جدیدیت کے علمبردار خالدہ حسین کے انتقال کی خبرپوری ادبی دنیا میں پھیل ہی رہی تھی کہ ۱۸؍جنوری۲۰۱۹ء کو یہ خبر بھوپال سے خاص و عام میں مشتہر ہوئی کہ اقبال مجید بھی اس دار فافی سے کوچ کرگئے۔کانوں کو یقین نہ آیا تو بھوپال میں ان سے قریبی ادب نواز حضرات سے رابطہ کیا تو ضیا فاروقی اور رشید انجم نے اس اطلاع کو صحیح قراردیا۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اردوکی محدود دنیا،اب واقعی محدود ہونے لگی ہے۔ایک طرف ہمارے بزرگوں کے داغِ مفارقت دینے کا سلسلہ طول پکڑتا جارہا ہے تو دوسری جانب یہ شکایت بھی بجا ہے کہ تخلیقی ذہنیت کا اردو ادب میں اب فقدان ہوتا جارہا ہے۔اگر صورتحال یہی رہی تو آئندہ بیس پچیس سالوں میں اردو ادب ناقد تو پیدا کرلے گا لیکن اسے ایسے فن پارے نصیب نہ ہوں گے جن کی بنیاد پر تنقید کی روح کا دار ومدار ہے۔اقبال مجید کا تعلق جس نسل سے تھا اسے ترقی پسندکہہ سکتے ہیں۔ہندستان میں عابد سہیل،اقبال مجیداور رتن سنگھ اس حوالے سے خاصے مقبول بھی ہوئے۔لے دے کر اب رتن سنگھ رہ گئے ہیں ۔اللہ انھیں سلامت رکھے۔پچھلے دنوں جب بھوپال جانا ہوا تو اقبال مجید کے آستانے پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ساتھ میں ضیا فاروقی تھے جوآفس کے کام چھوڑ کر ساتھ بھٹکے کو راہ دکھانے ہمارے ساتھ تھے۔ملاقات خاصی طویل رہی۔اس ملاقات کا تأثر بیان کرتے ہوئے اقبال مجید نے اس بات کا اظہار کیا کہ ایک زمانے کے بعد فکشن کے معاصر منظر نامے پر بات کرتے ہوئے اچھا محسوس ہورہاہے۔اس جملے میں ایک خاص طرح کا وزن تھا اور ایسا قطعی محسوس نہیں ہورہاتھا کہ وہ ہمیں اتنی جلدی داغ مفارقت دے جائیں گے۔اللہ انھیں غریق رحمت کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطافرمائے۔
اقبال مجید ۱۲؍جولائی ۱۹۳۴ء کو مراد آباد میں پیدا ہوئے لیکن آبائی مکان چودھری گڑھیا نام کے محلے میں واقع ہے جو لکھنؤ کا علاقہ ہے۔ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔اس کے بعد ۱۹۵۱ء میں ہائی اسکول ،۱۹۵۳ء میں انٹر میڈیٹ اور ۱۹۵۶ء میں لکھنؤ یونی ورسٹی سے بی اے کیا۔اسی زمانے میں وہ لکھنؤ کے ترقی پسند مصنفین کی نشستوں میں شریک ہوتے تھے۔ہم عصروں میں کمال احمد صدیقی،رتن سنگھ اور بزرگوں میں محمد حسن اور آل احمد سرور سے ملاقات کا شرف انہی نشستوں میں ہوتا تھا۔لکھنؤ کے ادبی ماحول سے انہیں اتنا گہرا لگاؤ ہو گیا تھا کہ علی گڑھ میں بی ایڈ میں داخلہ ہونے کے باوجود وہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کس طرح لکھنؤ کی سجی سجائی بزم کو چھوڑ کر کہیں اور کا رخ کیا جائے ۔بالآخر دوستوں کے مشورے پر ۱۹۵۷ء میں علی گڑھ آئے اور ۱۹۵۸ء میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے شعبۂ تعلیم سے بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی۔اس کے بعد اُن کا تقرر آل انڈیا ریڈیو،بھوپال میں ہوا۔کئی تبادلوں کے بعد بالآخر انہوں نے بھوپال کو اپنا مسکن بنایا۔اقبال مجید نے شاعری کے راستے ادبی دنیا میں قدم رکھا اور ’’مجرم ‘‘ تخلص اختیار کیا۔اس کے بعد افسانہ نگاری کی جانب پوری توجہ مبذول کی۔انھوں نے افسانہ نویسی کی ابتدا پچاس کی دہائی میں کردی تھی اور اُن کا پہلا افسانہ’’عدو چاچا‘‘۱۹۵۶ء میں ’’شاہراہ‘‘دہلی میں شائع ہوا جس کے مدیر ظ۔ انصاری (ظل حسنین انصاری) تھے۔یہ افسانہ ایک کردار کو سامنے رکھ کر لکھا گیا تھا۔افسانہ نگاری کی جانب مائل ہونے میں اے حمید اور شفیق الرحمن کے سنجیدہ افسانے اہمیت کے حامل ہیں۔اس کے علاوہ ترقی پسند تحریک کے زیر اثر اُن کی تر بیت ہوئی جس کا اعتراف انہوں نے اپنے مضمون میں کیا ہے۔’’میری ادبی تربیت ترقی پسند تحریک کے زیر سایہ ہوئی لیکن میں وہ ڈرپوک ترقی پسند نہ تھا جس کا افسانہ ’’شب خون‘‘ میں چھپنے سے ترقی پسندون کا بھرم بھرسٹ ہوجاتا ہے‘‘۔
اقبال مجید لکھنؤ کے ادبی ماحول میں افسانہ نویسی کی ابتدا کر چکے تھے۔ان کے دوستوں میں رتن سنگھ اور عابد سہیل وغیرہ بھی افسانوی دنیا میں اپنی شناخت قائم کرنے میں سرگرداں تھے۔بہ حیثیت مجموعی لکھنؤ کا ادبی ماحول اپنے شباب پر تھا لیکن اقبال مجید نے لکھنؤ کی محفل سے الگ رہ کر بھی ادبی دنیا سے منسلک رہے البتہ اس محفل کو ہمیشہ یاد کیا۔علی گڑھ،سیتا پور،شاہ جہاں پور اور بھوپال کے دورانِ قیام اُن کے فن میں پختگی آتی گئی۔چھہ افسانوی مجموعوں کے علاوہ دو ناولٹ بہ عنوان’’کسی دن‘‘۱۹۹۷ء اور ’’نمک‘‘۱۹۹۹ء اشاعت سے ہم کنار ہوچکے ہیں۔
آصف فرخی نے شہر زاد،کراچی سے جب ان کے افسانوں کا انتخاب شائع کیا تو اُس میں ابتدائی چار مجموعوں کے منتخب افسانوں کے علاوہ چند نئے افسانے بھی شامل تھے جو بعد میں ’آگ کے پا س بیٹھی عورت‘کے نام سے شائع ہوا۔اس کے بعد اردو داں طبقے کو یہ احسا ہوچلا کہ اقبال مجید اب زیادہ دنوں تک افسانے نہیں لکھ سکیں گے لیکن جب تازہ افسانوں کا انتخاب’خاموش مکالمہ‘کے عنوان سے آیااور قارئین نے محسوس کیا کہ اب بھی ان کے قلم میں تازہ کاری ہے تو لوگوں نے اس مجموعے کو شوق سے پڑھا۔اس مجموعے کو پڑھ کر ایسا نہیں محسوس ہوتا کہ عدوچچا،دو بھیگے ہوئے لوگ،پیٹ کا کیچوا،پوشاک،قصۂ رنگ شکستہ کے خالق ایسے لازوال افسانے بھی لکھ سکتاہے۔
خاموش مکالمہ ، اقبال مجید کے افسانوں کا چھٹا مجموعہ ہے جو 2017ء میں کتاب دار، ممبئی سے شائع ہوا۔ اس مجموعے سے کل بارہ افسانے ہیں جو تین حصوں میں منقسم ہیں۔ تینوں حصوں میں چار چار افسانے ہیں ۔ افسانے کا پہلا باب شمس الرحمن فاروقی کی نذر ہے ، دوسرا مہدی جعفر کی نذر اور تیسرا علی فاطمی کی نذر ہے ۔آخری مجموعے کاپہلا افسانہ ’’خاموش مکالمہ ‘‘ ہے جو عالمی منظر نامے کو پیش کرتا ہے جس کا ابتدائی جملہ کچھ اس طرح سے ہوتا ہے: ’’آمرانہ بدبختی کی جانب رینگتے ہوئے بدطینت اور بدصورت بچھ کھوپڑ جو زمین کے اندر رہتے ہیں اور بہت سخت جان ہوتے ہیں کیونکہ وہ تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں اس لیے جو جی چاہتا ہے اور جب تک جی چاہتا ہے کرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے ظلم سے زمین کہاں اور کتنی لال ہوئی‘‘۔
اس افسانے میں راوی ٹی وی اسکرین پر نظر جمائے چند لوگوں کے بحث مباحثے کو باریکی سے سن رہا ہے جس میں ایک اسپیکر دنیا میں مسلمانوں کو بد نام کیے جانے کی بات کررہا تھا اور وہ کہہ رہا تھا جس نے جرمنی میں یہودی کو مارے، کیا وہ مسلمان تھا یا جس نے عراق اور افغانستا ن میں جتنے بے قصوروں کو مارا گیا کیا وہ مسلمان تھا۔ تو دوسرا اسپیکر نفی میں سر تو ہلا دیتا ہے لیکن دل کے گوشے میں کہیں نہ کہیں یہ بات ضرور ہے کہ ان تمام مظالم کے ذمے دار مسلمان ہی ہیں جنھوں نے دنیا بھر میں دہشت گردی مچارکھی ہے۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ مسلمان ہی ایسی قوم ہے جو کچھ بھی کرسکتی ہے۔ ٹی وی کے اسکرین پر تیسرا آدمی اس طرح گویا ہوتا ہے: ’’میں کہتا ہوں بم رکھے جارہے ہیں ، دھماکے ہو رہے ہیں ، جانیں جارہی ہیں، گرفتاریاں بھی ہو رہی ہیں لیکن ہم کوغصہ نہیں آنا چاہیے۔ غصے اور بم میں یہی فرق ہے کہ بم ایک دم سے پھوٹتا ہے ، ذرا دیر کو لیکن غصہ پنپتا رہتا ہے۔ اندر ہی اندر پنپتا رہتا ہے پھلتا رہتا ہے۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں مشرقی تہذیب کا ترجمان: انجم عثمانی -ڈاکٹر سیفی سرونجی )
راوی تمام باتیں سن کر ایک ہی فیصلہ کرپاتا ہے کہ یہ کچھ جوہورہا ہے وہ پیسے کی وجہ سے ہورہا ہے پیسہ آج خدا کا درجہ رکھتا ہے ، تھوڑے سے پیسے کے لیے آج آدمی کچھ بھی کرسکتا ہے ۔ پیسہ کے لیے ہم عورتیں بیچتے ہیں ، بیٹیاں بیچتے ہیں ، اپنے دل گردے، آنکھیں اور ضمیر کیا کچھ نہیں بیچتے ۔
افسانہ ’’سوئیاں اور شر‘‘ تصوف کے موضوع پر لکھا گیا ایک عمدہ افسانہ ہے جس میں شیخ صلاح الدین کے کردار کو موضوع بناکر تصوف کے نکات کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے، ضمنی کرداروں میں گل شاہ، سلیمہ خاتون اور پیرومرشد آتے ہیں۔ پورے خانقاہ میں اس وقت کھلبلی مچتی ہے جب سلیمہ نام کی خاتون کا ایک خط شیخ کے نام آتا ہے۔ لوگوں میں افرا تفری پھیل جاتی ہے کہ آخر کیا ماجرا ہے تو گل شاہ اس کام پر معمور کیا جاتا ہے۔ جب کہ شیخ اپنے بارے میں جانتا تھا کہ وہ علم معرفت ، علم باطل اور سلوک کی تعلیم حاصل کرنے پندرہ سال قبل خانقاہ میں داخل ہوا تھا کیوں کہ اس کے باپ کی تمنا تھی کہ بیٹے کی زندگی روحانی برکتوں سے لبریز اور سینہ عشق کی آگ سے روشن ہوجائے لیکن آستانے کے وعظ اور پندونصائح کی تعلیم میں شیخ صلاح الدین کا جی نہ لگا۔ خانقاہ کی ساری ڈاک نائب سکریٹری کے پاس آتی تھی اور ساری ڈاک میں شیخ صلاح الدین کا لفافہ سب سے الگ ہوتا تھا کیوں کہ اسے بھیجنے والی اعلانیہ طور پر عورت ہوتی تھی۔ شیخ کی دو اولاد تھی اور بیوی زچگی میں ہی داغ مفارقت دے چکی تھی ۔ گل شاہ کی تحقیق کے مطابق وہ خط سلمہ ہی لکھتی تھی جس کا شوہر کسی موقع پر قتل کردیا گیا تھا ۔ وہ شیخ میں دلچسپی لینے لگی تھی کیوں اُسے معلوم تھا کہ دونوں کی ضرورت ایسے کی ہے جو ایک دوسرے کا خیال رکھیں ۔اب خانقاہ کے لوگ شیخ پر نگاہ رکھنے لگے تھے ۔ کچھ لوگوں نے شیخ کو شام کے وقت ایک مینا ر والی مسجد کی گلی سے نکلتے ہوئے دیکھا تھا ۔ شیخ سے پرخاش رکھنے والوں نے ایک گواہ بھی پیش کردیا کہ صلاح الدین ہومیوپیتھی کی ایک ڈاکٹرنی کے پاس جاتے رہتے ہیں اور اس بیوہ عورت سے مطلب خالی ہوجانے ہوجانے پر بڑی لگاوٹ سے باتیں کرتے ہیں ۔ خانقاہ کے پیرومرشد ایک دن شیخ کو بلاکر بتاتے ہیں کہ ایسی حرکت سے باز آجائے تو شیخ خانقاہ چھوڑ کر سلیمہ کے مکان میں منتقل ہوجاتا ہے اور دن میں اسکول کے دفتر کاکام کرتا ہے اور شام کو مہرا ٹاکیز میں گیٹ کیپری کرتاہے۔ نکاح کے بعد سلمہ کہتی ہے کہ وہ اب جس خانقاہ میں رہ رہا ہے وہ مرد عورت اور بچوں کے لیے ہے اور اس کے کچھ آداب واصول ہیں ۔ مرحوم شوہر کی لائی ہوئی جینس اورٹاپ نکال کر پہنتی ہے ، پار کر جاتی ہے اور نئے شوہر کے سامنے کھڑے ہوکر ہنسنے لگی جسے دیکھ کر شیخ کے ہوش اڑ جاتے ہیں کہ ہونٹ پر لپ اسٹک پتی ہے اور سر کے بال تراشے ہوئے ہیں تو اس کے باطن سے آواز آتی ہے کہ کلائی پر شیر بنوانے سے اس کے اندر اتنی سمت پیدا ہو سکے گی کہ وہ بیوی کو ایسی حرکت کرنے سے منع کر سکے جو اُسے پسند نہ ہوں لیکن اپنے بچوں کی تربیت کے لیے وہ کچھ نہیں بول پاتا ۔
افسانہ ’’ حنوط کی ہوئی تلوار‘‘ آج کے سیاسی منظرنامے کو تلخ حقائق کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ واقعے کی شروعات ایک تاریخ کے طالب علم کو گھر کی کھدائی کرتے ہوئے مکان سے زنگ آلود تلوار کی صورت میں ملی تھی ۔ وہ اسے ایک عام سی تلوار لگی تو وہ گہری نیند میں اسی تلوار کے متعلق ایک خواب دیکھا کہ شیر شاہ سوری گھوڑے پر سوار ہیں اور وہ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ان کے سرہانے جو تلوار رکھی ہے، وہ اسی کی ہے ۔ تو طالب علم کہتا ہے کہ کاش تم خواب کے بجائے حقیقت میں آجائو تو ایک دن کے اندر تمہیں مع گھوڑے کے حنوط کرکے کسی میوزیم میں ڈال دیا جائے گا۔ طالب علم ایم فل کررہا تھا تو اس نے مناسب سمجھا کہ اپنے پروفیسر یعنی پاس سے اس کا ذکر کیا جائے تو پروفیسر نے وہ تلوار کسی بھی صورت میں یہ کہہ کر حاصل کر لی کہ ذرا میں بھی لوگوں سے تحقیق کرالوں کہ واقعی یہ شیر شاہ سوری کی تلوار ہے بھی یا نہیں __پروفیسر کو تلوار کی عظمت کا اندازہ تو ہوگیا اسی لیے اس کی نیت بھی بدل گئی ۔ طالب علم مصروفیت کی وجہ سے یہ بھول گیا کہ تلوار کا معاملہ کیا ہے جب کہ پروفیسر شاطر ذہن کا مالک تھا وہ تگ ودو میں لگا رہا ۔ اپنے دوست کا منانا ئر سے اس نے اس بات کا ذکر ایک ایسے ہال میں جہاں ایک مقرر یہ کہہ رہے تھے کہ ’’ہماراآئین شروع سے ہی ہندو دشمن رہی ہے ‘‘ تو دونوں لکچر سننے کے بجائے کافی شاپ میں آگئے۔ انہی دورانیے میں پروفیسر وانی کے حوالے سے ایک خبر چھپی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پروفیسر کو حنوط کی ہوئی تلوار دستیاب ہوئی ہے جس کا تعلق مغلوں کے عہد سے مانا جارہا ہے ۔ تلوار پر سوری حکمرانوں کے پرچم کا نشان بھی صاف بنا ہوا ہے۔ یہ سن کر طالب علم اور کامنا سکتے میں آگئے کہ حنوط تو مردہ کو کہا جاتا ہے ، تلواروں کو کب سے حنوط کیا جانے لگا۔ اس کے بعد واقعے کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جانے لگا کہ یہ تلوار مہارانا پرتاپ کی ہے۔ وہ اس علاقے سے گزرے تھے ممکن ہے لٹیروں نے گھیر لیا ہو اور اس حملے میں مہارانا نے اس کے سردار کو مغلوب کرکے ہتھیار ڈالوادیے ہوں اور وہ سردار سوری خاندان کا رہا ہو ۔ طالب علم کے لیے یہ کوئی نئی نہیں تھی کیوں کہ اس نے تاریخ کے صفحات میں کئی ایسے واقعات دیکھے تھے جنھیں توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا تھا۔ کسی موقع پر معلوم ہوا کہ احمد آباد کے کسی امیر نے ڈیڑھ کروڑ میں اس تلوار کو خرید لیا ہے ۔ اب طالب علم کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ پولیس کے پیچھے پڑی ہے کہ وہ تلوار اس نے کیسے اور کہاں سے حاصل کیا وغیرہ وغیرہ ۔ رات کی تاریکی میں یہ خوف اور زیادہ بڑھ جاتا جب وہ اکیلا ہوتا ۔ اسے محسوس ہوتا کہ پولیس اس کے دروازے پر گشت کررہی ہے ۔ رات میں جب اس نے کامنا کو فون کیا تو اس نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ تم کیوں پریشان ہو ۔ تمہارا پروفیسر تمھیں دبّو سمجھتا ہے۔ زندگی کو اپنا دوست بناکر اور اس کے دوست بن کر چلو۔ تم جس پروفیسر کی بات کررہے ہو میں اس کے ساتھ سوچکی ہوں۔
افسانہ ’’ اپنے اپنے توتے ‘‘ میں بیان کی گئی کہانی دو مفلس اور نادار عورتوں سے شروع ہوتی ہے اور بعد میں ایسی شکل اختیار کرجاتی ہے کہ دونوں اس سوچ سے بھی ڈرجاتے ہیں۔ اسمٰعیل کھٹک کی ڈیوڑھی میں مالک مکان نے دو عورتوں کو اس لیے پناہ دی تھی کہ وہ دونوں وقت پر کام آسکیں ۔ ایک عورت کانام گلابو تھا تو دوسری کانام شتابو۔ گلابو کے پاس ایک توتا تھا اور شتابو کے پاس مینا۔ گلابو کی دوست جمالو تھی جس نے ایک مشورہ دیا کہ کیوں نہ توتے کو کچھ سکھا کر اُس سے پیسے حاصل کیے جائیں ۔ گلابو کو یہ بات پسند آئی اور اس نے توتے کو پڑھالکھا کر طوطا بابا آشرم کھول دیا اور اس سے ڈھیر سارے پیسے حاصل ہونے لگے ۔ یہ دیکھ کر شتابو کو تکلیف ہوئی کہ وہ کیوں نہ امر ہوئی ۔ اس نے اسمٰعیل خٹک کی بیٹی سے اپنا دکھڑا بیان کیا اور ساتھ میں اس کا ہونے والا شوہر بھی تھا جس کانام اقتدار عالم تھا ۔ شتابو نے کہنا شروع کیا ۔ ’’میری قسمت میں رونا ہی لکھا ہے ورنہ میرے پاس بھی ایک مینا ہے۔ پڑ پڑ بولتی ہے ، ایک گلابو کا توتا ہے کیا قسمت لے کر آیا ہے ۔ یہ سن کر دونوں نے بھی یہی ترکیب شتابو کو بتائی کہ وہ بھی مینا کو سکھا کر تعلیم یافتہ بنائے۔ اور لوگوںنے دونوںبوڑھیوں کااستعمال کرنا شروع کیا۔ کمائی دوسروں کے ہاتھ لگ رہی تھی بلکہ ان پرندوں کے لیے ایسے ماہرین تلاش کرلیے گئے جو توتوں میں روحانی خصوصیات ابھارنے کا دعویٰ کرتے تھے۔ کچھ ہی دنوںمیں خبر آئی کہ توتا اور مینا موسیقی کے بعض ٹکڑوں پہ حال اور قال کی کیفیت میں ہونے لگے تھے۔
افسانہ ’’مچھلی رے مچلی ‘‘ خوف وہشت کا المیہ ہے اور نئی صدی میں اس نے سماج میں کچھ زیادہ ہی جڑیں پھیلا رکھی ہیں۔ اس افسانے میں راوی یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ شہر میں کچھ شر پسند عناصر ایسے ہیں جن کے پاس کوئی کام نہیں ہے ، ان کے حلیے ایک سے ہیں اور اُن کے لباس بھی ایک ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ ان کی شکل جنگلی سور سے مشابہت رکھتی ہے تو کوئی انھیں جنگلی کتے کے مشابہ قرار دیتا ہے ۔ انتظامیہ بھی انھیں گرفتار کرنے سے قاصر ہے اور لوگوں کی یہ امیدیں بندھی ہے کہ انتظامیہ کے پاس کوئی خبر آئے گی اور لوگ تھانے جاکر واویلاکریں گے۔ پہلے ان کا مقصد تھا کہ حسین لڑکیوں پر تیزاب پھینکتے اور ان کے چہرے خراب کرتے۔ چوں کہ وہ بائک پر سوار ہوکر حملے کیا کرتے اسی لیے عوام نے سرکار سے تجویز رکھی کہ چھوٹی بیل گاڑی ، موٹر سائیکل کی جگہ چلائی جائے۔اس سانحے سے سابقہ ایک سال میں شہر کی دو سو بیالیس لڑکیوں نے چھت کسے پنکھے سے لٹک کر جان دے دی تھی اور موہنی کے مرنے کی خبر عام ہوچکی تھی ۔ سختی زیادہ بڑھی تو تیزاب کوکین سے زیادہ مہنگا ہوگیا اور ذرا ساشک ہوجانے پر پولیس کے چھاپے پڑنے لگے ۔ تیزاب کی مقبولیت کم ہوئی تو ریپ کے ویڈیوز عام ہونے لگے۔
مجموعہ کا سادہ افسانہ ’’ اوزاروں کابکس‘‘ ایک مولوی صاحب کی حرکتوں کے ارد گرد گھومتا ہے جو پانچ سال محلوں کی چلمیں بھرتے ، مصلے بچھاتے ، وضو کے بدھنے بھرتے اور غربت کے دنوں میں ایک خرّانٹ مفتی کی گھڑکیاں سہتے اس مقام پر پہنچا تھا ۔ اس کے بعد اس نے شیدامیاں سے تعلقات استوار کیے جواپنے گھر مشاعرے کرواتاتھا ۔ اسی شیدا نے اپنے بیٹے سلامت میاں کوپڑھانے لکھانے اور تربیت دینے کی ذمے داری اسی کو سونپ دی ۔شیدا ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ ان کالڑکا دینی تعلیم حاصل کرے لیکن اسے بس یہ فکر لاحق تھی کہ خدا نخواستہ اگر وہ علم حاصل نہ کرسکا تو اس کی عزت کیسے کرے گا۔ وہ دراصل اپنی حفاظت کے لیے اپنے لڑکے کو اللہ والابنوارہے تھے۔ یہ تشویش اسے اس وقت ہوئی تھی جب پتاچلا کہ بچن بیگ کے جاہل بیٹوںنے کاروبار کے چکر میں باپ کو گولی ماردی۔ بیٹے کو تعلیم یافتہ بنانے کے بعد شیدا کو مکمل یقین ہوگیا کہ وہ معتبر آدمی ہے تو بزنس کے تعلق سے بھی شہر کے باہر بھیجنے لگا۔ شہر جاکر سلامت نے صاف کہہ دیا کہ وہ شہر میں کہاں جاتا ہے، کس سے ملتا ہے، ان باتوں کا کسی سے ذکر نہ کرے۔ اسے یہ بھی معلوم ہوا کہ زبیدہ نام کی لڑکی سے وہ ملتا ہے اور زبیدہ کا یہ خیال ہے کہ شادی سے پہلے اپنے باپ کی بزنس پر جلد از جلد قابو ہی نہیں پالے بلکہ اپنے ماں باپ سے بھی دست بردار ہو کر اپنی الگ اور آزاد زندگی گزارے جس میں زبیدہ کے علاوہ کسی کادخل نہ ہو اس کے بعد ہی وہ سلامت سے نکاح کے لیے رضامند ہوگی۔ یوںبھی وہ نئے خیالات کی لڑکی تھی مولانا کو سخت ناپسند کرتی تھی اور اب مولانا کو یہ احساس ہوچلا تھا کہ مولا گنج سے اُس کا داناپانی اٹھ چکا ہے لیکن زبیدہ نے مولانا کو اسی جگہ پر ایک مدرسہ کھولنے کی دعوت دی۔ مولانا یہ سن کر خوش تو ہوا لیکن شرمندگی سے اپنے آپ میں گڑ گیا کیوں کہ اُسے یہ احساس ہو چلا تھا کہ وہ کتنی تگڑم کرکے اس قصبے میں رہ رہا ہے۔
افسانہ ’’زہر پاش طیارے‘‘ ہندو مسلم منافرت اور مسلمانوں کو ہندو سماج سے سمجھوتہ کرنا اور ایسے خاندان کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ نہیں کرتے ۔ افسانہ نگار ایک ایسے شخص کی کہانی بیان کرتا ہے جسے مولوی بشیر الدین کی ذات سے نفرت ہے جب کہ وہ اس کے بچے سلّو کو دینی تعلیم سے آراستہ کرتاہے۔ پروفیسر کو لگتا ہے کہ مولوی بشیر الدین کو کسی بھی حال میں برطرف کیا جائے لیکن اس کے بچے اور بیوی کی عقیدت مندی کی وجہ سے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاپاتا ہے ۔ اس کی بیوی مولوی کی گرویدہ ہے ۔ ایک بار سخت آندھی کے موسم میں بھی وہ آدھمکتا ہے تو پروفیسر کو اس کی بیوی یہ دلیل دیتی ہے کہ یہ آدمے کسی بھی موسم میں تعلیم کے لیے اپنے گھر سے مدرسہ تک پہنچنے کے لیے ایک دریا اور تین گندے نالے مسلسل پار کرتا رہا ہے ۔ ان نالوں سے اُسے جلد کی بیماریاں ہوگئیں۔ غریب آج بھی داد کھاج کا شکار ہے ۔مولوی کا کہنا ہے کہ مسلمان شریعت کو بھول گئے ہیں اسی لیے مسلمانوں کے پاس نہ عزت ہے نہ مال۔ پروفیسر کاخاندان ذہنی اعتبار سے دو حصے میں تقسیم ہے۔ ایک طرف پروفیسر اور اس کی تعلیم یافتہ بیٹی ہے اور اعلا تعلیم حاصل کرنے کے لیے کسی دوسرے شہر میں ہے تو دوسری طرف ماں بیٹا ہیں اور مولوی بشیر الدین ہیں جوذہنی اعتبار سے دونوں کی تربیت اچھے ڈھنگ سے کررہا ہے ۔ پروفیسر کی بیٹی افشاں کی حالت یہ ہے کہ غیر مسلم محلے میں کوئی اسے مکان اس لیے دینے کوتیار نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہے اور اس سے اوٹ پٹانگ سوال بھی کیے جاتے ہیں۔
افسانہ ’’آہستہ آہستہ ‘‘ عورتوں کی مکاری اور حیلہ سازی کا افسانہ ہے۔ اس افسانے میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ عورت کے ہزار روپ ہوتے ہیں۔ انھیں سمجھ پانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے۔ مرد سمجھتا ہے کہ عورت اس کی وفادار ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ایک شخص کی بیوی بہ ظاہر پاک باز ہے لیکن اصل میں اس کے کسی مرد سے مراسم ہیں وہ شخص جب ڈیوٹی سے گھر آتا ہے تو بیڑی کے ٹکڑے نظر آتے ہیں وہ مرد سہم ساجاتا ہے وہ اس بات کاذکر اپنی بیوی سے کرتا ہے تو وہ گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے ۔ بہت منانے کے بعد گھر واپس آتی ہے توجواز یہ پیش کرتی ہے کہ میں سب کچھ چھوڑ سکتی ہوںلیکن بیڑی پینا نہیں چھوڑ سکتی۔
افسانہ ’’کتابوں پر موتنے والی‘‘ ایک ایسی شاعرہ کی کہانی ہے جو اپنے حسن اور ادائوں کی وجہ سے مشاعرے میں شامل ہوتی ہے اور اس کے باپ کے دوست عبداللہ ملک کے قریب ہوتی ہے ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ طبیعت مچل جانے والے عشق وعاشقی والے شعر بھی سنایا کرتی تھی۔ اس کے پاس ایک کتیا بھی ہے جسے وہ اولاد کی طرح گود میں لیے پیار سے اس کا سر سہلارہی تھی ۔ اس کا نام جولی ہے۔ کبھی کبھی عبداللہ ملک کو دونوں میں کافی گہری مماثلت نظر آتی ہے۔ زلیخا کی نظر میں یونی ورسٹی کے پروفیسروں کے اکیڈمیوں کی انعامی کمیٹیوں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے ، وہ مشاعروں کوذلیل اور مشاعرہ پڑھنے والے مقبول ترین شعرا کو ذلیل تر سمجھتے ہیں اور اس صدی کو فکشن صدی کہتے ہیں___ان ہی دنوںزلیخا نے بتایا کہ عبداللہ ملک کو ریاستی حکومتوں نے 5لاکھ انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ زلیخا کا کہنا ہے کہ آپ کی تنگ دستی اور بڑھاپے پر چند مہربان دوستوں نے منظر واضح ہوجاتا ہے ۔ ادیبوں اور شاعروں سے بھرا ہوا سجاسنوارا ہال بار بار اس کی نظروں میں گھومنے لگا۔ تب رات کو نفس امارہ سامنے آتا ہے اور سوال کرتا ہے کہ ’’ کیا تم کو یہ بات اچھی لگے گی کہ تم اعزاز کے مستحق تو ہو لیکن وہ تم کو نہ ملے یا پھر یہ بات اچھی لگے گی کہ اعزاز تو تم کو مل جائے لیکن تم اس کے مستحق نہ ہو ‘‘۔ تو وہ نفس امارہ سے کہتا ہے کہ میں کسی بھی حال میں یہ رقم اور اعزاز واپس نہیں کروں گا ۔اس افسانے کے ذریعے اقبال مجید نے ایوارڈ حاصل کرنے والے قلمکاروں کا حال علامتی اندازمیں بیان کیا ہے۔
مندرجہ بالاافسانوں کے موضوعات پر سرسری نظر ڈالتے ہوئے ایسا محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ان کے افسانوں میں تکرار کی صورت پیدا ہوئی ہے۔یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اُن کی زیادہ تر تحریریں ’نیا ورق‘میں شائع ہوئی ہیں۔خودنوشت کے حوالے سے بھی ان کے طویل یادداشت اسی رسالے کی زینت بنتے رہے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اقبال مجید پر از سرنو کام کیا جائے جس میں ان کے اسلوب اور زبان وبیان پر خاص توجہ دی جائے۔یہی اُن کے لیے سب سے بہتر خراج عقیدت ہے۔
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

