بہرائچ ایک تاریخی شہر/جنید احمد نور – ابو البشر
زیر تبصرہ کتاب’’بہرائچ ایک تاریخی شہر(حصہ اول)‘‘ اپنی نوعیت کی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے اور تاریخ کا آئینہ ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ یہ نوجوان مصنف جنید احمد نور لائق ستائش ہے جس نے اپنی عمر ، حوصلہ اور علم سے اُپر اٹھ کر کارِ نمایاں انجام دیا جو آج ہمارے سامنے پیش ہے۔ اس کتاب کے نام سے ہی اس شہر کی اہمیت کا اندازہ ہوجاتاہے کہ جہاں ہم پید اہوئے ، اس سر زمین میں پلے بڑھے،کھیلے کودے اور اپنا بچپن اس کی گلیوں کونچوں میں گزارا ۔ اس کا حق بھی ہم پر ہے کہ اس کو ادا کریں جس کا جنید احمد نور نے سو فیصد اس کتاب کے ذریعہ ادا کر دیا ۔ اس شہر کی بلند مرتبت کا اندازہ ہم کو اس کتاب میں شامل انشا اللہ خاں انشاؔ ء کے اس شعر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ :
دلکی بہرائچ نہیں ہے ترک تازی کا مقام
ہے یہاں پر حضرت مسعود غازی کا مقام
اس شعر سے ہم کواس بات کا تو اندازہ ہوجاتا ہے کہ بہرائچ و اطرافِ شہر کوئی معمولی مقام یا گمنام شہر نہیں بلکہ علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے جہاں پر بڑے بڑے عالمِ دین مفکر اور بزرگ آباد رہے ہیں ۔
اس کتاب کی فہرست کے مطالعہ سے اس بات کا علم ہوتاہے کہ اس تاریخی کتاب میں بزرگانِ اسلام ، عالمِ دین ، مفکر اسلام، عظیم علماء اکرام،مشہور مجاہد آزادی کے متوالے،حکیم،اطباء،وکیل ،ماہر اساتذہ اکرام اور ماہر سیاسی رہنما کا ذکر کیا گیا ہے جن میں سے کچھ حضرات ابھی بھی باحیات ہیں جو بہرائچ اور وہاں کے عوام الناس کے لئے باعث افتخار ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں بہرائچ اردو ادب میں-۵ – جنید احمد نور )
اس کتا ب کو مصنف نے تین خاص حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔جو یہ ہیں’’ ذکر بزرگان،ذکرعلاء اور مشہور سیاسی شخصیات‘‘ ۔ان خاص حصوں سے قبل، میں اس کتاب کے ابتدائیہ حصے پر کچھ جملے پیش کرتا ہوں۔فہرست میں دعائیہ کلمہ ،پیش لفظ، مصنف کی اپنی بات (اس جز میں مصنف نے کن کن دقتوں کے باوجود اپنے جوش و ولولے میں جنبش بھی نہیں آنے دی اور اللہ کا شکر ہے کہ یہ کتاب ہمارے سامنے ہے)، مصنف نے بہرائچ شہر کو تاریخ کے آئینہ میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔جس کا ذکر کچھ اس طرح سے ہے۔’’دریائے گھاگرا کے کنارے صوبہ اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ سے ۱۲۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع بہرائچ صوبہ و خطہ اودھ کا تاریخی ضلع اور شہر ہے۔ضلع بہرائچ کو جغرافیائی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ اترپردیش کا ایک ایسا ضلع ہے جو نیپال کی سرحد پر اور ہمالیہ کی گود میں بسا ہوا ہے۔ویسے تو یہ ضلع ترقیاتی نقطۂ نظر سے کافی پسماندہ ہے لیکن قدرتی دولت سے مالا مال بھی ہے۔بہرائچ کے جنگلات میں کترنیا گھاٹ پوری دنیامیں اپنا الگ مقام رکھتاہے اترپردیش کی اکھلیش یادو حکومت نے اسے اپنی ’’اکوٹورازم اسکیم‘‘ میں نمایاں طور پر آگے رکھا اور یہاں بیرونی اورملکی سیاحوں کے لئے کافی سہولیات کا انتظام بھی کیا۔‘‘دیگر کتابوں میں بہرائچ کی مختلف تواریخ ملتی ہیں۔ بہرائچ کی تاریخ کے بعد زبان و تعلیم کا فروغ اور آخر میں ندیاں اور جھلیوں کا ذکر کیا ہے۔مصنف نے جن تین حصوں میں اس کتاب کو تقسیم کیا ہے ان میں اول کا مطالعہ کرنے سے یہ احساس ہوتاہے کہ یہ شہر اعلیٰ پایہ کے بزرگانِ دین کا ایک اہم مقام رہا ہے کیونکہ اس حصے میں سب سے پہلے جس قدر و منزلت کے بزرگ کا نام ہے وہ سید سالار مسعود غازی ؒ ، شہید مسعود غازیؒ کی وجہ سے بہرائچ کا نام ہندوستان ہی نہیں بلکہ پورے عالم میں شہرت دوام کا مقام رکھتا ہے۔ضلع کے بچے بچے کی زبان پرشہید سید سالار مسعودؒ کا نام بڑے عزت و احترام سے سنا جاتا ہے ۔ مائیں اور دادیاں بڑے عزت و احترام کے ساتھ اس بزرگ کے قصے اپنے بچوں کو سناتی ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں بہرائچ اردو ادب میں-۴ -جنید احمد نور )
عباس خاں شیروانی نے بحوالہ’’مرآۃ مسعودی‘‘ میں لکھا ہے کہ سالار مسعود غازیؒ کی پیدائش ۲۱؍رجب یا شعبان ۴۰۵ھ مطابق ۱۵ ؍ فروری ۱۰۱۵ء کو اجمیر میں ہوئی تھی۔آپ کے والد کا نام سید سالار ساہو اور والدہ ماجدہ کا نام بی بی شتر معلٰی(بہن سلطان محمود غزنوی )تھی۔ آپ علوی سید تھے۔
بہرائچ میں آپ کی آمد ایک فریادی کی نسبت سے ہوئی۔ سالار مسعودؒ قنوج فتح کرکے وہیں مقیم تھے۔ بالے میاں کے نام سے دور دور تک آپ کی شہرت تھی۔بہرائچ میں سورج کنڈ تالاب کے کنارے بالا رکھ نام کا ایک پتھر تھا۔ جس کے اوپر نکلتے (اگتے)ہوئے سورج کی شکل کا نقشہ بنا ہوا تھا۔ اس جگہ ہر سال جیٹھ کے مہینے کے پہلے اتوار کو مقامی باشندے جمع ہوکر سورج کی پوجا کرتے تھے،ان میں سے ایک نوجوان کی بلی چڑھائی جاتی تھی اور وہ بھی اس نوجوان کی جو اپنے خاندان کا اکلوتا بیٹا ہوتا۔قرعہ اندازی میں بہرائچ کے قریب ایک گاؤں موضع نگرور جو کہ شہر سے چھ کلومیٹر پر واقع ہے ایک اہیر کے لڑکے کانام نکلا۔اس خاندان میں اکیلاو ہی وارث تھاا س کے والد بہت ہی پریشان ہوئے اپنی اسی پریشانی کو لے کر وہ قنوج سید سالارمسعود غازی ؒ کے پاس فریادی بن کر پہنچے۔ یہی فریادی ایک ذریعہ بنا آپ کی بہرائچ میں آمد کا ، آپ ہمیشہ کے لئے یہیں کے ہو کر رہ گئے اوراس سرزمین کو عزت و وقار بخشا۔ ان کے علاوہ بھی اس شہر میں بہت سے بزرگ حضرآت رہے جیسے حضرت سید سالار سیف الدین غازیؒ، حضرت امیر سید ابراہیم شہید ؒ،قاضی شمس الدین بہرائچی،حضرت سید امیر خاں بہرائچیؒ، حضرت سید اجمل شاہ بہرائچی(صدر جہاں سلطنت شرقی جونپور)حضرت مخدوم سید بڈھن شاہ بہرائچی، حضرت شاہ نعیم اللہ بہرائچی(خلیفہ مجاز حضرت مرزا مظہر جانِ جاناںشہیدؒ)،حضرت مولانا شاہ بشارت اللہ بہرائچی (خیلفہ شاہ غلام علی دہلویؒ)،حضرت مولانا شاہ سید محمد ولی اللہ بہرائچی،حضرت مولانا سید اسلم شاہ بہرائچی،حضرت مولانا سید محمد حبیب اللہ بہرائچی وغیرہ قابل ذکر بزرگانِ اسلام تھے۔ (یہ بھی پڑھیں بہرائچ اردو ادب میں-۳ – جنید احمد نور)
دوسرے حصے میں مصنف نے علماء اکرام کی حیات وشخصیت کے بارے میں مختصراً بیان کیا ہے جن کی بدولت بہرائچ میں علم و عمل ،ذکر و اذکار کا بول بالا ہوا، یہ حضرات دین و دنیا کے علم میں ماہر تھے جن کی بدولت دین و دنیاوی تعلیم کا فروغ ہونا شروع ہوا۔ ان ہی کی بدولت شہر کے قرب و جوار میں اسکول و مدرسہ قائم و دائم ہیں۔ان کی دین ہے جو اس علاقہ میں دین اسلام عام ہوا اور اس کے ماننے والے بھی عام و خاص ہیں۔ان علماء میں چند اہم ہیںجن میں باقر مہدی جرولی ، جو قصبہ جرول کے مشہور شیعہ عالم تھے۔مولانا محمد احسان الحقؒ جوکہ جامعہ مسعودیہ نورالعلوم شہر بہرائچ کا مشہور مدرسہ ہے اس کے پہلے مہتمم تھے انہوں نے دینی علوم کے لئے جدوجہدکی اور کامیاب بھی رہے۔اسی حصہ میں مصنف نے خاص علماء اکرام کے ساتھ ساتھ کچھ باحیات حضرات کا بھی ذکر کیا ہے جو علم کے میدان میں ضلع بہرائچ کا نام روشن کر رہے ہیں۔جیسے ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی ، الحاج مولانا امیراحمد قاسمی اور محترمہ ڈاکٹر ندیم سحر عنبرین۔ان حضرات میں سے ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی جن کی پیدائش مٹیرا کے قریب ایک گاؤں میںہوئی جو شہر کے قریب ہی ہے۔جماعت اسلامی ہندکے سکریٹری ہیں ان کا علماء اکرام میں اچھا مقام و مرتبہ ہے ۔رضی صاحب مختلف مسائل پر تقریباً ساٹھ سے زائد کتابوں کے مصنف و مرتب ہیں جو اس دور میں بڑا کام ہے اور ہمارے لحاظ سے ایک کارنامہ ہے۔
چند حضرات جو اس ملک کے لئے جنگ آزادی میں پیش پیش رہے ہیں وہ بھی اس سر زمین پر پیداہوئے ان کوبھی مصنف نے اپنی کتاب میں جگہ دی ہے۔ آزادی کے بعد سیاسی تاریخ پر مختصراً نوٹ بھی لکھا ہے جس میں بہرائچ سیاسی ،سماجی و معاشی حالات میں کس طرح ہندوستان کے دوسرے شہروں اور ان کے عوام الناس کی طرح شہر بہرائچ بھی پیش پیش رہا جو کہ اہمیت کا حامل ہے۔
مصنف نے اپنی کتا ب کے تیسرے حصے میں شہر بہرائچ کے نواح کے وہ ستارے جمع کر دیے ہیں جن کی عزت شہر و ملک میں قائم ودائم ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں بھی ان کا ذکر ملتا ہے کچھ افراد اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور کچھ ابھی بھی اس دنیا میں شہر کا نام روشن کر رہے ہیں۔ جس میں سیاسی ،سماجی،ادبی،وکیل،اساتذہ وغیرہ اہم ہیں۔ جیسے منظور حسن (وکیل)،مجاہد آزادی خواجہ خلیل احمد شاہ، سردار جوگیندر سنگھ جو کہ صوبہ اڑیسہ کے کارگزار گورنر اور راجستھان کے گورنر بھی رہے ہیں۔سید ضرغام حیدر(مجّن میاں )وکیل،ان کی شہرت شہر میں عام تھی،حمیدا للہ خاں(مشہور ادیب وشاعر فرحت احساس کے تایہ اّباتھے)ان کی پیدائش ۱۸۹۱ء میں شہر بہرائچ میں ہوئی ۔ کانگریس کے رکن تھے سیاست میں اعلیٰ مقام رکھتے تھے۔ان حضرات کے بعد بہرائچ شہر کے ہر دلعزیز عظیم سیاسی لیڈر مرحوم ڈاکٹر وقار احمد شاہ ۔ ان کی پیدائش ۶؍جولائی ۱۹۴۳ء میں محلہ قاضی پورہ شہر بہرائچ کے ایک معروف خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام خواجہ قمرالدین تھا۔ وقار احمد شاہ مسلسل ۵بار بہرائچ صدر اسمبلی حلقہ سے منتخب ہوئے ۔شدید بیماری کی وجہ سے ان کی وفات ۱۵؍اپریل ۲۰۱۸ء کو ۵ سال لمبی علالت کے بعد سول اسپتال لکھنو شام ۶بجے کے قریب ہوئی۔(انالللہِ وانا الہِ راجعون)
ان کا سیاسی سفر ۱۹۸۹ء میں جنتادل کی جیل بھر تحریک سے شروع ہوتاہے اور تاحیات تک جاری رہتا ہے۔ وقاراحمد شاہ پہلی بار ۱۹۹۳ء کے اسمبلی الیکشن میں سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ سے صدر (بہرائچ شہر)کی اسمبلی سیٹ پر منتخب ہوئے اور یہ سلسلہ ۲۰۱۲ء میں آخری بار یعنی پانچویں بار شہر کی صدر سیٹ سے فتح یاب ہوئے۔وقار احمد اترپردیش کے اہم سیاسی عہدوں پر فائز رہے اور بہرائچ شہر کا نام روشن کرتے رہے۔اس کے علاوہ وقار احمد شاہ کی اہلیہ محترمہ رُباب سعیدہ نانپارہ سے فتحیاب ہو ئیں اور ان کے لختِ جگر یاسر شاہ بھی سیاسی لیڈران میں اول درجہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہمیشہ اس علاقہ کی ترقی کے لئے گامزن رہتے ہیں۔
ان تمام حضرات کے علاوہ بھی اس شہر کے ادیب وشاعر اور عالم و فاضل بھی ہیں جن کا ذکر اس کتاب میں شامل ہے۔
میں نے اس کتاب کا مختصرتبصرہ کیا ہے یہ کوئی مضمون نہیں ہے جو میں تمام چیزوں کا تنقیدی احاطہ کروں میں نے اس کا جو مطالعہ کیا ہے وہی آپ حضرات کے سامنے پیش کر دیا ہے۔
اس کتاب میں مصنف نے ان تما م موضوعات پر بے حد ایماندارانہ ،پاکیزگی اور اعتماد کے ساتھ تحقیقی کام کیا۔جس کو مصنف نے بحسنِ خوبی کے ساتھ ادا کیا ۔
مسٹر جنید احمد نور کی یہ کاوش ’’بہرائچ ایک تاریخی شہر(حصہ اول)‘‘ادبی حلقوں کے لئے بڑی ہی نایاب چیز ہے۔جن حضرات کے سامنے بھی یہ کتاب جائے گی انشاء اللہ مصنف کو دعائیں ہی ملیں گی ۔کیونکہ مصنف کی محنت قابل ستائش ہے ۔ تحقیق کا کام ہمیشہ سے چلتا چلا آر ہا ہے اگر اس کتاب میں کچھ کمیاں رہ گئی ہوں گی تو یہ تحقیق کوئی حرفِ آخیر تھوڑی ہے۔ اس کتا ب کے مصنف کو میں دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں جن کی محنتوں کا ثمرہ آج آپ حضرات کے سامنے ہے یہ ایک بڑا کارنامہ ہے۔
*****
(تبصرہ میں پیش کردہ آرا مبصر کے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
نسترن احسن فتیحی کا ناول نوحہ گر : ایک نفسیاتی مطالعہ
ڈاکٹرجنید عالم
ذکیہ آفاق اسلامیہ کالج
سیوا ن ۔۔۔ بہار