تاریخ شاہد ہے کہ شہر خوش جمال بھوپال ہر دور میں نہ صرف اپنی علمی ادبی زرخیزی کے سبب ممتاز رہا بلکہ رہروان فکروفن کے لئے ایک شجر سایہ دار بھی ثابت ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ شعر و ادب کے کتنے ہی شناور یہاں آئے اور اس کی سحرآگیں فضا میں ہمیشہ کے لئے قید ہوگئے۔ لیکن جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ملک کی آزادی کے بعد اردو زبان کو جب راندہِ درگاہ کیا گیا تو اس کی لپیٹ میں وہ گھرانے بھی آگئے جو اس شیریں زبان اور اس سے وابستہ تہذیب کے امانت دار تھے۔ ان حالات میں وہ نسل جو آج سے ساٹھ پینسٹھ سال پہلے عالم وجود میں آئی اس کے سامنے اردو کے نام پر وہ چند اخبارات اور رسائل تھے جن سے بزرگوں کی بھی کچھ نہ کچھ ذہنی وابستگی تھی۔ چنانچہ مذہبی اور اساطیری کتابوں اور ناولوں کے علاوہ شمع، بیسویں صدی اور جاسوسی دنیا جیسے رسائل کے توسط سے یہ نئی نسل اپنی تہذیبی زبان اور اس کی ادبی خوشبو سے آشنا ہوئی۔ مجھے نہیں معلوم کہ دور حاضر کے معتبر شاعر اخترؔ وامق نے اپنے تعلیمی مدارج اردو زبان کے ذریعے طے کئے یا وہ بھی اسی راستے سے میدان سخن میں آئے جس کا ابھی میں ذکر کررہا تھا لیکن ان کی شاعری میں جو لوچ اور زبان و بیان میں جو تازگی اور بے ساختہ پن ہے وہ اس بات کا غماز ہے کہ انھوں نے اردو زبان کو محض ڈگری کے حصول کے لئے نہیں بلکہ اپنے ادبی ذوق کو جلا بخشنے کے لئے حاصل کیا۔ ( یہ بھی پڑھیں شمس الرحمٰن فاروقی اورقصہ شب خون – ڈاکٹر عبدالحی)
اختر وامق صاحب کا بنیادی تعلق اودھ کے اس طبقہ اشرافیہ سے ہے جو اپنی موروثی نجابت، تہذیبی نفاست اور عقلی فراست کے سبب معاشرے میں صدیوں ممتاز رہا اور جس کی وضعداریوں اور رکھ رکھاؤ کے قصے ہمارے لئے آج بھی نصاب زیست کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اختر وامق کی کتاب زندگی کی ابتدائی اوراق پر ان کے بزرگوں کا عکس تحریر موجود ہے۔
اس سوال سے قطع نظر کہ اختر سعید کو وامق بنانے میں شام اودھ کا ہاتھ ہے یا شب مالوہ ان کے سامنے عذرا بن کر آئی اہم یہ ہے کہ زندگی کے بیشتر نشیب و فراز سے اسی بھوپال میں گزرے اور آج بھی اپنے سخن اور اپنی شخصیت سے یہاں کی مجلسی اور ادبی محفلوں کو شاداب بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”صحرا میں سائبان“ جو غزلوں پر مشتمل ہے ۱۹۹۹ء میں منظر عام پر آیا۔ پھر اہل ذوق کے اصرار پر انھوں نے ایک سال کے اندر ہی اپنی نظموں اور گیتوں کا مجموعہ ”خوابوں کی کرچیاں“ نے بھی پیش کردیا اور اب دس سال کے بعد ان کا تیسرا شعری مجموعہ ” سچ کے سو کچھ بھی نہیں ” ہماری بصارتوں کو روشن کر رہا ہے ۔
اختر وامق نے یوں تو بیشتر اصناف سخن پر طبع آزمائی کی ہے لیکن بنیادی طور پر وہ غزل کے اسیر نظر آتے ہیں۔ غزل یوں تو ہر دور میں اپنے عروضی پیرہن، دلکش آہنگ اور اپنے کلاسیکی ہاؤ بھاؤ کے سبب مقبول ترین صنف سخن رہی لیکن تقریباً پچاس سال کے تجربوں، تحریکوں اور رویوں سے گزر کر جب یہ بیسویں صدی کے ربع آخر میں داخل ہوئی تو اس کے وسیع کینوس پر دو رنگ خصوصیت سے نمایاں ہوئے۔ ان رنگوں میں ایک رنگ تو داغؔ اسکول کا تھا جو حسرت، سیماب اور جگرؔ جیسے شعراء کی فکر رسا کی بدولت پختہ ہوا۔ جبکہ دوسرا ر نگ میرؔ کے شیوۂ انداز سے ابھر کر سامنے آیا اور جس کو مستحکم کرنے میں ترقی پسند تحریک سے زیادہ جدیدیت کا ہاتھ تھا۔ دیکھا جائے تو اختر وامق کی غزلوں میں یہی رنگ نمایاں ہے۔ ان کی غزلوں کے اشعار میں جہاں مکالماتی طرز و ادا ہے وہیں بیشتر جگہوں پر خود کلامی کا انداز بھی موجود ہے۔
ہمارے علم نے جانے کہاں دھوکا دیا ہم کو
لغت میں گھر کا مطلب کچھ ہو مقتل تو نہیں ہوتا
تم ایسے کون سے تنہا کسی اپنے سے بچھڑے ہو
بچھڑتے سب ہیں لیکن کوئی پاگل تو نہیں ہوتا
کس سے کہوں کہ میرے لہو کے چراغ بھی
میری ہی زندگی میں اُجالے نہ کرسکے
گشت کرنے لگی ہیں افواہیں
دیکھئے دھوپ کب نکلتی ہے
اور کرتے بھی کیا دعا کے سوا
بد دعا سے زبان جلتی ہے
اک اپاہج سی تمنا جو پڑی تھی دل میں
میں نے کل رات اسے خواب میں چلتے دیکھا
کون کہتا ہے یہ تسکین نفس کی بات ہے
پھول سے خوشبو چرانا تو ہوس کی بات ہے
وہ گھر جسے بنانے میں بک جائیں سارے خواب
کیا ہو اگر کسی کو وہ گھر کاٹنے لگے
یہ جانتے ہیں ہم کہ کدھر سے چلے ہیں تیر
لیکن کسی کی سمت اشارہ نہ کرسکے
یہ اشعار جہاں زبان کی سادگی اور معنی آفرینی سے عبارت ہیں وہیں داخلی اور خارجی کیفیات کا ایسا منظرنامہ پیش کرتے ہیں جس میں ہماری روز مرّہ کی خوشیوں، غموں، خواہشوں ، کامیابیوں اور ناکامیوں کا عکس پوری طرح نمایاں ہے۔ اس کے علاوہ ایک استفہامیہ انداز بھی غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ اختر وامق کے اشعار میں ہرچند کہ گہری فلسفیانہ موشگافیاں اور ابہام کے خارزار نہیں ہیں۔ لیکن زندگی کا وہ مکمل بیانیہ موجود ہے جس میں آج کی صارفی اور مادّی دنیا کی تصویر بھی واضح ہے اور ہمارے شب و روز کا قرینہ بھی
کوئی کسی کے دکھ کو آخر کب تک اپنا دکھ سمجھے
دھیرے دھیرے تلخ ہوا اس شخص کا میٹھا لہجہ بھی
وہ جن بچوں کے منھ سے گالیاں بھی لطف دیتی ہیں
بڑے ہوکر انھیں کی سرکشی اچھی نہیں لگتی
بے مروّت بے حیا لوگوں میں ہے
وہ ترقی یافتہ لوگوں میں ہے
کام آسکتے ہیں پر آتے نہیں
جانے کیسی یہ ادا لوگوں میں ہے
یہ اور اس طرح کے بہت سے اشعار نہ صرف یہ کہ اختر وامق کی فکری توانائی کا اشاریہ ہیں بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہیں کہ شاعر زندگی کے حادثات وقعات کا صرف تماشائی نہیں ہے بلکہ ذہنی اور فکری طور پر ان راستوں سے گزرا بھی ہے۔ یہاں انتشار کے مقابلہ میں ایک ایسے غم کی جھلک ہے جس کا تعلق روح سے ہے۔ آج جب ہم لہجے کی انفرادیت کی جگہ الفاظ کے تاثرات اور معاشرے کے واقعات کو اہمیت دینے لگے ہیں اختر وامق کی شاعری میں انفرادیت کی جھلک بھی ہے اور زندگی کی تڑپ بھی۔
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

