سرزمین بہرائچ ادب اور شعر وشاعری کے سلسلے میں اس قدر مردم خیز ہے کہ یہاں ہر دور میں متعدد اساتذۂ کرام اپنے اطراف میں تلامذہ کی بھیڑ لئے ہوئے نظر آتے تھے۔ان ہی شاعروں میں سے کچھ کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے جو اپنے وقت میں نامور استاد شاعروں میں سے تھے لیکن وقت نے ان کو اب بھولا دیا ہے۔
سید محمد اصغر ؔنانپاروی :جناب سید محمد اصغر ؔنانپاروی لکھنؤ جیسے شہر علم و ادب میں متولد ہوئے۔غنفوان شباب ہی سے شاعری کی جانب مائل ہوئے۔ذوق شعری بیدار ہوتے ہی آپ ورثہ دار خدائے سخن جناب پیارے میاں رشید ؔلکھنوی کے تلامذہ میں ممتاز ہوگئے۔شاعری کے ابتدائی دور میں غزلیں کہتے رہے لیکن غزل گوئی کا سلسلہ کچھ عرصہ تک رہا۔پھر قصیدہ گوئی اور مرثیہ گوئی کی جانب ملتفت ہوگئے۔تقریباً ساٹھ سال تک اپنی زندگی لکھنؤ میں گذاری بعد اپنے وطن مالوف قصبہ نانپارہ تشریف لائے۔آبائی وطن نانپارہ ہی آپ کا مدفن قرار پایا۔آپ بہت زد دگو اور خوش گو شاعر تھے۔ آپ ے کافی تعداد میں رباعیات،قطعات ،سلام،قصائد ،مراثی کہے۔لیکن آپ کا کلام بہت مختصر سا میسرہے۔وجہ یہ ہے کہ آپ کبھی اشعار تحریر نہیں کرتے تھے۔بلکہ اشعار کے قوافی سلسلہ وار لکھ لیتے تھے۔اور جب کبھی مسالمہ یا قصائد کی محفلوں میں جانا ہوتا تھا۔تو وہ قوافی نامہ ساتھ لے جاتے تھے۔اور صرف قوافی دیکھ کر شعر پڑھتے جاتے تھے۔آپ کے مرنے کے بعدنانپارہ میں آپ کے تلامذہ کافی تعداد میں تھے۔آپ کی سن ولادت اور وفات دونوں معلوم نہ ہوسکی ۔ ( یہ بھی پڑھیں بہرائچ اردو ادب میں-۳ – جنید احمد نور )
سید عبد الشکور تخلص جمال ؔوارثی: آپ کی پیدائش۱۸۹۴ءمیں شہر کے محلہ قاضی پورہ میں ہوئی تھی۔آپ کے والد محکمہ پولیس میں سب انسپکٹر تھے۔آپ نے کبھی عوامی شاعری نہیں کی اور ہمیشہ گوشہ نشینی میں رہ کر شاعری کی صرف چند قریبی لوگوں کو ہی آپ کی شاعری کے بارے میں پتا تھا۔آپ شہر کے مشہور ہاکی کھلاڑی تھے اور راجہ نانپارہ سعاددت علی خاں کی طرف سے انکی ٹیم کے لئے کھیلتے تھے۔جمالؔ صاحب مولانا وارث حسن صاحب کے مریدین میں تھے۔جن کا مزار لکھنؤ کی ٹیلے والی مسجد پہ ہے۔آپ کی شادی مرحوم سید کلیم احمدمجددی ندوی ؒ(سابق مہتمم ندوۃ العلماء لکھنؤ)کی چھوٹی بہن سے ہوئی تھی۔آپ کی مولانا شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ خلیفہ مرزا مظہر جان جاناں شہیدؒ کے خاندان سے قریبی رشتہ داری تھی۔جمالؔ وارثی ریاست نانپارہ میں کافی وقت تک سربراہ کار کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دتے رہے۔آزادی کے بعد آپ نے کچھ دنوں تک تکیہ کلاں خانکاہ حضرت عنایت علی شاہ بڑی تکیہ میں منیجر کی حیثیت سے خدمات انجام دی۔جمالؔصاحب عوامی شاعرنہ تھے بلکہ ادبی نشستوںمیں شرکت ضرور کرتے تھے۔عبرت ؔ بہرائچی صاحب لکھتے ہیں کہ جمالؔ وارثی سخنوارنِ بہرائچ میں ایک الگ مقام رکھتے تھے۔ اشعار پر گہری نظر رکھتے تھے۔شعراء کرام ان سے خائف و محتاط رہتے تھے۔آپ کم گو مگر خوب گو تھے۔شعر چھان پھٹک کر کہتے تھے۔ہمیشہ اچھا شعر کہنے کی کوشش کرتے تھے۔ہمشہ شعر گوئی میں صفائیوستھرائی کا خیال رکھتے تھے۔آپ کا کلام ژاژخائی اور ہرزہ سرائی سے پاک رہتا تھا۔ جمالؔ وارثی کی وفات ۲؍شعبان۱۳۷۸ھ مطابق۱۱؍فروری۱۹۵۹ءمیں ہوئی اور تدفین احاطہ شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ میں واقع خاندانی قبرستان میں شاہ نعیم اللہؒ صاحب کے قریب میں ہوئی۔ آپ کے پسماندگان میں ایک بیٹے شہر بہرائچ کے مشہو و معروف وکیل سید مسعودالمنان صاحب ایڈوکیٹ بقید حیات ہے،اس کے علاوہ آپ کے ایک صاحبزادے سید عبد المنان (جو شہرکے مشہور ہاکی کھلاڑی تھے۔) اور چاروں صاحبزادیوں کا انتقال ہو چکا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں بہرائچ اردو ادب میں-۲ -جنید احمد نور )
منشی محمد یار خاں رافت ؔبہرائچی :آپ کی پیدائش۱۹۰۲ءمیں صوبہ اترپردیش کے مشہور ادبی شہر بہرائچ میں ہوئی تھی۔ رافتؔ بہرائچی کے والد کا نام معصیب خاں تھا۔منشی محمد یار خاں رافت ؔبہرائچی شہر بہرائچ کے مشہور منشی ہونے کے علاوہ مشہور استاد شاعر بھی تھے۔ نعمتؔ بہرائچی آپ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ”رافت ؔبہرائچی جگرؔ بسوانی کے شاگرد تھے،اور داغؔ دہلوی کی تقلید میں شعر کہتے تھے۔ آپ کی زبان صاف اور شستہ کلام آراستہ و سنجیدہ ہے۔ آپ مشہور شاعر سید ریاست حسین شوقؔ بہرائچی کے ہمعصر تھے۔انجمن ریاض ادب شہر بہرائچ کے صدر تھے۔“ رافتؔ بہرائچی کا ایک شعری مجموعہ انکی وفات کے تیس سال بعد انکی دختر جوہی نے۱۹۹۳ءمیں ’’ ناز و نیاز‘‘کے نام سے شائع ہوا،جو چار عنوانوں سوز دل،ساز دل سوز ہستی، ساز ہستی پر مشتمل ہے۔ ساز دل قطعات اور سوز ہستی مخمسات پر مبنی ہے، جبکہ سوز دل میں رافت صاحب کیدور اول کی غزلیں اور ساز ہستی میں دور ثانی کی غزلیں شامل ہیں جنھیں باعتبار ردیف الف تا یا کی ترتیب سے شامل کیا گیا ہے۔(تذکرۂ شعرائے ضلع بہرائچ،نعمت بہرائچی۱۹۹۴ءص ۳۶)
رافتؔبہرائچی کی وفات۲۷؍مارچ۱۹۶۱ءمطابق۹؍شوال۱۳۸۰ھ کو ہوئی۔ آپ کی تدفین شہر کے مشہور قبرستان چھڑے شاہ تکیہ بہرائچ میں ہوئی۔
حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: راقم کے پر پر نانا حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی کی پیدائش۱۹۰۲ءمیں اتر پردیش کے تاریخی شہربہرائچ کے محلہ برہمنی پورہ چوک بازار میں حاجی براتی میاں نقشبندیؒچونا والے کے یہاں ہوئی تھی۔آپ کے والد شہر کے معجز شخصیات میں تھے۔آپ کے والد شہر بہرائچ کے ریئسوں میں شمار ہوتے تھے۔ انھوں نے گھر پر ہی عربی، اردو اور فارسی زبان کی ابتدائی تعلیم حاصل کی بعد میں شہر کے اسکول سے مڈل تک کی تعلیم حاصل کی۔آپ فارسی ،اردو اور انگریزی زبانوں پر مہارت رکھتے تھے۔شفیع صاحب چونا اور بیڑی سگریٹ کا کاروبار کرتے تھے۔ٹکہ ماچسWimco Ltd))اورنمبر۱۰سگریٹ(NTC Industries) کے ڈسٹری بیوٹر تھے۔شہر کے مشہور’’ سنگم ہوٹل‘‘ کے بانی بھی تھے۔ شہر بہرائچ کے مشہور تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کا ادبی سفر۱۹۳۰ءکے دور میں شروع ہوتا ہے جب آپ نے باقاعدہ شاعری شروع کی۔آپ نے بزریعہ خط کتابت حضرت جگر ؔ بسوانی سے اپنے کلاموں کی اصلاح کرائی اور انکے شاگرد بنے۔بعد میں رافت ؔ بہرائچی سے صلاح اور مشورہ لیتے تھے۔رافت ؔ بہرائچی بھی حضرت جگر ؔ بسوانی کے شاگرد تھے،اور روز آ پ کی دکان پر آتے تھے۔حاجی شفیع اللہ شفیع ؔ بہرائچی کی وفات ۶؍جولائی۱۹۷۳ء کوشہر کے محلہ چاندپورہ واقع رہا ئش گاہ پر ہوئی۔آپ کی تدفین احاطہ حضرت حیرت شاہؒ میں آپ کے والد حاجی براتی میاں نقشبندیؒ کے پہلو میں ہوئی۔
حکیم محمد اظہرؔ وارثی:بہرائچ کے مشہور حکیم اور شاعر حکیم محمد اظہر وارثی کی پیدائش۱۹۰۵ءمیں شہر بہرائچ کے مشہور حکیم و روحانی بزرگ حکیم محمد مظہر وارثی کے گھر میں ہوئی۔آپ کی پیدائش بارہ بنکی کے موضع گدیہ میں ہوئی تھی۔ آپ حکیم صفدر علی وارثی صفاؔ کے بھتیجے تھے۔حکیم محمد اظہر وارثی نے علمیت کی تعلیم کانپور کے مدرسہ الٰہیات کانپور سے حاصل کی جہاں آپ کے استادوں میں مولانا ابو لکلام آزاد بھی شامل تھے۔ حکیم اظہر صاحب کو شاعری کا شوق تھا اور آپ کو مشہور مجاہد آزادی و شاعر انقلاب حسرتؔموہانی سے شرف تلمذ حاصل تھا۔ آپ شہر بہرائچ کے مشہور حکیم تھے اور کامیاب شاعر بھی تھے۔ حکیم اظہرؔوارثی کو ادب سے گہرا لگاؤ تھا۔ حکیم اظہرؔ صاحب نے اردو کےساتھ ساتھ فارسی زبان میں شاعری کی۔ آپ کا کوئی بھی مجموعہ کلام شائع نہ ہو سکا۔آپ مشہور شاعر اظہارؔوارثی کے والدتھے۔آپ کی وفات ۱۲؍جون۱۹۶۹ءکو ہوئی تھی۔ آپ کی تدفین شہر بہرائچ کے مشہور خانقاہ تکیہ کرم علی شاہ المعروف بہ چھوٹی تکیہ کے قبرستان میں ہوئی تھی۔ ( یہ بھی پڑھیں بہرائچ اردو ادب میں – جنید احمد نور)
بابولاڈلی پرشاد حیرتؔبہرائچی:بابولاڈلی پرشاد حیرتؔبہرائچی کی پیدائش محلہ بڑی ہاٹ شہر بہرائچ میں ہوئی تھی۔ آپ شہر بہرائچ کے مشہور وکیل تھے۔ بابولاڈلی پرشاد حیرتؔبہرائچی شہر بہرائچ کے نامور وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ شہر کے نامور شاعر بھی تھے۔ آپ شہر کی ادبی تنظیم ریاض ادب بہرائچ کے جنرل سکریٹری تھے۔
منشی عبد الخالق صعید ؔ بہرائچی:منشی عبد الخالق صعید ؔ بہرائچی ایک کہنہ مشق اور صاحب کتاب شاعر ہوئے ہیں۔آپ کی سن ولادت اور سن وفات نہیں معلوم ہو سکی ۔آپ کے چھوٹے صاحبزادے مشہور تاجر حاجی مشتاق احمد میکرانی سے راقم الحروف نے کئی بار معلومات کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے کوئی جانکاری نہیں مل سکی۔بہرحال آپ کا تذکرہ کرتے ہوئے نعمت ؔبہرائچی صاحب نے آپ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جناب صعید ؔبہرائچی مرحوم کی ایک مطبوعہ کتاب ’’ مناجات صعید‘ ‘ دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ دین دار صوفی منشن تھے۔صعیدؔ کے کلام میں فکر اورجذبے میں اتنی ہم آہنگی ہے کہ دوئی کا تصور ہی نہیں پیدا ہوتا۔جذبے کی صداقت ان کی شاعری میں بدرجہ اتم موجود ہے۔آپ ریاست جمدان میں ضلعدار تھے۔ملازمت ختم ہونے کے بعد تمباکو کا کاروبار کر لیا تھا۔بہت ہی زودگوشاعر تھے۔
عبد الرحمن خاں وصفیؔ بہرائچی:عبد الرحمن خاں وصفیؔ بہرائچی ضلع بہرائچ کے ایک مشہور استاد تھے۔ وصفی ؔصا حب کی پیدائش۲۲؍اکتوبر۱۹۱۴ءکو شہر کے محلہ میراخیل پورہ بہرائچ میں ہوئی تھی۔ آپ کے والد کا نام حافظ عبد القادر اور والدہ کا نام محترمہ مقبول بیگم تھا۔وصفی ؔ صاحب کے جداعلیٰ مولوی ضامن علی خاںانیق ؔبہرائچی بہرائچ تشریف لائے اوریہیں کے ہو کے رہ گے۔انیقؔ بہرائچی صاحب بیاض اور صاحب کتاب شاعر تھے۔وصفی صاحب نے شاعری کا سفر ۱۹۴۰ءمیں ایک آل انڈیا طرحی مشاعرے سے کیا تھا۔حضرت والی آسی وصفیؔ صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ”سید سالار مسعود غازیؒکی آخری آرامگاہ(بہرائچ) عبد الرحمن خاں وصفی کا مولد و مسکن ہے۔آپ کا خاندان بہرائچ میں کئی پشتوں سے آباد ہے اور ان کے خانوادے میں تصوف اور شاعری کی روایت بڑی قدیم ہے،چنانچہ وصفی صاحب کے کلام پر صوفیانہ رنگ کی جھلک نمایا طور پر نظر آتی ہے۔‘‘
وصفیؔصاحب کے شاگروںمیںحاجی لطیفؔبہرائچی،اطہرؔرحمانی اور فیضؔ بہرائچی کا نام قابل ذکر ہے۔ ۱۹۸۶ءمیں فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی لکھنؤ اتر پردیش کے مالی تعاون سے آپ کا غزلوں کا مجموعہ ’’ افکار وصفی ‘‘ شائع ہوا تھا۔ وصفیؔبہرائچی کا انتقال ۱۳؍اپریل۱۹۹۹ءمیں شہر بہرائچ کے محلہ قاضی پورہ میں واقع مکان میں ہوا تھا اور تدفن شہر کے عیدگاہ قبرستان میں ہوئی۔
واصفؔ القادری :عبدالوارث مشہود علی واصف ؔالقادری کی پیدائش مارچ ۱۹۱۷ءمیں بہرائچ ضلع کی ریاست نانپارہ میں محلہ توپ خانہ ،نانپارہ میں ہوئی۔ آپ کا آبائی وطن خیرآباد ضلع سیتاپور تھا۔آپ کے والد مولانا حاجی حافظ سید مقصود علی خیرآبادی درگاہ غوثیہ میں معتمد کے عہدے پر فائز تھے۔خیرآباد کے مشہور شاعرریاضؔ خیرآبادی، مضطرؔ خیرآبادی نیّرؔ خیرآبادی وغیرہ آپ کے عزیزوں میں سے تھے۔واصفؔ صاحب کا نسبی تعلق سندیلہ کے سلسلہ قادریہ نقشبندیہ کے صوفیبزرگ سید مخدوم نظام سے تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب مخدوم الہدایہ قدس سرہ سے ملتا تھا۔ آپ کے خاندان میں علم و فضل شعروادب اور تصوف کا شروع ہی سے چرچا رہا اور آپ کے خاندان میں مشاہیر علم و ادب پیدا ہوتے رہے۔واصف ؔالقادری صاحب نے ابتدائے شاعری میں اصغرؔ رشیدی نانپاروی تلمذہ پیارے صاحب رشیدؔلکھنوی سے مشورہ شخن حاصل کیا بعد میں مذہبی شاعری کی طرف رجحان ہوا اور مشق سے کلام میں پختگی محسوس کرنے لگے تو سلسلہ ختم کر کے اپنی ذاتی صلاحیتوں کو رہنما بنا لیا۔ واصف القادری کے بارے میں بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ آپ صوفیانہ رنگ میں شعر کہتے تھے۔ واصفؔ االقادری نے نعت ،غزل ،رباعیات، قظعات اور مثنوی وغیرہ سبھی اصناف میں کلام لکھے۔
آپ کے ۳ شعری مجموعہ شائع ہوئے ۱۔مجاز حقیقت۲۔تجلیات حرم ۳۔ عزم وایثار ۔
خیرآبادکے مشہورشاعرنجمؔخیرآبادی آپکے حقیقی بہنوئی تھے۔قمرؔ گونڈوی اور نیپال کے مشہور شاعرنیپال کے سب سے اعلیٰ ادبی انعام یافتہ جناب حاجی عبدالطیف زرگر شوقؔ نیپالی آپ کے شاگرد ہیں۔ آپ کے بہت سے شاگرد ملک نیپال اور نانپارہ میں ہیں۔عرفان عباسی صاحب لکھتے ہیں کہ ’’واصف القادری نہ مشاعرہ باز شاعر تھے۔نہ پیشہ ور سکون قلب کے لئے احترام و عقیدت کے ساتھ نعت رسولؐکہتے تھے اور بزرگان دین کی شان میں قصائد کا نذرانہ پیش کرتے تھے۔‘‘(تذکرۂ شعرائے اتر پردیش جلد ۲۰ عرفان عباسی۲۰۰۰ء ص۳۰۶)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |