گھنٹے بعد ابھیشیک کے قریب لال رنگ کی ایک سوئفٹ ڈیزائر رکی۔ کار میں بیٹھی لڑکی نے شیشہ اتار کر ابھیشیک کے ہاتھوں سے یکے بعد دیگرے دونوں تھیلے لئے، چند کرنسی نوٹس دیئے اوراپنی کار کو رواں دواں کردیا۔
سونالی نے دیکھا کہ روپئے وصول کرنے کے بعد ابھیشیک بجائے گھر کا رخ کرنے کے ایک دوسرے راستے پر گامزن تھا۔
”اب یہ کہاں جارہا ہے؟“ سونالی نے دل ہی دل میں کہا۔
تقریباً دس منٹ کی مسافت کے بعد ایک معمولی قسم کا سنیما دکھا جہاں چھ بجے شام میں ’بلیولیگون‘ نام کی ایک انگریزی فلم دکھائی جانی تھی۔
سونالی کو قصہ سمجھ میں آگیا۔ وہ لوٹ کر گپتا جی کے گھر آگئی اور ان کو چشم دید احوال سنائے۔ اور پھر ایک ہمدردانہ لہجے میں کہا: ”آپ لوگ گھبرائیں نہیں۔ ابھیشیک کسی غلط راستے پر نہیں ہے۔ دراصل وہ اپنے اندر بلوغت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے تغیرات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ہم سب کی زندگی کا ایک اہم موڑ ہوتا ہے جو ہماری جذباتی دنیا میں ایک ہلچل برپا کر دیتا ہے۔“
مسئلہ کی تفہیم پر گپتاجی او ران کی بیوی اثبات میں اپنے اپنے سر ہلاتے رہے۔
سونالی نے مزید کہا: ”دیکھئے، یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ابھیشیک اپنے ارادے کا کتنا پکا ہے کہ اس نے سنیما دریافت کیا اور وہاں تک رسائی کے لئے ایک طرح کا کاروبار بھی شروع کر دیا۔ در حقیقت، ابھیشیک کے جیسے نوجوانوں کو تربیت دے کر سماج کا ایک مفید اور کار آمد حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہم اس قسم کے بچوں کو اپنے کسی گناہ کی سزا سمجھتے ہیں اوریوں اپنے آپ کو سزا میں مبتلا کر لیتے ہیں۔ اکثر لوگ ایسے بچوں کو ایک بوجھ تصور کرتے ہیں اور خود احساس کمتری اور ندامت کا شکارہو جاتے ہیں۔“
اس کے بعد سونالی نے ابھیشیک کے ساتھ گھلنا ملنا شروع کردیا۔ وہ اس سے باتیں کرتی اوراسے اپنے مو بائل فون پر فلمیں یا ویڈیوز دکھایا کرتی تھی۔ اس نے ابھیشیک کو پینٹنگ بنانے کی تر غیب دلائی۔ ایک دن ابھیشیک خوشی سے اچھل پڑا جب سونالی نے اسے رنگ بھرنے والے ڈھیر سارے قلم،کاپیاں، اورتصاویر والی چند کتا بیں لاکر دیں۔
اس دوران گپتا جی اور ان کی بیوی نے غور کیاکہ ابھیشیک کی جھلاہٹ اورچڑچڑاپن میں خاصی کمی پیدا ہو گئی تھی۔
ابھیشیک جب سونالی سے مانوس ہوگیا تو ایک دن ہمت جٹا کر سونالی نے اسے سمجھایا کہ”اس کا وہ عمل خاص جنسی ہیجان کو دور کر نے کا ایک موثر، محفوظ اور صحت مند ذریعہ ہے۔ یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے۔جدید طبی معلومات کے مطابق اس کا کوئی بھی منفی اثر نہیں ہوتا ہے۔ نہ جسم پراور نہ دماغ پر۔“
اور پھر ذرا سی توقف کے بعد سونالی نے تاکید اً کہا: ”لیکن، ابھیشیک، یہ کام خلوت میں کرنے کا ہے۔ سب کے سامنے نہیں۔“
اسی اثنا میں سونالی کو یاد آیا کہ چند سال قبل اس نے فیلیپ روتھ کا انٹریو پڑھا تھا جس میں اس سے پوچھا گیا کہ اس نے اپنے ناول ’پور ٹنوائز کمپلینٹ‘ میں استمنابالید اور ذکر کی خیزش کا بیان کیوں کیا ہے۔ فیلیپ روتھ زہر خند کے لہجے میں ہنسا اور استفسارِ تفہیمی کو بروئے کار لاتے ہوئے بولا: ”کیا ان چیزوں کے بغیر نسلِ انسانی اور تہذیب انسانی کا تصور ممکن ہے؟“
خیر، دو دنوں کے بعد سونالی کو پتہ چلا کہ اس کی فہمائش بے سود ثابت ہوئی۔ ابھیشیک نے گھر والوں کے سامنے وہ عمل دہرا دیا تھا۔
اس دن سونالی ابھیشیک کے ساتھ بیٹھی اور اسے مصوری کی ٹریننگ دینے والے ایک دو ویڈیوز دکھائے، ”مسٹر بین“ کی ایک دو قسطیں دکھائیں اور پھر اس کو نام سے مخاطب کرتے ہوئے بولی: ”میرے پاس تمہارے لئے ایک تجویز ہے۔ میرے کالج میں نوجوانوں کی بنائی ہوئی تصویریں خریدی جا رہی ہیں۔ بعد میں ان تصویروں کی نمائش لگے گی۔ اگر تم ایک ہفتے میں پانچ عدد تصویریں بناتے ہوتو ایک مہینے میں چار ہزار روپئے کی کمائی کرسکتے ہو۔ ویسے بھی تم مصوری اچھی کرنے لگے ہو۔ راضی ہو توبتاؤ؟“
ابھیشیک نے اثبات میں سر ہلا کر رضامندی کا اظہار کیا۔
”لیکن ایک شرط ہے۔“ سونالی نے قدرے تیز لہجے میں کہا۔
ابھیشیک حیرانی کے ساتھ سونالی کا چہرہ دیکھنے لگا۔
سونالی نے تحکمانہ لہجے میں کہا: ”آئندہ سب کے سامنے تم وہ کام نہیں کروگے۔“
یہ سنتے ہی پہلے ابھیشیک کی پلکیں جھکیں اور پھر اس کی گردن۔
سونالی نے بھانپ لیاکہ وہ بات کا مفہوم سمجھ گیا ہے اورشاید اپنی کرنی پر نادم بھی ہے۔
پیر سے جمعہ تک ہر روز سونالی گپتاجی کے گھر جاتی، ابھیشیک سے ایک پینٹنگ وصول کرتی اور اسے دوسو روپئے عنایت کرتی۔
اس دوران گپتاجی نے ایک موبائل فون خرید کر ابھیشیک کو دے دیاتھا۔ ابھیشیک اب یا تو موبائل سے شغل کرتا یا پینٹنگ بناتا رہتا۔ وہ اب خوش رہنے لگا تھا۔
اگلے ہفتہ پیر کے روز جب سونالی گپتاجی کے گھر پہنچی تو گپتاجی اور ان کی بیوی بڑے ہشاش بشاش دکھائی دئیے۔ انہوں نے سونالی کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے ابھیشیک نے سر عام وہ کام نہیں کیا۔
اسی اثنا میں غسل خانے سے آہ۔آہ۔آہ۔۔۔ کرتے ہوئے کراہنے کی ہلکی ہلکی آواز سونالی کی سماعت سے ٹکرائی۔اور اُس کا سر فخر سے اونچا ہوگیا اور لبوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ کھیل گئی۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

