ادبیات خیبر پختونخوا خاص کر دبستان پشاور کی ہمیشہ سے خوش بختی رہی ہے کہ یہاں اردو ادب سے محبت کرنے والوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے۔ ان میں خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ ادب کی ترویج میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ اپنی نسائی آواز کی مدد سے ان خواتین نے نہ صرف پاکستان بلکہ بین الپاکستان اپنی پہچان بنائی ہے۔ ان میں زیتون بانو ، منور رؤف، زبیدہ ذوالفقار، بشری فرخ، کلثوم زیب ، نرجس افروز زیدی، فرح اسد، مشرف مبشر، قدسیہ قدسی، عفت شاہین، شمشاد نازلی اور ڈاکٹر شاہدہ سردار وغیرہ کے نام اہم ہیں۔
ڈاکٹر شاہدہ شاہین خٹک المعروف ڈاکٹر شاہدہ سردار یکم جنوری 1978ء کو ڈاکٹر زربادشاہ خٹک کے ہاں پشاور میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم پشاور ہی میں حاصل کی۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ریڈیالوجسٹ ہیں۔ بنیادی طور پر ان کا تعلق کرک سے ہے مگر عرصہ دراز سے پشاور میں مقیم ہیں۔
ڈاکٹر شاہدہ سردار ایک شاعرہ ، افسانہ نگار ، سفر نامہ نگار ، مضمون نگار ، محققہ اور ایک سوشل ایکٹیوسٹ ہیں۔ MAPC کے نام سے ایک این جی او چلاتی ہے جس میں انہوں نے انسانیت کی بڑی خدمت کی ہے ۔ یہ سلسلہ مئی 2011ء تا حال جاری ہے۔ وہ مختلف ادبی فورم کی ممبر ہیں۔ ڈاکٹر شاہدہ سردار کو ادبی میدان میں آسٹریلیا میں پشاور اور پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ان سے میری پہلی ملاقات 3 نومبر 2019 ء کو "کے ٹو” کے براہ راست پروگرام "شہر سخن” میں ہوئی تھی۔ میں ان کا گریس فل انداز دیکھ کر پہلی ملاقات ہی میں متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔
ڈاکٹر شاہدہ سردار گھر ہستی کے فرائض سنبھالنے کے ساتھ ، پیشہ ورانہ زندگی ، مشاعروں ، ریڈیو ، ٹی وی پروگراموں میں شرکت سمیت کسی بھی ادبی محفل سے غیر حاضر نہیں ہوتیں۔ انہوں نے اپنی مصروف ترین زندگی کے باوجود ادب تخلیق کرنا نہیں چھوڑا اور نہایت قلیل عرصے میں چار کتابوں کی مدد سے ادبی چمن کو سرسبز و شاداب رکھا۔ ان کتب میں شاعری کا مجموعہ "ہوا کی سرگوشی” ، حب الوطنی پر مشتمل نظموں کا مجموعہ "مہکتی دھرتی سلگتی سانسیں”، افسانوی مجموعہ "کرب زیست” اور بھارت کا سفرنامہ "دیوار کے اس پار” شامل ہیں۔ ان کی پانچویں تخلیق "چراغ آگہی” کے نام سے بہت جلد منظر عام پر آنے والی ہے جو شعری مجموعہ ہے۔(یہ بھی پڑھیں خیبر پختونخوا میں اردو ادب کے سرخیل – راج محمد آفریدی )
"ہوا کی سرگوشی” میں ڈاکٹر صاحبہ نے روایتی شعرا کی طرح گل و بلبل کے قصے نہیں سنائے ہیں۔ اس کی بجائے انہوں نے حقیقت نگاری کا عنصر شامل کرتے ہوئے اردگرد کے ماحول کا نقشہ کھینچا ہے جس میں ترقی پسندانہ نظریات کی عکاسی بھی شامل ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ:
؎ ان پہ موسم کی اداؤں کا اثر کیسے ہو
جن کی آنکھوں کا کوئی رنگ سہانا ہی نہ ہو
رومانیت کی تبلیغ کرنا ان کا پیشہ ہے۔ اس سلسلے میں ان کی سوچ واضح ہے۔ان کے مطابق ہم دنیا میں بہت قلیل مدت کے لیے آتے ہیں، پس یہ لمحات محبت میں گزارنے چاہیے۔
؎ صرف یہ سوچ کے آئینے کو پھر جوڑا ہے
وقت جتنا ہو محبت کے لیے تھوڑا ہے
ڈاکٹر شاہدہ سردار کا دوسرا شعری مجموعہ "مہکتی دھرتی سلگتی سانسیں” انفرادیت کا حامل مجموعہ ہے ۔ عام طور پر شعرا اپنے مجموعات میں وطن عزیز کے حوالے سے ایک دو نظمیں ہی شامل کرتے ہیں مگر ڈاکٹر صاحبہ نے وطن کی محبت میں سرشار ہو کر پورا مجموعہ ہی تخلیق کر ڈالا ۔ ان کی ترجیحات میں وطن سے محبت توانا صورت میں موجود ہے۔ یہ مجموعہ ڈاکٹر شاہدہ سردار کی جانب سے وطن پاکستان سے محبت کرنے والوں کے لیے تحفہ عظیم ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ:
؎ میرا وطن کبھی الُودہ غبار نہ ہو
خدایا اُس پہ کبھی مشکلوں کا بار نہ ہو
سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے تناظر میں لکھتی ہیں کہ:
؎ اے وطن میرا لہو کام تو آیا تیرے
میں تعصب میں محبت کی کرن بن کے چلا
ڈاکٹر شاہدہ سردار نے خود کو محض شاعری تک محدود نہیں رکھا ہے۔ انہوں نے نثر نگاری میں بھی قدم رکھتے ہوئے خود کو ورسٹائل ادیب کے طور پر منوایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا شمار ادبیات خیبر پختونخوا کی معتبر شخصیات میں ہوتا ہے ۔موصوفہ کی تیسری کتاب "کرب زیست” 27 افسانوں پر مشتمل ہے۔ اس مجموعے کے تمام افسانوں میں انہوں نے ارد گرد کے معاشرے میں موجود عام انسانوں اور پسے ہوئے طبقے کی نمائندگی کی ہے۔ ان کا اسلوب دل کش ہونے کے ساتھ سادہ اور عام فہم ہے ۔چونکہ شاہدہ سردار خود ایک ڈاکٹر ہیں اور انسانی نفسیات سے بخوبی واقف ہیں اس لیے انہوں نے اپنے افسانوں میں معاشرتی پہلوؤں کی نفسیاتی حوالوں سے عکاسی کی ہے ۔ انہوں نے انسان کے اندر کی کش مکش کو الفاظ کے لبادے میں اوڑھ کر پیش کیا ہے۔ان کے افسانوں میں پیش کردہ کردار حقیقی اور معاشرے سے چنے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے "کرب زیست” میں عورتوں کے کرب کو قلم بند کرکے اور اہمیت نسواں کا ذکر کرکے فیمینزم کی پرچار بھی کی ہے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ (یہ بھی پڑھیں خاطرؔ غزنوی کا ’ایک کمرہ‘: ادبیات سرحد کا ایک انمول تذکرہ – خالد محمودسامٹیہ )
ڈاکٹر شاہدہ سردار کی چوتھی کتاب "دیوار کے اس پار” کے عنوان سے پڑوسی ملک بھارت کا سفرنامہ ہے۔ اس میں انہوں نے سفرنامہ کے لوازمات پر عمل کرتے ہوئے اپنے عمیق مشاہدے سے قاری کو ہندوستان ، جے پور (راجستھان) اور سارک صوفی فیسٹیول کی سیر کروائی ہے۔ "دیوار کے اس پار” بہترین مناظر کا مجموعہ ہے۔ ہر منظر قاری کے سامنے پیش ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یہی سفرنامہ نگار کی کامیابی ہے کہ وہ سفرنامے میں قاری کو ساتھ لے کر چلتا رہے ۔ ان کی پانچویں کتاب "چراغ آگہی” (غیر مطبوعہ) بھی خوب صورت اشعار کا مجموعہ ہے جو ادبیات خیبر پختونخوا میں ایک نادر اضافہ ثابت ہوگا ۔ قوی امید ہے کہ مذکورہ کتاب بھی ڈاکٹر شاہدہ سردار کی دیگر کتب کی طرح عوامی مقبولیت حاصل کرے گی ۔ اس کتاب سے دو اشعار قارئین کی نذر کرنا چاہتا ہوں:
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے حسین سرسبز موسم میں
تمہاری یاد اشکوں میں روانی چھوڑ جاتی ہے
اترتی ہے تری تصویر آنکھوں کے دریچے پر
تو دل میں پھر سے اک وحشت پرانی چھوڑ جاتی ہے
ڈاکٹر صاحبہ ایک ادیبہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے ، ان نو واردان خواتین کے لیے جنہوں نے اپنی آواز کو دبا کر رکھا ہے۔ امکان واضح ہے کہ خیبر پختونخوا میں شاہدہ سردار کی دیکھا دیکھی میں خواتین ادبا کی ایک نئی کھیپ سامنے آئے گی ۔
اس مختصر سے مضمون میں ڈاکٹر شاہدہ سردار کی ادبی کاوشوں کو سمیٹنا ممکن نہیں۔ ان شاءاللہ اگلے مضامین میں ان کی ہر ایک کتاب پر علاحدہ علاحدہ مضمون لکھتے ہوئے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ان کی سوشل ایکٹیویٹیز کو سامنے لانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
راج محمد آفریدی
پشاور پاکستان
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

