ہماری عمر یوں ہی بس، تمہارے ساتھ گزرے گی
کبھی تھک کر جو تم باہر سے گھر میں آؤ گے تم کو
میں چائے کی پیالی میں، محبت گھول کر دوں گی
تمہارے چہرے کی ہر اک شکن سے ایسے واقف ہوں
بنا بولے تمہارے دل کے، سارے لفظ پڑھ لوں گی
مجھے معلوم ہے تم کو ، پرانے گھر سے الفت ہے
مجھے بھی گاؤں کی ہر پل محبت یاد آتی ہے،
تمہاری ماں کے ہاتھوں سے بنی بیسن کی وہ روٹی
وہ سوندھی سوندھی چٹنی کی مہک ہم کو بلاتی ہے
مرے ہاتھوں کی روٹی میں وہ خوشبو تو نہیں ہوگی
تمہارے واسطے پھر بھی میں وہ روٹی بناؤں گی
مری جاں گر کبھی تم کو ضرورت پیش آئی تو
میں اپنا سارا زیور بھی، اٹھا کر بیچ آؤں گی
مجھے ہر سکھ میں اور دکھ میں سہارا بن کے رہنا ہے
تمہارا ہاتھ تھاما ہے، تمہارا بن کے رہنا ہے
مری خاطر بھی یوں کرنا اگر میں روٹھ جاؤں تو
مجھے آکر منا لینا ، ذرا سا مسکرا دینا
کبھی بچوں میں پڑ جاؤں اگر مصروف ہو جاؤں
تو تم غصہ نہیں کرنا ، ٹفن اپنا بنا لینا
تمہارا ناشتہ ٹیبل پہ میں رکھ دوں گی کر لینا
ہمارے ہاتھ آٹے کے ہوں ، ٹائی خود لگا لینا،
مری کوشش رہے گی میں ہمیشہ خوش رکھوں تم کو،
سو مجھ سے بھول ہو جائے اسے ہنس کر بھلا دینا
میں تم سے اور کیا مانگوں تمہارا پیار کافی ہے
تمہارے ساتھ بچوں کا ملا ہے پیار کافی ہے
ہماری عمر یوں ہی بس تمہارے ساتھ گزرے گی
(یہ بھی پڑھیں ہجر کے موسموں میں – زیبا خان حنا )

