بسم اللہ الرحمن الرحیم
سائنس اور مذہب کا اختلاف کافی عرصہ سے چلا آ رہا ہے اور دونوں کے ایک دوسرے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے کافی مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ایک تضاد اور مخالفت کی فضا ہے۔
انیسویں صدی میں سائنسی ترقی جس مقام پر پہنچی اس نے کم و بیش یہ بات طے کردی کہ خدا کا تصور ماضی کا ایک افسانہ تھا جو تو ہم پرست انسانوں نے اپنی کم علمی کی بنا پر گھڑ لیا تھا۔یہ کائنات اور جو کچھ اس میں نظر آتا ہے وہ محض بخت و اتفاق کی کار فرمائی ہے جس کے پیچھے کوئی شعور اور ارادہ موجود نہیں۔
یہ صورت حال زیادہ عرصے تک جاری نہ رہ سکی۔بیسویں صدی میں سائنسی تحقیقات نے جو رخ اختیار کیا وہ بالکل برعکس نتائج دینے لگا۔فطرت کے مطالعے کے جدید ترین آلات جب وجود میں آئے تو معلوم ہوا کہ یہ کائنات جن اصولوں پر چل رہی ہے وہ اتنے محکم اور منظم ہیں کہ یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ ان کے پسِ پشت کوئی خارجی ارادہ کام نہ کررہا ہو۔ کائنات کا یہ ربط و نظم اتنا حیرتناک تھا کہ اسے صرف کوئی اندھا ہی نظرا نداز کرسکتا تھا۔ اسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوے آئن اسٹائن نے کہا تھا:
”There are only two ways to live your life. One is as though nothing is a miracle. The other is as though everything is a miracle.”
”زندگی گزارنے کی دو ہی سطحیں ممکن ہیں۔ ایک وہ جس میں کوئی چیز معجزہ نہیں لگتی۔ دوسری وہ جس میں ہر چیز معجزہ لگتی ہے۔”
کائنات کیسے وجود میں آئی؟ اس کو کسی نے بنایا یا کوئی خود کار نظام اس کے وجود کا سبب بنا؟ اس وسیع کائنات میں زندگی کی ابتدا کیسے ہوئی؟ مختلف جاندار کسی قوت کی کارفرمائی کی وجہ سے اپنی مستقل حیثیت میں پیدا کیے گئے یا پھر جاندار مختلف طبعی تبدیلیوں کی وجہ سے ایک دوسرے سے بنتے چلے گئے۔
اہل سائنس و فلسفہ نے اہل مذہب کی ساری باتوں کو افسانہ قرار دیا ہے۔مثلا سائنس نے اس کائناتی وجود کو بگ بینگ سے جوڑا ہے۔ جب کہ اسلام نے کائنات کی تخلیق کا ذکر کیا ہے، خالق کی بات کی ہے۔
کائنات کی تخلیق:بگ بینگ(Big Bang)
فلکی طبیعیات کے ماہرین ابتدائے کائنات کی وضاحت ایک ایسے مظہر کے ذریعے کرتے ہیں جسے وسیع طور پر قبول کیا جاتا ہے اور جس کا جانا پہچانا نام ’’بگ بینگ‘‘ یعنی عظیم دھماکا ہے۔ بگ بینگ کے ثبوت میں گزشتہ کئی عشروں کے دوران مشاہدات و تجربات کے ذریعے ماہرین فلکیات و فلکی طبیعیات کی جمع کردہ معلومات موجود ہیں۔
بگ بینگ کے مطابق ابتدا میں یعنی تقریباً 15 ارب سال قبل یہ ساری کائنات ایک بڑی کمیت (گولے) کی شکل میں تھی۔ پھر ایک عظیم دھماکا یعنی بگ بینگ ہوا، جس کا نتیجہ کہکشاؤں کی شکل میں ظاہر ہوا۔ پھر کئی کروڑ سال تک کائنات میں صرف توانائی بکھری رہی اور پھر رفتہ رفتہ درجہ حرارت کم ہونے کے بعدوہ سورج ،چاند، ستاروں اور دوسری اشکال میں ڈھل گئی۔ مگر تشکیل کے اس عمل میں گاڈ پارٹیکل نے مرکزی کردار ادا کیا۔ اب سائنس داںکئی برسوں سے اپنے اس نظریے کو ثابت کرنے کے لیے تجربات کررہے ہیں۔
قرآن پاک کی درج ذیل آیات میں ابتدائے کائنات کے متعلق بتایا گیا ہے:
أَوَلَمْ یَرَ الَّذِینَ کَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا (الانبیاء 30-21)
ترجمہ: ’’اور کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا‘‘
اس قرآنی آیت اور بگ بینگ کے درمیان حیرت انگیز مماثلت سے انکار ممکن ہی نہیں۔
مادہ پرست سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ کائنات ہمیشہ سے ہے اور اس زمین پر نظر آنے والی زندگی کسی اتفاق کا نتیجہ ہے۔جب کہ مذہب کہتا ہے کہ کائنات ابدی نہیں بلکہ ابدی خدا کی تخلیق ہے۔اسی طرح یہاں موجود زندگی اتفاق سے وجود میں نہیں آئی بلکہ ان موزوں حالات کا نتیجہ ہے جو ایک خالق نے یہاں قائم کررکھے ہیں۔
اس سلسلے میں مشہور ترکی مصنف ہارون یحیی نے اپنی کتاب ’’ کائنات کی تخلیق ‘‘ میں مختلف مظاہر کائنات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے اپنے نقطہ نظر کو سائنسی بنیادوں پر ثابت کرتے ہیں۔ ان کے استدلال کا اندازہ درج ذیل اقتباس سے کیا جاسکتا ہے ۔
”بگ بینگ سے ہونے والے کائناتی پھیلاؤ سے لے کر ایٹموں کے طبیعی توازنوں تک، چاروں کائناتی قوتوں میں مضبوطی کے فرق سے لے کر ستاروں میں بھاری عناصر کی تیاری تک، خلا کی جہتوں میں عیاں پراسراریت سے لے کر نظام شمسی کی ترتیب و تنظیم تک ،ہم کائنات کے جس گوشے کی طرف بھی نظر اٹھاتے ہیں، وہاں ہمیں ایک جچا تلا اور غیر معمولی نظم و ضبط دکھائی دیتا ہے۔مختصر یہ کہ ہے جب بھی ہم کائنات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہمارا سامنا ایک غیر معمولی صورت گری سے ہوتا ہے۔جس کا مقصد انسانی حیات کی نشوونما کرنا اور اسے تحفظ فراہم کرنا ہے۔اس صورت گری کے نتائج بھی بہت واضح ہیں۔ کائنات کی تمام تر جزئیات میں پوشیدہ یہی ڈیزائن یقینی طور پر ایک عظیم ترین خالق کی موجودگی کا ثبوت ہے جو کائنات کے ایک ایک جز کو قابو کیے ہوئے ہے۔اور جس کی قدرت اور دانائی لامحدود ہے۔ بگ بینگ کے نظریے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ وہی خالق ہے جس نے کائنات کو عدم سے تخلیق کیا۔”
(ہارون یحییٰ، مترجم: علیم احمد،کا ئنات کی تخلیق، ناشر: گلوبل سائنس ملٹی پبلی کیشنز، ۹۳۱۔سنی پلازہ، حسرت موہانی روڈ، کراچی ، پاکستان ،صفحہ ۲۴۱ )
سچی بات تو یہ ہے کہ خدا کے وجود کے حق میں جدید سائنس نے اتنی شہادتیں جمع کردی ہیں کہ خدا کو نہ ماننا اب سائنس نہیں بلکہ توہم پرستی کی بنیادوں پر ہی ممکن ہے۔اس بات کو بیان کرتے ہوئے ہارون یحیی لکھتے ہیں:
”آج نوبت یہ آگئی ہے کہ مادہ پرستی بجائے خود توہمات اور غیر سائنسی عقیدے پر مشتمل نظام میں تبدیل ہوچکی ہے۔امریکی ماہرِ جینیات رابرٹ گرفتھس اس روش کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمیں بحث کرنے کے لیے کسی ملحد کی ضرورت پڑی تو میں شعبہ فلسفہ کا رخ کروں گا۔ اس کام کے لیے شعبہ طبیعیات کچھ کام کا نہیں۔” (ایضا،صفحہ ۶۳)
پھیلتی ہوئی کائنات
1925ء میں امریکی ماہر طبیعیات ایڈون ہبل (Edwin Hubble) نے اس امر کا مشاہداتی ثبوت فراہم کیا کہ تمام کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہٹ رہی ہیں، جس کا مطلب یہ ہو کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ یہ بات آج مسلمہ سائنسی حقائق میں شامل ہے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ قرآن پاک میں کائنات کی فطرت اور خاصیت کے حوالے سے کیا ارشاد ہوتاہے:
وَالسَّمَائَ بَنَیْنَاہَا بِأَیْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ(الذاریات۵۱-۴۷)[
ترجمہ: ’’اور آسمانی کائنات کو ہم نے بڑی قوت کے ذریعہ سے بنایا اور یقیناً ہم (اس کائنات کو) وسعت اور پھیلاؤ دیتے جا رہے ہیں‘‘
عصر حاضر کا مشہور ترین فلکی طبیعیات دان اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) اپنی تصنیف اے بریف ہسٹری آف ٹائم میں لکھتا ہے۔ یہ دریافت کہ کائنات پھیل رہی ہے، بیسویں صدی کے عظیم علمی و فکری انقلابات میں سے ایک ہے۔
غور فرمائیے کہ قرآن پاک کے کائنات کے پھیلنے کو اس وقت بیان فرما دیا ہے جب انسان نے دوربین تک ایجاد نہیں کی تھی، اس کے باوجود متشکک ذہن رکھنے والے بعض لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن پاک میں فلکیاتی حقائق کا موجود ہونا کوئی حیرت انگیز بات نہیں کیونکہ عرب اس علم میں بہت ماہر تھے۔ فلکیات میں عربوں کی مہارت کی حد تک تو ان کا خیال درست ہے لیکن اس نکتے کا ادراک کرنے میں وہ ناکام ہوچکے ہیں کہ فلکیات میں عربوں کے عروج سے بھی صدیوں پہلے ہی قرآن پاک کا نزول ہو چکا تھا۔ (یہ بھی پڑھیں زبان کی حفاظت خوش گوار خاندان کی ضمانت ہے – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)
علاوہ ازیں اوپر بیان کردہ بہت سے سائنسی حقائق، مثلا بگ بینگ سے کائنات کی ابتدا وغیرہ سے تو عرب اس وقت بھی واقف نہیں تھے جب وہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے عروج پر تھے لہٰذا قرآن پاک میں بیان کردہ سائنسی حقائق کسی بھی طرح سے فلکیات میں عربوں کی مہارت کا نتیجہ قرار نہیں دیے جا سکتے۔ درحقیقت اس کے برعکس بات سچ ہے، عربوں نے فلکیات میں اس لیے ترقی کی کیونکہ فلکیاتی مباحث کو قرآن پاک میں اہم مقام دیا گیا ہے۔
قرآن مقدس میں انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تبارک وتعالی فرماتاہے:
”بے شک آسمانوں اور زمین کی خلقت اور رات اور دن کی آمد و شد میں اہل عقل کے لیے بہت سے نشانیاں ہیں۔ ان کے لیے جو کھڑے، بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی خلقت پر غور کرتے رہتے ہیں۔(وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ) اے ہمارے پروردگار تونے یہ کارخانہ بے مقصد پیدا نہیں کیا ہے۔ تو اس بات سے پاک ہے (کہ کوئی کام بے وجہ کرے)۔ سو تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔”(آل عمران ۔۱۹۰۔۱۹۱)
واضح رہے کہ کائنات کی ابتداء اور انسان کی تخلیق کے حوالے سے پیش کردہ مذہبی تصورات اور سائنسی نظریات میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ سائنسی نظریات کی بنیاد حسی تجربات ہیں جبکہ مذہبی تصورات کی بنیاد وحی الہٰی یا پھر وجدان و الہام۔ جدید دور میں اشیاء کو دیکھنے اور سمجھنے کا انداز بد ل چکا ہے اور حقیقت حال تک رسائی کی بنیاد حسی تجربہ قرار پا چکا ہے۔
اب کیا یہ ضروری ہے کہ ہم مذہبی تصورات کو بھی اسی زاویے سے دیکھیں اور پرکھیں جس طرح سائنس دیکھتی ہے یا پھر ہمیں یہ کوشش کرنا ہو گی کہ ہم انسانی حسیات کے محدود ہونے کو مدنظر رکھتے ہوئے حسی تجربات اور وحی کے مابین ایک حد فاصل قائم کریں؟
اندھی تقلید چاہے کسی مسلک کی ہو یا سائنسی علوم و فنون کی، دونوں لحاظ سے ہی قابل قبول نہیں ہے۔ کیونکہ تعداد کی کثرت کسی بھی لحاظ سے حقانیت کا ثبوت نہیں ہو سکتی۔ لہذا اس وقت اگرچہ سائنسی نظریات و تصورات کو دنیا میں بلند تر مقام حاصل ہے، مگر ہمیں اندھی تقلید کے ذریعے اس کے مرعوبین میں شامل ہونے کی بجائے اسی کے تیار کردہ جدید آلات و ہتھیاروں کے استعمال سے اس کو دلائل و شواہدات پر مبنی ٹھوس اور بھرپور جواب فراہم کرنا ہو گا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سائنس اور مذہب میں تصادم کیوں؟ دراصل سائنس کی بنیاد بھی دیگر انسانی علوم کی طرح چند فلسفیانہ کلیات پر ہوتی ہے جن کا ماخذ انسانی عقل ہے۔
سائنسی نظریات کا مدار انسانی تجربہ اور عقلِ محض پر ہے اور انسانی عقل و تجربہ میں تغیر کا وقوع فطری بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسی نظریات جدید تجربات کی وجہ سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس مذہبی نظریات کا تمام تر مدار نقل پر ہے خواہ وہ سماع کی صورت میں ہو یا وحی کی۔ اگرچہ بعض مذاہب بالخصوص اسلام عقل کے استعمال کی نہ صرف اجازت بلکہ اس کی ترغیب دیتا ہے، لیکن وہ عقل مذہبی قیودات سے اس قدر آزاد نہیں ہوتی جو مذہب کے بیان کردہ مسلم نظریات کو ہی رد کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی نظریات تبدیل نہیں ہوتے اور شائد یہی بنیادی سبب ہے سائنس اور مذہب میں تصادم کا۔
آج مذہب کو سائنسی نظریات سے جو خطرات لاحق ہیں، ان کے سامنا کیسے کیا جائے؟
اس کا قابلِ قبول حل وہی ہے جسے قدیم مسلم مفکرین نے یونانی فلسفہ کے نظریاتی سیلاب کو روکنے کے لیے علمِ کلام کی بنیاد رکھ کر اختیار کیا، لیکن اس واضح فرق کا لحاظ رکھتے ہوئے کہ فلسفہ اپنے قدیم نظریات ترک کر کے جدید نظریات اختیار کر چکا ہے۔ لہٰذا جدید فلسفیانہ نظریات کی تردید کے لیے جدید علمِ کلام کی ضرورت ہے۔
نیز اس ضمن میں چند گزارشات حسب ذیل ہیں:
۱۔ قرآن فہمی میں مہارت تامہ حاصل کرنے کے بعد متنِ قرآن و حدیث سے براہِ راست استفادہ کرتے ہوئے عقلی انداز میں فلسفیانہ سوالات کا جواب فراہم کیا جائے۔
۲۔ قدیم مسلم متکلمین کی تصانیف کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کر کے کلام کا طریقہ سمجھا جائے اور جن فلسفیانہ نظریات کا اس میں رد کیا گیا ان کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
۳۔ قدیم متکلمین سے کوئی اصل نقل کرنے سے قبل اس بات کی تحقیق کر لی جائے کہ اس اصل کی موجودہ فلسفہ میں کیا حیثیت ہے۔
۴۔ عصر حاضر میں پیدا شدہ فلسفیانہ نظریات اور ان کی بنیادوں کو سمجھا جائے۔
۵۔ سائنسی میدان میں ہونے والی نظریاتی تبدیلیوں پر خاص نظر رکھی جائے۔
۶۔ اب تک جن مسلم محققین نے سائنس اور مذہب کے موضوع پر کام کیا ہے، اس کا بنظر عمیق مطالعہ کیا جائے۔
۷۔ عصر حاضر کے مسائل پر نظر رکھتے ہوئے قدیم علم الکلام کی روشنی میں جدید علم الکلام کی تشکیل کی کوشش کی جائے۔
ایک مشہور قول نقل کرکے اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ ”سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی ہے اور مذہب سائنس کے بغیر اندھا ہے۔” (بقول مشہور ماہر طبیعیات اور نوبل انعام یافتہ البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein)
ڈاکٹر انیس الرحمن
شعبٔہ اسلامک اسٹڈیز
جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی
E-mail: anisurrahman1@jmi.ac.in
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


3 comments
[…] اسلامیات […]
[…] اسلامیات […]
[…] اسلامیات […]