دنیا کی تمام زبانیں اپنا تہذیبی سیاق بھی رکھتی ہیں۔ انگریزی اپنا تہذیبی پس منظر رکھتی ہے اور فرنچ اپنا۔ اسی طرح عربی زبان اپنے تہذیبی نشانات سے پہچانی جاتی ہیں اور سنسکرت اپنے تہذیبی مزاج سے۔ اسی طرح اردو بھی اپنا خاص تہذیبی مزاج رکھتی ہے۔ گفتگو اور نشست و برخاست کے آداب بھی ادب میں کہیں واضح طور پر تو کہیں قدرے مخفی انداز میں دیکھے اور محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
فن ترجمہ نگاری میں ادبی ترجمہ نگاری ذرا مشکل کام ہے۔ اس میں بھی شاعری کا ترجمہ تو مزید مشکل ہے۔ اور ذرا آگے بڑھ کے جب ہم اردو غزل کی بات کرتے ہیں اور پھر اس کے انگریزی ترجمے پر غور کرتے ہیں تو پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔ لیکن پسینہ چھوٹنے کے اس عمل کے پیچھے ایک پُرخلوص جذبہ کار فرما ہوتا ہے اور وہ ہے تہذیبی، ثقافتی اور علمی و ادبی لین دین کا جذبہ۔
اردو غزل میں میر کے بعد مرزا غالب کی غزل نے اپنے ہم عصروں اور بعد کی نسلوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ طرزِ ادا، مضمون عالی اور ندرت خیال کے سبب غالب کو اب اردو سے دوسری زبانوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔ مرزا کو انگریزی میں منتقل کرنے کا کام بہت ہوا اور اب بھی ہورہا ہے۔ کسی نے چند اشعار کے تراجم کیے تو کسی نے چند منتخب غزلوں پر ترجمے کی مشق کی۔ ان تراجم میں جو تضادات لفظی ومعنوی ملتے ہیں وہ غالب کے مختلف طرزِ اظہار کو بھی ظاہر کرتے ہیں اور بالواسطہ متن کے مشکل ہونے کو بھی۔ اردو غزل کو انگریزی میں پوری طرح ڈھالنا ایک مشکل امر ہے۔ کیوں کہ اس میں موتف یا مرکزی خیال پوشیدہ ہوتا ہے۔
سردار جعفری اور قرۃ العین حیدر نے ۹۲ صفحات پر مشتمل ایک کتاب Ghalib and his Poetry لکھی تھی جس کا پیش لفظ رفیق زکریا نے تحریر کیا تھا۔ اس میں زیادہ کام عینی آپا نے کیا تھا۔ منتخب اردو خطوط، منتخب فارسی اور اردو شاعری کے تراجم بھی عینی آپا نے کیے تھے۔ سردار جعفری لکھتے ہیں:
"It is difficult to propound the real meaning of a Ghazal because the motif is usually hidden behind an intricately wrought facade of stereo-typed imagery.”
(Ghalib & his Poetry : 1970, p-12)
دراصل غزل کے رمز و کنایہ کو انگریزی میں ٹھوس معنی عطا کرنا مشکل تو ہے ہی، غیرضروری بھی ہے۔ کبھی کبھی تو ٹھوس معنی کی تلاش کارعبث معلوم ہوتا ہے۔ غالب کا یہ شعر سنیے اور انگریزی ترجمے کی رنگارنگی ملاحظہ کیجیے:
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
میرے خیال سے بڑے سے بڑا ترجمہ نگار بھی اس کے Unsaid meaning اور ماورائے شعر کو پیش کرنے میں ناکام رہے گا۔ یوسف حسین نے اس کا ترجمہ یوں پیش کیا ہے:
O simple heart, what has befallen thee?
What remedy can there be for thy pain?
(Urdu Ghazals of Ghalib 1977, p-214)
دل ناداں کہنے میں جو بات ہے وہ Simple heart میں نہیں ہے۔ پھر یہ کہ شاعر نے ’آخر اس درد کی دوا کیا ہے، میں جو بیزاری اور اکتاہٹ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے وہ ترجمے میں موجود نہیں۔ شاعر نے تیرے درد کی بات نہیں کی ہے بلکہ ’آخر اس درد‘ کہا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں شمس الرحمن فاروقی کا مضمون ’کیا نظریاتی تنقیدممکن ہے؟‘- پروفیسر کوثر مظہری)
یوسف حسین صاحب کو یہ احساس تھا کہ غزلیہ شاعری میں پیش کیے جانے والے Pathos اور شدت جذبات کو دوسری زبان میں منتقل کرنا مشکل ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ دعوا بھی کیا ہے کہ غالب کے الفاظ کو پوری طرح Accuracy کے ساتھ بنا کچھ گھٹائے بڑھائے، انھوں نے انگریزی میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
"I have tried to maintain a faithful accuracy to the actual words used by Ghablib, neither leaving anything out, nor adding anything extra, except when for the sake of intelligibility it was imperative.” (Urdu Ghazals of Ghalib, p-xiv)
یوسف حسین صاحب نے دعوا بھی کیا ہے لیکن پھر بھی ایک راہ آزادی کی یہ کہہ کر نکال ہی لی ہے کہ جہاں بھی ناگزیر محسوس ہوا ہے ترجمے میں Intelligibility برقرار رکھنے کے لیے لفظوں کو گھٹایا بڑھایا گیا ہے۔ ایک ترجمہ ڈاکٹر سرفراز نیازی نے بھی بڑی محنت سے کیا ہے۔ ترجمے کے ساتھ ساتھ چند جملوں میں تشریح بھی پیش کی ہے۔ یہ کتاب ۱۰۱۹ صفحات پر مشتمل ہے۔ شاید یہ پورے دیوان غالب کا پہلا باضابطہ ترجمہ اور اس کی تشریح (انگریزی میں) اردو متن کے ساتھ ہے۔ اس کتاب میں اردو متن کے ساتھ ساتھ Transliterationکا بھی اہتمام ملتا ہے۔ آخر میں Glossary اور Lexicon دینے سے اس کی معنویت اور بڑھ گئی ہے۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے اس کا تعارف لکھا ہے۔ اس کتاب میں مذکورہ بالا شعر کا ترجمہ اس طرح ہے:
What is ailing thee, my simpleton heart?
What is the remedy for your pain, eventually?
یہاں ترجمہ نگار نے ’آخر‘ کے لیے Eventually لکھ کر تقریباً ’آخر‘ میں چھپی ہوئی بیزاری کو کسی قدر منتقل کردیا ہے۔ لیکن یہاں بھی اس درد کے لیے Your Pain لکھا گیا ہے، جو غلط ہے۔ ایک ترجمہ David Mathews کا ہے۔ جس میں ’اس درد‘ کے لیے This Pain لکھا ہے جب کہ مذکورہ بالا ترجمہ نگاروں نے ’اس درد‘ کے لیے Your Pain لکھا ہے جو غلط صیغہ ہے۔ میتھیوز کو سنیے:
My foolish heart! What has become of you?
No cure for this pain? What can I do?
(Urdu verse in English: 1995, p-45)
یہاں بیزاری اور اکتاہٹ کو What can I do جیسے عام بول چال کے فقرے سے پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ پھر یہ کہ ’دل ناداں‘ کے لیے Simple heart کے بجائے Foolish heart زیادہ موزوں اور برمحل معلوم ہوتا ہے۔ بلکہ اس سے بھی موزوں Silly heart ہے جس کا استعمال O.P.Kejriwal نے کیا ہے۔ ملاحظہ لیجیے:
What ails you
You silly heart?
What could ease
This disease?
And oh! this pain
What could be its medicine?
(Ghalib in Translation: O.P.Kejriwal, p-159)
اس ترجمے میں اوپر کی صرف چار لائنیں کام کی ہیں۔ بقیہ دو لائنیں بھرتی کی اور زبردستی کی ہیں یعنی ایجاز کے بجائے طوالت سے کام لیا گیا ہے۔ صرف خیال اور مفہوم کو منتقل کرنا ہی اہم نہیں ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ شعر کے ترجمے میں نثریت پیدا نہ ہو، نیز یہ کہ موزوں ترین الفاظ اور تراکیب کا انتخاب کیا جائے۔ ظ۔انصاری نے خیال و مفہوم کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کے لیے تین شرطیں بیان کی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ:
’’جس زبان سے ترجمہ کیا جارہا ہے اس زبان کی لغت، اصطلاحات اور محاوروں سے اور کسی قدر ادبیات سے تھوڑی بہت واقفیت شرط اول ہے۔‘‘
(ترجمہ: روایت اور فن، مرتبہ: نثاراحمد قریشی، ص: ۱۱۴، ۱۹۸۵ء، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد)
غالب کی مشہور غزل کا مطلع ہے:
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں
پروفیسر نورالحسن نقوی نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے:
Not all the forms of beauty
in the lovely flowers appear
O, hidden in the dust what a number
of beauteous forms may be there
(Ghalib Reveals himself: 1970, p-67)
یہاں ’خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں‘ کے لیے کہا گیا ہے:
What a number of beauteous forms may be there.
یہاں ’کیا صورتیں ہوں گی‘ سے مراد ہے کیسے کیسے اچھے اور خوبصورت چہرے جب کہ یہاں ترجمے میں حسن کی رفعت کے بجائے اُسےCountable noun بناکر پیش کیا گیا ہے۔ دراصل پہلے مصرعے میں Not all the forms of beauty کہہ کر ترجمے کی ٹیڑھی اینٹ رکھ دی گئی ہے جس کے سبب حسن بھی Countableہوگیا ہے۔ اسی شعر کا ترجمہ عبداللہ انوار بیگ نے قدرے کامیابی کے ساتھ سبک انداز میں کرنے کی کوشش کی ہے:
Not all, but some have appeared as tulips and roses,
Much beauty must there be concealed in the earth!
خدا کا شکر ہے کہ یہاں حسن کو Numericals میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی لالہ و گل کے لیے نقوی صاحب کے Lovely flowers کے بجائے یہاں Tulips & roses آئے ہیں جو چہروں اور صورتوں کے لحاظ سے زیادہ مناسب ہیں۔ صرف Lovely flowers سے صورتوں کو تشبیہ نہیں دی جاسکتی۔ ایک اور ترجمہ اسی شعر کا ملاحظہ کیجیے جو ایک مشہور مستشرق ڈیوڈ میتھیوز نے کیا ہے:
The tulip and the rose reveal the faces of a few;
How many lie beneath the dust-those beauties that I knew?
یہاں بھی دوسری لائن میں How many کہہ کر حسن کو Count کرنے کی کوشش کی گئی۔ دوسری خرابی یہ پیدا ہوئی ہے کہ Those beauties that I knew یعنی وہ حسن یا صورتیں جنھیں میں جانتا تھا، کہا گیا ہے، جب کہ غالب نے زیرزمیں پنہاں ہونے والی صورتوں سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور اسی لاعلمی اور تجاہل میں شعری حسن ہے:
’خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں‘
دراصل میتھیوز نے مقفیٰ ترجمہ کرنے کی دُھن میں Few کا قافیہ (Rhyme) Knew رکھا ہے، اسی سے خرابی پیدا ہوئی ہے۔ اسی تجاہل کو اپنے ترجمے میں اندرجیت لال نے اس طرح پیش کیا ہے جس میں استفہام کا رنگ پیدا ہوگیا ہے:
Of the multitude sliding into the dust below
Only a few could sprout as poppy and rose;
But the loveliness of those faces
That were laid in eternal rest, who knows!
(Candles Smoke: Inderjit Lal. 1970, p-46)
یہاں سب ٹھیک ہے لیکن لالہ و گل کے لیے Poppy & Rose لکھا گیا ہے جب کہ Tulip & Rose زیادہ مناسب ہے اور بیشتر نے اسی کو موزوں سمجھا بھی ہے۔ Poppy تو افیون کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ساتھ ہی آخری لائن کے Who Knows والے فقرے سے ایک طرح کا غالب والا تجاہل عارفانہ ظاہر ہوگیا ہے، البتہ ترجمہ مزید ایجاز کا متقاضی تھا۔ پروفیسر محمد ذاکر نے بھی اس شعر کا ترجمہ کیا ہے اور لالہ و گل کے لیے بجاطور پر Tulip & Rose ہی لکھا ہے:
What novel graces and beauties strange
lie mouldering in the dust, who knows?
In roses and in tulips, not all,
but only a few of them, it shows!
(Distracting words, p-33)
اس ترجمے میں پہلی لائن میں لفظ Strange نے غالب کے پہلے مصرعے کی حیرت ناکی اور رفعت حسن کو سمیٹ لیا ہے یعنی :
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی……
اس فقرے ’کیا صورتیں ہوں گی‘ کے لیے طرح طرح کے طریقے اپنائے گئے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس ترجمے میں اصل متن کا عکس اتر آیا ہے۔
غالب کا ایک شعر ہے:
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہوجانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہوجانا
پون کمار ورما نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے:
Glory it is for the drop
To merge with the ocean;
Pain ceases to be
Once beyond redemption
(Ghalib : the man the times, 1989, p-123)
پون کمار کا ترجمہ رواں اور دل چسپ ہے۔ درد کے حد سے گزرنے کے لیے ‘Beyond redemption’ لکھا گیا ہے اور دوا ہوجانے کا مفہوم یہ پیش کیا گیا ہے کہ درد ختم ہوجاتا ہے جس کے لیے انگریزی میں Pain Ceases to be استعمال ہوا ہے۔ یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ فنا ہوجانے کے لیے صرف Merge لفظ کافی نہیں۔ یہ عشق کے اس تصور کو پیش کرنے سے قاصر ہے جس کی طرف غالب نے اشارہ کیا ہے، یعنی ’فنا فی اللہ‘ ہونے کا تصور۔ ( یہ بھی پڑھیں اردو لسانیاتی مطالعات کی تاریخ -ڈاکٹر رئیس احمد مغل )
اعجاز احمد والی کتاب میں Thomas Fitzsimmons نے دس اشعار والی اس غزل کے پانچ شعروں کے ترجمے پیش کیے ہیں۔ مذکورہ بالا شعر کا ترجمہ دیکھیے:
Waterbead ecstasy : dying in a stream;
Too strong a pain brings its own balm
(Ghazals of Ghalib, Ed. by Aijaz Ali. Oxford University,
Press, 1994, p-25)
مجھے یہاں لفظ Balm کھٹک گیا تھا لیکن مترجم نے منظوم ترجمہ سے پہلے Literal Translation کیا ہے جس میں Medicine لکھا ہے جو لفظ دوا کا لغوی ترجمہ ہے۔ یہاں لفظ Remedy بھی آسکتا تھا۔ اسی لغوی ترجمے میں قطرہ کے لیے Drop لکھا ہے جب کہ منظوم ترجمے میں اسی لفظ کے لیے Waterbead استعمال کیا گیا ہے۔ دونوں اپنی جگہ درست ہیں۔ البتہ Waterbead میں ایک طرح کی ندرت پائی جاتی ہے۔ اس ترجمے میں یہ بات کھٹکتی ہے کہ دریا کے لیے Stream لفظ استعمال ہوا ہے۔ دریا کے لیے بیشتر ترجمہ نگاروں نے Ocean یا Sea یا River استعمال کیا ہے، جو زیادہ مناسب ہے۔ Stream تو جھرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے یا دریا سے بھی چھوٹا نہر جیسا پانی کا ذخیرہ Longman Dictionary of Contemporary English نے لفظ Stream کے ذیل میں یہ معنی درج کیے ہیں:
A natural flow of water, usu. smaller than a river.
ڈاکٹر سرفراز نیازی نے بھی اپنے ترجمے میں دریا کے لیے Ocean استعمال کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
The ecstasy of a drop is to annihilate itself into ocean
The pain going beyond bounds turns into its own panacea.
ترجمہ ٹھیک تو ہے لیکن Panacea تو اس کو کہتے ہیں جس سے ساری بیماریوں کا علاج ممکن ہو۔ جب کہ غالب کا مقصود خاص قسم کا درد ہے۔ یوسف حسین نے بھی فنا ہوجانے کے لیے Annihilation کا استعمال کیا ہے۔ لیکن دوا کے لیے Remedy لفظ استعمال کیا ہے:
To be annihilated in the sea
is the delight of every drop
When pain exceeds the limit
It becomes its own remedy
(Urdu Ghazals of Ghalib; p-58)
پروفیسر محمد ذاکر نے اس شعر کا ترجمہ کرتے ہوئے اس کے تخلیقی نکات کو مدنظر رکھا ہے:
Blessed in the drop
that loseth itself in the sea;
Pain untold
doth prove its own remedy
(Distracting words, 1974, p-10)
سب نے Balm، Panacea، Remedy اور Medicine کی بات تو کی لیکن اس میں تصوف کے اس نکتے کی طرف غور نہیں کیا جس سے واصل باللہ ہونے کا سراغ ملتا ہے۔ مرزا غالب کے پہلے مستند اور بالغ نظر مفسر و معبّر الطاف حسین حالی اس شعر کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’جب درد حد سے گزرجائے گا تو مرجائیں گے یعنی فنا ہوجائیں گے (یعنی واصل باللہ ہوجائیں گے) گویا قطرہ دریا میں کھپ جائے گا اور یہی اس کا مقصود ہے۔ پس درد کا حد سے گزر جانا، یہی اس کا دوا ہوجانا ہے۔‘‘ (یادگار غالب: حالیؔ)
بیشتر ترجمہ نگاروں نے حالی کے بیان کردہ اس مفہوم سے ایک طرح کا فاصلہ قائم رکھا ہے۔ دونوں مصرعوں میں جو منطقی جواز ہے اس تک رسائی حاصل کرنے میں یہ ترجمہ کرنے والے ناکام رہے ہیں۔ دراصل ترجمہ نگار کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ بین السطور تک رسائی حاصل کرے کہ صرف زبان سے واقف ہونا کافی نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ جس زبان کی شاعری ہے اس کے تہذیبی سیاق اور اس کے nuances کو بغور سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
اردو شاعری کے انگریزی ترجمے میں اور بالخصوص غزل کے ترجمے میں بہت سے اشارے کنائے منتقل ہونے سے رہ جاتے ہیں۔ اس کا اعتراف یوسف حسین نے بھی کیا ہے اور سردار جعفری اور شمس الرحمن فاروقی نے بھی۔ فاروقی لکھتے ہیں:
Ghazal poetry is not epigrammatic or aphoristic. It is just that a good practitioner can incorporate much in the two-line world of the She’r without seeming to strain himself, or the structure of the poem. Much of the polyvalence and symbolism is lost in translations.
(The Flower-lit Road, 2005, p-120)
فاروقی صاحب نے غزل کے فورم اس کی نزاکتوں اور اس میں پیش ہونے والی علامتوں اور Polyvalence کے حوالے سے بہت صحیح فرمایا ہے کہ ترجمے میں اس کے بہت کم حصے منتقل ہوپاتے ہیں۔ پھر یہ کہ غالب نے تو زندگی کے نشاطیہ اور المیہ دونوں لمحوں کو استعاروں، علامتوں اور تلمیحوں یا پھر خاص تہذیبی سیاق میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے غالب کو ترجمہ کرتے ہوئے مزید دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پروفیسر محمد ذاکر نے اپنی کتاب Distracting words کے تعارف میں لکھا ہے:
He (Ghalib) uses a metaphorical language even for telling of his joys and sorrows, hopes and fears, belief and disbelieving.
(Distracting words 1974, p-vii)
ترجمہ نگاری میں تصرف جائز ہے کہ اس کی مدد سے تخلیقیت پیدا ہوجاتی ہے۔ خود مرزا غالب نے، درد نے، سودا نے، میرتقی میر نے فارسی شاعری کے بہت سے اشعار کو اردو میں منتقل کیا لیکن ان شعروں میں ایسی تخلیقی شان پیدا ہوگئی کہ اگر بتایا نہ جائے تو ترجمہ اور تصرف کا گمان تک نہیں گزرتا۔ سودا کا مشہور زمانہ شعر ہے:
کیفیتِ چشم اس کی مجھے یاد ہے سودا
ساغر کو مرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں
یہ نظیری نیشاپوری کے اس شعر سے تصرف کردہ ہے:
بوئے یارِ من ازیں سمتِ وفا می آید
گُلم از دست بگیرید کہ ازکار شدم
اسی طرح غالب کا یہ شعر دیکھیے:
بوئے گل، نالۂ دل، دود چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
اس کے لیے غالب نے بیدل کے اس شعر کو سامنے رکھا ہے:
سحر راہ و گلستاں نگہت و بلبل فغاں دارد
جہانے سوئے بیرنگی ز حسرت کارواں دارد
دراصل بات یہ ہے کہ ترجمے میں تصرف و اکتساب کرکے اپنی تخلیق بنانے کا عمل ہمیشہ اور ہر زمانے میں جاری رہا ہے۔ بالفاظ دگر یوں کہہ سکتے ہیں کہ اپنی تخلیق میں سابقہ تخلیقی فن پاروں سے تصرف کیے جانے کا عمل ماضی میں ہمیشہ رہا ہے۔ اسی چکّر میں توارد اور سرقہ جیسی اصطلاحات بھی وضع کرنی پڑیں۔ جس پس منظر میں بات ہورہی ہے اس میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اچھا اور برجستہ ترجمہ ہمیشہ تخلیق کی طرح ہوتا ہے۔ اردو میں نادر کاکوروی، اقبال، میراجی کے تراجم اسی زمرے میں آتے ہیں۔ ایسے ترجمے کی افادیت و اہمیت کو ایذراپاؤنڈ نے بھی تسلیم کیا ہے۔
ایذراپاؤنڈ نے ترجمے کے لیے شاعری کے Text کو تین زمروں میں تقسیم کیا ہے۔ اول فونوپوئیا (Phonopoia) شاعری کا وہ متن جس کا ترجمہ ممکن ہے، دوم میلوپوئیا (Melopoia) اس قسم کی شاعری کا ترجمہ ممکن نہیں، تیسری قسم ہے لوگو پوئیا (Logopoia)، اس طرح کی شاعری ترجمے میں نہیں آسکتی، البتہ اس میں پیش کردہ شاعر کے خیال کا عکس لطیف آسکتا ہے۔ جہاں تک غالب کے شعروں کے تراجم کا سوال ہے، اس میں یقینا ایسے اشعار ہیں جن کو انگریزی میں بالکلیہ منتقل کرنا مشکل کام ہے۔
اردو شاعری کے انگریزی ترجمے اگر ہمیں بہت اپیل نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اردو متن سے محظوظ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہوسکتا ہے یہ ترجمے ان لوگوں کو بہت اپیل کرتے ہوں جو اردو غزل اردو میں پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ غالب کے یہ انگریزی ترجمے دراصل اردو زبان کے واقف کاروں کے لیے نہیں ہیں بلکہ غیراردو داں کے لیے ہیں۔
غالب کے شعروں کو انگریزی روپ دینے میں سب سے بڑی پریشانی اس کے تہذیبی Connotations کو منتقل کرنے میں ہوتی ہے۔ کسی بھی زبان کے فن پارے کا دوسری زبان میں ترجمہ کرنا اسی کے سبب مشکل ہوتا ہے۔ جیسے غالب کا یہ شعر:
جب میکدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید
مسجد ہو مدرسہ ہو کوئی خانقاہ ہو
پون کمار ورما نے اس کا ترجمہ کیا ہے، ملاحظہ کیجیے:
Once the tavern is renounced
Then for place what grouse?
A mosque, a house of learning,
or just any other house.
(Ghalib: The man, The Times, 1989, p-95)
یہاں پون ورما نے صرف مسجد کا ترجمہ Mosque کردیا ہے، مدرسہ اور خانقاہ کے لیے House of learning اور Just any other house لکھ کر آگے بڑھ گئے ہیں۔ میرے خیال سے یہ ناقص ترجمہ ہے۔ کم سے کم مدرسہ کا لفظ تو پوری دنیا میں انگریزی والے بھی جانتے ہیں۔ اس کے بدلنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ پھر یہ کہ مدرسہ اور خانقاہ سے جو علمی و تہذیبی تصویر ابھرتی ہے یا یوں کہیں کہ غالب نے میکدے کے لیے ان کا استعمال جوڑے دار ضدین (Binary opposition) کے طور پر کیا ہے، اس کا کیا ہوگا؟ Any other house تو بالکل ہی ازکار رفتہ لگتا ہے۔ ترجمہ نگار جب تک ان امور اور نازک نکات پر نظر نہیں رکھے گا اس کا ترجمہ کما حقہ مناسب اور برمحل نہیں ہوسکتا۔ عبداللہ انوار بیگ نے خانقاہ کے لیے خانقاہ اور مدرسہ کے لیے اسکول استعمال کیا ہے:
Oh leaving the tavern, what restriction is there?
It may be a mosque, or a school or a khankah
(The odes of Ghalib, 1941, p-138)
یوسف حسین نے اس شعر کے ترجمے کو ایک الگ ہی راہ پر ڈال دیا ہے۔ آپ بھی سنیے:
When I have to leave the tavern,
Why is there any need to go
To another place-no matter
Whether mosque or school or monastery?
(Urdu Ghazals of Ghalib, p-154)
یہاں بھی مدرسہ کے لیے اسکول آیا ہے اور خانقاہ کے لیے یہاں سب سے الگ Monastery کا استعمال ہوا ہے۔ ڈاکٹر سرفراز نیازی نے بھی یہی لفظ استعمال کیا ہے۔ یہ دونوں الفاظ School اور Monasteryاُس تضاد معنوی کو پیش کرنے سے قاصر ہیں جسے غالب نے میکدہ کے بالمقابل پیش کیا ہے۔ اس ترجمے میں ایک دوسری قباحت یہ بھی پیدا ہوگئی ہے کہ غالب نے کہا ہے: جب میکدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید، جس کا ترجمہ کیا گیا ہے: When I have to leave the tavern غالب خود میکدہ کہاں چھوڑ رہا ہے، میکدہ خود غالب سے چھٹا جارہا ہے۔ میکدہ چھوٹ جانے کے اسباب و علل صیغۂ راز میں ہیں، جو شاعری کا تقاضا بھی ہے۔ اس ترجمے سے معلوم ہوتا ہے کہ غالب خود ہی میکدہ چھوڑے جارہا ہے جب کہ ایسا نہیں ہے۔ اس میں ایک طرح کی مجبوری اور پھر دوسرے مصرعے میں طنز لطیف بھی ہے۔
دراصل غالب جس تہذیبی تناظر کو نشان زد کرنا چاہتا ہے وہ ترجمے میں منتقل ہونے سے رہ گیا ہے۔
اعجاز احمد والی کتاب میں جو پہلی غزل ہے اس کا مطلع ہے:
دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں
ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں
جیسا کہ ہمیں معلوم ہے یہ قصیدے کا مطلع ہے۔ کس حکمت کے تحت اعجاز احمد نے اسے غزل کے زمرے میں رکھا، معلوم نہیں۔ اگر غزل مان بھی لیں تو پھر اس کے مذہبی اور اس کے خاص Cultural Nuances کو انگریزی میں کیسے منتقل کیا جاسکتا ہے؟ پہلے لغوی ترجمہ پھر ادبی ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کا ترجمہ William Stafford نے بھی کیا ہے اور M.S.Merwin نے بھی۔ اس غزل (بقول اس کتاب کے) کا یہ شعر اور اس کا ترجمہ دیکھیے:
جلوہ پرداز ہو نقش قدم اس کا جس جا
وہ کفِ خاک ہے ناموسِ دوعالم کی امیں
Any trace, glimpse, whatever flickers
that’s all we have, known or not known
معلوم نہیں ولیم اسٹفورڈ نے یہ ترجمہ کاہے کا کیا ہے۔ شعر کے موتف کو واقعی ترجمہ نگار نے جیسے خاک میں ملا دیا ہے۔ بیس بار بھی متن اور ترجمے کو پڑھ جائیں پانچ دس فی صد بھی اگر خیال کی ترسیل ہوسکے تو غنیمت ہے۔
دوسرے مترجم W.S. Merwin نے اسے کہیں اور پہنچا دیا ہے، ملاحظہ کیجیے:
Where you find the beloved’s
footprint
the dust there is the seal of both worlds
یہ بالکل دنیاوی محبوب پر اس کا اطلاق ہوا ہے جو کہ غالب کا دور دور تک مقصود نہیں۔ کاش اعجاز احمد خود اس کا ترجمہ کرنے یا Merwin کو کم ازکم یہ بتا دیتے کہ یہ ایک ایسے قصیدے کا شعر ہے جو خلیفہ چہارم حضرت علی کی شان میں کہا گیا ہے۔ شاعری کا ترجمہ کرنا اسی لیے مشکل ہے۔ یہاں ’ناموس دوعالم‘ خلا میں معلق ہوگیا یا خود ترجمہ نگار نے نگل لیا جو کہ کلیدی لفظ تھا اس شعر کا۔ بلکہ دو لفظوں سے ایک خاص ترکیبی صورت پیدا ہوگئی ہے۔ صرف یہ کہا کہ Dust is the seal of both worlds دراصل خاک کو ناموس دوعالم کی امین کہا گیا ہے جس کے لیے Purity یا Sanctity کا لفظ آسکتا تھا۔ اس کے علاوہ اس کا جو خاص مذہبی اور تہذیبی سیاق ہے وہ ترجمہ نگار سے کوسوں دور ہے۔ لیکن چوں کہ یہ کتاب اعجاز احمد کے حوالے سے مشہور ہے، اس لیے اعجاز احمد پر بھی اس کی ذمہ داری تھی۔ اول تو اس قصیدے کے حصے کو غزل کے زمرے میں ڈالنا ہی غلط اور غیرذمہ دارانہ ہے۔ خیر!
مرزا غالب کی تفسیر و تعبیر اردو میں بھی ہوتی رہے گی اور اس کے تراجم انگریزی میں کیے جاتے رہیں گے۔ ترجمہ نگاری کو Thankless job کہا گیا ہے۔ لیکن ترجمہ نگار اپنی محنت اور صلاحیت سے ہی یہ کام انجام دیتا ہے۔ میں نے غالب کے چار پانچ شعروں کی روشنی میں اپنے ردعمل اور خیالات آپ کے سامنے پیش کیے۔ دوران مطالعہ اندازہ یہ ہوا کہ اس کی بنیاد پر غالب کے ترجمے کا ایک تقابلی مطالعہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
مراجع:
l Ghazals of Ghalib – Aijaz Ahmad, 1971 Univ. Press- 1994
l Ghalib, The man, the times 1989, Viking, Delhi, Pavan Kr. Varma
l Urdu Texts & Context, 2004, Permanent Black
l Love Sonnets of Ghablib – 2002, Dr. Sarfaraz K. Niazi (Rupa & Co. N. Del., Arts by Sadeqain)
l Ghalib, The Poet and his age-1997, 2005
l The Life and odes of Ghalib – Urdu Academy, Lahore, 1941, A. Anwar Bag
l Urdu Ghazals of Ghalib- 1970, Ghalib Institute, Yousuf Hosain
l Ghalib Reveals himself – 1972, AMU Press Aligarh, N. Hasan Naqvi
l Candles of Smoke – Inderjit Lal, 1970, Saluja Prakashan, Delhi-6
l Ghalib – M. Mujeeb, 1969, Sahitya Akademy, N. Delhi-1
l Ghalib and his Poetry : Sardar Jafri, Q. Ain Hyder, Bombay Popular Prakashan, 1970
l Distracting words – Dr. M. Zakir, 1974, Idara-e-Amini, Delhi-6
l Tarjuma: Rewayat Aur Fun : Nisar Ahmad Qureishi, 1985, Muqtadara, Pakistan
l Ghalib in Translation – O.P. Kejriwal
l Urdu Verse in English, David Mathews, 1995
l Yadgar-e-Ghalib : Hali
l The Flower-lit Road – S. Rahman Faruqi, 2005, Laburnum Press, Allahabad
l Longman Dictionary of contemporary English – Longman


1 comment
بہترین تحریر اور ترجمہ کی اہمیت و افادیت کے ساتھ اس کی مساوی جمیلہ پر اظہار رائے قابل ستائش ہے۔