علامہ جمیل مظہری نے تمام شعری اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ مرثیہ، قصائد،مثنوی،غزل، نظم کے علاوہ انہوں نے چند سلام بھی کہے ہیں۔یہی نہیں انہوں نے نثر میں زور آزمائی کی، اور ان کے افسانے، ان کی تنقید، مذہبی مضامین کے علاوہ ایک ناولٹ بھی لکھا ہے۔ گویا مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو یہ کہنے میں کوئی تامل نہ ہوگا کہ جمیل مظہری نے نہ صرف تمام صنف سخن میں طبع آزمائی کی بلکہ ان میں اپنی ایک انفرادیت بھی قائم کی۔حالانکہ انہوں نے اپنی شاعری کو دوئم درجے کی شاعری قرار دیا ہے۔جو ان کے منکسر المزاجی کی مثال ہے۔یہاں میر ا مقصد جمیل مظہری کی شاعری کا عمومی جائزہ لینے کا نہیں، میری یہ کوشش ہے کہ میں جمیل مظہری کے سلام تک اپنی بات محدود رکھوں۔
اردو میں رثائی ادب کی ایک لمبی تاریخ ہے۔انیس اور پھر دبیر نے اس صنف شاعری میں جو کمال حاصل کیا وہ کسی اور کو نصیب نہ ہوا، باوجود اس کے کئی ایسے شعرا ہیں جنہوں نے اس صنف شاعری میں طبع آزمائی کی اور اپنی ایک الگ شناخت بھی قائم کی، انہی شعرا میں ایک اہم نام علامہ جمیل مظہری کا ہے۔علامہ جمیل مظہری نے شاعری کی تمام اصناف کو اپنے جذبات و احساسات کی ترجمانی کے لیے استعمال کیا۔ جمیل مظہری کے ناقدین نے ان کی شاعری کی مختلف زاویے سے تعبیر و تفہیم کی ہے، مگر جہاں تک ان کے سلام نگاری کا تعلق ہے تو میرے مطالعہ کے مطابق ناقدین نے ان کی سلام نگاری پر کچھ بھی نہیں لکھا۔ممکن ہے بعض لوگوں کا خیال ہو کہ سلام کی تعداد کم ہونے کے سبب اس جانب توجہ نہیں دی گئی ہو۔باوجود اس کے میرا خیال ہے کہ ایک بڑے شاعر کی تمام تحریروں یا کلام کا خواہ تعداد میں وہ جتنی بھی کم ہوں جائزہ لینا ضروری ہے۔میں نے جمیل مظہری کی سلام گوئی کو سمجھنے کی ایک طالب علمانہ کوشش کی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیںکلیم عاجز کے شخصی مرثیے- ڈاکٹر سلمان فیصل)
اردو میں سلام نگاری کا آغاز کب ہوا اس ضمن میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا،مگر بعض محقیقین کا خیال ہے کہ اس صنف کی روایت شروع سے ملتی ہے۔ولی دکنی ، مصطفی خاں یک رنگ، وغیرہ کے یہاں سلام کے نمونے ملتے ہیں۔گویا سلام کی ابتدا بھی جنوبی ہند سے ہوئی۔ابتدا میں سلام کا مقصد بزرگان دین اور روحوں پر براہ راست درود و سلام بھیجنا ہوتا تھا۔جہاں تک سلام میں پیش موضوعات کا سوال ہے تو اس میں اخلاقی مضامین کی کثرت ملتی ہے۔سلام کے فن اور موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے امداد امام اثر لکھتے ہیں:
’’سلام میں غزل کی طرح اعلیٰ درجے کے مضامین از قسم واردات قلبیہ و معاملات ذہنیہ باندھتے ہیں۔مگر ان میں غزلیت کا رنگ پیدا ہونے نہیں دیتے۔سلام کی ترکیب کو رنگینی کے ساتھ بھی غزل سے علاحدہ ہونا چاہیے، سلام گوئی کا لطف یہی ہے کہ شوخیٗ رنگینی اور طبیعت داری کے ساتھ بھی غزل سرائی سے جدا نظر آئے۔ عموما سلام میں واقعۂ کربلا و شہادت امیر المومنین و شہادت امام حسن ؓ ومصائب خاتون جنت ورحلت حضرت رسالت مآب صلوۃ اللہ و سلام علیہم الی یوم القیام کے داخل ہوتے ہیں…علاوہ ان کے اخلاقی و تمدنی و مذہبی و دیگر امور جلیلہ جن سے شاعری کی زینت متصور ہے۔ منظوم کیے جاتے ہیں۔‘‘
(کاشف الحقائق، امداد امام اثر۔ ص ۱۷۷)
سلام دراصل ایسی صنف شاعری ہے جو عموما غزل کے فارم میں لکھی جاتی ہے، مگر اس کا مرکزی خیال مرثیے کے موضوعات سے قریب ہوتا ہے بلکہ موضوعات کے وسعت و تنوع کے لحاظ سے یہ مرثیہ کی ایک اضافی حیثیت ہے۔
جہاں تک جمیل مظہری کا تعلق ہے تو جمیل مظہری کو مرثیہ خوانی و مرثیہ نگاری ورثے میں ملی تھی۔ ان کے والد سید خورشید حسنین خورشیدؔ بھی شاعر تھے اور مرثیے سے خاص دلچسپی رکھتے تھے۔ سید خورشید حسنین خورشید انیس کے مداح تھے اور مجالس عزا میں وہ کلام انیس کو اکثر پڑھا کرتے تھے۔ ان کے کلام میں بھی انیس کا رنگ غالب نظر آتاہے۔جہاں تک جمیل مظہری کی مرثیہ نگاری کا تعلق ہے تو انہوں نے بھی انیس کارنگ مرثیہ خوانی قبول کیا، باوجود اس کہ جمیل مظہری کا اپنا ایک اسلوب بھی ہے۔ علامہ جمیل مظہری نے مرثیہ کے دونوں دبستانوں سے فیض حاصل کیا۔ مگر بنیادی طور پو ان کی طبیعت پر میرانیس کے کلام کے اثرات واضح نظر آتے ہیں۔
کلیات جمیل مظہری حصہ سوم(مراثی و قصائد)کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ جمیل مظہری کے چار سلام ہیں۔اس میں ایک کا تعلق انبیاء علیہ الصلاۃ و سلام سے ہے جب کہ بقیہ سلام کا تعلق واقعۂ کربلا سے ہے۔دراصل جمیل مظہری کے سلام میں واقعات کربلا کا ذکر تو ملتا ہے مگر بینیہ یا رثائی اشعار کی تعداد کم ہے۔ظاہر ہے اس کی وجہ سلام کی ہیئت ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ سلام عموماََ غزل کے فارم میں لکھا جاتا ہے، لہذا اس میں کسی ایک موضوع پر تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کرنا مشکل ہے۔دوسرے لفظوں میں بینیہ کے لیے نظم کا فارم مناسب ہے، یہی وجہ ہے کہ جو دل سوزی ہمیں مرثیے میں ملتی ہے وہ سلام میں نظر نہیں آتی۔جہاں تک جمیل مظہری کا تعلق ہے تو وہ بھی کسی موضوع پر تفصیل سے روشنی نہیں ڈالتے ، مگر جمیل مظہری کی خوبی ان کی منظر نگاری ہے۔ وہ کسی چیز یا واقعے کی تصویر کشی یوں کرتے ہیں گویا پورا منظر ہماری نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔جمیل مظہری نے شہادت کی منظر کشی کچھ اس طرح کی ہے کہ آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔
سنا تکبیر کا غل سر سے شانے تک ڈھلک آئی
ہوا کا رخ ردائے ثانیِ زہرا نے پہچانا
غش سے چونکے جو دم ظہر تو عابد نے کہا
قافلہ بڑھ گیا آوازِ دَرا بھی نہ ہوئی
جو امانت کی طرح رکھتا شہیدوں کا لہو
کربلا تیرے سوا ایسا کوئی صحرا نہ تھا
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے تعلق سے یہ کہا جاتا ہے کہ ان کو سجدے کی حالت میں شہادت نصیب ہوئی، دشمنوں نے انھیں نماز تک مکمل کرنے کی مہلت نہیں دی۔جمیل مظہری نے اس واقعے کو کچھ یوں پیش کیا ہے۔
حاصلِ طاعت کونین ہے بے شک وہ نماز
جو ادا بھی نہ ہوئی اور قضا بھی نہ ہوئی
واقعہ کربلا کا سب سے دل سوز واقعہ یہ ہے کہ بچے اور بڑے پیاس کی شدت میں تڑپ رہے تھے، مگر دشمن فوج کے سپاہیوں نے نہر کے ارد گرد پہرا داری کر رکھی تھی جس کی وجہ سے بچے بوڑھے عورت مرد سب پیاس کی شدت محسوس کررہے تھے۔پیاس اور ظلم کی شدت کے باوجود حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے احباب نے باطل کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔جمیل مظہری نے میدان کربلا میں مظلومین کی پیاس اور اس کی شدت کو ایک نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
کیوں کہوں راہ حق میں مظہری دریا نہ تھا
ایک کشتی تھی جسے طوفان نے گھیرا نہ تھا
وہ اک وہ ہیں کہ جن کی پیاس دریا کو نہ پہچانے
وہ اک وہ تھے کہ جن کی پیاس کو دریا نے پہچانا
جو بجھاتا تشنگی کو اصغر معصوم کی
ایک قطرہ بھی ترے دامن میں اے دریا نہ تھا
جو ہوا کے دوش پر جاتا لب معصوم تک
پاس تیرے علقمہ ایسا کوئی قطرہ نہ تھا
جمیل مظہری نے اپنے سلام میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو عظیم قربانی قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے جو واقعات میدان کربلا میں رونما ہوئے تاریخ میں اس جیسی مثال بہت کم دیکھنے کو ملے گی ۔جمیل مظہری کا خیال ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا مقصد دین کی حفاظت اور اس کی بقا تھا وگرنہ وہ دشمنوں کی بات کو تسلیم کرلیتے اور اعلی منصب حاصل کرلیتے۔
ان کا مقصود شہادت تھی حفاظت دین کی
تخت شاہی تو کبھی شبیر نے چاہا نہ تھا
آج کے تناظر میں اس شعر کو دیکھیں تو اندازہ ہوجائے گا کہ ہم حضرت امام حسین سے محبت کا خواہ جتنا بھی دم بھر لیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم ان کے پیروکار نہیں اور نہ ہی ان کے قول و فعل پر چلنا گوارا کرتے ہیں۔ہماری پستی کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہم نے اپنے اسلاف کی تعلیمات کو بھلا دیا،اورآج چھوٹے چھوٹے منصب کے لیے جھوٹ اور دروغ گوئی کو اختیار کررکھا ہے۔جو یقینا افسوس کا مقام ہے۔
جمیل مظہری نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی بہن حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا بھی ذکر کیا ہے۔ آنکھوں کے سامنے بھائی کی شہادت نے انھیں کس قدر بے چین کیا ہوگا اس کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا۔حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ جب انھیں شہادت کی خبر ملی تو وہ بے ساختہ باہر نکل گئیں اور انھیں اس بات کا بھی خیال نہیں رہا کہ ان کی چادر کہاں ہے، گویا جن کے بالوں کو کبھی آسمان نے بھی نہ دیکھا ہو وہ ننگے سر ہی باہر نکل آئیں۔جمیل مظہری کا خیال ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے باوجود حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے آنکھوں سے آنسو کا قطرہ بھی نہیں گرا۔اشعار دیکھیے:
چہرۂ زینب سے ظاہر تھا وقار حیدری
تھی جلالت آنکھ میں آنسو کا ایک قطرہ نہ تھا
آپ کی روح پہ یا حضرت زینب ہو سلام
بیکسی آپ کی ممنون ردا بھی نہ ہوئی
بیان کربلا کے اہم کردار کے طور پر حضرت حرکو کافی اہمیت حاصل ہے۔ حضرت حر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ میں داخل ہونے سے روکنے آئے تھے، مگر ان کی شخصیت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ حضرت امام حسین ؓ کے ہمراہ ہوگئے اور اللہ نے انھیں شہادت عطا کی۔تمام مرثیہ گویوں نے حضرت حر کی تعریف و توصیف بیان کی ہے۔ علامہ جمیل مظہری نے بھی اپنے سلام میں ان کا ذکر بڑے احترام کے ساتھ کیا ہے، بلکہ ان کا خیال ہے کہ مخالف فوج میں بہت سے لوگ تھے مگر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت ومرتبہ کو حضرت حر کے علاوہ کوئی نہ سمجھ سکا۔جمیل مظہری نے حضرت حر کی تعریف و توصیف کے ساتھ ان کی تلوار اور ان کے گھوڑے کا بھی ذکر کیا ہے۔ اشعار دیکھیے:
سب کے چہروں پر تھیں آنکھیں شمر ہو یا ابن سعد
دیدۂ حر کی طرح لیکن کوئی بینا نہ تھا
اللہ اللہ حر غازی کی چمکتی تلوار
فرس ایسا کہ حریف اس کی صبا بھی نہ ہوئی
جمیل مظہری کو اس بات کی شکایت ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو یاد کر کے لوگ آہ و بکا اور بین کرتے ہیں ، یہاں تک کے اپنے گریبان تک کو چاک کرلیتے ہیں مگر ان کی شہادت ان کی قربانی کے مقصد سے ہنوز ناواقف ہیں۔ظاہر ہے میدان کربلا کی جنگ کو حق و باطل کی لڑائی کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اللہ کے دین اور اپنے نانا امام الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلک کے تحفظ اور اس کی بقا کے لیے اپنی جان کا نذرانہ تک پیش کرنے سے گریز نہیں کیا۔ مگر یہ افسوس کا مقام ہے کہ ہم ان کی شہادت پر بین تو کرتے ہیں مگر ان کے بتائے ہوئے راہ پر چلنا گوارا نہیں کرتے۔ جمیل مظہری کو بھی اس بات کی شکایت ہے۔ اشعار دیکھیے۔
حیف اس قوم پہ غافل جو رہی حق سے جمیل
قتل مظلوم سے بیدار ذرا بھی نہ ہوئی
تجھے مظلوم ہر بینا و نا بینا نے پہچانا
جو تھا پہچاننے کا حق وہ کب دنیا نے پہچانا
امامت کی جو منزل تھی سمجھ میں آگئی سب کے
شہادت کا جو مقصد تھا وہ کب دنیا نے پہچانا
جمیل مظہری قوم کو جھنجھوڑتے ہوئے یہ احساس دلانا چاہتے ہیں کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت رائیگاں چلی گئی کیونکہ نہ تو کسی نے ان کے روزے پر آنسو بہائے اور تو اور ان کے قتل سے کوئی سبق بھی حاصل نہیں کیا۔جمیل مظہری کے مذکورہ بالا اشعار کو پڑھتے ہوئے دل غمگین ہوجاتا ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے تعلق سے یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا قتل سجدے کی حالت میں ہوا، جمیل مظہری نے بھی اس جانب اشارہ کیا ہے۔ ان کا یہ شعر دیکھیے تو جمیل مظہری کی انفرادیت بھی نظر آئے گی۔
حاصلِ طاعت کونین ہے بے شک وہ نماز،
جو ادا بھی نہ ہوئی اور قضا بھی نہ ہوئی
علامہ جمیل مظہری نے اپنی غزلوں اور نظموں میں اقبال کے رنگ کو اختیار کیا ہے، یہی رنگ ان کے سلام میں بھی ملتاہے۔یہی نہیں جمیل مظہری کے سلام میں استفہامیہ انداز بھی دیکھا جاسکتا ہے
خضر بھی بے دست و پا الیاس بھی بے دست وپا
ایک کشتی تھی جسے طوفان نے گھیرا نہ تھا
تیری رحمت عام عام اور میری رحمت گام گام
کیا سبب اس کا ہے میں تیرا کہ تو میرا نہ تھا
جمیل مظہری کے مرثیوں میں عصری حسیت بھی ملتی، انسان کے جذبات و احساسات کے ساتھ ان کی بے حسی، ارباب اقتدار کی خوشامد اور عصری مسائل جگہ بہ جگہ ملتے ہیں ، جہاں تک سلام کا تعلق ہے تو ایسے اشعار کی تعداد کم ہے جس میں عصری مسائل پر گفتگو کی گئی ہے۔
جمیل مظہری کی رثائی شاعری کو پڑھتے ہوئے ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے آہ و بکا ، ماتم و آہ وذاری نہیں نظر آتی بلکہ ان کے مرثیے اپنے آپ میں اصلاح قوم کا ایک بہترین ذریعہ بھی معلوم ہوتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ جمیل مظہری نے جو بھی سلام کہے اس میں ان کی انفرادیت نظر آتی ہے۔ جمیل مظہری نے سلام کی طرف اگر توجہ کی ہوتی تو یقینا وہ بیان کربلا کے ساتھ ساتھ عصری مسائل کو بھی پیش کرتے۔ جمیل مظہری نے سلام کیوں نہیں کہے اس بابت حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر یہ سچ ہے کہ جمیل مظہری کے یہ تین سلام ان کے فن کو سمجھنے کے لیے کافی تو نہیں مگر اہم ضرور ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

