سب سے بڑی کہانی کائنات ہے جس کے کروڑوں کردار ہیں۔
جس دن اس کہانی کا کلائمکس ہوگا اس کائنات ارضی کے سارے کردار اپنے حقیقی چہرے اورا عمال نامے کے ساتھ نظر آئیں گے۔ ابھی تو کہانی کے زیادہ تر کردار اپنے مصنوعی چہروں اور اعمال ناموں کے ساتھ ہی نظر آتے ہیں۔ اسی لیے زیادہ تر کہانیاں حقیقت سے ماورا ہوتی ہیں اور ان میں تخیل کی آمیزش زیادہ ہوتی ہے اور یہ کہانیاں بھی تخیل کی قوت کے اعتبار سے اپنے اثرات مرتب کرتی ہیں۔
کہانی ہر ہر عہد میں اپنی شکل و صورت تبدیل کرتی رہتی ہے۔ الگ الگ تہذیب و تمدن سیاست، ثقافت اور معاشرت سے کہانی کو نئی نئی صورتیں ملتی رہتی ہیں۔ ہر ملک،قوم اور تہذیب کا اپنا ایک بیانیہ ہے۔خود انسان ایک بیانیہ وجود ہے اور بیشتر کہانیاں اسی وجود کے ارد گرد طواف کوتی ہیں اور اسی کے حرکات و سکنات کو کہانیوں کا محور و مرکز بناتی ہیں پھر ان میں سے کچھ کہانیاں اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتی ہیں اور الگ الگ ملکوں اور تہذیبوں میں سفر کرتی رہتی ہیں۔اور یہ کہانیاں کسی خاص ملک،قوم سے مخصوص نہیں ہوتیں بلکہ مشترکہ انسانی جذبات و احساسات سے منسوب ہو جاتی ہیں۔ ان کہانیوں کی کوئی ایک مخصوص زبان نہیں ہوتی بلکہ یہ مختلف زبانوں کا سرمایہ بن جاتی ہیں۔
پرویز شہریار عصر حاضر کے افسانہ نگار ہیں اور انھوں نے اپنے افسانوی آرٹ سے اپنی ایک پہچان بھی بنائی ہے انھوں نے بہت سی کہانیاں لکھی ہیں۔ فرد اور اجتماع کی کشمکش پر، ملک اور معاشرے کی صورتِ حال پر، سماجی اور سیاسی بحران پر اور اس کے علاوہ دیگر ممکنہ موضوعات پر بھی ان کہانیاں مل جائیں گی کیوں کہ آج ہر موڑ پر ایک کہانی دست بستہ نظر آتی ہے اور ہر چہرہ کہانی کا ایک موضوع بن سکتاہے مگر سارا مسئلہ اس چہرے کو کہانی میں بدلنے کا ہے۔ یہی وہ آرٹ ہے جو کسی بھی فن کار کو دوام اور انہدام کے مرحلے سے بھی گزارتا ہے۔ چہرہ اگر کہانی کے فریم روک میں پوری طرح فٹ بیٹھ جاتا ہے تو کہانی امر ہو جاتی ہے ورنہ چند ساعتوں ہی میں کہانی دم توڑ دیتی ہے۔
پرویز شہریار کی تمام کہانیوں کے بارے میں کوئی حتمی رائے تونہیں دی جاسکتی تا ہم ان کی کچھ کہانیاں ضرور ایسی ہیں جو لوح ِ زندگی پر اپنا نقش ثبت کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گی۔ ان ہی میں ایک کہانی ہے ’شجر ممنوعہ کی چاہ میں ‘ اور دوسری ’لیو اِن ریلیشن سے پرے‘۔ ان کی یہ دونوں کہانیاں موضوع اور ٹریٹمینٹ کے اعتبار سے کامیاب ہیں اور ان دونوں کہانیوں میں ان کی پوری تخلیقی ہنر مندی محسوس کی جا سکتی ہے۔
پہلی کہانی ایک ایسے موضوع سے متعلق ہے جو دل چسپ بھی ہے اور تحیر خیز بھی اور یہ کہانی ایک نئے رشتے اور ایک نئی راہ سے بھی روشناس کراتی ہے، وہ راہ جو آج کی اصطلاح میں Swinging کہلاتی ہے۔ آج کی ایک خطرناک معاشرتی حقیقت جو اپنی لذتیت کی وجہ سے بنیادی معصومیت کھوتی جارہی ہے اور یہ ایسی خوف ناک تجرباتی پناہ گاہ ہے جہاں رشتوں کی ساری منطق تبدیل ہو جاتی ہے اور انسان ایک ایسی دنیا کا اسیر ہو جاتا ہے جہاں رشتے اپنی حقیقی معنویت کھو بیٹھتے ہیں اور یہ رشتہ منقولہ جائداد میں تبدیل ہو جاتا ہے اور اس پرانے تصور کی تجدید ہو جاتی ہے کہ عورت ایک جنسی معروض کے ساتھ ساتھ ایک منقولہ جائداد بھی ہے۔ ازدواج کی ادلا بدلی اور جنسی رشتوں کی تکثیر و تکسیر پر انگریزی میں بہت سی کہانیاں لکھی گئی ہیں مگر اردو میں اس بولڈ موضوع پر لکھنے کے لیے جرأتِ مردانہ اور جسارتِ رندانہ چاہیے۔ پرویز شہریار نے اس افسانے میں اسی جرات کا ثبوت دیتے ہوئے اس ممنوعہ علاقے میں داخل ہو گئے ہیں اور ایک ایسے موضوع کو چھیڑ دیا ہے جو بہت ہی حساس اور خطرناک ہے۔ انگریزی میں اس موضوع پر بہت سے ناول لکھے گئے ہیں۔ جنھیں Eroticaکے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ J W Snootzنے Swinging in paradiseکوپر ایس بیکٹ نے A lifeless Monogamousاور ڈینس ایسٹرن نے Swing Land کے عنوان سے ناول لکھے ہیں اور جنسی نشاط کی کائنات کے سر بستہ راز کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ اس طرح کے ناول سے بہت بڑی معاشرتی حقیقت سامنے آتی ہے اور پتا چلتا ہے کہ ہمارا معاشرہ اپنے محور ومرکزسے منحرف ہوتا جا رہاہے اور ایک ایسی ذہنیت تشکیل پا رہی ہے جوازدواجی نظام کے تقدس کو اپنی لذت کی خاطر مجروح کر رہی ہے۔ ’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘ اس جنسی کھیل کا پر اثر بیانیہ ہے جو آج معاشرے کے ایک مخصوص حلقہ میں خفیہ طور سے کھیلا جا رہا ہے مگر یہ کھیل اب لوگوں کی تجسس کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔اس افسانے کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں عورتوں کواستحصال نماآزادی ہی ملی ہے:نگارعظیم- حقانی القاسمی )
”اس نے کہا تھا کہ ازدواج کی عارضی ادلا بدلی سے فرسودہ رشتے میں نئی بہار آجاتی ہے جس سے رشتے کی جڑ مضبوط ہوتی ہے اور محبت کے بوسیدہ شجر پر نئی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں۔ “ یہ جملہ قاری کے ذہن میں تجسس اور تحیر کی ایک کیفیت پیدا کرتا ہے اور قاری لا شعوری طور پر اس کہانی کی اگلی سطروں،جملوں، کرداروں سے جڑ نا چاہتا ہے اور وہ کلائمکس جاننے کے لیے مضطرب ہو اٹھتا ہے۔یہی اضطرابی کیفیت کہانی کو آخر تک پڑھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ قاری یہ سوچنے لگتا ہے کہ اب آگے کیا ہونے والا ہے اور جب تک وہ اس کیفیت کے سحر میں رہتا ہے تب تک کہانی کے کئی موڑ سے گزر جاتا ہے۔
پرویز شہریار کی یہ کہانی ایسی ہے جس کی زبان کہانی کے موضوع سے بھی ہم آہنگ ہے اس لیے موضوع اور زبان دونوں ہی قاری کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور موضوع اور زبان کی خوبصورت کمیسٹری یا انٹی میسی سے کہانی بہت پر اثر بن جاتی ہے۔کہانی کے درج ذیل اقتباسات سے اس کا اندازہ با آسانی لگایا جاسکتا ہے اور کرداروں کی ذہنی کیفیات،جذبات،احساسات سے بھی آشنائی کی ایک صورت نکل آتی ہے۔
(الف) شجر ممنوعہ کا سر سبز و شاداب نخلستان اور دور دور تک ریگستان کا لامتناہی گھپ اندھیرا ہر درخت پر کوئی آدم زاد موجود تھا اور حوا کی بیٹیاں شجر ممنوعہ پر زبردستی چڑھائی جا رہی تھیں۔
(ب) ہمیں غیر مرد کی آغوش میں خود سپردگی کے لیے خود ہمارے شوہرآمادہ کر رہے تھے۔
(ج) ہمارے جنسی غدودوں میں اس قدر ہلچل مچی ہوئی تھی کہ معلوم ہوتا تھا کہ پراکرتی اور پرش کے اس ملن نے فطرت کے کاموں میں دخل در معقولات کر کے جوالا مکھی، طوفان اور سیلاب، تینوں کے گیٹ بیگ وقت کھول دئے ہوں۔ ہم خش و خاشاک کی طرح جنسی ہیجان کے سیلِ رواں میں بہتے جا رہے تھے۔
اس کہانی کی راوی ایک خاتون ہے،پوری کہانی ایک عورت کی زبانی ہے جو شجر ممنوعہ کے سارے زاویوں سے روشناس کراتی ہے اور اس کے محرک اور محرکات کو بھی بیان کرتی جاتی ہے کہ آخر شجر ممنوعہ کی چاہ نے کیسے جنم لیا اور اس عشرت گاہ میں داخل ہونے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔خاتون راوی یہ بتاتی ہے کہ اس کا شوہر شہوت پرست اور حسن کا پرستار تھا اور ازدواجی زندگی میں جب چنگاریاں سرد پڑنے لگیں تو اس نے ایک نئی پناہ گاہ تلاش کر لی اور اس کے لیے اس نے اپنے شریکِ سفر کو بھی تیار کر لیا۔ شوہر ذہنی طور پر اس شجر ممنوعہ کے لیے تیار ہونے کے لیے اپنی بیوی سے کہتا ہے: (یہ بھی پڑھیں حرف محبت (’فکشن سے پرے‘: چند باتیں )- حقانی القاسمی )
”جانِ من میں ایک ایسی جگہ جانتا ہوں جہاں جانے سے ہماری ازدواجی زندگیاں کی خوشیاں پھر سے لوٹ آئیں گی۔“
اس جگہ پہنچنے کے بعد کیا ہوتا ہے وہ کافی تحیر خیز ہے اور یہیں سے دونوں کی زندگی ایک نئی شکل و صورت اختیار کرتی ہے۔ ایک کردار آباد ہوتا ہے تو دوسرا شریک کردار بربادی کے مرحلوں سے گزرتا ہے۔ ایک کردار کی زندگی جنت بن جاتی ہے تو دوسرے کردار کی زندگی جہنم میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ در اصل دو مربوط اور متواصل کرداروں کا افتراق اسی swapping سے شروع ہوتا ہے۔ وہ دو کردار جو ایک دوسرے کی سانسوں میں شامل ہیں مگر لذت اور بوالہوسی کی خاطر یہ سانسیں اب دوسری، تیسری سانسوں کا سرگم بن جاتی ہیں اور پھر ان سانسوں کی تقلیب سے زندگی کا زاویہ بھی بدل جاتا ہے۔ گرم سانسوں سے جس خوب صورت زندگی کا آغاز ہوتا ہے وہ سرد آہوں میں بدل جاتی ہیں۔ ایک پر اسرار جگہ زندگی کو پیچیدگیوں کے ایسے مرحلے تک پہنچا دیتی ہے کہ جہاں افسوس اور آہ کے سوا کچھ بھی نہیں بچتا۔
پرویز شہریار کی اس کہانی میں دو کردار ہیں۔ ایک فاعل اور دوسرا مفعول،ایک متحرک اور دوسرا ساکت۔اس میں فاعل کردار کی جو عکاسی کی گئی ہے وہ کردار عموماً ایسا ہی ہوتا ہے جو مردانہ امیج اور جبلت سے میل کھاتا ہے یعنی ایک ایسا مردانہ کردار جو شہوانی خواہشات سے مغلوب ہے اور جو اپنے اندر کی گرمی دوسری عورتوں کے اندر جا کر ٹھنڈا کر نے کا عادی ہے اور جو الہڑ اور البیلی حسینہ کو اپنے پہلوؤں کو گرم کر نے کے لیے تلاش کرتا رہتا ہے۔ شہوت نے اس کی ذہنیت بھی بدل دی ہے اس لیے اس کی زبان سے اس طرح کے جملے نکلتے ہیں۔
”آج جب میں چاہوں، حسین سے حسین دوشیزہ کو اپنے بستر کی زینت بنا سکتا ہوں۔ یہ سب میں نے اپنے عزیز ترین جذباتی رشتوں کو کھو کر حاصل کیا ہے۔ اس مشینی دور میں اپنے سچے اور معصوم جذبات کا اپنے ہاتھوں سے خون کیا ہے، یہ تم جانتی ہو،میں ایک ما بعدجدید انسان ہوں۔ میں ان سب چیزوں سے کسی بھی قیمت پر تیاگ نہیں لے سکتا۔ میں سنیاسی بن کر جینا نہیں چاہتا۔ یہ زندگی صرف ایک بار ہی ملی ہے۔ لہٰذا میں اس سے لطف اٹھا نا چاہتا ہوں۔ میں اپنی جنسی زندگی کو تہہ دامن دبا کے مہا پرش اور مہاتما بننے کا آڈمبر نہیں رچ سکتا“
ان جملوں سے مرد کردار کی مکمل عکاسی ہو گئی ہے اور اس کی ذہنیت کا بھی اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے دوسری طرف ایک مفعول کردار ہے جو محبت، ممتا، ایثار اور اخلاص کا پیکر بن کر اپنی زندگی تباہ کر لیتی ہے کہ شاید یہی تباہی اس کی تقدیر میں ہے اور یہی اس کی جبلی تصویر بھی ہے۔ یہ مفعول کر دار عورت کے سوا کون ہو سکتا ہے جو ہر زخم سہہ کر مسکراتا ہے اور دوسروں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے اپنی عزت وناموس کی بھی قربانی دے دیتا ہے۔ کہانی کے بین السطور میں اس کردار کا جو عکس سامنے آتا ہے اس کا عورت کی تقدیر اور تصویر سے بہت گہرا رشتہ ہے۔
(الف) میرے گورے گورے انگوں میں ایک قدرتی کساو برقرار تھا اور میرے جوبن کے ابھار بھی ماند نہیں پڑے تھے لیکن اندر سے میں خود کو کمزور محسوس کرنے لگی تھی،میں اپنے شوہر کی خوشی کے لیے سب کچھ کررہی تھی جس سے کہ وہ خوش رہے۔ (یہ بھی پڑھیں خوابوں کے چاک پیرہن کی شاعرہ :پروین شاکر – حقانی القاسمی )
(ب) وہ میرے سامنے اس کلجگ کی گوپیوں سے پینگیں بڑھاتا رہا اور میں گم صم بنی اپنی آنکھوں سے یہ سب تماشہ دیکھتی رہی۔ بھانت بھانت کے رنگ و روپ کے مردوزن جب ایک دوسرے میں پیوست ہوتے تو آدم زادوں کا ایک ایسا ہیولہ تیار ہو جاتا تھا، جو اپنے آپ میں کسی شجر ممنوعہ سے کم نہ تھا۔ اس پر مستزاد، وہ لمبی سیاہ زلفوں والی ڈائن تھی جو مردوں کے ہاتھوں میں شراب سے لبریز کسی پیمانے کی طرح گردش کرتی رہتی۔ حتیٰ کہ اس کے گرد مردوں کی لام لگ جاتی اور وہ سب اکٹھے اسے اپنے گرم گرم ہونٹوں سے چومتے تھے۔ادھر میں اپنے ہاتھوں سے اپنے نصیبوں کو رو پیٹ کر بیٹھ چکی تھی۔ میری حیثیت اس چوسی ہوئی آم کی گٹھلی کی مانند ہو چکی تھی جو آدم زادوں کی ٹھوکروں کی زد پر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا کر گر پڑتی ہے، جسے گدھے بھی سونگھ کر چھوڑ دہتے ہیں“
پرویز شہریار نے ان دونوں کرداروں کی نفسیات،جذبات اور کیفیات کی خوب صورت عکاسی کی ہے اور یہ عکاسی دونوں کی جبلت سے ہم آہنگ بھی ہے کہ مرد ہمیشہ طربیہ کردار میں رہنا پسند کرتا ہے جب کہ عورت اکثر حالات میں المیہ کردار بن جاتی ہے۔ اس کہانی میں بھی طربیہ اور المیہ کی دونوں کیفیتیں موجود ہیں کہ مرد کردار جہاں اپنی لذت کی خاطر ہر مسکراتی ہوئی کلی اور ہر کھلتے ہوئے پھول کو اپنے پیروں تلے بے رحمی سے روندتا رہتا ہے وہیں عورت کردار کو ناگن کی طرح تنہائی ڈستی رہتی ہے اور اس کی ہڈیوں میں سرد لہر سی دوڑنے لگتی ہے۔ اس کردار کی کیفیت کچھ یوں ہو جاتی جس کو کہانی کار نے اس طر بیان کیا ہے:
”آج،میں خود کو اکیلے پن کے ایسے اندھے کنویں میں گرتی ہوئی محسوس کررہی ہوں، جہاں سے میری آواز باہر کی دنیا تک پہنچ نہیں سکتی ہے۔ میں اندر ہی اندر چیخ رہی ہوں لیکن میرے آس پاس مجھے کوئی سننے والا نہیں ہے۔“
پرویز شہریار کی یہ کہانی جدید حسیت سے لبریز ہے مگر اس کا بین المتونی لمس بھی اس کہانی کے اندر موجود ہے گویا اس کا رشتہ ازل سے جوڑا گیاہے اور ایک تلمیح کے ذریعہ آج کی اس بھیانک حقیقت کو عہد عتیق سے جوڑکر ایک نئی معنویت پیدا کی گئی ہے۔
”میری درد بھری داستان سننے کے بعد اس نے مجھے توریت کا ایک واقعہ سنایاتھا۔انھوں نے کہا۔آدم جب جنت میں اپنے اکیلے پن سے گھبرانے لگے تو خدا نے ان کی دل جوئی کے لیے آدم کی پسلی سے حوا پیدا کیا۔ ایک ساتھی مل جانے کے بعد آدم اور حوا جنت میں خوب شاداں وفرحاں رہنے لگے۔ تبھی للت جس کی شکل عورت کی تھی مگر اس کا بدن سانپ کا تھا۔ اسے یہ سب دیکھ کر برداشت نہ ہوا۔ کیوں کہ وہ جنت میں اس وقت سے موجود تھی جب حوا کا وہاں وجود بھی نہ تھا۔ دراصل،حوا وہاں بعد میں آئی تھی اور للت وہاں پہلے سے رہ رہی تھی۔ ایک دوسری عورت کو دیکھ کر للت کے اندر جلاپا شروع ہو گیا۔ اس نے آدم اور حوا کے خلاف ایک سازش رچی اور باغ ِ بہشت کے ایک خاص شجر ممنوعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ”ارے یہ کیا بات ہوئی کہ جنت کا جو سب سے بہترین پھل ہے، بھلا اسے ہی کھانے سے منع کر دیا جائے۔“اس نے بی بی حوا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ”دیکھو! تم یہ پھل ضرور کھانا۔ اس جیسا جنت میں کوئی دوسرا پھل نہیں۔“
”اتنا سننا تھا کہ حوا اپنی فطری معصومیت کی وجہ سے سازش کا شکار ہو گئیں۔ جنت کا پھل چکھتے ہی ان کی شرم گاہیں عیاں ہو گئیں اور پھل کھا لینے کی پاداش میں انھیں خلد سے نکال دیا گیا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن عورت ہی عورت کے اخلاقی زوال کا سبب بنی ہوئی ہے۔“
اس افسانے کا تلمیحی رشتہ تانیثیت کے اس تصور کی مکمل تنسیخ ہے جس میں جبر و استحصال کے لیے مردانہ معاشرے کو مورِدِالزام قرار دیا جاتا ہے اور عورت کی تمام ذلتوں کے لیے مردانہ ذہن ہی ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس افسانے کا ابتدائی حصہ پڑھتے ہوئی جہاں مرد کردار کی عیاشی، آوارگی، بد کرداری اور اس کی چالاکی ذہن پر نقش ہوجاتی ہے اور عورت ایک مظلوم، مقہور، مجبور کردار کی حیثیت سے نظر آتی ہے مگر اس تلمیح کے بعد ذہن کا زاویہ بدل بھی سکتا ہے اور یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ عورت کے استحصال اور استبداد کے پیچھے صرف مردانہ مکاری نہیں بلکہ عورت کی شاطرانہ ذہنیت بھی کام کرتی ہے اور مرد ہی نہیں بلکہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔ اس تناظر نسائی کردار کا یہ جملہ بھی بہت معنیٰ خیز ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ندافاضلی کا نثری اظہار — حقانی القاسمی )
”میرے شوہر اور وہ سیاہ فام چڑیل ایک دوسرے کو شاید بہت پہلے ہی سے جانتے تھے۔۔۔ میری نظروں کے سامنے وہ سیاہ سمندر کے نمکین پانی میں متواتر ابھرتا رہا اور حیرت ہے کہ اس کے قہقہوں کی آواز میرے کانوں میں نہیں پڑ رہی تھی۔ “
اس افسانے میں نسائی کردارایک ساکت اور ساکن کردار میں تبدیل ہو جاتا ہے اور اپنے عمل اور اپنے رویے کی وجہ سے وہ ایک مفعول کردار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس نسائی کردار میں خود سپردگی ہے اس لیے وہ بغاوت اور مزاحمت نہیں کر پاتی اورجب آنکھیں کھلتی ہیں تو پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔
پرویز شہریار ا یہ افسانہ بھی تقدیر نسواں کی ایک تصویر ہے۔ اس کا تانیثی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جائے تو شاید اسے مردانہ ذہن کی کار فرمائی نظر آئے گی کہ کہانی کار نے اس کا رشتہ عورت نما للت سے جوڑ دیا ہے جوحوا کی ذلت کی ذمہ دار ہے۔ اسی موضوع پر کوئی خاتون افسانہ لکھتی تو شاید اس کا زاویہ نظر الگ ہوتا اور وہ مرد اساس معاشرے کی ذہنیت پر کاری ضرب لگانے میں کامیاب ہوتی۔ یعنی اس کہانی میں تانیثیت پسندوں کے لیے معاملہ بالکل الٹا ہو گیا کہ قصور ان کو دیتے تھے الزام اپنا نکل آیا۔اس کہانی میں کششِ اتصال اور کشش مقناطیسی کی کشمکش کا بہت خوب صورت بیانیہ ہے کشش اتصال یعنی شوہر اور بیوی جو ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں اور ایک جان دو قالب کہلاتے ہیں اسے کشش مقناطیسی یعنی وہ سیاہ فام چڑیل جدا کر دیتی ہے اور اپنی جنسی جاذبیت اور رعنائی کے ذریعے اس کے شوہر کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔
’لیو اِن ریلیشن سے پرے‘ کا شمار بھی پرویز شہریار کی عمدہ کہانیوں میں کیا جاسکتا ہے کہ یہ افسانہ بھی ایک الگ نوعیت کے مسئلے سے متعلق ہے۔ یہ ایک ایسا emerging issueہے جس پراردو میں کہانیاں کم لکھی گئیں ہیں۔ یہ ایک نئے معاشرتی رویے کا بیانیہ ہے جو مغربی سماج کے لیے محظور نہ سہی مگر مشرق کے لیے ممنوع ہے اور نئی نسل اسی ممنوعہ زون میں جذب ہونے کے لیے بے چین نظر آتی ہے۔
لیو ان کا مسئلہ آج کے معاشرے کی ایک بہت بڑی حقیقت ہے اور تبدیلی معاشرت کا ایک بہت بڑا اشاریہ بھی کہ آج ہر لمحہ بدلتی اس دنیامیں متبادل کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ صدیوں پرانے ازدواجی نظام کی شکست و ریخت سے اس رویے نے جنم لیا ہے اور شادی کے بغیر رفاقت کے اس تصور کی جڑیں مضبوط ہوتی جا رہی ہیں کیوں کہ بغیر دباؤ کے آزادی کا احساس نئی نسل میں بڑھتا جا رہا ہے اور ایک بڑا طبقہ شادی کو اپنے لیے زنجیر سمجھتا ہے اور ازدواجی زندگی کی تلخیوں اور اس سے پیدا شدہ تناؤ اور کشمکش نے بھی اس تصور کو عام کیا ہے۔یورپی ممالک میں اب Co-habitationیا لیو ان ریلیشن غیر قانونی نہیں ہے مگر ہندوستان جیسے مذہبی اقدار ورسومات کے ملک میں اب یہ غیر قانونی نہ سہی لیکن غیر اخلاقی ضرور سمجھا جاتا ہے۔جدید جنسی اخلاقیات میں یہ کوئی معیوب عمل نہیں ہے مگر اس سے شادی جیسے مضبوط ادارے اور نظام کی ساخت مجروح ہو رہی ہے۔ یہ ایک طرح سے Deinstitulization of Marriageکی ایک شکل ہے۔
پرویز شہریار کی کہانی اسی حساس موضوع سے متعلق ہے۔ انھوں نے اس کہانی کے لیے صنف اور وصف کے اعتبار سے دو متضاد کرداروں کا انتخاب کیا ہے۔ ایک نہایت ہی سیاہ فام شمبھو ناتھ اور دوسرا کردار نازک اندام پدمجا جوسیف۔ یہ دونوں مذہب، نسل، رنگ، قوم ہر اعتبار سے الگ ہیں اور دونوں میں تطابق کی کوئی فطری صورت بھی نظر نہیں آتی لیکن یہ دونوں الگ الگ پس منظر سے تعلق رکھنے والے کردار آخر میں ایک ہو جاتے ہیں۔ اسے اس کہانی کا حسن بھی کہاجا سکتا ہے کہ دو متضاد لہریں ایک سمندر میں سماجاتی ہیں اور دونوں متضاد ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ در اصل ان دونوں قطبین کا اجتماع مجبور ی حالات کا ثمرہ ہے۔کہانی کار نے دونوں کرداروں کی ذہنی کیفیت اور حالات کی بہت عمدہ عکاسی کی ہے۔ یہ دونوں کردارترک وطن کر کے معاش کے لیے ایک چھت کے نیچے اکٹھے ہوتے ہیں اور پھر دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب آجاتے ہیں کہ ایک ہی کمرے میں اور ایک ہی بستر پر سونا ان کی مجبوری بن جاتی ہے۔ یہ دونوں کردار لیو اِن ریلیشن شپ میں بندھ جاتے ہیں۔ مرد کردار کواس میں کچھ قباحت نظر آتی ہے مگر عورت اس معاملے میں تھوڑی آزاد خیال ہے اس لیے وہ شمبھو کو سمجھا تی ہے:
”ہم اپنے عزیزوں کو اپنے گاؤں میں چھوڑ کے پیسے کمانے کی خاطر ہی اس شہر میں آئے ہیں۔ پیسے گنوانے کے لیے نہیں۔؟ اس لیے کرائے پر پیسے پھینکنے کے بجائے ایک ہی کمرے میں گزارا کر سکتے ہیں۔“
دونوں کرداروں کا مکالمہ کافی دل چسپ ہے۔ دونوں ہی لیو ان ریلیشن شپ کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
”بے وقوف مت بنو۔ انھیں کیسے پتہ چلے گا کہ ہم دونوں کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟“
میڈم! یہ امریکہ نہیں ہے۔۔۔”شمبھو نے جلدی سے اپنے خیال کا اظہار کیا۔
ایسا صرف امریکہ میں ہوتا ہے کہ ایک ہی دفتر میں کام کرنے والے کولیگ اکثر فلیٹ بھی آپس میں شیئر کر لیتے ہیں۔“
”اکزیکٹلی!“ پدمجا نے اس کی بات کو سراہتے ہوئے شمبھو سے دریافت کیا۔
”تم نے لیو اِن ریلیشن تو سنا ہی ہوگا؟“
”مطلب؟“
”مطلب یہ کہ ہم دونوں کافی میچیؤر ہیں۔ ہم وہ سب کچھ کریں گے،۔۔۔ سوائے بچہ پیدا کرنے کے، جس سے انھیں ہمارے بارے میں غیر شادی شدہ ہونے کا کوئی شک نہ ہو۔
”اگر کوئی پوچھے گا کہ آپ نے منگل سوتر نہیں پہن رکھا ہے۔ آپ نے سیندور بھی نہیں لگا رکھا ہے، تو پھر۔۔۔؟“
”ان کو ہم کہہ دیں گے۔ ہماری ابھی انگیج مینٹ ہو رکھی ہے۔“ ”ویسے بھی کرسچن ان فالتو کی رسموں میں کبھی یقین نہیں کرتے ہیں۔“
کہانی کار نے دونوں کی ذہنی قربتوں کے ساتھ ساتھ جسمانی قربتوں کو بھی بیان کیا ہے کہ رفتہ رفتہ دونوں ایک دوسرے کے اتنے قریب آجاتے ہیں کہ جسمانی رشتہ بھی قائم ہو جاتا ہے اور وہ مانع حمل ادویات استعمال کرنے لگتی ہے۔ اسی دوران پدمجا جوسیف کا نیو یارک کا ویزا آجاتا ہے جس کی وجہ سے شمبھو ایک اندرونی کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پدمجاکی فلائٹ کے صرف تین دن باقی رہتے ہیں کہ دونوں کی جذباتی کیفیت عجیب سی ہونے لگتی ہے، پدمجا بھی اپنے جذبات کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے اور شمبھو کو دلاسہ دیتی ہے اور پھر ایک رات ایسا ہوتا ہے جس کو کہانی کار نے بڑے خوبصورت پیرائے میں یوں بیان کیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں عصمت چغتائی: کھلے پنکھ والی افسانہ نگار – ڈاکٹرپرویز شہریار )
”اس رات پدمجا شمبھو کی انگلی تھام کے اسے ایک ایسے حسین اور جواں اقلیم کی سیر پر لے گئی جہاں سچی محبت کرنے والے مرد اور عورت کے جوڑے ہی جاسکتے ہیں اور وہاں جانے کے بعد پھر زندگی اور موت کا فرق کوئی معنی نہیں رکھتا۔
صبح ہوئی۔
شمبھو کے دل کا تمام غبار نکل چکا تھا۔
آج، نہ جانے کیوں صبح سے ہی خوبصورت معلوم ہو رہی تھی۔
شمبھو نے حسبِ دستور بیڈ ٹی لے جا کر تپائی پر رکھی اور پدمجا کے ماتھے کو یکا یک جذبات سے مغلوب ہو کر آہستہ سے چوم لیا۔ سوئی ہوئی حالت میں آج وہ شمبھو کو بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔ ایک انگڑائی کے ساتھ وہ اٹھ بیٹھی۔ شمبھو نے ایک گلاس پانی کے ساتھ پری وینٹو پلس رکھ کر پدمجا کی طرف بڑھا دی۔
تبھی پدمجا نے فرط جذبات میں آکر شمبھو کو اپنے گلے سے لگا لیااور پوری قطعیت کے ساتھ یہ اعلان کیا۔۔
اب مجھے پری وینٹوپلس کی ضرورت نہیں ہے۔
اتنا کہتے ہی اس نے اپنے سرہانے سے نیو یارک کا ویزا نکالااور اسے فوراً ڈسٹ بن میں ڈال دیا اور اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولی۔ ”اب میں نیو یارک نہیں جاؤں گی“
اس کہانی میں عورت عطوفت، ایثار، ممتا اور محبت کے پیکر میں نظر آتی ہے کہ اسے پیسہ نہیں پیار چاہیے اور وہ اپنی محبت کے لیے اپنی تمام خواہش اور خواب کو قربان کر دیتی ہے۔ اس میں عورت کا جو کردار ہے وہ اس کے پیشے سے بھی ہم آہنگ ہے کہ نرس ہونے کی وجہ وہ دوسروں کے دکھ کو اپنے دکھ پر ترجیح دیتی ہے اور دوسروں کی خوشی کے لیے اپنی جان نثارکر دیتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں سونیا بوٹیک – ڈاکٹر پرویز شہریار )
پرویز شہریار نے کہانی کی مناسبت سے بہت ہی عمدہ کردار کا انتخاب کیا ہے۔ اگر نرس کی جگہ کوئی اور نسائی کردار ہوتا تو شاید اس کا عمل اور رد عمل اس سے قطعی مختلف ہوتا اور وہ شاید پیار پر پیسے کو ترجیح دیتی اور اپنے خواب کی تکمیل کے لیے مرد کے جذبات کو مجروح کرنے سے بھی باز نہیں آتی مگر یہاں معاملہ بہت مختلف ہے کہ تمام مثبت اقدامات ایک نسائی کردار کے ذریعے کیے جا رہے ہیں کہ محبت اورمدھر ملن میں پیش قدمی عورت کی طرف سے ہو رہی ہے۔ یہ ایک طرح سے اسٹیریو ٹائپ نسائی کردار سے انحراف بھی ہے۔ پرویز شہریار نے عورت کو ایک فاعلی اور متحرک کردار کے طور پر پیش کیا ہے جب کہ عام طور پر نسائی کردار کو بہ انداز دگر پیش کیا جاتا ہے۔
پرویز شہریار نے بڑی خوبصورتی سے یہ کہانی تخلیق کی ہے۔ لیکن اگر اس کے ابتدائی تمہیدی حصے کو حذف کر دیا جاتا تو شاید کہانی زیادہ پر قوت اور پر تاثیر بن جاتی۔ ابتدا میں اطناب نے کہانی کو تھوڑا مجروح کیا ہے۔ کہانی اگر یہاں سے شروع ہوتی تو شاید حساس قاری کو شکایت نہ ہوتی۔
”پدجما کو دنیا بھر کے مردوں کی اونچی نظروں سے بچانے کے لیے فوری طور پر ایک بوائے فرینڈ کی ضرورت تھی۔“
موضوعی اعتبار سے پرویز شہریار کا یہ بہت اچھا افسانہ ہے گو کہ اس موضوع پر بہت سی فلمیں بھی بن چکی ہیں جس میں لیو اِن کے ڈائلمہ کو پیش کیا گیا ہے۔ کٹی بٹی، ارتھ، سلام نمستے، فیشن، پیار کا پنچ نامہ، کاک ٹیل، شدھ دیسی رومانس جیسی فلمیں اسی موضوع کو مس کر تی ہیں مگر اردو میں اس بولڈ موضوع پر بہت کم کہانیاں لکھی گئیں ہیں۔ پریم چند کی کہانی گؤدان میں اس کی طرف ہلکا سا اشارہ ضرور ملتا ہے۔
پرویز نے ایک نئے موضوعی منطقے کا انتخاب کیا ہے اور اتفاق یہ ہے کہ دونوں ہی کہانیاں ماورائے ازدواج رفاقتوں سے متعلق ہیں، دونوں ہی کہانیوں میں ایک دیہی ملک کی شہری دنیا کی دریافت ہے جہاں پرانی قدریں دم توڑ رہی ہیں اور نئی قدریں وجود میں آرہی ہیں اور ان نئی قدروں کے پیچھے نو دولتیہ طبقے کا ہاتھ ہے جو اپنی جڑوں سے منحرف ہو کر پرواز کے نئے آسمان تلاش کر رہا ہے۔
پرویز شہریار نے ام دونوں کہامنیوں کے ذریعے جہاں جنسی اباحیت کے باب میں مشرق و مغرب کی تفریق کو ختم کیا کے وہیں نئے ثقافتی ادغام کی طرف اشارہ بھی کیا ہے کہ جنس کے باب میں مشرق و مغرب کی قربتیں بڑھ گئی ہیں اور دونوں کے جنسی رویے میں بڑی حد تک یکسانیت اور مماثلت ہے۔ اور گلوبلائزیشن کی وجہ سے ثقافتی سائکی اور کلچرل شعور تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ جہاں مشرقیت اور مغربیت کی کوئی سرحدیں ختم ہو رہی ہیں اور ثقافتی ادغام کی شکل میں ثقافتی انہدام کا ایک سلسلہ سا چل پڑا ہے یہ دونوں کہانیاں گو کہ ازدواجی نظام کے انہدام سے عبارت ہیں مگر دونوں کہانیوں کا ردعمل مختلف ہے۔ ایک ہی جیسے عمل سے ایک کہانی میں زندگی برباد ہوتی ہے تو دوسری کہانی میں زندگی آباد ہو جاتی ہے۔ ایک کہانی میں مادیت پر محبت کی فتح ہے تو دوسری کہانی میں محبت پر مادیت کا غلبہ ہے۔پرویز شہریارکی ان دونوں کہانیوں کا تانیثی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جائے توعورتوں کی مکمل آزادی اور خود مختاری کے باوجود Post Phallocentric world کا تصور محض ایک خواب نظر آتا ہے اور عورت آج بھی ایک اضافی شے ہی نظر آتی ہے جسے صرف مرد کاOtherسمجھا جاتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں مشرف کے ناول’نالۂ شب گیر‘ کا تنقیدی جائزہ – ڈاکٹر پرویز شہریار )
ان دونوں افسانوں کا بیانیاتی تجزیہ کیا جائے تو دونوں افسانے پیش کش، واقعاتی نظام اور دیگر فنی لوازمات کے اعتبار سے بہتر نظر آئیں گے۔آج کی کہانیوں میں جو Drastic shift آرہی ہے، پرویز شہریار کے افسانے اس کی بہتر نمائندگی کر تے ہیں۔ ان افسانوں کے علاوہ پرویز شہریار نے ان موضوعات کو بھی مس کیا ہے جو آج کے معاشرے سے متعلق ہیں۔وہ عمومی موضوعات جن میں فسادات، فرقہ واریت، دہشت گردی وغیرہ وغیر شامل ہیں،جن پر اکثر فن کار کہانیاں لکھتے رہے ہیں۔پرویز شہریار کی ایسی کہانیوں میں ہم وحشی ہیں، چونا شاہ کی ہرنیں اداس ہیں، سیلوا جڈوم کہاں جائیں وغیر کا ذکر کیا جاسکتا ہے مگر موضوعاتی مماثلت کی وجہ سے بہت سی کہانیاں بھیڑ میں گم ہو جاتی ہیں اور اکثر اس طرح کی کہانیوں کا حشر وہی ہوتا ہے کہ لوگوں کے ذہن سے یہ کہانیاں بہت جلد محو ہو جاتی ہیں اور ان کہانیوں کی مدتِ حیات بھی بڑی مختصر ہوتی ہے۔
پرویز شہریار نے راجندر سنگھ بیدی اور عصمت چغتائی کا مرکوز مطالعہ کیا ہے اس لیے ان کے افسانوں میں یہ رنگ بھی آجاتے ہیں جو بیدی اور عصمت سے مخصوص ہیں مگر پرویز شہریار نے ان سے تحریک اور ترغیب حاصل کر کے اپنی کہانیوں کو جدا گانہ رنگ عطا کیا ہے اور شاید یہ رنگ دگر انھیں تخلیقی دنیا میں زندہ و تابندہ رکھے گا۔(تھکی ہوئی ساعتوں میں لکھا گیا مضمون)
haqqanialqasmi@gmail.com
Cell:9891726444
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت اعلیٰ و معیاری اردو ادبی ویب سائٹ ۔ پہلی بار دیکھنے اور کچھ مواد کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا ۔ جناب پرویز شہریاد کی دو کہانیوں پر محترم حقانی القاسمی صاحب کا تجزیاتی تبصرہ پڑھا، جی خوش ہو گیا ۔ محترم حقانی القاسمی جیسے نقاد، آج مفقد ہیں یا مفقود ہوتے جا رہے ہیں اور جو ہیں ان میں بھی کئی ایک مصلحتوں کا شکار ہیں ۔ حقانی صاحب کے تبصہ نے پرویز شہریار کی ان کہانیوں اور دیگر تخلیقات کو پڑھنے کی ترغیب تو دہ ہے دیکھیں اب اُن کی رسائی کی کوئی راہ کب نکلتی ہے ۔ ( نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک ) ۔