دو ہزار بیس میں کرونا نے انفرادی، معاشی، سیاسی، تہذیبی اور ادبی طور پر ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے۔سال دو ہزار بیس نے ہمارے بیچ سے نہ جانے کتنی عظیم شخصیتوں کو اٹھالیا ہے۔ ویسے تو ہر شخص کو ایک نہ ایک دن اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ کرنا ہے لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا جانا ادب اور معاشرہ کے لئے ایک نا قابلِ تلافی نقصان ہوتا ہے۔ ان عظیم ادبی شخصیتوں میں ایک اہم نام کبیر اجمل کا بھی آتا ہے۔ کبیر اجمل کا تعلق بنارس کی سر زمین سے ہے۔ بنارس کی مٹی ہمیشہ سے اردو ادب کے لئے زر خیز رہی ہے۔ جدید شعرا کی بات کریں تو کبیر اجمل کا نام بنارس کے حوالے سے نمایاں طور پر سامنے آئے گا۔ کبیر اجمل کا اصل نام عبدالکبیر تھا وہ 21 مئی1967 کو بنارس میں پیدا ہوئے انہوں نے کم عمری میں ہی شاعری شروع کر دی تھی اور بنارس کے استاد شاعر شوکت مجید مرحوم سے اصلاح لیتے رہے اور ان کی رہنمائی میں بہت جلداردو شاعری میں اپنا ایک منفرد مقام بنا لیا۔ ان کی غزلیں اکثر و بیشتر ملک اور بیرون ملک کے متعدد رسائل میں شائع ہوتی رہتی تھیں اور وہ شہر بنارس کی نمائندگی کرتے رہتے تھے۔کبیر اجمل غزل کی ایک نئی اواز بن کر ابھرنے والے غزل کے ایک نمائندہ شاعر تھے اور شاید یہی سبب ہے کہ انہوں نے بہت جلد اردو ادب میں غزلیہ شاعری کے حوالے سے اپنی پہچان مستحکم کر لی تھی۔ ان کے شعری مجموعے کا نام ”منتشر لمحوں کا نور“ تھا جو جون 2007 میں شائع ہوا تھا۔کبیر اجمل کی غزلوں کا جب آپ مطالعہ کریں گے تو ایک الگ تازگی اور انفرادیت کا احساس ہوگا۔
اِزالہ کیسے کرے گا وہ اپنی بھولوں کا
کہ جس کے خون میں نشہ نہیں اصولوں کا
تعلق بے زمیں رہنے دیا ہے
جہاں کا تھا وہیں رہنے دیا ہے
چلے چلو یونہی جب تک سفر کشادہ ہے
زمیں کہیں نہ کہیں آسمان ہوتی ہے
کبیر اجمل کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مشکل زمینوں میں بھی آسانی سے شعر کہنے کا ہنر جانتے تھے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اپنے اشعار میں فارسی تراکیب کا بھی بھر پور استعمال کیا ہے۔۔۔
وہی ہے موجۂ گل کی روانی
مگر وہ دیدۂ حیراں نہیں ہے
وہی ہے گونجتی ہوئی اک صدائے حرفِ ملال
وہی کریم سے نسبت، وہی شبانہ روز
کوئی صدا کوئی آوازۂ جرس ہی سہی
کوئی بہانہ کہ ہم جاں نثار کر تے ہیں
انہوں نے اپنی غزلوں میں بہت سلیقے سے اپنے احساسات، جذبات، مشاہدات کا اظہار کیا ہے ان کے یہاں غزل کا حصار بہت وسیع تھا، زندگی کے تمام پہلوؤں کا اَحاطہ کرتاہوا۔ ان کے موضوعات کوئی نئے نہیں تھے لیکن ان موضوعات کو نئی جہتوں اور نئے زاویوں سے روشناس کرایا تھا اور اپنا ایک الگ نظریہ پیش کیا تھا۔
گلابی سیڑھیوں سے چاند اترے
خرام ناز کا منظر بھی آئے
ہم ایسے خاک نشینوں کا ذکر کیا کہ ہمیں
لہو کا قرض تو ہر حال میں چکانا تھا
یہ غم مرا ہے تو پھر غیر سے علاقہ کیا
مجھے ہی اپنی تمنا کا بار ڈھونے دے
زندہ کوئی کہاں تھا کہ صدقہ اتارتا
آخر تمام شہر ہی خاشاک ہو گیا
اگر آپ کبیر اجمل کی غزلوں کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو لگے گا کہ شاعر نہ صرف فکری زاویے سے ہی مختلف ہے بلکہ موضوعاتی تغیر کے ساتھ ساتھ طرزِاظہار اور ڈکشن بھی خاصہ مختلف ہے انہوں نے ایسی علامتوں کی تخلیق کی جو غزل کے باب میں نادر و شاذ تھیں۔۔غبارِ دشتِ طلب، چشم ِنگاراں، طرز ِموجِ بادہ، شرارِ عشق، نطارۂ ریگِ رواں، دشتِ مُغیلاں،
بہارِ عشوہ طراز، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔۔
وہ کون ہے جو مری دسترس سے باہر ہے
کسے پکار رہا ہے غبارِ دشتِ طلب
ہمیں بھی یاد نہ آئی بہارِ عشوہ طراز
اسے بھی ہجر کا موسم بہت سہانا تھا
یوں تھا کہ لاؤں دشت ِ مُغیلاں سے اک سَراب
اور اب یہ حکم ہے کہ سفر پا پیادہ کر
کبیر اجمل کی شاعری میں ان کی زندگی اور ان کی کائنات بھر پور انداز میں ملتی ہے انہیں شاید پہلے سے ہی اس بات کا احساس تھا کہ زندگی ان کے ساتھ وفا نہیں کرے گی یہی سبب ہے کہ ان کی شاعری زندگی کی تلخیوں اور احساسات سے عبارت تھی۔۔اس حوالے سے چند اشعار دیکھیں۔
زندہ مرے ہی دم سے تھیں رعنائیاں تمام
میں سو گیا تو شہر ہی ویران ہو گیا
اتنا تو وقت دے اے مری عمر تیز گام
نا دیدہ قصرِ خواب کی تعمیر کر سکوں
سازش رچی گئی تھی کچھ ایسی مرے خلاف
ہر انجمن میں باعثِ آزار میں ہی تھا
اور کب تلک اجمل تو غموں کو پا لے گا
ڈھونڈ لے کوئی گوشہ زندگی ذرا سی ہے
کبیر اجمل کا شمارنئی غزل کے نمائندہ شعرا میں ہوتا ہے۔انہوں نے جس طرح سے اپنی شاعری میں زندگی کی تلخ حقیقتوں کو جس خوبصورت پیرائے میں بیا ن کیا ہے وہ ان کے مُعاصرین میں بہت کم شاعروں کے یہاں نظر آتا ہے اس لئے اردو ادب کے ناقدین کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والوں کو بھی یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ کبیراجمل کی غزلوں کا مطالعہ ضرور کریں آخر میں اب میں اپنی بات ان کی ایک تین اشعار پر مشتمل غزل پر ختم کرنا چاہوں گا۔۔۔
زندہ ہے میرے ساتھ وہ رشتوں کی حد تلک
دیتا ہے کون ساتھ کسی کا لحد تلک
خوش رنگ ذائقوں کا بھی نشہ عجیب تھا
ہم سر کٹا کے پہنچے اجالوں کی حد تلک
مجھ کو مری غزل کے حوالے سے دیکھئے
مجھ کو نہ جانئے مرے قامت کی حد تلک
اصغر شمیم ،کولکاتا،انڈیا
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

