Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
روبرو (انٹرویو)

عورتوں کواستحصال نماآزادی ہی ملی ہے:نگارعظیم- حقانی القاسمی

by adbimiras مئی 18, 2021
by adbimiras مئی 18, 2021 0 comment

سیاسی نظام اور اس سے جڑے افراد کے لیے Viable Alternative خطرے کا نشان ہوتا ہے اسی طرح یہ سماج کے لیے بھی مضرت رساں ہے۔اس نوع کے متبادل کی موجودگی ازدواجی تعلق کی تمکنت کو بھی تلخیوں میں بدل دیتی ہے۔ یہ متبادل ازدواجی دائرے میں ہو یا ماورائے ازدواج طرفین کے جذباتی اور ذہنی کشمکش کا سبب ہے۔ عورتوں کے لیے تو یہ متبادل سم قاتل سے کم نہیں کہ مرد عورت کے مابین جب کوئی تیسری لہر آجاتی ہے یا مرد اپنے جذباتی تعیش اور جنسی تسکین کے لیے ازدواجی رفاقت میں کسی اور کو قانونی یا شرعی طورپر شامل کرلیتا ہے تواس سے خاندانی اقداری نظام کی دیواریں متزلزل ہونے لگتی ہیں۔ کیونکہ محبت کسی کی شرکت گوارا نہیں کرتی اور اسے توجہ کی تقسیم بھی منظور نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی عورت اپنے گھر آنگن میں کسی حریف یا رقیب کی مہکار ،جھنکار اور سولہ سنگار برداشت نہیں کرسکتی۔اسے یہ قطعی منظور نہیں کہ اس کی اہمیت اور قدروقیمت کم کردی جائے۔اس متبادل کی وجہ سے عورتوں کی ذاتی انا بھی جاگ جاتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ معاشرتی خاندانی ساخت کو صحتمند رکھنے کے لیے کثرت ازدواج کو کچھ مذاہب نے عورت مرد کی مساوات کے منافی عمل قراردیا ہے۔ہاں کچھ مذاہب میں تعدد ازدواج کی مشروط اجازت ہے۔افزائش نسل ،تولیدی عمل اور خاندانی وراثت کے تحفظ کے لیے اس کی گنجائش نکالی گئی ہے اور تعدد ازدواج کو حیاتیاتی جبریت سے جوڑ کر بھی دیکھا گیا ہے۔مگرکیا تعدد ازدواج  ہی خاندانی بحران کا حل ہے۔اس پر بہت سے لوگوں نے سوالا ت اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرانے زمانے میں خاندانی نجابت کے لیے سگے بھائی بہنوں میں شادی کی رسم عام تھی جس کے بارے میں آج سوچتے ہوئے بھی گھن آتی ہے۔تو کیا صرف خاندانی وراثت کو بچانے کے لیے عورت کی زندگی سے کھلواڑ صحیح ہے۔ (یہ بھی پڑھیں عورت کی پوری زندگی تابعداری سے عبارت ہے: سیّدہ شان معراج – حقانی القاسمی)

تعدد ازدواج کا مسئلہ سوشیو بائلوجی سے جڑا ہوا ہے۔ معاشرتی ارتقا اور تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ اس طرح کے مسائل کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں۔ایک زمانے میں صرف Polygyny نہیں بلکہ Polyandry (ایک سے زائد شوہر)   بھی  معاشرے میں قبیح یا مذموم عمل نہیں تھی۔دروپدی پانچ پانڈوؤں کی بیوی تھیں تو تبت اور سری لنکا میں مشترکہ شوہروںکی روایت عام رہی ہے۔بلکہ حیرت ہوتی ہے کہ بعض جگہوںمیں باپ اور بیٹے کی مشترکہ بیوی کی رسم بھی رہی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ رسمیں تہذیبی انحطاط کے دور کی ہیں اور تہذیبی ارتقا کی روشنی نے ان بہت سی رسموں اور روایتوں کو منسوخ کردیا ہے۔ایک سے زائد بیوی کی روایت بھی قدیم زمانے میں رہی۔ رام چندرجی کے والد راجہ دسرتھ کی تین بیویاں تھیں مگر ہندو مذہب میں اب یہ ممنوع ہے۔صرف یہودیت اور اسلام میں تعدد ازدواج کی مشروط اجازت ہے جوکہ اب بہت ہی گمبھیر مسئلے کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے کیونکہ حقوق نسواں کی علمبردار تنظیمیں تعدد ازدواج کو عورت کے ساتھ جبر اور استحصال کی شکل مانتی ہیں۔تانیثیت سے متعلق فکشن میں بھی تعدد ازدواج کو موضوع بنایا گیا ہے۔ بشیرالدین احمد نے ’اقبال دلہن‘ اور اکبری بیگم نے ’ گوڈر کا لعل‘ میں اس مسئلے پر گفتگو کی ہے اور عورتوں کے تئیں ہمدردی کے باوجودتعدد ازدواج کا شرعی نقطہ نظر سے دفاع ہی کیا ہے۔صرف ایک خاتون نذر سجاد حیدر والدہ قرۃ العین حیدر ایسی تھیں جنہوں نے تعدد ازدواج کی کھل کر مخالفت کی اور اپنے ناول’ آہ مظلوماں ‘میں کثرت ازدواج کی بھیانک تصویریں دکھا کر خاندان اور سماج پر اس کے پڑنے والے منفی اثرات کے حوالے سے باتیں کی ہیں۔گلدستہ محبت، عفت نسواں،شعلہ پنہاں جیسے ناول لکھنے والی اکبری بیگم جنہوں نے سماجی جبر کے تحت اپنے نام کو بھی پردے میں رکھا۔ والدہ افضل علی یا عباس مرتضیٰ کے مردانہ نام سے ناول لکھا۔انہوں نے گودڑ کا لعل میں کثرت ازدواج کے انسداد کو ضروری امر تو قراردیا مگر مجبوریوں کی حالت میں  اس کے جواز کی وکالت بھی کی ہے۔

تعدد ازدواج کے تعلق سے بہت سے ذہنوں میں سوالات اب بھی اٹھ رہے ہیں مگر سوال مذہبی معاشرہ اور اس سے جڑی ہوئی فناٹسزم کا بھی ہے کہ جہاں آرا شاہنواز نے لاہور کی ایک کانفرنس میں تعدد ازدواج کے خلاف خطاب کیاتھا تو فی سبیل اللہ فساد کرنے والوں نے ان کے خلاف ایک محاذ کھول دیا تھا جب کہ ان کی نیت نیک تھی ، ان کا مقصد شریعت سے مزاحمت نہیں بلکہ حقوق نسواں کی حفاظت تھا۔انہوں نے تعدد ازدواج کے رائج عمل کو روح اسلام کے منافی قراردیا تھا اور جبر کی ایک شرمناک حرکت سے تعبیر کیا تھا۔ 1918میں لاہور میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیڈیز کانفرنس میں تعدد ازدواج پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا گیاتھا مگر مرد معاشرے نے مذہب کی آڑ میں اس طرح کی آوازوں کو خاموش کردیا۔دراصل قصور مذہب کا نہیں معاشرے کا ہوتا ہے جو اپنی مرضی کے مطابق احکامات اور ہدایات کی تاویلیں کرتا رہتا ہے۔ تعدد ازدواج کے باب میں بھی یہی ہوا کہ مشروط اجازت کے دائرے کو اتنی وسعت عطا کردی گئی کہ مشروطیت کی معنویت ہی مجروح ہوکر رہ گئی۔ (یہ بھی پڑھیں خدا بخش لائبریری پٹنہ – حقانی القاسمی )

مذہب  نے جنسی انار کی کے انسداد کے لیے یہ  ایک اچھی راہ تھی۔ یک زوجگی(Monogamous culture) معاشرے میں بھی Polygymyباانداز دیگر داخل ہوتی جارہی ہے  تو ایسے میں ایک سے زائد شادی کا فارمولہ زیادہ مفیدہے کہ کم از کم بچے کوڑے کا حصہ بننے سے تو بچ جاتے ہیں اور ناجائز رشتوں کی صلیب پر زندگیاں لٹکنے سے محفوظ تو رہ جاتی ہیں پھر بھی تعدد ازدواج موجودہ آزاد معاشرے میں بھی عورتوں کے سروں پر خوف کی تلوار کی مانند لٹک رہی ہے۔اب دوہی راستے بچ جاتے ہیں مفاہمت یامزاحمت اور یہ عورتوں کو طے کرنا ہے کہ ان کے لیے کون سی راہ عافیت کی ہے اور کون سی اذیت کی۔

اردو کی معروف ادیبہ اور افسانہ نگار ڈاکٹر نگار عظیم عورتوں کے داخلی اورخارجی مسائل سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ نسائی نفسیات پر بھی ان کی گہری نظر ہے۔ وہ عورتوں کے مسائل خاص طورپر جبر اور استحصال کے تعلق سے افسانے لکھتی رہی ہیں۔گہن اور ابارشن جیسی کہانیاں عورتوں کی نفسیاتی جنسی کشمکش سے متعلق ہیں۔انہوں نے عورت ذات کی تمام جہتوں کو تخلیقی زاویے سے دیکھا اور پرکھا بھی ہے۔اس لیے انہوں نے عورتوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے۔ اپنی نظر اور نظریے کو منطقی  اورمتوازن رکھا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں حرف محبت (’فکشن سے پرے‘: چند باتیں )- حقانی القاسمی)

کہنہ مشق شاعر ثروت میرٹھی مرحوم کی صاحبزادی نگار عظیم نے آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے منٹوکی افسانہ نگاری کا تنقیدی جائزہ پر تحقیقی کام کیا۔ ان کے تین افسانوی مجموعے عکس (1990)، گہن(1999) اور عمارت (2010)شائع ہوچکے ہیں۔ منٹو کا سرمایہ فکر وفن منٹو شناسی کے ضمن میں ایک اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔ ان کا سفر نامہ ازبکستان ’’گرد آوارگی‘‘ ادبی حلقوںمیں بہت مقبول ہوا تھا۔انہوں نے ناروے میں مقیم مشہور افسانہ نگار ہرچرن چاؤلہ پر ایک اچھی کتاب بھی مرتب کی تھی۔کلام ثروت ، ان کے والد ثروت میرٹھی کی شاعری کا انتخاب ہے۔ بہادرشاہ ظفر پر بھی ان کا ایک مونو گراف شائع ہوچکا ہے۔ان کے شوہر عظیم صدیقی بھی اچھے رائٹر تھے۔

پیش ہے ڈاکٹر نگار عظیم سے حقانی القاسمی کی طویل تحریری گفتگو کا ایک مختصر حصہ

کیا آپ gender  discrimination پر یقین رکھتی ہیں ؟

نگار عظیم: Gender ہماری Societyکا Construct  ہے اور Sex قدرت کا۔ اور یہ اب سب ہی جانتے ہیں 23 Chromosome میں سے صرف ایک Chromosome الگ ہے جس سے Male اور Female بنتے ہیں۔ تو جب قدرت نے یہ فرق نہیں رکھا تو اس طرح کی درجہ بندی ہم کیونکر کریں۔ لیکن ہمارے سماج اور گھر میں یہ تفریق ہوتی ہے۔ میں صنفی امتیازی سلوک کے بہت خلاف ہوں۔ جسمانی ساخت جو قدرت نے وضع کی ہے وہ  تویقینی ہے لیکن اس کے بنا پر کسی طرح کے امتیازی سلوک کی میں قائل نہیں۔

کیا gender system کو ختم کیا جانا ممکن ہے ؟

نگار عظیم:gender system کو ختم کرنا تو ناممکن ہے۔ (0-1)  (B1-nary) عورت اور مرد زندگی کی اکائی ہیں کسی نہ کسی محور پر انہیں ملنا ہی ہوتا ہے انسان ہی نہیں چرند پرند بھی اس قدرتی سسٹم کو Follow کرتے ہیں۔ 0 کے بغیر 1 بیکار ہے اور 1 کے بغیر 0 کی کوئی اہمیت نہیں۔ تجرد سے بچنا چاہیے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وقت بدل رہا ہے، انسان بدل رہا ہے، قدریں بدل رہی ہیں، تہذیب بدل رہی ہے، رشتے بدل رہے ہیں، لباس اور پیرہن بدل رہے ہیں، عورت اور مرد کا اندرون بدل رہا ہے۔ آزادی کا مطلب بدل رہا ہے۔ Anima اور Animus (Trans gender youth) جیسی حسیاتی تبدیلیاں پہلے خال خال نظر آتی تھیں اب عام ہیں۔ عورت اور مرد کے کام کرنے کے اختیارات بدل رہے ہیں۔ ادب، آرٹ، تاریخ میں عورت اور مرد کے عادات، شوق، لباس، رہن سہن Anima اور Animus کے تعلق سے بہت کچھ موجود ہے۔ یہ سب اب عام ہوگیا ہے۔ اس میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ابھی یہ اتھل پتھل اور بڑھے گی کیونکہ اس نے بھی کاروبار کی شکل لے لی ہے اس کے اسباب اور ذرائع گھر گھر ہر ایک فرد کی جیب میں موجود ہیں اس کے بازار کاروباری طور سے دنیا میں پھیلتے جارہے ہیں۔ ہاں ابھی کچھ سماجی اور قدرتی کام اپنے مقصد اور قدرت کے اصول کے عین مطابق ہورہے ہیں جیسے مرد بچہ پیدا نہیں کرسکتا عورت مرد کے جین کے بغیر حاملہ نہیں ہوسکتی۔ مسجد میں بھی مرد اذان دیتا ہے اور پادری بھی مرد ہی ہوتا ہے ہماری آنے والی نسلوں کے لیے حالات مشکل ہیں۔ شاید میں اپنی بات سمجھا سکی ہوں۔

توانائی کے تمام مراکز پہ کنٹرول کے باوجود عورت کمزور کیوں کہلاتی ہے ؟

نگار عظیم:ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ توانائی کے تمام مراکز پر عورت اپنی اہمیت درج کراچکی ہے ہاں اس کا کنٹرول بھی ہے لیکن پھر بھی اس کو کمزور کہا جاتا ہے۔ اس کی بھی کئی وجہیں ہوسکتی ہیں پہلی شاید مرد کے ذہن پر نسائیت زیادہ ہی سوار رہتی ہے یا پھر اسے ڈر ہے کہ اس حقیقت کو قبول کرکے وہ عورت کو اور مستحکم نہ بنادے یا پھر اس کے پیچھے اس کی خود کی کمزور ہوتی توانائی ہے اور شاید اسے اس بات پر یقین ہوکہ سچ کو اتنی مرتبہ اتنی شدت سے جھوٹ کہو کہ وہ جھوٹ لگنے لگے۔ میرے خیال سے تو اس بات کو مسئلہ بنانا ہی نہیں چاہیے کیونکہ اس سے کوئی فرق پڑنے والا ہے نہیں۔ ویسے بھی اس قسم کی توانا اور مستحکم عورت کا فیصد کمزور عورت کے فیصد سے بہت کم ہے۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کہ عورت ہے تو عورت ہی اس کی نسائیت کو مجروح کرنے کے مرد نے دس طریقے نکال لیے ہیں۔ یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔

کیا  social conservatism  عورتوں کی تعلیم ،ترقی اور آزادی کی راہ میں رکاوٹ ہے ؟ 

نگار عظیم: Social Conservatism عورتوں کے لیے ایک ابھی شاپ ہے۔ عورت ہی کیا مرد بھی اس کی لپیٹ میں ہیں۔ کیونکہ عورت گھر سے علیحدہ تو نہیں ہے۔ دیہات اور چھوٹے شہروں میں تو یہ وبا کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔ آج بھی ہندوستانی عوام کی زندگی قدامت پسندی اور دقیانوسیت میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے جس کا شکار طبقۂ نسواں زیادہ ہے۔ کمسنی کی شادی، ستی پرتھا، دیوداسی کا چلن، بیواؤں کے ساتھ زیادتیاں،  پردے کی زیادتی ،تعلیم سے محرومی۔ ان تمام رسم ورواج اور خود کردہ بندھنوں سے عورت کی جسمانی ذہنی نشوونما بھی متاثر ہوئی اور اس کی معصومیت اور اس کے عورت پن کے وجود کو بھی ٹھیس پہنچی۔ حالانکہ کچھ تحریکوں نے سماج کے اس بھیانک منظرنامے کو بدلا لیکن آج بھی بہت سی جگہوں پر عورت اس دلدل میں پھنسی ہوئی ہے جس سے نہ صرف عورت کی تعلیم، ترقی اور آزادی متاثر ہے بلکہ پورا خاندان متاثر ہے۔

فیمنزم سے عورتوں کو فائدہ ہوا ہے یا نقصان ؟

نگار عظیم:Feminism؟؟ فائدہ؟ یا پھر نقصان؟ کس طور پر؟ دیکھئے محترم شور شرابا تو بہت مچا۔ انٹرنیشنل پیمانے پر اس تحریک کے اثرات نمایاں ہوئے۔ سماجی، ادبی، تنظیمی تعلق سے کام بھی ہوا۔ کئی کتابیں، ناول لٹریچر کے روپ میں سامنے آئیں اردو کی بہ نسبت ہندی میں استری وِمرش وغیرہ وغیرہ پرکچھ زیادہ کام ہوا۔ جی ڈبلو کرٹس کے بقول ’’تہذیب کا مطالعہ ہی اصل میں عورت کا مطالعہ ہے۔‘‘ اس بات کے مدنظر اگر ہم اپنی تہذیب کے اوراق پلٹیں اور پھر موجودہ منظرنامے پر نگاہ ڈالیں تو بخوبی اس بات کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ کن محاذوں پر اسے فائدہ ہوا ہے اور کن پر نقصان۔ حبس، گھٹن، بے حرمتی، جہیز، ظلم وزیادتی کی ہمیشہ سے عورت شکار رہی ہے۔ آج بھی ہورہی ہے اس کی ذاتی زندگی کو تو کوئی فیض نہیں پہنچا۔ اس کے لیے مرد کو اپنے اندر تبدیلی لانا ہوگی۔یہ بڑی سچی اور تلخ حقیقت ہے کہ عورت کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے استحصال کی راہیں بھی بہت تیزی سے ہموار ہوئی ہیں ۔صنعتی نظام اور میٹریلسٹک دورنے عورت کو خطرناک دلدل میں ڈھکیل دیا ہے جہاں وہ ایک شے بن گئی ہے۔ زندگی کی دوڑ میں اشتہار بنی اس عورت کے جسم کو ہم ہزاربار اپنے گھر میں ننگادیکھتے ہیں ٹی وی پر ۔ کیونکہ سماجی اصول بدل رہے ہیں۔ استحصال کے ذرائع اور نام بدل رہے ہیں۔ کیا آپ اسے فائدہ کہیں گے۔ اگر ہاں تو پھر ٹھیک ہے۔ یہاں بھی اصل رول تو مرد کا ہی ہے تحریک کو ہی غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔ ( یہ بھی پڑھیں شکیل الرحمن سے ادبی مکالمہ – حقانی القاسمی )

کیا عورتوں کے چست ‘ تنگ اور مختصر لباس کو آپ ترغیبات جنسی میں شمار کرتی ہیں ؟

نگار عظیم:چست تنگ اور مختصر لباس کمزور ذہن کے لیے جنسی ترغیبات کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کا تعلق مرد کی اندرونی اور ذہنی کجروی سے ہے۔ آدی واسیوں میں ایسا کیوں نہیں ہے؟ جنسی نفسیاتی اور معاشرتی پیچیدگیوں سے یہ بیماری پیدا ہوتی ہے جو جنون کی شکل اختیار کرلیتی ہے اس طرح کا ذہن عورت کو صرف اور صرف جنسی معروض کی شکل میں دیکھتا ہے ۔ اسے ڈھکی چھپی عورت بھی بے لباس ہی نظر آتی ہے۔ چست لباس کے تعلق سے انڈونیشیائی خواتین بھی فتنوں کی زد میں ہیں۔یہ بھی فیشن کی ایک شکل ہے کہ سرپر تو اسکارف ہے لیکن لباس اتنا چست ہے کہ بدن کے حساس حصے نمایاں ہیں جسے دیکھ دیکھ کر مرد بیچارے پریشان ہیں۔اب آپ کہاں کہاں دھیان دیں گے بہتر یہی ہے کہ اپنا ذہن صاف اور مضبوط رکھیں۔ یہ الگ بات ہے کہ عورت کو لباس کے معنی کا پاس رکھنا چاہیے۔ویسے مشینوں کی آوازیں بھی بعض مردوں کی شہوت کو برانگیختہ کردیتی ہیں۔ لیکن یہ مرد وہی ہیں جو بیمار ذہن سے تعلق رکھتے ہیں۔

آپ کی ترقی اورکریئر پر ازدواجی زندگی کے کتنے منفی اور کتنے مثبت اثرات پڑے ہیں ؟

نگار عظیم:میری ترقی اور کریئر پر ازدواجی زندگی کے مثبت اثرات زیادہ پڑ ے ہیں۔ میری خود اعتمادی اور تجربہ میں اضافہ ہوا ۔ شوہر بچوں یا خاندان سے ملی محبت توانائی بخشتی ہے جو ترقی اور کریئرکے لیے بہت اہم ہوتی ہے۔ ذہن سازی کا بہتر موقع والدین کے بعد شوہر اور سسرال کے دوسرے لوگوں کے ساتھ رہنے سے ہی میسر ہوتا ہے ۔ میں نے اس سے پورا پورا فائدہ اٹھایا ہے۔ اگر شوہر سوشل سمجھدار اور تعلیم یافتہ ہو تو اس میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے میں اس معاملہ میں خوش نصیب رہی۔قلمکار کو ذہنی وسعتوں کی پرواز کے لیے جو آزا دی چاہیے وہ مجھے میسر تھی۔دراصل نامساعد حالات ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں اور وہ ہرگھر ہر خاندان میں ہوتے ہیں ۔نوعیت منفرد ہوتی ہے۔ یہ میرے ساتھ بھی رہے بلکہ بہت زیادہ رہے لیکن میں نے ان منفی رویوں کو چیلنج کے طورپر قبول کیا اور اپنی محنت ہمت اور قربانی سے انہیں اپنے لیے مثبت بنایا تو راہیں ہموار ہوتی چلی گئیں دیر سے ہی سہی دراصل میں کچھ باتوں میںپرانی قدروں سے ابھی تک جڑی ہوئی ہوں میں گھر کی ذمہ دار عورت کو ہی مانتی ہوں۔عورت کو زمین سے تعبیر کرنے کے فلسفہ پر یقین رکھتی ہوں اس لیے ایسی ترقی اور کریئر کے لیے گھر کی ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑا اور نہ ہی انہیں اپنے راستے کی رکاوٹ سمجھا۔میں بچوں کی پرورش اور گھریلو ذمہ داریوں کے لائق مرد کو سمجھتی ہی نہیں۔ ہاں اس میں میرا نقصان بھی ہوا اپنی ڈگریوں اور قابلیت کے مطابق اپنے کریئر کو پروان نہیں چڑھا سکی اور ایک اسکول پر ہی قناعت کرنا پڑی ۔ ادب اورآرٹ میں بھی اتنا کام نہیں کرسکی جتنا کرنا چاہیے تھا۔ لیکن اس پر مجھے افسوس اور پچھتاوا بالکل نہیں ہے کیونکہ میرے شوہر خاندان اور بچوں نے اس تعلق سے میری قدر کی۔ ورنہ آج جس مقام پر میرے بچے ہیں شاید وہ نہ ہوتے مجھے خوشی ہے کہ میرا خاندان میرے شوق ترقی اور کریئر کی زد میں آنے سے بچ گیا۔

من کی کوئی ایسی بات جو دنیا سے شیئر کرنا چاہتی ہوں ؟

نگار عظیم:جی واقعی میرادل چاہتا ہے اپنے دل کی کم از کم ایک بات توشیئر کرہی لوں ’’مجھے مرد بہت معصوم اور بیچارہ لگتا ہے‘‘۔

H-1Batla House,

jamia Nagar ,Okhla ,New Delhi-110025

Cell:09968097929

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

حقانی القاسمینگار عظیم
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
صوفیہ شیریں کا افسانہ ’’کہیں پھر تو نہیں‘‘کا تجزیاتی مطالعہ – ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی
اگلی پوسٹ
میری آواز سنو ! – پرویز اشرفی

یہ بھی پڑھیں

پروفیسر عبدالمنان طرزی سے بات چیت – منصور...

دسمبر 4, 2024

پولیٹیکل سائنٹسٹ پروفیسر اشتیاق احمد سے خاص گفتگو...

جولائی 28, 2024

بین الاقوامی شہرت یافتہ آرٹسٹ اور فیض احمد...

جولائی 14, 2024

مہجری ڈرامہ نگار اور داستان گو جاوید دانش...

جولائی 4, 2024

معاصر ادب اور تنقید پر ڈاکٹر شہاب ظفر...

جون 30, 2024

فیض احمد فیض کی صاحبزادی منیزہ ہاشمی سے...

فروری 2, 2024

اعلی اقدار کی حامل شخصیت نیر تاباں سے...

جنوری 3, 2024

ایک ہمہ جہت شخصیت:زیبا گلزار – شفقت خالد

ستمبر 25, 2023

پروفیسر محمد طاہر سے علیزے نجف کی ایک...

اگست 26, 2023

معروف شاعر چندر بھان خیال سے علیزےنجف کی...

جولائی 11, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں