اسپتال کے اندر اور باہر مریضوں اور تیمار داروں کی لمبی قطاریں ڈاکٹروں سے مدد کے لیے آوازیں لگا رہی تھیں۔اس کے ارد گرد لوگ آکسیجن کی کمی کے باعث تڑپ تڑپ کر دم توڑ رہے تھے۔ قیامت کا منظر تھا۔افسردگی اور شکست کا ماحول،ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ عالم برزخ میں پہنچ گیا ہے۔اس ایک ماہ میں عوام نےبے شمار اپنے عزیزوں کو موت کے تاریک غار میں جاتے ہوۓ دیکھاتھا۔کورونا وائرس کی دوسری لہر نے پورے ملک کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔
انتخابات میں سیاست دانوں کی ہٹ دھرمی اور مذہبی پیشواؤں کی نامناسب ضداس پر مستزاد حکومت کی سرپرستی نے اس جان لیوا مہلک مرض کوپرساد کی شکل میں گھر گھر پہنچا دیا۔ کوئی گھر ایسا نہیں تھا جہاں اس وبا کی پہنچ نہ ہوئی اور موت کا رقص نہ ہوا ہو۔لوگ اس سے فون پر مدد مانگتے رہے۔ کوئی سلینڈر کی مانگ کرتا، کوئی پلازمہ کی،کسی کو اسپتال میں بستر چاہیے تو کوئی آکسیجن کا طلبگار،لیکن وہ کیسے بتاۓ کہ وہ کتنا مجبور اور بے بس ہے۔جن عوامی نمائندوں کو عوام نے منتخب کر کے ایوان میں بھیجا تھا وہ طوطا چشم ہو چکے تھے۔ہر ایک وزیر اور افسران بےپناہ اور بےبس عوام کا فون تک نہیں اٹھا رہے تھے۔انھیں تو صرف ووٹ چاہیے عوام کی فلاح وبہبود سے کوئی دل چسپی نہیں۔
ان ناگفتہ بہ حالات میں ملک کے دو غیور شہریوں کے گروہ نے اپنی عبادت گاہوں کے دروازے کھول دیے اور کھانے کے ساتھ بستر، آکسیجن اور دوائیوں کا مفت انتظام کیا مگر ان لوگوں کی بےحسی پر ماتم کیجیے کہ اس ماہاماری میں بھی لوگ منافع خوری سے باز نہیں آ رہے۔شاید یہ اس پیغام کا اثر ہے کہ ” آپدا میں بھی موقع تلاش کیجیے”
مرنے والوں کے لواحقین کی درد بھری چیخ ماحول کو غمگین بنا رہے تھے۔فیس بک اور واٹس ایپ اپنوں اور غیروں کی تعزیت اور موت کی خبر سے بھرا پڑا تھا۔اسپتالوں کے اندر اور باہر لوگوں کے تڑپ تڑپ کردم توڑنے کا منظر ویڈیو میں قید ہو رہا تھا۔شمشان اور قبرستان لاشوں سے بھرے ہوۓ تھے۔ارتھیوں پر رکھی مردہ جسموں کی قطاریں آخری رسومات کے لیے تین چار دن سے منتظر تھیں۔حالات سے پریشان اکثر افراد لاشوں کو شمشان اور قبرستان میں چھوڑ کر جا چکے تھے۔
1739ء میں نادر شاہ نے جب دہلی پر حملہ کیاتو قتل کے بعد کئی ہزار شہریوں کی لاشیں قبرستان کے باہر پھینک دی گئیں پھر انھیں باندھ کر جلایا گیا۔ اس وقت دہلی کا بادشاہ اپنے شہریوں کو بچانے کے بجاۓ اپنی جان و مال کے تحفظ کی فکر میں تھا۔کچھ ایسا ہی معاملہ موجودہ حکومت کا ہے۔عوام کو اس مہلک وبا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔آہ وبکا کی آوازیں اسپتالوں کی سخت پتھریلی دیواروں سے ٹکرا کر دم توڑ رہی ہیں اور امیر ملک صرف منصوبے بنا رہے ہیں۔کیا کوئی اس قدر بے حس اور بے مروت ہو سکتاہے؟
نفرتوں کی دیوار اونچی کرنے کی غرض سے سیاست دانوں نے انتخابات کے دوران دو فرقوں کو الگ کر کےووٹ حاصل کرنے کے لیے امیر ملک نے خطاب کرتے ہوۓ طنزیہ انداز میں کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔” وہ صرف قبرستانوں پر توجہ دیتے ہیں گاؤں دیہات میں شمشان نہیں بناتے۔”
شاید قدرت نے ان کے من کی بات سن لی۔آج دیش کے ہر گاؤں، دیہات میں شمشان آباد ہو رہے ہیں۔تیزی سے ان کا وکاس ہو رہا ہےاور مریض چیخ رہے ہیں مجھے دوائیں دو،میری مدد کرو، مجھے بچاؤ،مجھے بچاؤ،میں نے تمھیں اقتدار پر بٹھایا ہے،میری آواز سنو،میری آواز سنو۔۔ !!
پرویز اشرفی
بٹلہ ہاؤس، نئی دہلی۔

