” پن "ایک ایسا لاحقہ ہے جو نہ لگے تو سابقہ لفظ کی کیفیت نہ کھلے۔صوت و صدا میں رس نہ گھلے۔ادبی رنگ اور لسانی آہنگ دیکھنے سننے کو نہ ملے۔ تو پس ثابت ہوا کہ "پن ” لفظ کی کیفیت کو ابھارتا ہے۔اس کی معنویت کو اجاگر کرتا ہے۔اس کی ماہئیت کو سامنے لاتا ہے۔اس کی قدر و قیمت کو بتاتا ہے۔
اس ” پن ” کا رشتہ کہانی سے بھی بڑا گہرا ہے۔یہ "پن ” نہ ہو تو کہانی کہانی نہ بنے۔ کہانی میں کہانی پن اسی پن کے شامل ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ اسی پن کے سبب سامع کہانی کے پاس آتا ہے ۔ قاری قریب پہنچتا ہے۔۔ایک زمانے میں یہ ” پن ” کہانی سے نکل بھاگا تھا یا اسے بھگا دیا گیا تھا تو قارئین اور سامعین بھی اس کے پاس نہیں بھٹکتے تھے ۔وہ دونوں اس کے پاس سے دور چلے گئے تھے۔
تو یہ ثبوت بھی ملا کہ کہانی کہانی پن سے قائم ہے۔ یہ پتا تو چل گیا کہ کہانی کا حسن کہانی پن سے قائم و دئم ہے مگر کہانی پن خود کیا ہے یہ تو کھلا نہیں۔اس کا رنگ و نور تو آنکھوں میں گھلا نہیں۔
کہانی پن وہ وصف ہے جو حواس کو مرتکز کردے۔ باصرہ کو ایک مرکز یا نقطے پر ٹکا دے۔سامعہ کو کسی سُر یا آہنگ کے پیچھے لگا دے۔ لامسہ کو کسی پیکر یا منظر سے چپکا دے۔شامّہ کو کسی خوشبو یا مشک و عنبر کے تعاقب میں دوڑا دے۔ (یہ بھی پڑھیں قصہ’کرب جاں ‘ کا (مقدمہ مثنوی ’’کرب جاں‘ از غضنفر) – پروفیسر خالد محمود )
ذائقہ کو کسی لذّت یا سواد سے جکڑ دے۔
یہ وصف واقعات کے حسنِ انتخاب۔منطقی ، ترتیب اور دلچسپ بیان سے پیدا ہوتا ہے۔ایسا انتخاب کہ واقعہ مقناطیس بن جاۓ۔ ایسی ترتیب کہ تیر کی طرح پتلی میں چبھ جاۓ ۔ ایسا بیان کہ سن کر سماعت ہمہ تن گوش ہو جاۓ۔ بصارت میں
متحرک تصویر ابھر آۓ ایسی تصویر جو فوراً دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لے لے۔جس سے سامع یا قاری کے رگ و ریشے میں لطف و انبساط کی لہر دوڑ جاۓ۔
یہ "پن ” کہانی کو انوکھے پن سے بھی جوڑتا ہے۔کوئی موضوع یا واقعہ اسی وقت دلچسپ اور قابلِ توجہ بنتا ہے جب اس میں انوکھا پن ہو۔یعنی وہ واقعہ نرالا ہو۔
واقعے کا نرالاپن یا انکوکھا پن ہی حواس کو چونکاتا اور چوکنّا کرتا ہے اور اسی سے سامع یا قاری کہانی کی طرف ملتفت ہوتا ہے۔
اسی انوکھے پن سے کہانی میں جدّت پیدا ہوتی ہے۔یعنی کہانی کا یہی انوکھا پن کہانی میں نئے پن کو جنم دیتا ہے۔اور یہی نیا پن کسی کہانی کو دوسری تحریروں سے مختلف اور منفرد بناتا ہے۔
یہ پن ایک اور طرح سے بھی کہانی سے جڑتا ہے۔اور وہ اور طرح ہے۔” سپاٹ پن ”
سپاٹ پن کہانی کو اکہرا اور بے لطف بنا دیتا ہے۔ اگر اسے راہ دی گئی تو سمجھیے کہ کہانی کی لطافت گئی۔اسلیے کہانی کو سپاٹ پن سے بچانا ضروری ہے ورنہ کہانی سے اکتاہٹ لازمی ہے۔سپاٹ پن کے ساتھ ساتھ کہانی کو ایک اور پن سے بھی بچانا ضروری ہے اور وہ ہے اکہراپن۔ اچھی کہانی وہ ہوتی ہے جس میں اکہرا پن نہیں بلکہ تہہ داری ہو۔کہانی میں ایک سے زیادہ ڈائمینشن ہوں ۔ایک سے زیادہ جہات ہوں ۔ایک سے زیادہ شیڈز ہوں۔ (یہ بھی پڑھیں داستان ایک مردِ خرد مند وجنوں پسند کی – پروفیسر غضنفر )
تو دیکھا اس ” پن ” کا کہانی کے ساتھ کیسا اپنا پن ہے؟ آئیے ہم بھی اس سے اپنا پن کا رشتہ جوڑیں۔ اس میں انوکھا پن اور نیاپن ڈالیں۔اسے اکہرے پن اور سپاٹ پن سے بچائیں اور اس کا کہانی پن بحال کریں۔
کہانی پن کیسے پیدا کیا جاتا ہے یہ جاننے کے آئیے ایک بار پھر چوتھی کا جوڑا نکالیں، گرم کوٹ اتاریں، عید گاہ تک چلیں آنندی ، بھولا، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور کالو بھنگی سے ملیں ، باپو گوپی ناتھ سے نیا قانون پڑھیں ۔ تھوڑی دیر تک لاجونتی کے پاس بیٹھیں ۔ وہاں سے اٹھ کر میلہ گھومنی کا تماشہ دیکھیں، بیچ بیچ میں سوگندھی کی بو سونگھیں اور پھر جی چاہے تو کفن کھول کر زندہ جسموں کے بے حسی اور مردہ بدن کی چھپٹاہٹ دیکھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غضنفر
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

