پھر یوں ہوا کہ ہم صبر کی انگلی تھام کر اتنا چلے کہ راستے حیران رہ گئے
سفر زندگی کا ہو اور وہ بھی آسان ہو جہاں مشکلات مصائب آلام کا سامنا نہ ہو ایسا نہیں ہے زندگی میں خواہ ہر خوشی میسر ہو پر پھر بھی کسی گوشے میں غم کی کسک ہوتی ہے خواہ ہر آسائش ہو پر کسی نہ کسی طرح کا کوئی قلق ہوتا ہی ہے آدمی تو زندگی کیا مر کر بھی تب تک سکون نہیں پاسکتا جب تلک اس کی کامیابی کا مژدہ اسے نہ سنایا جائے گا تو کیوں نہ اس زندگی کے خوبصورت اور حسین لمحات کو خوب اچھی طرح سے جی لیا جائے انمول ہے زندگی بس ہمیں اسے خوبصورت بنائے رکھنا ہے خواہ کتنے بھی آلام و مصائب برداشت کیوں نہ کرنے پڑیں یہی تو زندگی ہے کہ اک چینخ سے شروع ہوئی اور ہچکی پر ختم ہونے والی ہے بیچ کے کچھ پل ہیں میسر ان میں جینا کمال ہے مرنا تو کوئی کمال نہیں جیتے جی مسکراتے ہوئے مشکلات کا مقابلہ کرنا اور ہر غم و اندوہ کو تھکا دینے کا نام کمال زندگی ہٹ ہے
آج کی بات
آج ایک ایسی ویڈیو نظر آئی جس میں ایک خوبصورت پڑھا لکھا نوجوان بتا رہا ہے کہ اسے زندگی کے ہلکے سے دکھ نے مایوس کردیا میرے دوست اس پر مختلف آراء دیتے رہے پر جوں ہی میں نے دیکھا تو سوچا کہ اگر والد کی تنخواہ نہ ملنے پر بھی لوگ مرنے کے لئے خود کو تیار کرلیں اور خودکشی کا سہارا لینا شروع کردیں تو یتیم بچوں جن کے والدین یا والد ہے ہی نہیں ان کا تو پہلا حق ہے اس پر پر کیا خاک جی پائے وہ جسے خود پر بھروسہ نہ ہو میں خود یتیمی کی وہ دردناک داستان ہوں سنا دوں تو دھک کر رہ جائیں گئے میرے پیارے پر میں نے ان اساتذہ سے اسباق زندگی سیکھے جو دنیا علم و ادب کے وہ خاک نشین ہیں یا تھے جن پر آسمان کو بھی ناز تھا خیر یہاں کون ہے جسے ہمیشہ والد کا سہارا رہا پر اس ویڈیو کو دیکھ کر میں نے سوچا آپ بھی دیکھ لیں کیا غلط سوچا والدین کی مدد کرنے کے بجائے آدمی موت کو گلے لگائے یہ انتہائی درجہ کی مایوسی ہی نہیں بلکہ اپنے بازؤں پر بھروسہ نہ ہونے کا شاخسانہ بھی ہے کہ بجائے سہارا دینے کے آدمی اپنی مشکل کو آسان بنانے کے لئے ایسی نازیبا حرکت کا ارتکاب کر دے کشمیر میں یہ وبا آج ہی نہیں بلکہ کئی سال سے موجود ہے کہ بیٹا پڑھ لکھ کر یا جاہل ہوکر بھی بیکار رہنے کو ترجیح دیتا ہے اور والد کی کمائی پر ناز و نخرے اٹھانے کے ساتھ ساتھ نشہ باز یاروں کی سنگت میں رہ کر مست رہتا ہے اور والد خواہ کتنی بھی محنت مزدوری کرے پر بیٹا اک سرد آہ تک نہیں بھرتا بلکہ سوچتا ہے کہ والد میرا مزدور ہے میرے لئے اس کا کمائی کرنا اس کا فرض ہے. (یہ بھی پڑھیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں اردو زبان و ادب کی ترقی – ساجد حمید )
ہم اس نوجوان کی موت پر افسردہ ہیں پر یہ صرف نوجوان کی خودکشی ہی نہیں بلکہ معاشرے میں پھیل رہی بے حسی بے روزگاری اپنی ذمہ داری کے تئیں فرار وغیرہ جیسے کئی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے اس کی موت تو ہوگی مانا اسے اس کے کہنے کے مطابق غربت سے نجات مل گئی اس والد اور والدہ کا کیا ہوگا جس نے رات دن اس کی پرورش کی جوان کیا اس کی دیکھ ریکھ کی کیا اسی وقت کے لئے کہ بیٹا تنگ آکر چلا جائے اور بوڑھے اور کمزور والدین کو بے آسراء چھوڑ جائے تو ایسے میں بھلا اس کی موت کو لے کر اسلام کے شیدائی کیوں کر افسوس کریں یا ورطہ حیرت میں پڑھ جائیں یہ غلط طریقہ ہے بس غلط ہے ایسی غلط چیزوں پر کف افسوس ملنا یا سوسائٹی کو کوسنا قرین عقل و دانشمندی ہے۔ چلیے مان لیتے ہیں اس سے زیادتی ہوئی تو اب جو اسکے والدین یا دو میں سے کوئی ایک ہے اس کی مدد کی جائے تاکہ وہ اس مصیبت کے وقت میں سہارا پاسکین یا صرف دانشوری کا رعب جمائے رکھنا ہے تاکہ لوگ تعریف و توصیف بیان کریں
کرنے کا کام
ہمارے لئے کرنے کا کام یہ کہ ایسی واقعات کا ظہور نہ ہو یہ مسائل اب ہمارے سماج کا ایک جز بن چکے ہیں نوجوان یا تو کسی مہلک نشہ میں مصروف ہوکر سماج کو برباد کر رہا ہے یا پھر احساس محرومی ۔ خود اعتمادی کی کمی ۔ ناکامی کے خوف سے ضروریات زندگی میں پیدا شدہ مسائل یا کسی اور سبب سے موت کو گلے لگا رہے ہیں ایسے میں کرنا یہ ہے کہ اپنی نوجوان نسل کو خود اعتمادی کا سبق پڑھانا ہے جو پڑھ کر یہ نوجوان کسی صورت بھی کف افسوس ملنا کے روا دار نہ ہوں ان جیسے یہ کہ خود اعتمادی کو خود میں بحال کریں ۔
خود اعتمادی سے نہ صرف آپ کی زندگی سنورتی ہے بلکہ آپ کی شخصیت کو بھی دوگنی طاقت ملتی ہے ۔ آپ جس قدر بھی ڈگریاں رکھتے ہوں اور صلاحیت وقابلیت کے مالک ہوں، اگر آپ میں خود اعتمادی کا فقدان ہے تو سمجھ لیجيے کہ یہ ساری ڈگریاں اور قابلیتیں بے کار ہیں ۔
کچھ لوگوں میں خوداعتمادی کی کمی بچپن ہی سے ہوتی ہے تو کچھ میں وقت کے بدلتے حالات اور زندگی کے تلخ تجربوں کی وجہ سے خود اعتمادی میں کمی آجاتی ہے ۔
عموماً لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر آپ کے پاس پیسہ ، جگاڑ اور اچھی شکل وصورت ہے تو آپ بآسانی منزل طے کرسکتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں ہے کیونکہ ان سب سے اوپر بھی ایک چیز ہے جن کے آگے یہ چیزیں پھیکی پڑجاتی ہیں اور وہ ہے خوداعتمادی ۔ (یہ بھی پڑھیں بلندتر ہے فلک کے تاروں سےبھی مقامِ ابوحنیفہ! – محمد عمر نظام آبادی )
اگر آپ میں خوداعتمادی ہے تو آپ کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ اپنے اندر خوداعتمادی کیسے پیدا کریں ؟
آئیے اس سلسلے میں چند معاون وسائل کی جانکاری جاصل کرتے ہیں
مثبت سوچ اور پرُامن نظریہ
مثبت سوچ اور پرامن نظریہ خوداعتمادی کے بحال کے ليے نہایت ناگزیر ہے ، اوراس کا حصول آس پاس کے خوشگوار ماحول اور باہمت شخصیات کی صحبت سے بہت حد تک ممکن ہے صحبت کا انسان کی زندگی پر کافی اثر پڑتا ہے اگر آپ کے آس پاس اچھے ، محنتی اور خود پر یقین رکھنے والے لوگ ہوں گے توآپ بھی ان کے نقش قدم پر چلیں گے اور خود کو ان جیسا بنانے کی کوشش بھی کریں گے، اس لیے ہمیشہ بردبار اور تجربہ کار لوگوں سے رابطہ میں رہنا چاہيے ، ان کی باتیں بغور سننا چاہیے اور انکے خیالات کو اپنے اندر اُتارنے کی کوشش کرنی چاہيے ۔ اور تعلقات ہمیشہ اچھے لوگوں سے رکھنے چاہيے، بُرے اور بدکردار لوگوں سے بال بال پرہیز کرنا چاہيے۔
شخصیت کو نکھارنے والی کتابیں پڑھیں اور ان سے ماخوذ معلومات کو خاص دفترمیںنوٹ کریں ،اور سبق آموز جملے لکھ کر ایسی جگہ چسپاں کردیں جہاں آپ کی بار بار نظر جاتی ہو۔
خودمیں اعتماد بحال کرنے کے ليے ضروری ہے کہ ہم مثبت سوچ رکھتے ہوں ، حالات جس قدر بھی سنگین ہوجائیں ہمیں گھبرانا نہیں چاہےے ،ایک امید اور بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اور اس بات کا بھی یقین رکھنا چاہےے کہ آج نہیں تو کل سب کچھ ٹھیک ہوجاے گا ۔ ایسا نہ سوچنے کی صورت میں ہم پر ہمیشہ ڈر سوار رہے گا ،ہم آگے بڑھنے کی ہمت نہ کرپائیں گے جس سے ہمارا حوصلہ گھنے گا ،یقین کمزور ہوگااور ہماری خوداعتمادی میں کمی آے گی ۔
پُرکشش گفتگو
گفتگو کا ہماری شخصیت پر بڑا اثر پڑتا ہے ، کسی کو متاثر کرنے کے لےے ہماری باتیں بہت معنی رکھتی ہیں ، عمدہ انداز بیاں سے نہ صرف ہم لوگوں کا دل جیتتے ہیں بلکہ اپنے اندر ایک پختہ یقین بھی پیداکرتے ہیں ۔
بہترین انداز بیان سے محروم ہونے کے باعث ہم دوسروں کے سامنے اپنے خیالات پیش کرتے ہوے جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ نتجہ کے طور پر ہمارے اندر سے خوداعتمادی کا معیار گرنے لگتا ہے ۔ اور اس سے نجات پانے کا اچھا طریقہ یہ ہے کہ جب آپ بولنا چاہتے ہوں تو موضوع سے متعلق پہلے پوری معلومات جمع کرلیں اور اسے ازبر کرنے کے بعد عمدہ انداز بیاں اور بہترین اسلوب میں بات رکھنے کا مشق کریں ۔ ( یہ بھی پڑھیں انسانی زندگی پر موبائل کے منفی اور مثبت اثرات – امام الدین امامؔ )
کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا
جی ہاں!کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا ہر کسی انسان میں کمی خامیاں کوتاہیان موجود ہوتی ہیں تاہم ہرانسان کے اندر خفتہ صلاحیتیں ہوتی ہیں جنہیں اجاگر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ، اگر انسان اپنے اندر موجود اس ہنر کو ڈھونڈلے تو وہ زندگی میں بے پناہ لطف و مسرت سے مالامال ہوسکتا ہے ۔ اور اپنی اسی خوبی کی بدولت لوگوں کے دلوں میں ہی نہیں بلکہ معاشرے میں بھی اپنی علیحدہ پہچان بنا سکتا ہے ۔ اس لےے اپنے اندر چھپی ہوئی خصوصیات کو تلاش کریں ، یہ آپ کے ليے قدرت کا انمول تحفہ ہے ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی خامیوں اور غلطیوں میں سدھار بھی ضرور کریں۔ اگر اس نکتے کو ذہن نشیں رکھا تو آپ کے اندر یقین کی صفت پیدا ہوگی اور یہی یقین کامل آپ کی خوداعتمادی کوبحال کرنے میں کارگر ثابت ہوگا۔
وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا
یاد کریں ان دنوں کو جب آپ بہت خوش اور مطمئن تھے ، سوچین کہ ان دنوں آپ کی مسرت وشادمانی کے کیا محرکات تھے؟ وہ کونسی خوبی تھی آپ میں اس وقت ….؟ اور کس بنیاد پر حاصل کی تھیں وہ خوشیاں ….؟ خود میں وہی طاقت ، وہی جذبہ ، وہی یقین پھر سے پیدا کریں ….اور یہ بھی سوچیں کہ اگر اچھے دن ہمیشہ آپ کے ساتھ نہیں رہتے تو بُرے دن بھی نہیں رہیں گے ، البتہ ماضی میں جو کامیابیاں آپ کو ملی ہیںاُن پر ایک نظر ضرور ڈالیں۔ وقتاً فوقتاً ان انعامات اور اعزازات کو بھی دیکھیں جوکہ ماضی میں آپ کو ملے تھے۔
اس طرح آپ اپنی مثبت سوچ سے اپنی کھوئی ہوئی توانائی دوبارہ حاصل کرکے خود میں پھر وہی طاقت ،وہی جذبہ،اور پھر وہی خوداعتمادی دوبارہ پیدا کرسکتے ہیں ۔
اپنی منزل خود طے کریں
زندگی میں کچھ بننے کے لےے اپنی منزل خود طے کریں ، اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لےے خود کو ضرورت سے زیادہ نہ الجھائیں ‘مباداکہ آپ کا سماجی ونجی زندگی سے رابطہ ہی ٹوٹ جائے ۔ خواہش و تمناؤں کو اپنے اندر قید نہ رکھیں ،بلکہ اُن کو اپنوں کے پاس بیان کریں، تلاش کریں راہ مل جائے گئی زندگی کو زیادہ سنجیدگی سے بھی نہ لیں، اور نہ ہی خود کو زیادہ قاعدہ قانون اور اصولوں میں باندھیں ، خود کو آزاد رکھیں ، زندگی سے لطف اندوز ہوں اور یاد رکھیں کہ آپ کی زندگی کا ایک ہدف ہے جسے آپ کو حاصل کرنا ہے ۔ اس طرح آپ خود سے مطمئن ہوکر خود میں اعتماد بحال کرسکیں گے ۔
اپنے کام کو مکمل کریں
اپنے کام کو بحسن وخوبی پایہ تکمیل تک پہنچائیں ، کیونکہ کام کو عمدگی سے انجام دینے پر ہمارے اندر پختہ یقین پیدا ہوتا ہے ۔ جبکہ آدھے ادھورے کام سے ہمارے اندر مایوسی پیدا ہوتی ہے ۔ کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے اُسے اچھی طرح سمجھ لیں اپنی صلاحیتوں کو بخوبی تول لیں پھرکسی کام میں ہاتھ ڈالیں۔
ایک ہی طریقہ کا کام نہ صرف ہمیں بوریت دیتا ہے بلکہ ہماری قابلیت وصلاحیت کو بھی محدود کرکے رکھ دیتاہے، جس سے ہماری خوداعتمادی کم ہونے لگتی ہے ۔ لہذا کام میں ہمیشہ جدت لانے کی کوشش کریں،اس سے آپ کے اندر جوش و ولولہ پیدا ہوگا، نئی نئی ترکیبیں سمجھ میں آئیں گی، اور آپکی خفتہ صلاحیتیں اجاگر ہوں گی
صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے پائے آپ خواہ کتنی بھی بڑی آزمائش میں مبتلاء ہوجائیں پر اس بات کا پر اعتماد یقین بنائے رکھیں کہ دن بدلیں گئے وہ لمحات آنے والے ہیں کہ میرے مصائب کا اختتام ہوجائے گا اور میری دنیا سنور جائے گی
رہی زندگی تو باقی پھر کبھی صحیح
الطاف جمیل ندوی
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

