اکثر اہل اردو میں جواہرلال نہرو کے نام میں شامل لال کے حوالے سے مختلف آرا اور بحثیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔ اس سے قطع نظر کے وہ موتی لال نہرو کے لال تھے، ساتھ ہی مجاہد آزادی اور ملک کے پہلے وزیراعظم اور عظیم شخصیت کے بطور پورے دیش کے بھی لال جواہر تھے۔ البتہ کچھ لوگ اس بنا پر کہ نام کا پہلا لفظ جواہر ہے تو اس مناسبت سے دوسرا لعل ہونا چاہئے۔ اول تو یہی کہ یہ کنیت کا حصہ ہے اور خود اہل خانہ جو اردو داں اور اردوخواں تھے انھوں نے بھی یہی املا ملحوظ نظر رکھا، دوم یہ کہ خود ہندوستانی میں بھی لال کا مطلب وہی ہے جو فارسی میں لعل کا ہے، سو موخرالذکر پر اصرار اصرارِ بے جا ہی ہے۔ ورنہ تو اگر دستوری اور زبان و قواعد کی رو سے دیکھنا شروع کریں تو حضرت اخترالواسع ، اخطرالواسع قرار پائیں، جو وہ بالکل پسند نہ فرمائیں، یا پھر فارسی کا سہارا لیں تو اختر واسع، یا بعینہ اخترالایمان وغیرہ وغیرہ لیکن جو نام ایک بار چل پڑا سو چل پڑا، ہم نے اچھے خاصے ناموں کے ساتھ راکٹ اور جہاز کے لاحقے بھی دیکھے ہیں۔ بہرحال، بات فارسی کی چلی تو بہت ساری باتیں یاد آ کے رہ گئیں۔ فارسی صدیوں سے ہمارے ملک کی علمی و ادبی زبان رہی ہے اور یہاں کی تقریباً تمام جدید اور مروجہ زبانوں کی تشکیل و تعمیر میں اس کا حصہ رہا ہے، چنانچہ ہر زبان کے رگ و ریشے میں فارسی کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔ مذکورہ ناموں کے ساتھ ساتھ نہ جانے کتنے نام اور کتنے الفاظ ہیں جن میں فارسی کی کارفرمائی ہے۔ اور یہ تو سنسکرت کی بھی ہمشیرہ و ہمزاد ٹھہری، سو اس کا اندازہ لگانا تو محال ہے سو محال ہے۔ بہرکیف، بات جواہرلال اور فارسی کی آئی تو راقم نے ذاتی طور پر دیکھا کہ گاندھی کے ساتھ ساتھ نہرو اور ان کی کتابیں بھی ایران میں مقبول رہیں۔ اور ایک زمانے میں مشہور ایرانی مترجم و مصنف محمود تفضلی نے ان ہندوستانی رہنماوں کی کتابیں فارسی میں ترجمہ کیں۔ ان میں خاص طور سے گاندھی اور نہرو کی آپ بیتیاں اور رادھا کرشنن کی ہندی فلسفہ قابل ذکر ہیں۔ ان کے سامنے بھی یہی مسئلہ آیا ہوگا۔ اردو ہندی اور فارسی میں نزدیکی اور رشتہ داری کے باوجود ایک ہی لفظ کے ایسے ایسے مختلف معنی نکل آتے ہیں کہ زبان ششدر اور دہان گنگ ہوجائیں۔ اس کا اتنا مشاہدہ ہوتا رہا ہے کہ پوری کتاب سیاہ ہوجائے۔ شدید ناگفتنی ہا سے اعراض کرتے ہوئے ایک مثال درج کئے دیتا ہوں۔ مثلاً بڑے شان و شکوہ کا لفظ ہے بادشاہ، لیکن اہل ایران کے نزدیک یہ پادشاہ ہے۔ میرے لغت و فرہنگ شناس دوستوں کا کہنا یہ ہے کہ یہ جن بنیادوں پر ہندوستان میں ‘بادشاہ’ ہے، انھیں دلائل کی بنیاد پر ایران میں ‘پادشاہ’ ہے۔ اس سے ایک حقیقی قصہ یاد آگیا کہ ایران کلچرل ہاوس، دہلی میں ایک اعلی ایرانی وفد کی آمد پر بڑے اہتمام سے پروگرام ہوا۔ شہر کے نامی گرامی افراد کے ساتھ ساتھ فارسی اساتذہ بھی مدعو تھے۔ اس معزز وفد کے قائد کا نام جیسے ہی بلایا گیا، تمام سنجیدہ پروفیسر حضرات اور مہمان ہنس ہنس کے دیوانے ہوگئے۔ موصوف کا نام نامی اسم گرامی آقای منوچہر پاد تھا۔ قصہ مختصر یہ کہ یہی کیفیت محمود تفضلی کی بھی رہی ہوگی جب انھیں جواہرلال کا نام لکھنا رہا ہوگا، کیوں فارسی میں ‘لال’ گونگے کو کہتے ہیں۔ اور وہ تو نہرو اور اندرا گاندھی کے شناسا تھے، بلکہ نہرو اور اندرا گاندھی نے ان کی ان خدمات کے اعزاز میں انھیں ہندوستان بطور مہمان بلایا تھا۔ (یہ بھی پڑھیں پیگاسس – پروفیسر اخلاق آہن )
اسی قسم کی باتیں دوسری زبانوں میں بھی دیکھی جاتی ہیں، مثلاً عرب ممالک میں جب ہندوستانی سکھ جاتے ہیں تو ان کے نام کا ابتدائیہ یعنی سردار فلاں، بطور سید ترجمہ ہوجاتا ہے، اور وہ مثلاً سید اقبال سنگ یا سنگھ بن جاتے ہیں۔ اسی طرح خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر سے منسوب خانوادے عربوں میں ‘بکری’ لیکن ہمارے یہاں صدیقی کہلاتے ہیں۔ متعدد الفاظ تو تلفظ کے فرق سے غلط طور پر بدل دئے جاتے ہیں۔ مثلاً ایرانی ‘ق’ کا تلفظ تقریباً ‘غ’ کی طرح کرتے ہیں۔ اس طرح آقا۔آغا، اخلاق۔اخلاغ، عشق۔عشغ ہوجاتا ہے۔ ہمارے اردو والے اکثر و بیشتر اسے ‘آغا’ ہی سمجھتے ہیں۔ اسی طرح آج کل ٹی وی پر اشرف غنی بطور اشرف گھنی چرچے میں ہیں، اور اس سے قبل جمال ناصر کو گمال ناصر، بلکہ ہماری یونیورسٹی کے قریب تو باضابطہ گمال ناصر روڈ ہے اور ‘ض’ کے تلفظ کے حوالے سے تو ہمارے یہاں بہت سارے خواندہ، کم خواندہ اور ناخواندہ حضرات کی دلچسپ موشگافیاں دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں، جس کی تفصیلات کا محل نہیں۔
اسی سے ایک دلچسپ قصہ یاد آگیا۔ میرے مرحوم بزرگ دوست اور معروف زمانہ شاعر احمد فراز نے ایک قصہ سنایا۔وہ یہ کہ ایران کلچر ہاوس اسلام آباد میں ایک کلچرل کاونسلر کے آئے چند دن ہی ہوئے تھے۔ ان کا فون آیا۔ فراز صاحب آپ سے ملنا ہے۔ انھوں کہا آجائیے۔ رسمی گفتگو کے بعد کاونسلر صاحب نے کہا کہ ایک عجیب مسئلہ ہے، میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ کل شام میں نے فارسی کی کلاس لی۔ بیشتر خواتین تھیں۔ کلاس ختم ہوئی تو وہ بے تحاشا ہنسنے لگیں۔ میں دم بخود، واش روم جاکر دیکھا کہ کوئی گڑبڑ تو نہیں۔ لیکن ایسی کوئی غیرمعمولی بات دکھائی نہ پڑی۔ اب تک ان کے بے تحاشا ہنسنے کی بات سمجھ میں نہ آئی ۔ فراز صاحب نے پوچھا آپ نے کلاس کے آخر میں کیا کہا تھا۔ انھوں نے کہا کچھ نہیں انھیں ہوم ورک دیا اور کہا کہ یہ آپ کا ‘تکلیفِ شبِ اول’ ہے۔ واضح ہو کہ فارسی میں ہوم ورک کو ‘تکلیف’ کہتے ہیں اور اردو میں اس کے کیا مطالب نکالے جائیں گے، آپ سب واقف ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں دلیپ کمار اور اردو کا لہجۂ شیریں – پروفیسر اخلاق آہن )
ترکی اور فارسی میں حق حلال کرنا یا حلال کرنا، درگذر کرنے یا معاف کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔اردو میں بھی کبھی کبھار ان معنوں میں دکھائی دے جاتا ہے البتہ عام نہیں۔ چنانچہ حال ہی میں ایک ایرانی خاتون نے دوران پیام و کلام کہا: من حلالت کردہ ام، شما ھم حلالم کنید۔
میں نے از راہ شوخی کہا : جانم! حاضرم از دست نازنینت حلال شوم، اما دستم از حلال کردنت می لرزہ۔
انھوں نے کہا: یعنی چہ؟
میں نے کہا: اردو میں حلال، ذبح کرنے کو کہتے ہیں۔
اور توبہ توبہ۔۔خدا نہ کرے۔۔۔اور قہقہہ کی صدائیں بلند ہوگئیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
بہت خوب سر۔۔پڑھ کے بہت اچھا لگا ۔رب زور قلم اور زیادہ کر دیں
Achcha mazmoon. Saadgi aur sanjeedgi se likha hai.Mujhe achcha laga.