Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
روبرو (انٹرویو)

عورت کی پوری زندگی تابعداری سے عبارت ہے: سیّدہ شان معراج – حقانی القاسمی

by adbimiras اپریل 29, 2021
by adbimiras اپریل 29, 2021 0 comment

نئے عہد کی عورت کی ذہنی اور جنسی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ اب وہ خاموش نہیں رہی، Vocal ہو گئی ہے۔ اپنے حقوق، آرزوئوں اور خواہشات کے اظہار کے باب میں بھی عورت آزاد ہے۔ یعنی بقول پوجا بیدی کہا جا سکتا ہے کہ :

"She Speaks  her Mind follows her heart.”

آج کی عورت کسی اسٹیریو ٹائپ میں قید نہیں ہے۔ اور اس کا بیانیہ بھی مرد بیانیہ سے بالکل الگ ہے۔ آج کی عورت مردوں پر منحصر نہیں ہے۔ وہ بہت حد تک خود مختار ہوگئی ہے اور معاشی قوت کی وجہ سے اس کے رویے میں بھی بہت حد تک تبدیلی آچکی ہے۔ خود اعتمادی نے اس کے بیانیے کو پرقوت بنا دیا ہے۔ اب وہ ان تمام ٹیبوز کو توڑ رہی ہے جو پہلے مردوں نے عائد کر رکھی تھیں۔ اب عورتوں کا رویہ معذرت خواہانہ نہیں بلکہ جارحانہ بھی ہوتا جا رہا ہے۔ جنس کے باب میں بھی عورت بہت حد تک آزادی کی طلب گار ہے اور وہ اپنے جنسی حقوق سے بھی بہت حد تک آگاہ ہو چکی ہے۔ اب ایروٹیکا اس کے لئے شجر ممنوعہ نہیں ہے۔’ کاماسوترا‘ عام سی بات ہوگئی ہے، اب خواتین اپنے طور پر ’کاما سوترا ‘کی تفہیم و تعبیر میں لگی ہوئی ہیں۔ سیما آنند عورتوں کے جنسی مسائل اور متعلقات پر نہ صرف بے باکی سے لکھ رہی ہیں بلکہ یوٹیوب کے ذریعے وہ خواتین کو بیدار بھی کر رہی ہیں۔  Art of seduction  ان کی ایک اہم کتاب ہے۔ اس کے لئے علاوہ سندھیا مول چندانی نے  Kanmasutra for women جیسی کتاب لکھی ہے۔ان کی ایک اور کتاب The Art of Love, Sex and Desire بھی ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو نئے عہد میں عورتوں کے لئے اب کوئی چیز ممنوع نہیں رہی۔ بلکہ وہ بعض معاملات میں مردوں سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ اب عورتیں مساوی لذت  (Equal Pleasure) کی بات کرنے لگی ہیں۔ مردوں کے متاعی کے مقابلے میں عورتیں بھی معطی (Donor) کی باتیں کرنے لگی ہیں۔ یہ عمومی صورت حال نہ سہی لیکن عورتوں کا ایک بڑا طبقہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ ذہین اور آزاد ہو چکا ہے۔ یہ فیمنزم کا فیض ہے یا بدلتے سماجی اور سیاسی حالات کا اثر بہر حال اتنی بات طے ہے کہ عورتیں اب ذہن اور جنس کے باب میں بہت حد تک آزاد اور خود مختار ہو چکی ہیں۔

سیدہ شان معراج نے آج کی عورت کے حوالے سے اہم گفتگو کی ہے۔ انہوں نے عورتوں کی تابعداری اور ترجیحات کے حوالے سے بہت اہم نکات پیش کئے ہیں۔ سیدہ شان معراج نے جس بے خوفی اور بے باکی سے اپنی باتیں کہی ہیں یقینا وہ قابل توجہ ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں شوکت حیات:اردو افسانے کا سنگِ میل – ڈاکٹر وصیہ عرفانہ )

سیدہ شان معراج بنیادی طور پر شاعرہ ہیں۔ ان کا مجموعہ ’ساحل سیپ سمندر‘ شائع ہو چکا ہے۔ معاصر شاعرات میں ان کا ایک نمایاں مقام ہے۔ ظ۔ انصاری نے ان کی شاعری کے حوالے سے بڑی اہم بات کہی ہے۔

’’عاشقی کا حق مردوں سے زیادہ عورتوں کو پہنچتا ہے کہ اندر اندر پگھلا کرتی ہیں۔ یہاں شان معراج کے کلام میں انہیں زبان بھی مل گئی ہے۔ شمع کی زبان اگر تپتے ہوئے موم کے قطرے ہیں تو آدمی اور اپنے آس پاس کے آدمی سے عشق کو ان سلگتے ہوئے شعروں سے زبان ملی ہے۔ کوئی غور کرے تو صاف سراغ مل جائے کہ کون سی غزل یا کسی غزل کے کون سے شعر دن یا رات کے کس پہر میں کہے گئے ہیں۔ کس ذہنی یا موسمی کیفیت میں زبان قلم تک پہنچے ہیں، یہ معمولی صفت نہیں۔‘‘

اس کے علاوہ بہت سے مشاہیر ادیبوں نے ان کی شاعری کے حوالے سے مضامین تحریر کئے ہیں۔ ان کے مضامین کا ایک مجموعہ ’زنجیر در‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ جس میں بہت قیمتی مضامین ہیں۔ سیدہ شان معراج کی شخصیت اور شاعری دونوں ہی متاثر کن ہیں۔ ان سے عورتوں کے مسائل اور دیگر احوال کے حوالے سے حقانی القاسمی نے گفتگو کی ہے۔ پیش ہیں گفتگو کے اقتباسات:

سوال :    کیاعورت ذہنی و جسمانی اعتبار سے کمزور ہے؟

جواب:   یوں تو عورت گزشتہ صدی سے ہی ترقی کی راہ پر گامزن تھی مکر اکیسویں صدی کے آغاز میں ہی خواتین نے ترقی کی مزید سیٹرھیاں پارکرلیں۔ پْروقار عہدوں اور منصب پر عورتیں فائز ہیں۔ مردوں کے شانہ بہ شانہ اور قدم سے قدم ملاکر اپنی طاقت اور صلاحیتوں کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ پروفیسر ، ڈاکٹر ، انجینئر ، سائنس داں ہی نہیں بلکہ سیاسی میدان اور محاذجنگ پر بھی انہوں نے اپنی کامیابی درج کرواکر تاریخ رقم کی ہے لیکن ان تمام حالات کے بعد بھی اگر ہم عورت کی آزادی اور طاقت وقوت کامنصفانہ تجزیہ کریں تو عورت کو بے بس اور کمزور پائیں گے۔ قدرت نے عورت کو ذہنی اور جسمانی طورپر محکوم  (Objective creature) بنایا ہے۔ اس کے لیے حکم ہے کہ اگر وہ کھانا پکانے میں مصروف ہے اور اس کا شوہر اپنی جنسی تسکین کے لیے اسے آواز دے تو وہ کھانا پکانا چھوڑ دے اور شوہر کی خواہش کی تکمیل کرے۔ یہ عورت کی بے بسی کی انتہا ہے۔ سماج اور دنیا کے تمام مذاہب نے عورت کو ہمیشہ یہ احساس دلایا کہ وہ کمزورہے مرد کے تابع ہے۔ افغانستان میں 15سالہ ملالہ یوسف زئی کو ایک مرد نے صرف اس لیے گولی ماری کیونکہ وہ تعلیم نسواں کی حامی تھی۔ قطر میں حکومت کافرمان ہے کہ فٹ بال کھلاڑی عورتیں حجاب پہن کر فٹ بال کھیلیں۔ کھاپ کی پنچایتیں لڑکیوں کو صرف اس وجہ سے مارڈالنے کا حکم دیتی ہیں کیونکہ وہ اپنی پسند کے لڑکوں سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔ یہ تمام حکم نامے مردوں کی طرف سے عورتوں کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔ اسلام میں بھی حکم ہے کہ پہلے عورت کو نصیحت کرواگر وہ شوہر کا حکم پھر بھی نہ مانے تو اس کو زدو کوب کرو۔ لیکن یہ حکم نہیں ہے کہ ایک نالائق شوہر کو پہلے نصیحت کرو اور اگر شوہر بیوی کا کہنا نہ مانے تو اسے مارو۔صاف ظاہر ہے کہ مردوں کو فوقیت دی گئی ہے۔ عورت بغیرمحرم کے سفر نہیں کرسکتی۔ یعنی عورت کو یہ جتادیا گیا کہ تم کمزور ہو۔ مرد سے مرتبے میں ہر اعتبار سے کم ہو بغیر مرد کے تمہاری آبروہر وقت خطرے میں ہے۔ اس کے علاوہ عورت پر ہر وقت شک کی سوئی گھومتی رہتی ہے۔مردوں کے شعور اور لاشعور دونوں میں عورت کے لیے منفی خیالات قائم رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عورت اعلی عہدوں پر پہنچنے کے بعد بھی خود کو دوسرے درجہ کی مخلوق سمجھنے پر مجبور ہے۔ ہندومذہب میںآج بھی شادی کے موقع پر پھیرے لیتے وقت مرد آگے اور عورت پیچھے رہتی ہے۔ وہ تو خدا بھلا کرے راجہ رام موہن رائے کا ورنہ آج بھی شوہر کی چتا پر بیوی ستی کردی جاتی۔ ہندوستان میں خواتین کو مستحکم اور طاقتور بنانے کے نعرے لگانے والے سیاسی منافقین آج تک ایوان میں عورتوں کی فلاح وبہبود کے لیے پل پاس نہیں کرواسکے۔ مہد سے لحد تک ایک عورت کی زندگی ایثار وقربانی اور مرد کی اطاعت میں گزر جاتی ہے۔ اگر آپ سنجیدگی سے غور کریں اور غیر جانبدارانہ فیصلہ کریں تو آپ پائیں گے کہ عورت کی زندگی کا ایک پل بھی ایسا نہیں ہوتا جسے وہ اپنا کہہ سکے۔ اس کی پوری زندگی تابعداری اور محکومیت سے ہی عبارت ہوتی ہے۔

سوال :    دوعورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر کیوں مانی جاتی ہے؟

جواب:   کہا جاتا ہے کہ عورت آدم کی پسلی سے پیدا ہوئی ہے۔ اس لیے اس کے خون میں ،عادات واطوار میں سوچ اور فکر میں ، اس کی ادائوں میں ، اس کے مزاج اور سرشت میں کج ادائی ، بے وفائی ، بے مروتی ، بد طینتی ، کم ظرفی اور بد مزاجی موجود ہے۔ عورت ایک عجوبہ ہے جس کو آج تک کوئی پہچان نہیں پایا ہے۔ مختلف طبقۂ مفکرین نے عورت کے بارے میں مختلف نظریات پیش کیے ہیں کسی نے عورت کو شعلہ کہا ہے تو کسی نے شبنم کبھی عورت کو وفاکی دیوی کانام دیاگیا تو کبھی اسی عورت نے بے وفائی اور بے مروتی کی ساری حدیں پارکردیں۔کبھی عورت نے اپنے شوہر کی چتا پر جلنے میں اپنی شان سمجھی اور کبھی اپنے کسی آشنا کے ساتھ مل کر اپنے رفیق حیات کا قتل کرکے اپنا سہاگ اجاڑلیا۔ عورت جب شیریں کی شکل میں آئی تو فرہاد سے پتھر تڑوالیے جب لیلٰی کی شکل میںآئی تو مجنوں کو ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیا۔ عورت نے جب مینکا کا چولا پہنا تو وہ شوامتراکی تپسیا بھنگ کردی۔ عورت جب صوفیوں اور ولیوں کے پیجھے پڑی تو ان کی برسوں کی عبادت و ریاضت پر پانی پھیر دیا لیکن جب یہی عورت رضیہ سلطان بن کر تخت سلطانی کی زینت بنی تو بڑے بڑے جنگ جو سپہ سالاروں کو اپنے قدموں میں جھکالیا اور جب عورت مولا نا محمد علی وشوکت علی کی ماں بنی تو اپنے جگر گوشوں کو وطن پر قربان ہوجانے کا سبق دیتی ہوئی نظر آئی۔ عورت نے جب مذہب کے میدان میں قدم رکھا تو حضرت رابعہ بصری بن کر ولایت کے مرتبے کو پہنچ گئی۔ جب سیتا کے روپ میں نظر آئی تو ایک وفاشعار بیوی کا کردار اداکر کے دنیا میں ایک مثال قائم کردی۔ قدرت نے عورت کو ذہنی اور جسمانی طورپر مرد کے مقابلے کمزور اور نازک بنایا ہے،عورت ، صبر ، ایثار ، قربانی اور وفا کا پیکر تو ضرور ہے مگر دوسری طرف حسد ، خودسری ، غرور بے جا، تمکنت اور احساس برتری اس کے خون میں شامل ہے۔ عورت کے کردار میں زبردست تضاد پایا جاتا ہے کمزور قوت ارادی اور کمزور قوت فیصلہ کے سبب عورت کو اعتبار کے قابل نہیں سمجھا گیا۔ اسی وجہ سے شریعت نے اسے ناقص العقل کہا ہے۔ بخاری شریف کی ایک حدیث ہے’’من ناقصات العقل والّدین‘‘یعنی یہ عورتیں عقل اور دین میں ناقص اور نامکمل ہیں۔ قرآن حکیم کے پارہ 1رکوع 13میں صاف اعلان موجود ہے کہ اللہ تعالی تم کو وصیت فرماتا ہے کہ مرد کا حصہ وراثت عورت سے دوگنا ہے یہی وجہ ہے کہ ایک مردکی گواہی دوعورتوں کے برابر ہے۔ عورت کو اس کی بد عقلی اور کم فہمی کی وجہ سے شریعت نے اس کو طلاق تک کا اختیار نہیں دیا۔ اسلام کی بنیاد قانون فطرت پر رکھی گئی ہے اس لیے عورت کے شرعی قانون اس کی مزاجی کیفیات کو ذہن میں رکھ کر بنائے گئے ہیں مرد کے مقابلے میں عورت کم بھروسے مند ہے اس لیے بھی دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر رکھی گئی ہے۔

سوال:    کیا Social Corservatism  عورتوں کی تعلیم ترقی اور آزادی کی راہ میں رکاوٹ ہے؟

جواب:    اس میں کوئی شک نہیں کہ Social Corservatism  (سماجی قدامت پسندی ) اور معاشرتی بندشوں نے لڑکیوں کے لیے ترقی کے تمام دروازے بند کر رکھے تھے۔ تعلیم  حاصل کرنے ،من پسند شادی کرنے اور گھر سے باہر قدم رکھنے کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ کم عمری میں شادی اور کچی عمر میں ماں بن جانا لڑکیوں کی زندگی کی معراج اور آخری منزل ہواکرتی تھی۔ اگر کوئی لڑکی ہمت کرکے تعلیم کے حصول کے لیے جرأت مندانہ قدم اٹھاتی تھی تو گھر ، خاندان اور سماج میں ایک طوفان برپا ہوجاتا تھا۔ خاص بات یہ تھی کہ اس زنگ آلود قدامت پسندانہ سوچ کے لیے مذہب کا سہارا لیا جاتا تھا جب کہ مذہب کے احکامات اس کے منافی ہیں۔ عورت کا اپنے شوہر سے کھلے عام بات کرنا بے شرمی اور بے غیر تی کی علامت تھی۔ مردان خانوں میں مرد زندگی کی تمام رعنائیوں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ جب کہ زنان خانوں کی خاموش کوٹھریوں میں عورت اپنی تنہا اور بوجھل زندگی پر آنسو بہایا کرتی تھی۔ عورت کی آزادی اور تعلیم نسواں کے مخالفین قرآن وحدیث کے احکامات سے چشم پوشی کررہے تھے جب کہ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے جبرئیل امین کے ذریعہ جو پہلی وحی اپنے پیغمبرؐ پر نازل فرمائی وہ ’اقرا‘یعنی اے نبی پڑھئے‘‘ہے قرآن حکیم کا صاف اعلان ہے کہ علم حاصل کرنا ہر عورت اور مرد پر فرض ہے ایک حدیث مبارکہ ہے کہ ’’علم حاصل کرنا ہے تو چین تک جائو‘‘بھاگوت گیتا کا بھی فرمان ہے کہ ’’انسان اور جانور میںکوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں کھاتے ہیں ، پیتے ہیں سوتے ہیں جاگتے ہیں۔ دونوں میں افزایش نسل کی صلاحیت ہوتی ہے۔ لیکن وہ صرف علم ہے جو انسان اور حیوان میں امتیاز پیدا کرتا ہے۔‘‘جہالت زوال ہے تو علم عروج ، جہالت اندھیرا ہے تو علم روشنی ، جہالت بدقسمتی ہے تو علم خوش نصیبی کی علامت۔

آج پوری دنیا میں بدکاریاں، آپسی نفاق ،فساد، قتل وغارت گری ، بد اعمالیاں، نفرت، آبروریزی یہ سب جہالت کی دین ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اسلام نے متعدد جگہوں پر علم حاصل کرنے کے پیغام کے ساتھ ساتھ تاکید بھی کی ہے۔ اگر آپ ماضی کے اوراق پلٹیں تو تعلیم نسواں کو معیوب بلکہ ناقابل معافی جرم سمجھاجاتا تھا۔ لڑکیوں کو اسکول یا مدرسہ بھیجنا خاندانی وقار کے منافی خیال کیا جاتا تھا۔ علم کے فقدان کی وجہ سے معاشرہ میں جنسی بے راہ روی اور بدکاریاں عروج پرتھیں۔ انسانی اقدار میں اتنا ضعف آچکا تھا کہ اعلی خاندانوں میں اغلام بازی وامروپرستی کو نشان فخر وامتیاز جانا جاتا تھا۔ دراصل ایسے فرسودہ اور ہمت شکن حالات ونظام حیات میں عورت کے بوجھل اور کمزور قدم راہ مستقیم کی طرف اٹھ نہیں پارہے تھے۔ پھر اچانک ایک دن علم کا سورج طلوع ہوا۔ ظلمت چھٹنے لگی۔ قدامت پسندی دم توڑنے لگی۔ لوگ بیدارہوئے اور اپنی بچیوں کو خودانگلی پکڑ کر اسکول یا مدرسہ میں پہنچانے لگے۔لڑکیوں میں خود اعتمادی اور شعور پیدا ہونے لگا۔ علم نے آنکھیں روشن کیں تو اچھے برے کی تمیز بھی پیدا ہوئی۔ اپنی عزت وعفت کے تحفظ کا شعور بھی جاگا۔ کہا جاتا ہے کہ جب ایک مرد تعلیم یافتہ ہوتا ہے تو صرف ایک آدمی سدھرتا ہے مگر جب ایک عورت علم کے زیور سے آراستہ ہوتی ہے تو پوری ایک نسل پورا ایک معاشرہ سدھر جاتا ہے سماج کا ایک ایک گوشہ پاک وصاف اور پاکیزہ ہوجاتا ہے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ تعلیم یافتہ ماں کی گود سے نکلنے والے نونہالوں کے ہاتھوں نے بلندیوں کو چھواہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ نے سفر پر جانے سے پہلے اپنے بیٹے کو جھوٹ نہ بولنے کی تاکید کی تھی اسی نصیحت نے حضرت غوث اعظم کے منصب تک پہنچنے میں چراغ راہ کا کام کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم نسواں سے معاشرے میں پاکیزگی اور شفافیت آئی ہے۔ بدکاری اور جنسی بے راہ روی کی لعنت کا خاتمہ ہوتا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج کے اس تعلیم یافتہ ماحول میں دنیا کی کچھ قدامت پسند تنظیمیں مثلاً افریقہ کی’’بوکو حرام‘‘تعلیم نسواں اور عورتوں کی آزادی کی مخالف ہیں۔ افغانستان کی ایک معصوم پندرہ سالہ بچی ملالہ یوسف زئی کو ایک سرپھر ا جاہل شخص صرف اس لیے گولی ماردیتا ہے کہ اس بچی نے تعلیم نسواں کی حمایت میں زبان کھولی تھی۔ ان تنظیموں کی پوری کوشش ہے کہ لڑکیوں کو جہالت کے اس گڑھے میں دوبارہ ڈھکیل دیں جس سے باہر آنے کے لیے انہیں برسوں مشقت اور جد وجہد کرنا پڑی تھی۔

سوال:    مردکی آوارگی اور بے راہ روی میں عورت کو کتنا حصہ دار مانتی ہیں؟

جواب:   شادی سے قبل ہر لڑکا اور لڑکی اپنے تصور میں اپنے شریک زندگی کو اپنے اپنے طورپر ایک نازک سبک اپسرایا مضبوط گھوڑے پر سوار شہزادے کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ یہی رومانی تصورات وتخیلات ان کے جسم میں گدگدی پیداکردیتے ہیں۔ پھر ایک دن دونوں کی شادی ہوجاتی ہے۔ شادی کے ایک برس تک شوہر اور اس کی بیوی ایک ناقابل بیان مستانہ کیفیت میں رہتے ہیں جہاں ان کو نہ اپنے گھر والوں اور نہ احباب کی فکر رہتی ہے نہ ہی سماج سے پہلے جیسا رابطہ رکھ پاتے ہیں۔ لیکن ایک سال کے بعد جب بچے کی پیدائش ہوجاتی ہے تو یکایک بیوی کو شوہر سے پچاس فیصد توجہ (Focus)کم ہوکر نومولود پر مرکوز ہوجاتی ہے جو فطری تقاضا ہے ان حالات میں شوہر یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ بیوی اس کو نظر انداز کررہی ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد جنسی بے ربطگی اور عورت کی جنسی سرد مہری(Frigidity)سے شوہر جھنجھلاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ واتسائن نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب کام سوتر میں لکھا ہے کہ ایک بیوی کو پیار اور محبت میں ایک ماں اور بہن، بیماری میں ایک شفیق خدمت گار اور جنسی عمل میں ایک طوائف کا کردار نبھانا چاہئے تبھی ازدواجی زندگی کامیاب اور خوشگوار ہوسکتی ہے۔ جن عورتوں کے جنسی عمل میں جوش وخروش نہیں ہوتا ان کے شوہر عام طورپر ذہنی الجھن اور پراگندگی کا شکار رہتے ہیں اور مرد کی یہی الجھن اس کو عیاشی اور آوارگی کے راستے پر چلنے پر مجبور کردیتی ہے۔ عورت اور مرد کا رشتہ اعتماد اور بھروسے پر قائم ہے لہذا بیوی کا شک اور ٹوکاٹو کی دونوں کے درمیان خلیج پیدا کردیتے ہیں۔ عورت کا اپنے شوہر کی جیبیں ٹٹولنا ، اسکی ذاتی ڈائری پڑھنا اس کے کپڑوں پر لپ اسٹک یاریشمی بالوں کو تلاش کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بیوی کا اپنے شوہر پر سے بھروسہ ختم ہوچکا ہے۔ شوہر باہر کی دنیا کا آدمی ہوتا ہے۔ اس کو آفس ، احباب یاسماجی تقریبات کی وجہ سے گھر پہنچنے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ تمام دن کا تھکا ماندہ شوہر جب گھر پہنچتا ہے تو پیار سے اس کا خیر مقدم ہونے کے بجائے اسے شک میں مبتلا بیوی کے فضو ل سوالات کا جواب دینا پڑتا ہے۔ فطری اور لاشعوری طورپر ان حالات میں شوہر خود کو تنہا محسوس کرنے لگتا ہے۔ معروف ادیبہ سلمی صدیقی نے ایک بار کہا تھا کہ ’’اگر ازدواجی زندگی خوشگوار رکھنا ہے تو شوہر کو تھوڑی سی آوارگی کی آزادی دے دینا چاہئے ‘‘اسی لیے کہا جاتا ہے کہ عورت اگر ہوش مند ہے تو وہ تازندگی اپنے شوہر پر حکومت کرتی ہے اوراگر بے عقل ہے تو وہ خوداپنے شوہر کو آوارگی کی دلدل میں دھکادے دیتی ہے۔ ان تمام دلائل سے صاف ہوجاتا ہے کہ عورت اپنے شوہر کی آوارگی کی کس حد تک ذمہ دار ہے۔

سوال :    کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ مردوں کے مقابلے عورتیں انکا زیادہ استحصال کرتی ہیں؟ بہو کے ساتھ ساس کا ظالمانہ رویہ بھی اس کی تصدیق کرتا ہے؟

جواب    ساس بہو کا تنازعہ جگ ظاہر ہے پہلے یہ جھگڑا بین الاقوامی تھا لیکن امریکہ ، یورپ اور کچھ مسلم ممالک نے مشترکہ خاندانی نظام کا خاتمہ کرکے اس مصیبت سے چھٹکارہ حاصل کرلیا ہے۔ ان ممالک میں بہوشادی کے بعد ایک ایسے گھر میں قدم رکھتی ہے جہاں اس کے ساتھ اس کا شوہر ہوتا ہے۔ بہو کے بچوںکی پیدائش اسپتال میں اور پرورش کرچ(Crutch)میں ہوتی ہے جب ایک جگہ پر ساس بہو نہیں ہوں گی تو پھر دونوں کے مابین جھگڑا ہونے کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہے گی لیکن ہندوستان آج بھی اس قدیمی روایتی مصیبت سے دوچار ہے۔ ساس کا تشدد اور بہو کی نافرمانیاں اس جھگڑے کو اور طویل بنادیتی ہیں۔ کئی قلم کاروں ، مفکرین اور مذہبی رہنمائوں نے اس تنازعہ کی وجوہات جاننے کی کوشش کی ہے اس سلسلہ میں سب سے زیادہ مدلل اور قابل قبول بات آچاریہ رجنیش (اوشو) کی معلو م ہوتی ہے۔ اوشو کہتے ہیں کہ’’ایک عورت بچے کو جنم دیتی ہے پچیس برس تک اس کی پرورش کرکے اس کو عقل مند بناتی ہے لیکن شادی ہونے پر بہو اس کو دو منٹ میں بے وقوف بنادیتی ہے۔ یہ  Two Minutes Theory ہی ساس اور بہو کے جھگڑے کی اصل وجہ ہے دراصل بہو کے آنے پر ساس کی گھر میں مطلق العنانی اور حکومت کمزور پڑتی اور درکتی محسوس ہوتی ہے۔ وہ گھر جس میں کبھی ساس کی حکمرانی ہوا کرتی تھی اسی گھر میں کچھ مخصوص حصوں میں قدم رکھنے کے لئے بہو کی اجازت لینا ضروری ہو جاتی ہے۔ اصل میں دونوں اپنے اپنے معاملات میں ایک دوسرے کی دست اندازی برداشت نہیں کر سکتی ہیں۔

شادی کے بعد بیٹا اپنی ماں کے شفیق آنچل سے نکل کر بیوی کی گھنیری سیاہ زلفوں میں بسیرا کرنے لگتا ہے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ماں اپنے بیٹے سے ڈرنے لگتی ہے۔ بہو کو خوب معلوم ہے کہ عورت مرد کی اس حد تک کمزوری ہے کہ جنت میں بھی مردوں کے لئے حوروں کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ عورت مفلسی میں بھی صاحب جائیداد ہوتی ہے اس کمزوری کا بہو خوب فائدہ اٹھاتی ہے کیکئی بھی ایک ساس تھی جس کی وجہ سے بہو سیتا کو چودہ برس جنگل میں صعوبتیں برداشت کرنا پڑی تھیں۔ ساس بہو کا جھگڑا صرف غیر تعلیم یافتہ طبقے میں ہی نہیں بلکہ معزز اور تعلیم یافتہ گھرانوں میں بھی موجود ہے۔ ہندوستان کے ایک معزز سیاسی خاندان میں ساس بہو کا جھگڑا کسی زمانے میں ایک دلچسپ موضوع بحث بن چکا ہے۔ ساس بہو دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے نت نئے طریقے ایجاد کرتی ہیں اس جنگ میں ایک کو فتح اور دوسری کو شکست ہوتی ہے لیکن شکست خوردہ بہو کبھی کبھی اچھا دھاری ناگن سے بھی زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے اس طرح دو عورتیں ایک دوسرے کو پامال کرنے کے لئے تا قیامت دست و گریباں رہ کر ہندوستان کی اس دیرینہ روایت کو زندہ و پائندہ رکھیں گی اور ایک دوسرے کا مردوں سے زیادہ استحصال کرتی رہیں گی۔

سوال:     میاں بیوی کے مابین Toxic Relationship کے کیا اسباب ہوتے ہیں؟

جواب:   ایک مشہور مقولہ ہے کہ مرد اور عورت کا رشتہ آسمان پر طے ہوتا ہے اور زمین پر عملی جامہ پہنتا ہے۔ قدرت نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کے لئے بنایا ہے۔ اکیلے مرد یا اکیلی عورت کو نہ تو سماج تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی اسے مذہب میں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک حدیث مبارکہ ہے ’’النکاح من السنتی فمن رغب من سنتی فلیس منی‘‘ یعنی نکاح میری سنت ہے اور جس نے اس عمل کو نہیں کیا وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔ اس سے زیادہ کیا بدنصیبی ہو سکتی ہے کہ غیر شادی شدہ مرد اور عورت کو ہمارے آقا نے ہی خارج کر دیا۔ اسلام نے رہبانیت کی سخت مخالفت کی ہے۔ اسلام کا صاف اعلان ہے کہ نکاح کرو نسل آدم کو بڑھائو، گھر، سماج، پڑوسیوں، رشتہ داروں، غربا، مساکین کے حقوق کو سمجھو اور ان کی ادائیگی کرو۔

ارسطو(Aristotle)نے بھی کہا تھا کہ Man is a Social Animal یعنی آدمی سماج کے بغیر یا تو جانور یا پھر دیوتا سماج کے بغیر انسان کی نہ تو کوئی حیثیت ہے نہ وقعت ، شادی کرنا اور اس پاکیزہ رشتہ کو آخری سانس تک خوش اسلوبی کے ساتھ نبھانا ایک سماجی فعل بھی ہے اور سماجی ذمہ داری بھی۔ ہندو مذہب میں برہم چریہ اور عیسائیت میں Celibacyقدرت کے اصولوں کے منافی ہے کنوارارہنا انسانی فطرت کے بھی خلاف ہے۔ غیر شادی شدہ رہنا بائکل اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص دریا کے بہائو کی مخالف سمت میں تیر رہا ہو۔ ظاہر ہے کہ ایک ایسا وقت ضرور آئے گاکہ تیر نے والا تھک جائے گا اور بالآخر ڈوب جائے گا۔

غور کیجئے۔ میاں بیوی کے رشتے کے بارے میں یہ رشتہ عجیب وغریب ہوتا ہے۔ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے لیے بالکل اجنبی ہوتے ہیں لیکن ایجاب وقبول کے بعد دونوں کے مابین اعتماد میں ضعف رونما ہونے لگے تو یہ پختہ رشتہ کچے دھاگے سے بھی زیادہ کمزور ہوجاتا ہے اور کبھی کبھی علاحدگی کی حدیں چھونے لگتا ہے۔ میاں بیوی کے رشتوں میں کڑواہٹ یا تلخی کے لیے نہ صرف مرد قصور وار ہے اور نہ ہی عورت۔ تلخ اور ناخوشگوار تعلقات میں ساس بہو کے جھگڑے عورت کی جنسی سرد مہری شوہر کی بیوی کے تئیں بے توجہی وبے التفانی۔ شوہر کی معقول آمدنی نہ ہونا یا شوہر کی زندگی میں دوسری عورت کی آمد ، شوہر کا شکی مزاج ہونا وغیرہ وغیرہ تمام وجوہ ہوسکتی ہیں۔ انہیں وجوہ کی بنا پر بیوی اور شوہر کے پاکیزہ و مستحکم رشتوں میں درار پڑجاتی ہے۔ شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھنا چاہیے۔ ایک دوسرے کی ترجیحات کو جاننا چاہیے۔ دونوں کے مابین جس قدر مضبوط Understanding ہوگی اتنے ہی رشتے مضبوط ہوں گے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ میاں بیوی میں جھگڑے کے بعد آپسی اتفاق اور دونوں میں محبت زیادہ ہوجاتی ہے۔ مگر خدانخواستہ دونوں میں سے کوئی بھی بے جاانا(Ego)کا شکار ہوگیا تو ازدواجی زندگی نہایت تکلیف دہ ہوجاتی ہے۔مرد کو یہ خوب سمجھ لینا چاہیے کہ بیوی اللہ تعالی کا ایک قیمتی تحفہ ہے۔ انعام ہے اس کی قدر کرنا چاہیے۔ خوش نصیب ہیں وہ مرد جو اپنی بیوی کی آغوش میں زندگی کی آخر ی سانس لیتے ہیں اور بد نصیب ہیں وہ شوہر جن کی زندگی میں ان کی بیوی ساکن جنت ہوجاتی ہے۔ شوہر اور بیوی کے مابین خوشگوار رشتہ کو قائم ودائم رکھنے کے لیے دونوں کو ایک دوسرے کی مزاجی کیفیات کو سمجھ کر ازدواجی زندگی کو رشک جنت بنانے کی کوشش کرنا چاہیے۔

٭٭٭

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

حقانی القاسمیسیدہ شان معراج
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ثقافت اور تہذیب کےمفاہیم کا معنوی وصوری جائزہ – نثار علی بھٹی
اگلی پوسٹ
حمایت علی شاعر :میں ہوں سدا سلامت بھی – راحت علی صدیقی

یہ بھی پڑھیں

پروفیسر عبدالمنان طرزی سے بات چیت – منصور...

دسمبر 4, 2024

پولیٹیکل سائنٹسٹ پروفیسر اشتیاق احمد سے خاص گفتگو...

جولائی 28, 2024

بین الاقوامی شہرت یافتہ آرٹسٹ اور فیض احمد...

جولائی 14, 2024

مہجری ڈرامہ نگار اور داستان گو جاوید دانش...

جولائی 4, 2024

معاصر ادب اور تنقید پر ڈاکٹر شہاب ظفر...

جون 30, 2024

فیض احمد فیض کی صاحبزادی منیزہ ہاشمی سے...

فروری 2, 2024

اعلی اقدار کی حامل شخصیت نیر تاباں سے...

جنوری 3, 2024

ایک ہمہ جہت شخصیت:زیبا گلزار – شفقت خالد

ستمبر 25, 2023

پروفیسر محمد طاہر سے علیزے نجف کی ایک...

اگست 26, 2023

معروف شاعر چندر بھان خیال سے علیزےنجف کی...

جولائی 11, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (601)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (203)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (144)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,053)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (538)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (206)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (480)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,139)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (900)
    • خصوصی مضامین (127)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (229)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں