ڈاکٹرمولانا محمد نعیم اللہ خیالیؔ: ڈاکٹر محمد نعیم اللہ خاں خیالیؔ کی ولادت۱۵؍ اپر یل۱۹۲۰ءکو شہر بہرائچ کے محلہ قاضی پورہ میں جنا ب خان عبداللہ صاحب کے یہاں ہوئی تھی،آپ کی والدہ کا نام مقبول جہاں بیگم تھا۔ وصفیؔ صاحب خیالیؔ صاحب کے بھائی تھے۔ خیالیؔ صاحب اسکولوں کالجوں کی زندگی سے محروم رہے لیکن علم و ذکاء اورعقل و ادراک کے خالق نے آپ کو وہ استعداد،اہلیت اور عرفان و شعور عطا کیا جس کی بدولت خیالی صاحب روایتی مدرسوں اور رسمی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قدم رکھے بغیر ہائی اسکول سے لیکر ایم۔اے۔تک سارے مدارج و مراحل پرائیوٹ امیدوار کی حشیت سے طے کئے ان کے علاوہ منشی کامل ،دبیر کامل ،فاضل طب وغیرہ کے امتحانات بھی نمایاں پوزیشن سے پاس کئے۔
پروفیسر ایم ایم جلالی لکھتے ہیں:۔
”خیالیؔ صاحب کوعربی،فارسی،اردو،ہندی، تامل،تلگو،بنگلہ کے علاوہ روسی، فرنچ، جرمن، انگریزی،چینی،ترکی اور لاطینی زبانوں پر کافی عبور تھا۔لسانیات کے علاوہ ہومیوپیتھی، یونانی،ایورویدک طریقہ علاج میں عملی طور پر زبردست مہارت تھی،لیکن آپ نے علمی اور ادبی ذوق کی پروریش اورتعلیم و دریس کے جذبات کے پیش نظر پیشئہ معلمی کا انتخاب کیا اور مقامی آزاد انٹر کالج میں اردو اور عربی کا درس دیتے رہے۔آخر میں کچھ وقت کے لئے کسان ڈگری کالج میں پروفیسر اردو کے طور پر خدمات انجام دی۔ سبکدوش ہونے کے بعد تصنیف و تالیف کے کاموں میں مشغول ہو گئے او ر’’ ادارئہ لسانیات‘‘ اور ’’ادارۃ المصنفین‘‘ قیام کیا۔ ‘‘(اردوکی بین الاقوامی حیثیت،محمد نعیم اللہ خاں خیالیؔ ۱۹۸۲ءص ۱۱)
آپ بہرائچ سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’’چودھویں صدی‘‘کے بانی اور مدیر تھے۔آپ کوحضرت شاہ ابو الحسن زیدؔ فاروقی مجددی(سجادہ نشین خانقاہ مظہریہ المعروف درگاہ شاہ ابو الخیرؒ )سے بیعت و خلافت حاصل تھی۔ ۳۱؍دسمبر ۱۹۹۱ءکو بہرائچ کی ادبی تاریخ کے اس درخشندہ ستارے نے ہمیشہ کے لئے بہرائچ کی ادبی دنیا کو اکیلا چھوڑ کر راہی ملک ادم ہوئے۔بہرائچ میں انتقال ہوا،اور تدفین احاطہ شاہ نعیم اللہؒ(خلیفہ حضرت مرزا مظہر جان جاناں ؒ ) میں ہوئی ، جہاں ایک چہار دیواری میں آپ کی مزار بنی ہوئی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں بہرائچ اردو ادب میں-۴ -جنید احمد نور)
سید محسنؔ رضا زیدی: سید محسن رضا زیدی تخلص محسنؔ زیدی۱۰؍جولائی۱۹۳۵ءشہر بہرائچ میں پیدا ہوئے۔ والدین کا نام سید علی رضا زیدی اور صغری بیگم تھا۔ محسن زیدی نے ضلع پرتاپ گڑھ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔ اسلامیہ اسکول (۱۹۴۰ء-۱۹۴۲ء)کے۔پی۔ہندوہائی اسکول (۱۹۴۳ء-۱۹۴۸ء)گورنمنٹ ہائی اسکول(۱۹۴۹ء-۱۹۵۰ء)،مہاراج سنگھ انٹر کالج، بہرائچ (۱۹۵۱ء- ۱۹۵۲ء)سے تعلیم حاصل کرنے بعد آپ نے انگریزی ادب، تاریخ اور معاشیات (۱۹۵۳ء-۱۹۵۴ء) میں لکھنؤ یونیورسٹی سے آرٹس بیچلر حاصل کی۔ انہوں نے الہ آباد یونیورسٹی (۱۹۵۵ء-۱۹۵۶ء) سے معاشیات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ آپ مشہور شاعر فراقؔ گورکھ پوری کے شاگرد تھے۔محسنؔ زیدی صاحب نے ۱۹۵۶ءمیں بھارتی اقتصادی سروس میں شمولیت اختیار کی اور ۱۹۹۳ء میں ریٹائرمنٹ تک کئی حکومتی عہدوں پر تعینات رہے۔محسنؔ صاحب میرے نانا محمد شمیم اللہ صاحب کے کلاس فیلو تھے۔جب بھی دہلی یالکھنؤ سے بہرائچ آتے تو آپ سے ملاقات ضرور کرتے تھے۔محسن ؔصاحب کا۳؍ ستمبر ۲۰۰۳ءکو لکھنؤ میں انتقال ہوا۔تدفین لکھنؤ میں عمل آئی۔
ماسٹر محمد نذیر خاں(گولڈ میڈلسٹ):ماسٹرمحمد نذیر خاں کی ولادت۱۵؍دسمبر۱۹۳۵ءمیں شہر بہرائچ کے مردم خیز محلہ قاضی پورہ میں ہوئی تھی۔آپ کے والد کانام محمد نصیر خاں تھا۔آپ نے ابتدائی تعلیم مکتب مسعودیہ جامع مسجد بہرائچ سے حاصل کی اور ثانوی تعلیم گو رنمنٹ انٹر کالج سے حاصل کی۔ایم۔اے ، بی۔ ایڈ ریاضی کی تعلیم شہر کے کسان ڈیگری کالج سے حاصل کی اس وقت کسان ڈیگری کالج گورکھپور یونی ورسٹی سے ملحق تھا اور بی ایڈ میں نمایا نمبرات سے گولڈ میڈل حاصل کیا۔جو آج بھی ایک تاریخ ساز ریکارڈ ہیں اور قائم ہے۔بعد میں آپ آزاد انٹر کالج میں بطور استاد ریاضی پڑھانے لگے اور آزاد انٹر کالج کے مشہور استادوں میں شمار ہوئے۔درس تدریس کے ساتھ ساتھ آپ اردونثر نگار بھی تھے۔اور کئی اخبارات ،رسالوں میں آپ کے مضامین شائع ہوتے رہتے تھے۔جوادبی،سیاسی،مذہبی اورمعاشرتی مضامین ہوتے تھے۔آپ کی وفات۲۰؍نومبر۱۹۹۹ءہوئی اور تدفین۲۱؍نومبر ۱۹۹۹ءکو بعد نماز ظہر مرکزی عیدگاہ قبرستان شہر بہرائچ میں ہوئی۔
سید ساغرؔ مہدی: سیدساغرؔ مہدی بہرائچی کی ولادت۱۴؍جولائی۱۹۳۶ءکو شہر بہرائچ کے محلہ سیدواڑہ قاضی پورہ میں ہوئی تھی۔ آپ کے والد کا نام سید خورشید حسن زیدی اور والدہ کا نام محترمہ رقیہ بیگم تھا۔آپ کے والد کا انتقال آپ کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ آپ کے بڑے بھائی سید اصغر مہدی نجمیؔ ۱۹۵۴ءمیں کراچی پاکستان گئے تھے اور وہیں بس گئے۔ والد کی وفات کے بعد آپ کی کفالت کی ذمہ داری آپ کے ماموں سید ہدایت حسین زیدی قمر ؔنے لی اور بہن اور بھانجوں کی کفالت مذہبی ذمہ داری کے ساتھ نبھائی۔ساغرؔ مہدی کے ماموں سید ہدایت حسین زیدی کو شعر و شاعری کا شوق تھا،ان کی رہائش گاہ پر اکڑ ادبی محفلیں ہو تی رہتی تھی۔ جس کی وجہ سے ساغر مہدی کو بھی شعری ذوق پیدا ہوا۔ ۱۹۵۸ءمیں آزاد کالج سے انٹر کا امتحان پاس کیا۔ساغرؔ مہدی بہرائچی صاحب کے دو مجموعہ کلام کے دو شعری مجموعے ’حرف جاں‘ اور ’دیوانجلی ‘ کے نام سے شائع ہو کر منظر عام پر آئے جبکہ نثری مضامین کا مجموعہ ’تحریر اور تحلیق‘ بھی شائع ہو اور داد تحسین حاصل کی۔ دیوانجلی پر اردو اکادمی اتر پردیش اور بہار نے انعام سے بھی نوازا تھا۔اگست ۲۰۲۰ءمیں تذہیبؔ نگروری نے آپ کے مذہبی کلام کو ’’غم کے غلاب‘‘کے نام سے مرتب کر کے شائع کیا ہے۔سیدساغرؔمہدی کی وفات ۲۰؍ دسمبر۱۹۸۰ء ہوئی۔
اظہار ؔ وارثی: اظہارؔ وارثی ضلع بہرائچ کی اس عظیم ہستی کا نام تھا جنکا سلسلہ مشہور صوفی بزرگ حضرت حاجی وارث علی شاہ کے خاندان سے ملتا ہیں۔اظہارؔوارثی کی پیدائش شہر بہرائچ کے محلہ براہمنی پورہ میں۲۱؍نومبر۱۹۴۰ءکو ہوئی تھی۔ آپ کے والد کا نام حکیم محمد اظہر ؔوارثی اور والدہ کا نام کنیز سکینہ تھا۔ پدم شری شمس الرحمٰن فاروقی صاحب لکھتے ہیں کہ جناب اظہارؔ وارثی صاحب علاقہ اودھ کے ممتاز شعراکی صف اول میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔انھوں نے غزل اور نظم دونوں میں امتیاز حاصل کیا ہے۔انھوں نے غزل کے میدان میں اپنی تازگی خیال سے نئے نئے گل بوٹے کھلائے ہیں۔اظہارؔ وارثی کے یہاں عشق کا تجربہ بھی ہے اور زندگی کے ان سوالوں کا بھی شعور ہے جو انسان کو جواب کی تلاش میں سرگرداں رکھتے ہیں۔ان کے ذہن میں فکر اورتخیل کی کار فرمائی بہ یک وقت نظر آتی ہے۔اظہارؔ وارثی کی نظموں میں استعارہ یا پیکر کا زیادہ استعمال نہیں ہے ،لیکن انھوں نے اپنے ڈرامائی بیان کی بدولت اکثر پوری نظم کو استعارے کی شکل دے دی ہے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘
آپ کا ۲۱؍اگست۲۰۱۸ءانتقال ہوا۔ ۲۲؍اگست۲۰۱۸ءمطابق۱۰؍ذی الحجہ۱۴۳۹ھ بروز بدھ کو صبح بعد نماز عید الضحیٰ تکیہ کرم علی شاہ المعروف چھوٹی تکیہ بہرائچ میں آپ کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور بعد میں چھوٹی تکیہ قبرستان میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔
محمد ادریس عنبرؔ بہرائچی: ہمارے بہرائچ کو یہ شرف حاصل ہے کہ ہمارے وطن عزیز ہندوستان کے سب سے اعلیٰ ادبی انعام ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ضلع بہرائچ کے جس عظیم شاعر کو ملاان کو دنیا ئے ادب کا نام محمد ادریس عنبر ؔ بہرائچی کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔عنبرؔ صاحب کی ولادت ۷؍مئی ۱۹۴۹ءکو ضلع بہرائچ کے ترقیاتی حلقہ مہسی کے سکندر پور علاقہ میںہوئی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے جعرافیہ میں ایم۔اے کیا اور صحافت کا ڈپلوما بھی حاصل کیا۔پو۔پی کے سول سروس کے مقابلہ جاتی امتحان میں بیٹھے اور کامیاب ہوئے مختلف عہدوں پر فائز رہے۔آپ کی کئی کتابیں شائع ہوئی جیسے ’’اقبال:ایک ادھین‘‘۱۹۸۵ءمیں ہندی میں شائع ہوئی تھی۔۱۹۸۷ء میں آپ نے ایک رزمیہ قلمبند کیا جس کا نام تھا’’مہابھشکرمن ‘‘ یہ مہاتما بدھ کی تعلیمات پر مبنی ہے۔پھر نظموں اور غزلوں کا مجموعہ ’’ڈوب ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔’’سوکھی ٹہنی پر ہریل ‘‘۱۹۹۵ءمیں شائع ہوئی۔اس کتاب پر ۲۰۰۰ءمیں آپ کو ساہتیہ اکادمی انعام بھی حاصل ہوا۔اس کے بعد۱۹۹۶ءمیں ایک اور ایپک ’’لم یات نظیرک فی نظر ‘‘ جس میں حضرت محمدﷺکی سیرت اور تعلیمات کو مظوم اندازمیں پیش کیا ہے شائع ہوئی۔ آپ کی ایک اہم کتاب ’’سنسکرت شعریات ‘‘ہے یہ کتاب ۱۹۹۹ءمیں شائع ہوئی۔آپ کی غزلوں کا ایک مجموعہ ’’خالی سیپیوں کا اضطراب ‘‘۲۰۰۰ءمیں شائع ہوئی۔پروفیسروہاب ؔ اشرفی صاحب لکھتے ہیں کہ’’ عنبر ؔ بہرائچی کی حیثیت منفرد ہے۔ان کی شاعری کا ایک سرسری مطالعہ بھی بتا دے گا کہ شمالی ہندوستانی بولیوں پر ان کی کتنی گہری نظر ہے۔اودھی ،برج،بھوجپوری سے ان کی واقفیت کا ہر قدم پر احساس ہوتاہے۔لیکن یہی نہیں بلکہ اس تعلق سے متعلقہ تہذیبی اور ثقافتی زندگی سے بھی ان کی آشنائی قابل لحاظ ہے۔آپ کی شاعری کا پس منظر عام طور سے ہندوستان کی دیہی زندگی اور معاشرت پر مبنی ہے۔آپ نے جو ادبی رزمیہ قلمبند کیا ہے اس کی ہیئت کچھ قدیم سنسکرت کے متن پر ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ قصیدہ اور غزل کی جو محترم روایات رہی ہیں ان پر بھی گہری نظر ہے۔‘‘ (تاریخ اردو ادب جلد سوم وہاب اشرفی ۲۰۰۷ء ص ۱۷۹۸)
فرحت ؔاحساس:فرحت احساس ایک معروف عصر حاضر کے اردو شاعر، صحافی اور مترجم ہیں۔آپ ممتاز ما بعد جدید شاعروں میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ نے بڑے پیمانے پر سماجی و ثقافتی اور سیاسی مسائل پر لکھا ہے۔آپ کا اصلی نام ہے فرحت اللہ خاں ہے۔ آپ کی پیدائش۲۵؍ دسمبر۱۹۵۲ءمیں محلہ قاضی پورہ شہر بہرائچ کے ایک مشہور خاندان میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام بشارت اللہ خان تھا جو شہر بہرائچ کے مشہور وکیل اور اعزازی جج تھے۔فرحت صاحب نے ابتدائی تعلیم بہرائچ میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم۔ اے (انگریزی)، ایم۔ اے (اسلامیات) کی تعلیم مکمل کی۔ فرحت احساس نے ایک تحقیقی جریدے کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر کام کیا ہے جوجامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے اسلامک اسٹڈیز کے ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے شائع کیا گیا ہے۔ ان کی خود کی نوشتہ کتاب کا نام ’’تصوف اور ہندوستانی تصوف‘‘ ہے۔فرحت احساس نے اپنا سفر صحافت کے ساتھ شروع کیا تھا،بعد میں آپ نے اردو کے مشہور روزنامہ قومی آواز نئی دہلی سے وابستہ ہو ئے اور اس کے ادبی ضمیمے کے نگراں کی حیشیت سے تخلیقی صحافت کو فروغ دیا۔ آپ نے ایک عرصے تک آل انڈیا ریڈیو کے لیے حالات حاضرہ پر تبصرے، تجزیے اور فیچر بھی لکھے ہیں۔موجودہ وقت میں آپ ریختہ سے وابستہ ہیں۔ پروفیسر وہابؔ اشرفی لکھتے ہیں کہ
”فرحت احساس نئے لوگوں میں خاصا امتیاز رکھتے ہیں ان کی علمی استعداد کے ثبوت ملتے رہتے ہیں۔ان کا مطالعہ وسیع ہے۔اس لیے ان کے شعور کی بالیدگی اکثر موقعوں پر نمایا ہوتی ہے۔اپنے حلقے اور معاصرین کے درمیان پر وقار نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ان کے علم و کلام کی چھاپ ان نثری تحریروں میں بہت نمایا ہیں۔گاہے گاہے جو مضامین لکھتے ہیں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ان کی غزلوں میں ایک خاص قسم کا تیور پایا جاتا ہے،جو ان کی راہ دوسروں سے الگ کرتا ہے۔لفظوں پر اچھی گرفت ہے اور ان کے جدلیاتی استعمال کے گر سے واقفیت رکھتے ہیں۔پرانے خیالات اور تصورات نئے سانچے پر ڈھلتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔لہذا ان کے کلام میں تازگی کا احساس ہوتا ہے۔‘‘(تاریخ اردو ادب جلد سوم وہاب اشرفی ۲۰۰۷ءص ۶۸۱)
محمد حسنینؔ: محمد حسنین صاحب کی پیدائش شہر بہرائچ کے محلہ چھاونی میں۲؍ جولائی ۱۹۵۲ءکو جناب امیر بخش مرحوم کے یہاں ہوئی تھی۔ آپ نے بی۔ اے تک تعلیم حاصل کی اور سول کورٹ بہرائچ میں سینئر ایڈمنسٹریٹو آفسیر(SeniorAdministrative Officer) کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ محمد حسنین اردو سے انگریزی اور انگریزی سے اردو زبان کے ماہر ترجمہ نگار ہیں۔محمد حسنین ایک نامور ترجمہ نگار ہیں۔ اب تک ان کی ترجمہ شدہ ۱۰۰سے زائد کہانیاں شائع ہو چکی ہیں اور کئی کتابوں کا ترجمہ کر چکے ہیں۔جن میں رفعت سروش صاحب کی ’’نغمہ زیست(سانگس آف لائف)‘‘، ڈاکٹر فراز حامدی کی ’’یادوں کی سوغات‘‘ اور’’مجنوں کی اولاد ‘‘،اظہارؔ وارثی صاحب کی ’’بوند بوند شبنم‘‘مناظر عاشق ہرگانوی کی’’ سلسلے اجالوں کے‘‘،’’رینگا ‘‘،’’سناٹوں کا شور‘‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔حسنینؔ صاحب پہلے آزادؔ بہرائچی کے نام سے لکھتے تھے بعد میں حسنینؔ کے نام سے لکھنے لگے۔ آپ کی کی ترجمہ شدہ کہانیاں ماہنامہ’’ ایوان اردو ‘‘اور’’امنگ‘‘ دہلی، نیز ملک کے دیگر ماہناموں میں بھی برابر شائع ہوتی رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کی کئی غزلیں ،ہزلیں اور نظمیں کئی ادبی رسالوں میں شائع ہو چکی ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
1 comment
[…] متفرقات […]