ادب صرف شاعری یا فکشن سے عبارت نہیں ہے ۔ اس کی ایک وسیع تر کائنات ہے اور ادب کے تنوع میں ان اصناف کا بھی اہم کردار ہے جنھیں ذیلی اصناف کے زمرے میں رکھ کر بے اعتنائی برتی جاتی ہے۔ محض شاعری اور فکشن کی وجہ سے تو ادب میں اعادہ ،تکرار، یکسانیت کی ایک ایسی فضا سی بن گئی ہے کہ بوریت اور اکتاہٹ سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ جب تک ادب میں موضوع ،ہیئت اوراسلوب کی سطح پر نئے تجربے نہیں کیے جائیں گے، ادب ایک ہی نقطے پر ٹھہرا ہوا نظر آئے گا۔ تنوع اور تجربہ ادب کی زندگی ہیں اور اسی سے ادب ارتقا کی نئی منزلیں طے کرتا ہے اور تخلیقی ذہن بھی نئے جزیروں کی جستجو میں کامیاب ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ہمایوں اشرف کے اس مجموعہ مضامین کا اختصاص یہ ہے کہ اس میں شامل بیشتر تحریریں غیر افسانوی نثر سے متعلق ہیں جن میں تنقیدو تحقیق، خودنوشت ، سفرنامے، خاکے، انشائیے ،خطوط نگاری وغیرہ شامل ہیں۔ اس کتاب کے مضامین کو دو شقوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
(الف) مشاہیر اردو سے متعلق تحریریں جن پر کثرت سے کتابیں اور مقالے دستیاب ہیں۔
(ب) گمنام اور فراموش کردہ فن کاروں سے متعلق تحریریں جن پر بہت کم لکھا گیا ہے یا جنھیں عمداً ؍نادانستہ نظر انداز کیا گیا ہے۔
میرے لیے دوسری شق(ب) ہمیشہ اہمیت کی حامل رہی ہے اور ایسی تحریروں کو میں بہت انہماک اور ارتکاز کے ساتھ پڑھتا ہوں کہ یہ تحریریں نہ صرف معلومات میں اضافے کا سبب بنتی ہیں بلکہ ذہن کو ایک نیا زاویہ عطا کرتی ہیں اور جہانِ ادب کے نئے افراد و اشخاص سے روبرو بھی کراتی ہیں۔
ہمایوں اشرف کے اس مجموعہ میں شق (ب) کے تحت جو مضامین آتے ہیں ان میں خورشید جہاں کی انشائیہ نگاری ، متین عمادی کی انشائیہ نگاری، خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، ظہیر غازی پوری کا تنقیدی رویہ، سیاسی شعور اور ادبی بصیرت کا امتیازی پیکر، ڈاکٹر سید احمد کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔ ان قلم کاروں کے تعلق سے بہت کم تحریریں رسائل و جرائد یا کتابوں میں ملتی ہیں بلکہ یہ کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ ایک بڑا طبقہ ان کے کام اور نام سے بھی ناواقف ہے۔ جب کہ ان شخصیات کی ادبی خدمات بھی بہت سے شہرت یافتہ ادیبوں سے کم نہیں ہیں۔
خورشید جہاں ایک محقق اور ناقد ہیں ان کی کتاب ’جدید اردو تنقید پر مغربی تنقید کے اثرات‘ نہایت وقیع اور جامع ہے ۔ تنقید کے علاوہ ان کی پہچان کا ایک حوالہ انشائیہ نگاری بھی ہے ۔ ان کے انشائیوں کا مجموعہ’’ ہوئے کیوں نہ غرق دریا ‘‘بہت پہلے شائع ہو ا تھا جس میں چودہ انشایئے ہیں۔ عصری انشائیے کے ذیل میں ان کا ذکر کم آتا ہے۔ڈاکٹر محمد اسد اللہ نے اپنی کتاب’ انشائیہ کی روایت مشرق و مغرب کے تناظر میں (2015)‘میں ان کا ذکر نہیں کیا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ انشائیہ پر لکھی دیگر کتابوں میں شاید ہی ان کا ذکر شامل ہو۔ ہمایوں اشرف نے خورشید جہاں کے انشائیوں پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’خو رشید جہاں کا ذہن شاداب ہے ۔ وہ زندگی اور سماج کے چاروں طرف پھیلے ہوئے مسائل اور معاملات کا گہری نظر سے مشاہدہ کرتی ہیںاور اپنے انشائیوں میں اس کی کئی کڑوی حقیقتوں پر سے دلکش اور خوب صورت انداز میں پردہ اٹھا نے میں مصروف بھی ۔ ان کے انشائیوں میں صرف لفظی بازی گری نہیں بلکہ پیغام ہے، مقصدیت ہے، سچائیاں ہیں اور کڑوی حقیقتیں ہیں۔ ان میں مطالعہ ،مشاہدہ اور فکر و احساس کے پرتو تو ہیں ہی، اس لیے انھیں پڑھتے ہوئے نشاط و انبساط کے علاوہ عبرت کے ساتھ بصیرت بھی حاصل ہوتی ہے۔ ‘‘ اس مضمون کے ذریعہ خورشید جہاں کی تخلیقی شخصیت کی ایک نئی جہت سامنے آتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں خدا بخش لائبریری پٹنہ – حقانی القاسمی )
متین عمادی کی انشائیہ نگاری بھی اسی نوعیت کا مضمون ہے کہ ان پر بھی انشائیہ پر تحقیق کرنے والوں نے بھی نظرِ کرم نہیں کیا۔ ڈاکٹر ہاجرہ بانو نے اپنی تحقیقی کتاب’ اردو انشائیہ اور بیسویں صدی کے چند اہم انشائیہ نگار( عرشیہ پبلی کیشنز نئی دہلی 2013)میں تقریباً 105ہندوستانی انشائیہ نگاروں کا ذکر کیا ہے مگر اس میں متین عمادی شامل نہیں ہیں ۔اس طرح دیکھا جائے تو متین عمادی کی انشائیہ نگاری کے حوالے سے یہ ایک معلوماتی مضمون ہے۔ اس میں ہمایوں اشرف نے عظیم آباد کے معروف شاعر و ادیب متین عمادی کے انشائیوں کے مجموعہ ’میری آنکھیں اٹھا لیتی ہیں اس کو‘ پر بھرپور روشنی ڈالی ہے اور ان کے کئی اہم فقرے بھی درج کیے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے انشائیے میں کتنی کاٹ ہے۔انہی کا ایک جملہ ہے ’ ہمارے ملک کی سیاست کلکتے کا مچھلی بازار ہے‘۔ ان کے حوالے سے ہمایوں اشرف کی یہ رائے بڑی اہم ہے کہ ’’ متین عمادی کے انشائیے نہ صرف ہمارے ذہن کو تازگی فرحت و شگفتگی عطا کرتے ہیں بلکہ دعوتِ غور و فکر دیتے ہیں اور ہمارے ذہن و فکر کو مہمیز بھی کرتے ہیں۔‘‘
اردوکے معتبر شاعر و ادیب اور سہ ماہی افق ادب کے سابق مدیر اعلیٰ علی منیر کے سفرنامہ کشمیر ’خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا‘ کے حوالے سے بھی اردو حلقوں میں بہت کم گفتگو ہوئی ہے خاص طور پر اردو میں معاصر سفر ناموں کا تنقیدی جائزہ لینے والوں نے بھی شاید ہی اس کا ذکر کیا ہوجب کہ کشمیر کے حوالے سے یہ ایک اہم سفر نامہ ہے جس سے کشمیر کی تہذیب و ثقافت، تاریخ و معاشرت سے نہ صرف واقفیت ہوتی ہے بلکہ وہاں کی موجودہ سیاسی و سماجی صورت حال سے بھی واقفیت ہوتی ہے۔ یہ سفرنامہ اپنے دلکش انداز بیاں کی وجہ سے بھی دلچسپ ہے ۔ ہمایوں اشرف نے اس سفر نامہ کا بہت عمدہ جائزہ پیش کیا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں خوابوں کے چاک پیرہن کی شاعرہ :پروین شاکر – حقانی القاسمی)
ظہیر غازی پوری ایک عمدہ شاعر اور ناقد ہیں ۔ معاصر شعری منظر نامے میں ان کا نام شامل رہتا ہے مگر ہم عصر تنقیدی شعور کے حوالے سے ان پر بہت کم گفتگو ہوئی ہے جب کہ ان کی چار تنقیدی و تحقیقی کتابیں مطالعہ اقبال کے بعض اہم پہلو، اردو دوہے ایک تنقیدی جائزہ، جھار کھنڈ اور بہار کے اہم اہل قلم، غزل اور فن غزل شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں ’اردودوہے‘ بہت اہم کتاب ہے۔ انھوں نے نئے موضوعات کے ساتھ ساتھ نئے زاوئے بھی تلاش کیے ہیں۔ ہمایوں اشرف نے ظہیر غازی پوری کے تنقیدی اوصاف اور امتیازات پر بھرپور روشنی ڈالی ہے اور ان کے تنقیدی مطالعہ کی وسعت اور علمیت کا اعتراف کیا ہے۔ ضرورت ہے کہ معاصر تنقیدی منظر نامے پر لکھتے ہوئے ظہیر غازی پوری کو ضرور شامل کیا جائے کیوں کہ اب اتنے سنجیدہ اور عالمانہ تنقید لکھنے والے ادب میں خال خال ہیں۔
اسی ذیل میں ڈاکٹر سید احمد کے حوالے سے لکھا گیا مضمون بھی ہے جس میں ہمایوں اشرف نے ایک ایسے ادیب اور ناقد کی تنقیدی اور ادبی بصیرت کے حوالے سے لکھا ہے جس کی پوری زندگی سیاست کے لیے وقف رہی ۔ جو وزیر بھی رہے اور جھار کھنڈ کے گورنر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ اس کے باوجود لوح و قلم سے اپنا رشتہ نہیں توڑا ۔ان کی چار کتابیں شائع ہوئیں۔ قفس سے چمن تک، مقتل سے منزل تک، اردو شاعری کا انقلابی کردار اور پگڈنڈی سے شاہراہ تک۔ ان میں ’اردو شاعری کا انقلابی کردار‘ ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے اور نہایت اہم موضوع پر بیش قیمت کتاب ہے ۔ ڈاکٹر ہمایوں اشرف نے اس کتاب کا بھر پور جائزہ پیش کیا ہے اور ان کی تحقیقی اور تنقیدی بصیرت کی کما حقہ داد دی ہے۔
پہلی شق(الف) کے تحت گذشتہ صدی کے سفرناموں میں ثقافتی و تمدنی پہلو ،فن خطوط نگاری اور اس کا ارتقائی سفر، سر سید احمد خان کا فکری محور، قومی یکجہتی اور مولانا ابوالکلام آزاد ، منٹو کی خاکہ نگاری، منٹو کے مضامین، آسمان ظرافت کا درخشندہ ستارہ انجم مانپوری، اختر الایمان اس آباد خرابے میں، لکشمن ریکھا کے پار ایک مطالعہ، عصری معاشرے کا محتسب احمد جمال پاشا، سجاد ظہیر کی تنقید نگاری، مجنوں گورکھ پوری کی تنقید نگاری، حالی کے بعد تھیوری کا ایک نیا موڑ گوپی چند نارنگ، وہاب اشرفی کی تاریخ ادب اردو ایک اہم دستاویز، کلیم عاجز کی نثری خدمات، بہار میں اردو انشائیہ نگاری جیسے مضامین رکھے جا سکتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں ندافاضلی کا نثری اظہار — حقانی القاسمی)
اردو سفرناموں کا جائزہ لیتے ہوئے ہمایوں اشرف نے مثنوی نادر، باغِ نو بہار، زاد غریب، سیرالمحتشم، سفرنامہ منشی امیر چند، سرور ریاض، آئینہ حیرت، موجِ سلطانی، سفرنامہ حضور عالی اور دیگر اہم سفرناموں کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ جن سے ہندوستان کی قدیم تاریخ و تہذیب اور جغرافیہ کا پتہ چلتا ہے۔ ان میں سے بعض سفرنامے اس لیے بھی اہم ہیں کہ ان میں ان قدیم شہروں کا ذکر ہے جن کی ایک تہذیبی، ثقافتی اور علمی تاریخ رہی ہے اور وہ شہر اب ہمارے حافظے سے محو ہوتے جا رہے ہیں۔
خطوط نگاری کے ارتقائی سفر کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے خط نگاری کی اہمیت اور معنویت کے ساتھ ساتھ اس کے ارتقائی سفر کی تفصیل لکھی ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اردو کا پہلا دستیاب شدہ خط 6 ؍دسمبر 1822ء کا ہے جس کے کاتب جاہ بہادر نواب کرناٹک کے بیٹے حسام الملک بہادر ہیں۔ شیر محمد خان ایمان کے نامۂ منظوم کے علاوہ مکاتیب سرسید، مکاتیب حالی، مکاتیب شبلی، مکاتیب مولوی عبدالحق، مکاتیب اقبال، غبار خاطر، مکتوبات اور مکاتیب سلیمانی، مکاتیب رشید احمد صدیقی، صفیہ اختر کے خطوط حرف آشنا، زیر لب، فیض احمد فیض کے صلیبیں میرے دریچے کے اور دیگر مشاہیر ادب کے خطوط پر عمدہ معلومات فراہم کی ہے۔
سر سید کے فکری محور پر بھی عمدہ گفتگو ہے۔ تو قومی یکجہتی اورابوالکلام آزاد کے حوالے سے انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ مدرسہ اسلامیہ رانچی کی بنیاد مہاراجہ راتو کے ہاتھوں پڑی تھی اور اس کے تمام مصارف رانچی کے ہندو بھائیوں نے برداشت کئے تھے۔ منٹو کی خاکہ نگاری کا بھی ایک اچھا محاکمہ ہے جس میں انہوں نے منٹو کے اہم خاکوں پر تفصیلی بحث کی ہے اور خاکہ نگاری میں منٹو کے امتیازات کو واضح کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ اردو میں خاکہ نگاری کی روایت کو جس طرح منٹو نے عروج بخشا شاید اس میں ان کا کوئی ہمسر نہیں ہے۔ منٹو کے مضامین بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں بھی منٹو نے اپنے افسانوی طریقۂ کار کو ا ختیار کیا ہے کہ اسی طرح کی بے باکی اور جرأت مندی کا ثبوت دیا ہے جو ان کے افسانوں کا خاصہ ہے۔
اخترالایمان کی خودنوشت اس آباد خرابے میں ایک اچھا جائزہ ہے۔ اور اس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اختر الایمان جیسے شاعر کا نثری اسلوب بھی بہت پرقوت اور پراثر ہے۔ الیاس احمد گدی کے سفرنامے لکشمن ریکھا کے پار کا جائزہ لیتے ہوئے انہو ںنے اردو سفرنامے کا اجمالی ذکر کیا ہے اور بنگلہ دیش کے ا س سفرنامے کو ایک عمدہ اور اچھا سفرنامہ بتایا ہے جس سے بنگلہ دیش کی علمی ،ادبی سماجی اور سیاسی صورتحال سے آگہی ہوتی ہے۔ احمد جمال پاشا کے طنز و مزاح پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے ان کے وہ اقتباسات درج کئے ہیں جن سے ان کے شگفتہ اسلوب اور طنز و مزاح کی کا ٹ کا پتہ چلتا ہے ۔انہوں نے ایک اہم معلومات یہ دی ہے کہ احمد جمال پاشا کی ادبی زندگی کا آغاز جالندھر سے نکلنے والے رسالہ راہی سے ہوا تھا۔ اب مجلاتی صحافت پر تحقیق کرنے والوں کو اس رسالے کی تلاش و تفتیش کرنی چاہئے تاکہ پتہ چلے کہ اس کے کتنے شمارے شائع ہوئے ا ور اس سے وابستہ مدیران میں کون کون سے تھے اور اس رسالے کا مزاج و معیار کیا تھا۔
وہاب اشرفی کی تاریخ ادب اردو کا جائزہ لیتے ہوئے انہو ںنے اردو ادب پر لکھی گئی کچھ تاریخوں کا ذکر کیا ہے جن میں رام بابو سکسینہ، جمیل جالبی، تبسم کاشمیری، ڈاکٹر سلیم اختر، ڈاکٹر احتشام حسین، عظیم الحق جنیدی، نورالحسن نقوی، سیدہ جعفر، گیان چند جین کی تاریخوں کا بھی ذکر ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے وہاب اشرفی کی تاریخ ادب اردو کے اختصاصات کی نشان دہی کی ہے۔ کلیم عاجز کی نثری خدمات پر بھی مضمون اس اعتبار سے بھی ہے کہ ان کی شاعری پر تو کتابیں اور رسائل کے خصوصی شمارے شائع ہو چکے ہیں۔ اسلم جاوداں نے ان پر ایک بہت وقیع کتاب تصنیف کی ہے تو بھاشا سنگم پٹنہ نے ان پر بہت عمدہ اور ضخیم شمارہ شائع کیا ہے۔ کلیم عاجز کی نثر میں بھی ان کی شاعری کی طرح ایک جادوئی اور مقناطیسی کیفیت ہے۔ ہمایوں اشرف نے ان کی نثر نگاری کا بہت عمدہ محاکمہ کیا ہے۔
بہار میں اردو انشائیہ نگاری اس اعتبار سے قابل داد ہے کہ انہو ںنے ایک خاص ریاست کے ایسے انشائیہ نگاروں کا اجمالی جائزہ لیا ہے جن میں سے بیشتر کو انشائیہ کے محققین اور ناقدین نظر انداز بھی کرتے رہے ہیں۔ ہمایوں اشرف نے سید علی انور قاصد کو اردو کا پہلا باقاعدہ انشائیہ نگار قرار دیا ہے۔ جن کے انشائیوں کا پہلا مجموعہ ترنگ ہے۔ اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے بہر حال اتنا طے ہے کہ صنف انشائیہ کے فروغ میں اہل بہار کا اساسی رول رہا ہے۔ یہیں کے انشائیہ نگاروں میں انجم مانپوری، سید محمد حسنین عظیم آبادی، احمد جمال پاشا، ڈاکٹر محمد کمال الدین، ابوالکلام، تمنا مظفر پوری، اعجاز علی ارشد وغیرہ ہیں جس کا انہوں نے ذکر کیا ہے۔ ان کے علاوہ اور بہت سے انشائیہ نگار ہیں جن پر تفصیلی تنقیدی مکالمے کی ضرورت ہے۔
اس مجموعے میں تین مضامین تنقید نگاروں کے حوالے سے ہیں اور تینوں الگ دبستان تنقید سے تعلق رکھتے ہیں۔ سجاد ظہیر مارکسی تنقید کے معماروں میں سے ہیں۔ ترقی پسند ادب سے جڑے رہنے کی وجہ سے ان کا زاویہ نظر اور طرز فکر الگ ہے ،اشتراکی نظریات اور تصورات کے حامل سجاد ظہیرنے بہت اہم اور بصیرت افروز مضامین تحریر کیے ہیں ۔ان کی تنقیدی بصیرت کے تعلق سے ہمایوں اشرف کی بڑی عمدہ رائے ہے۔ کہ ’’سجاد ظہیر کی تنقیدی نگارشات میں ان کا سلجھا ہوا رویہ ،متین لب و لہجہ اور سائنٹفک انداز نظر ملتا ہے۔ وہ پہلے مارکسی نقاد ہیںجنھوں نے ہمیں مارکسی جمالیات، مادی سماجی ارتقا اور تخلیق ادب ،ادبی تخلیق کا عمل، ادیب کے انفرادی قوت تخیل، ہم عصر دنیا میں ادب ادیب کے مسائل بدلتے سماجی تناظر میں ادیب کی ذمہ داریوں سے روشناس کرایا ہے۔ ‘‘
مجنوں گورکھپوری کی تنقید نگاری پر بحث کرتے ہوئے ہمایوں اشرف نے ان کی پوری تنقیدی شخصیت اور نظریات کا عمدہ محاکمہ کیا ہے یہ مضمون بھی مجنوں کے تنقیدی شعور و ادراک کا عمدہ جائزہ ہے۔ گوپی چند نارنگ کے تنقیدی امتیازات پر بھی ہمایوں اشرف نے روشنی ڈالی ہے اور ان کے ساختیات اور ما بعد جدید تصورات کے حوالے سے عمدہ گفتگو کی ہے ،مابعد جدید ادبی تھیوری کے بہت سے پہلوئوں کا احاطہ کیا ہے۔ ان تینوں تنقید نگاروں پر لکھی تنقید سے خود ہمایوں اشرف کی انتقادی صلاحیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ انھوں نے ان تینوں ناقدین کے تنقیدی تصورات ونظریات کا مطالعہ کسی مخصوص ذہنی حصار میں قید ہو کر نہیں کیا ہے بلکہ آزادانہ طور پر ان تینوں کے ادبی نظریات اور تصورات کی تفہیم کی کوشش کی ہے۔ ہمایوں اشرف کا ادب فہمی کا اپنا الگ طریقہ کار ہے ۔ادبی متون کی تفہیم میں ان کی اپنی فکر بھی شامل رہتی ہے وہ ادب شناسی کے فرسودہ اور ازکار رفتہ راستوں اور رویوں سے گریز کرتے ہوئے نیا طریق کار اختیار کرتے ہیں۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ تنقید کو تلوار یا تیزاب نہیں بناتے بلکہ تخلیق کے حجاب اور حسن کے اکتشاف کی ہمدردانہ کوشش کرتے ہیں کہ تنقید متن کے معیار کی پرکھ اور پہچان سے عبارت ہے ۔ وہ تنقید کو اس مذہب کی مانند سمجھتے ہیں جو بیر نہیں سکھاتا۔ ’بیر والی تنقید‘ ذہن میں کثافت پیدا کرتی ہے۔ جب کہ ہمایوں اشرف کی تنقید ذہن میں لطافت کو جنم دیتی ہے کیوں کہ وہ اپنی ترجیحات اور تعصبات کے زیر اثر کوئی تنقیدی فرمان یا فیصلہ صادر نہیں کرتے اور نہ ہی کسی کے سر پر بے جا عظمت کا تاج رکھتے ہیں۔وہ نہایت تمکنت اور تعمق نظر کے ساتھ تفہیم و تعبیر متن کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تنقیدی تحریریں تنقیص و تضحیک ،جارحیت اور جراحی سے پاک ہیں ۔ انھوں نے بیش تر مضامین میں یہی رویہ اختیار کیا ہے اسی لیے ان کی تحریریں ہر طبقہ میں نہایت دلچسپی کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔
ہمایوں اشرف کے یہاں موضوعاتی تنوع ہے اور فکری گہرائی بھی۔ وہ متن کی جمالیات سے بنیادی سرو کار رکھتے ہیں اور انہی کی روشنی میں تنقیدی تحلیل و تجزیہ کرتے ہیں۔ نئے تنقیدی مباحث پر بھی ان کی اچھی نظر ہے اور ادب کے نئے سوالات پر بھی ان کی نگاہ ہے۔ ان کی تنقید ایک نئی پہچان کے ساتھ اب ادبی حلقوں میں متعارف ہوتی جا رہی ہے۔ انھوں نے وہاب اشرفی کے زیر سایہ تنقیدی سفر کی شروعات کی تھی اور ان کا یہ تنقیدی سفر مختلف تنقیدی نگارشات اور تصنیفات کے ساتھ منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ تقریباً تیس سے زائد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ فکشن تنقید سے ان کا خاص لگائو ہے لیکن وہ صرف فکشن تک محدود نہیں ہیں ۔ ان کی خاص خوبی یہ ہے کہ انھوں نے نمائشی یا مصنوعی دانشوری کا نہ تو مظاہرہ کیا ہے اور نہ ہی اپنی ترجیحات اور ترغیبات کی وہ فہرست مرتب کی ہے جس کے ارد گرد بہت سے ناقدوں کی تنقیدی بصیرت گھومتی رہتی ہے۔ ہمایوں اشرف کی کائنات نقد میں چند افراد، اشخاص یا کردار کی جلوہ گری نہیں ہوتی بلکہ ہر وہ فرد ان کی تنقیدی کائنات کا حصہ ہے جس کا لوح و قلم سے تخلیقی رشتہ ہے۔
حقانی القاسمی
نئی دہلی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
[…] کتاب کی بات […]
[…] کتاب کی بات […]