حوالۂ شناخت کے طور پر کیول دھیر کی جو چند کہانیاں پیش کی جاسکتی ہیں ان میں ایک کہانی ’تم وہی ہو‘ کی شمولیت میں کوئی حرج نہیں کہ اس میں کہانی پن بھی ہے اور یہ کہانی قاری کے ذہن پر ضرب لگاتی ہے اور منجمد نقطہ پر ٹھہری ہوئی سوچ کو تحرک اور اضطراب کی نئی منزلوں سے روشناس بھی کراسکتی ہے۔
ترسیلی اور موضوعی دونوں اعتبار سے یہ کہانی متاثر کن ہے۔ یہ ہمارے احساس کی کئی سطحوں کو مرتعش کرتی ہے۔ اس کہانی کا حسن، تضاد کے ادراک میں مضمر ہے۔ تضاد سے جو تصویر بنائی جاتی ہے وہ زیادہ واضح، خوبصورت اور شاید مکمل ہوتی ہے۔
یہ ایک ایسے ذہن کی تخلیق کردہ کہانی ہے جو معاشرتی، سیاسی، اقتصادی، سماجی تغیرات اور قدری ترجیحات سے بھی بخوبی آشنا ہے جس کے تجربا ت اور مشاہدات کی کائنات وسیع ہے جو انسانی نفسیات کا رمز شناس ہے، جسے انسان کے جبر اور اختیار کا بھی اندازہ ہے۔ جو یہ جانتا ہے کہ عہد یا وقت کی تبدیلی سے حسن و قبح، خیر و شر کے معیارات بدل سکتے ہیں مگر انسانی جبلت تبدیل نہیں ہوسکتی۔ جو عصر حاضر کی حسیات اور نفسیات سے بھی آگاہ ہے اور قدیم عہد کی تاریخ، تہذیب اور روایات سے بھی اور انہی عصری حسیات اور روایات سے ان کی کہانیاں تشکیل پاتی ہیں۔
’تم وہی ہو‘ تضاد اور تقلیب پر مبنی ایک کہانی ہے۔ اس میں دو کرداروں کے وصفی،فطری اور طبقاتی تضادات کے ذریعے کہانی بُنی گئی ہے اور اِنہی دو کرداروں کے جبلی تضادات اور طبقاتی تفاوت سے کہانی آگے بڑھی ہے۔ ’اشوک‘ اور ’شوبھنا‘ اس کہانی کے دو مرکزی کردار ہیں اور کہانی کار نے دونوں کے وصفی، طبقاتی تضادات کو اس طور پر واضح کیا ہے:
(الف)
’’وہ شوخ تھی،بیباک تھی، ذہین بھی تھی۔اونچے طبقے کے ایک مغرب زدہ دولت مند گھرانے سے اس کا تعلق تھا جہاں زندگی پر کوئی پہرا نہ تھا، کوئی پابندی نہ تھی۔ اپنے خوبصورت بھرے بھرے جسم کی نمائش اور بیباک و شوخ شرارتوں کے مچلتے طوفان لیے اس نے کالج کے ماحول پر جیسے جادو کررکھا تھا۔‘‘
(ب)
’’وہ بے حد خاموش طبع، سنجیدہ اور سادہ انسان ہے۔ وہ کبھی کسی سے زیادہ بات نہیں کرتا، کسی سے اس کی گہری دوستی نہیں، کالج کی کسی سرگرمی میں وہ شریک نہیں ہوتا۔ سب سے الگ جیسے اس کی ایک اپنی ہی محدو دنیا تھی، اس کا اپنا ماحول تھا جس میں وہ قید رہتا تھا۔ ‘‘
کہانی کار نے دونوں کرداروں کے عمل اور کردار کے تفاوت سے ایک تصویر بنائی ہے اس میں مردانہ اور نسائی جبلت کی بھی خوبصورت عکاسی ہے اور اس کے ساتھ دونوں کی سائیکی کی ایک تقلیبی صورت بھی ہے۔ عورت جہاں عام طور پر وفار شعار، ایثار، قربانی، محبت کا پیکر کہلاتی ہے وہیں مرد جفا شعار، ظالم ، ستم گر اور بے وفا کہلاتا ہے۔ مگر اس کہانی میں اس معمولہ اور مروجہ تصور کی متخالف صورت نظر آتی ہے کہ یہاں نسائی کردار میں عیاری، مکاری اور بے وفائی ہے جبکہ مرد کردار وفا، محبت، عطوفت، ہمدردی کا ایک پیکر نظر آتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں تخلیقی نثر کے فروغ میں جامعہ کا حصّہ – حقانی القاسمی)
’تم وہی ہو‘ دراصل دو کرداروں کی محبت پرمرکوز کہانی ہے۔ یہ وہ محبت ہے جس میں کئی زینے ہوتے ہیں، کئی سیڑھیاں ہوتی ہیں۔ محبت کے پہلے قدم سے لے کر آخری قدم تک بہت سے مرحلے اور تجربے آتے ہیں۔ ابتدائی کشش (Initial attraction) سے گہری وابستگی (Commitment) تک محبت کی بہت سی منزلیں ہیں۔ جہاں خصوصی کیمیائی جوہر dopamine, phenethylamine, oxytocinاہم کردار ادا کرتے ہیں اور رومانی جذبات و احساسات میں ارتعاش اور اضطراب پیدا کرکے محبت کی سطحوں کا تعین کرتے ہیں۔ اس کہانی میں Eros بھی ہے، Ludos بھی اور Agape Loveبھی۔ اس میں ایک مرد کا عشق ہے اور ایک عورت کی محبت۔ مگر دونوں کی محبت کے انداز اور اسلوب میں بہت فرق ہے۔ نسائی کردار جس محبت پر یقین کا ہے وہ محبت دراصل آج کی اصطلاح میں Ludos کہلاتی ہے۔ ایک مختصر مدتی محبت جس میں محبت کی حیثیت ایک کھیل سے زیادہ نہیں ہوتی۔ یہ دھوکہ اور فریب پر مبنی ہوتی ہے۔ اس میں وابستگی یا کمٹ منٹ کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ اس کہانی کا جو نسائی کردار ’شوبھنا‘ ہے وہ Ludic Loverہے۔ کہانی کار نے محبت کی اس جہت کو اس طور پر روشن کیا ہے۔
(الف)
’’گذشتہ چار برسوں سے وہ کالج میں شوبھنا کو دیکھتا آرہا تھا۔ اس کی رنگین مزاجی اور شباب وحسن کی نمائش سے بخوبی واقف تھا۔ اس حقیقت سے بھی واقف تھا کہ شوبھنا کے نزدیک پیار اور محبت ایک کھیل ہے اور اب تک کئی لڑکوں سے وہ یہی کھیل کھیلتی رہی ہے ۔‘‘
(ب)
’’جب شوبھنا نے وداعی محفل میں اپنے دوستوں کے درمیان فخر و غرور کے ساتھ اپنی جیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا….. ’’میری محبت محض ایک کھیل تھی جو اشوک صاحب کے غرور کو توڑنے کے لیے کھیلی گئی تھی۔ میں بے انتہا خوش ہوں کہ اس کھیل میں اشوک صاحب ہار گئے اور میں جیت گئی۔‘‘
کہانی کار نے شوبھنا کے کردار کی جس طرح عکاسی کی ہے اس سے یہ اندازہ لگانا بالکل مشکل نہیں کہ شوبھنا میں نہ تو وابستگی کا گہرا احساس ہے اور نہ ہی محبت کو برقرار رکھنے کی کوئی خواہش۔ حقیقی محبت کے جو اجزائے ترکیبی Intimacy + Passion + Commitment ہوتے ہیں وہ اس کے عشق یا جذبہ محبت میں قطعی شامل نہیں ہیں جبکہ اشوک ایک غیرمشروط محبت پر یقین رکھتا ہے۔ اس کی محبت خالص نوعیت کی ہے۔ اسی محبت کو Agape Love کہا جاسکتا ہے جس میں اپنے دوست سے نہ کسی طرح کی توقع رہتی ہے اور نہ کوئی بھی مادی یا جنسی خواہش۔ یہ وابستگی کے گہرے احساس پر مبنی محبت ہے۔ اشوک کے کردار کی جس طرح تصویر کشی کی گئی ہے اس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ اس محبت میں ایک گہری جذباتی کشش اور وابستگی ہے۔ کہانی کار نے اشوک کی محبت کے اس پہلو کو یوں پیش کیا ہے:
(الف)
’’اشوک کی زندگی میں تلاطم آگیا اور اس نے یقین کرلیا کہ شوبھنا کی محبت ایک حقیقت ہے۔ وہ اپنی مجبوری کو بھول گیا، اپنی حقیقی زندگی اور سماجی حیثیت کو بھول گیا۔ سب کچھ بھول کر وہ شوبھنا کی بے پناہ محبت کے خوابوں کی دنیا میں پہنچ گیا۔ دل کی عمیق گہرائیوں سے اس نے شوبھنا کو چاہا۔ اسے شدت سے پیار کیا۔ اس کے ساتھ اپنے جذبوں کو باندھ لیا، اسے اپنی دھڑکنوں میں سمو لیا۔‘‘
(ب)
’’اشوک نے لب سی لیے۔ اف تک نہ کی۔ کوئی گلہ نہ کیا اور نہایت خاموشی سے فرضی محبت کے خوابوں کی دنیا سے اپنے آپ کو الگ کرلیا اور دل کے گہرے رستے زخموں کا درد سمیٹے اپنی دنیا میں لوٹ آیا۔ لیکن پیار کے اس احساس کو وہ اپنے وجود سے الگ نہیں کرسکا جو اس کا پہلا اور آخری احساس تھا۔‘‘
(ج)
’’زندگی کے اس طویل سفر میں اشوک اپنی اس پرخلوص محبت کے درد کو لمحہ بھر کے لیے بھی بھول نہ سکا تھاجو شوبھنا سے اسے حاصل ہوا تھا۔ محبت بیشک تلخ تھی، آخر محبت تھی جو اس نے ٹوٹ کے کی تھی۔ شوبھنا کی نظروں میں وہ ہار گیا تھا لیکن زندگی کی عظیم بلندیوں تک پہنچنے میں اسی محبت کی تحریک کے سہارے اس نے جیت حاصل کی تھی۔ محبت کا درد جب بھی بیدار ہوتا تو شوبھنا کا چہرہ اس کے ذہن کے دریچوں سے جھانکنے لگتا۔ ‘‘
اشوک نے عشق کو عمل ضرب سمجھا اور شوبھنا نے تقسیم کا عمل۔ شوبھنا اشوک کے غرور کو توڑنا چاہتی تھی اور اس کے لیے اس نے اپنی ساری اداؤں اور عشوہ طرازیوں کا سہارا لیا۔ دراصل شوبھنا کالج کی ایک ایسی حسن و شباب کی شہزادی تھی جس کا ہر کوئی دیوانہ تھا۔ ہر کوئی اس کی توجہ کا مرکز تھا۔ مگر اشوک کو اس میں دلچسپی نہیں تھی۔ یہی نظرانداز کرنے کی روش نے شوبھنا کے دل میں ایک انتقامی جذبہ پیدا کیا اور اس نے اشوک کے عمل سے یہ محسوس کیا کہ وہ نظرانداز کی جارہی ہے اور کوئی بھی عورت یہ بات پسند نہیں کرسکتی کہ اس کے حسن و ادا ، عشوہ و ناز کو نظرانداز کیا جائے:
’’تیسرے روز شوبھنا نے اشوک کو کالج کے عقبی لان میں پھر پکڑ لیا۔ ’’آپ مجھ سے ناراض ہیں؟‘‘ اس کے الفاظ میں جیسے پیار بھری شکایت تھی۔
’’دیکھیے شوبھنا دیوی! مجھے ایسی کسی بات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، جو آپ چاہتی ہیں۔‘‘ اشوک کے الفاظ کی بیباکی شوبھنا کو بالکل اچھی نہیں لگی۔ اسے توقع تھی کہ وہ اب تک اس کے لیے تڑپ رہا ہوگا، اس سے بات کرنے کو بیتاب ہوگا لیکن اشوک کی سردمہری اس کے ذہن پر ایک تیز نشتر کی مانند پیوست ہوگئی۔ وہ تلملا کر رہ گئی لیکن اپنے آپ کو قابو میں رکھتے ہوئے بولی ’’اشوک! میں سنجیدہ ہوں، تمہاری عظیم شخصیت و بے پناہ ذہانت نے مجھے گرویدہ بنا لیا ہے۔ کالج کی زندگی کے آخری سفر میں، زندگی کے لیے ہم سفر ساتھی کی تلاش کرتے ہوئے میں نے تمہارا انتخاب کیا ہے۔ تم مجھ پر یقین کرسکتے ہو!‘‘ شوبھنا کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔ اس کاا نداز گفتگو اس قدر جذباتی تھا کہ اشوک بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں دعا کے شہر میں آنسو کی اذان [پروین کماراشک کی شاعری پر ایک نوٹ] – حقانی القاسمی )
شوبھنا نے جذبۂ محبت نہیں بلکہ ایک انتقامی جذبہ کے ساتھ اشوک کے ساتھ قربت کی صورت پیدا کی اور اِس سازش میں کامیاب بھی ہوگئی مگر آخری وقت میں شوبھنا نے اپنا عندیہ ظاہر کردیا اور یہ بتا دیا کہ محبت کا یہ کھیل صرف غرور توڑنے کے لیے تھا۔جبکہ دوسری طرف اشوک کا کردار بہت معصوم ہے۔ وہ بہت ہی خوددار طبیعت کا انسان ہے۔ ذہین اور قابل ہے۔ محدود ذرائع کے باوجود ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کررہا ہے۔ وہ اپنی معصومیت کی وجہ سے شوبھنا کے موہ جال میں پھنس جاتا ہے۔ اسے اس حقیقت کا علم ہے مگر پھر بھی وہ اس رشتے کو توڑنا نہیں چاہتا جو قائم ہوچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس انتقامی کھیل سے واقف ہونے کے باوجود شوبھنا کے لیے دل میں محبت بھرے جذبات رکھتا ہے اور جب وہ ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرکے ایک اعلیٰ مقام پر پہنچتا ہے، امریکہ جاتا ہے اس کی شہرت ہوتی ہے تب بھی اس کے دل میں پہلی محبت کا لمس زندہ رہتا ہے۔
کہانی کار نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اس تقلیبی صورت کو بھی پیش کیا ہے جو دونوں کرداروں کے ماضی سے مختلف صورت میں سامنے آتی ہے۔ ماضی میں شوبھنا کی زندگی میں بہار ہی بہار تھی اور اشوک کی زندگی خزاں زدہ۔شوبھنا خوبصورت، پرمسرت لمحوں میں اسیر تھی اور اشوک کے سینے پر دکھوں اور مجبوریوں کا پہاڑ تھا مگر وقت اور حالات کی تبدیلی سے دونوں کی زندگی کی ہیئت بدل جاتی ہے اور اس طرح دو کرداروں کی تقلیبی صورت سامنے آتی ہے کہ اشوک کی زندگی پربہار بن جاتی ہے اور شوبھنا کی زندگی میں خزاں ہی خزاں آجاتی ہے۔ اشوک جہاں کلپنا جیسی سلیقہ مند، خوبصورت، خلو ص اور محبت کے جذبات سے لبریز عورت سے شادی کرکے زندگی کا خوبصورت سفر طے کررہا ہوتا ہے اور اس کے دو بہت ہی خوبصورت بچے بھی ہوتے ہیں۔ وہیں شوبھنا ڈاکٹر آنند سے شادی کرتی ہے مگر برسوں گزرنے کے باوجود اولاد کی مسرت سے محروم رہتی ہے۔ اور ڈاکٹری معائنوں کے بعد یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ شوبھنا زندگی بھر ماں نہیں بن سکتی جس کی وجہ سے شوبھنا کے شوہر آنند کی دلچسپی کم ہوتی جاتی ہے اور شوبھنا کے دل میں ایک خوف سماجاتا ہے کہ آنند کہیں دوسری شادی نہ کرلے۔
یہاں کہانی سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ازدواجی زندگی کی مسرتوں کے لیے سماجی، اقتصادی کفو ہی کافی نہیں ہے بلکہ ذہنی اور جذباتی ہم آہنگی ضروری ہے۔ شوبھنا اور آنند کی شادی بقول کہانی کار:
’’محبت کا ثمر نہیں تھی، بلکہ ان دونوں کی اونچی سماجی حیثیت اور دولت کے پس منظر میں ہوئی تھی۔‘‘
اسی لیے اس شادی پر خوف اور تشویش کے سائے منڈلانے لگے۔
پہلے اشوک حالات سے مجبور تھا اب حالات کی وہی مجبوریاں شوبھنا کے سامنے آگئی ہیں۔ کہانی کار نے حالات کی جبریت کو واضح کیا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ’’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘‘
کیول دھیر کی اس کہانی میں تضاد کا عنصر بھی ہے ، تقلیب اور تغیر بھی۔ ان عناصر کی مکمل کارفرمائی اس کہانی میں نظر آتی ہے۔کہانی کار کا ذہن بہت واضح ہے۔ وہ شاید طبقاتی تضادات پر یقین نہیں رکھتا اور نہ ہی محبت میں طبقاتی تفاوت کو کوئی اہمیت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہانی کے کلائمکس میں وہ جبلی اور طبقاتی تضادات کو ختم کرکے ایک فطری موانست اور مساوات پر زور دیتا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ محبت میں امیر، غریب کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ یہ وہ آفاقی جذبہ ہے جو کسی بھی دل میں جنم لے سکتا ہے۔ محبت کی پناہ کے لیے جگہ کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ عالی شان محل ہو یا جھونپڑی، ہر جگہ محبت کے چراغ روشن ہوسکتے ہیں، خوب صورت جذبہ، زمین کے ہر ذرہ میں نمو کرسکتا ہے۔
کیول دھیر کی اس کہانی میں اشوک ایک ایسا کردار بن کر سامنے آتا ہے جو شوبھنا کے لیے ایک مسیحا کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ وہ جب ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے بچہ حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس وقت بھی اس کی مدد اشوک ہی کرتا ہے۔ وہ جب امریکہ اشوک کے یہاں پہنچتی ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اشوک کے دل میں اب بھی وہ پرانی محبت محفوظ ہے ۔ اس نے ماضی کے رشتوں کی خوشبوؤں کو سنبھال کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے گھر میں میٹل پلیٹ پر وہی شعر کندہ نظر آتا ہے جو کبھی شوبھنا نے اسے سرخ گلاب کی پتیوں کے ساتھ دیا تھا:
تجھ سے ملے نہ تھے تو کوئی آرزو نہ تھی
دیکھا تجھے تو تیرے طلب گار ہوگئے
اور شوبھنا یہ بھی محسوس کیا کہ دیوار پر آویزاں جو دو بچوں کی تصویر تھی ان بچوں کی شکل ہوبہو شوبھنا جیسی تھی:
شوبھنا نے بار بار میٹل پلیٹ پر کندہ وہی شعر پڑھا جو اس کی امانت کے طور پر اشوک نے آج بھی اپنے پاس رکھ چھوڑا تھا۔ ان بچوں کی تصویر کی جانب دیکھا جس پر اس کی اپنی شکل پیار کے شگفتہ پھول بن کر محبت کی کہانی بیان کررہے تھے۔‘‘
اس ڈرامائی صورتِ حال نے کہانی کو ایک خوب صورت رنگ دے دیا ہے۔جب شوبھنا اشوک سے ملتی ہے تو شوبھنا کو اپنی ندامت کا احساس ہوتا ہے لیکن اشوک اسے پھر ماضی کی یادوں میں لے جاتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ اب کی بار بھی تمھیں ہی فتح حاصل ہوگی۔ یہ بہت ہی معنی خیز اور گہرا جملہ ہے اور ایک طرح سے شوبھنا کی نفسیات پر وار بھی۔ اس جملے کا تعلق شوبھنا کے ماضی سے ہے۔ یہ اس کی نفسیات کا عکاس ہے کہ اس نے اشوک سے قربت صرف اسے شکست دینے اور اپنی فتح کے لیے اختیار کی تھی اور آج پھر وہی مرحلہ درپیش تھا۔ کہانی کار نے بڑے خوب صورت انداز میں ڈرامائی سچویشن خلق کی ہے اور دونوں متخالف اور متضاد کرداروں کو رشتے کی ایک ڈور میں باندھ دیا ہے۔ کہانی کا اختتامی لمس یوں ہے:
’’شوبھنا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ا س کے دل کاسارا بوجھ ہلکا ہوگیا۔احسان مندی کی نظروں سے اس نے اشوک کے مسکراتے چہرے کو دیکھا اور جھک کر اس کے پاؤں چھولیے۔ دوسرے ہی لمحے اس نے دونوں بچوں کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ انھیں بارہا چوما۔ جیسے مدتوں بعد ایک ماں اپنے بچوں سے مل کر انھیں اپنی ممتا اور پیار کے آنچل میں سمیٹ رہی ہو!‘‘
یہ عورت کی جبلی مراجعت ہے کہ عورت ممتا اور ایثار کا پیکر ہوتی ہے۔ وہ اپنی جبلت سے انحراف یا بغاوت نہیں کرسکتی۔ وہ اپنے جوہری عنصر سے مربوط رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شوبھنا جب ان بچوں کو دیکھتی ہے تو اس کے اندر ممتا کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے اور وہ دوسرے کے بچوں کو بھی اپنے پیار کے آنچل میں سمیٹ لیتی ہے۔ کیول دھیر نے اس کہانی میں یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ اشوک مشرق میں آبادہوکر بھی مشرقی قدروں کو بھولا نہیں ہے۔ وہ اسے حرزِ جہاں بنائے ہوئے ہے کہ جب شوبھنا ذہنی اضطراب کی حالت میں اس کے پاس پہنچتی ہے تو وہ پہلے ہی کی طرح اپنی محبت اور خلوص کا مکمل ثبوت دیتا ہے اور کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’تم خودکشی نہیں کرو گی شوبھنا۔ میں تمھارے ذہنی اضطراب کو سمجھ رہا ہوں لیکن تم نے مجھے سمجھنے میں ہمیشہ غلطی کی ہے۔ بھگوان نے چاہا تو تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوکر وطن لوٹوگی۔ ‘‘
اشوک چاہتا تو شوبھنا سے ماضی کی بے عزتی کا انتقام بھی لے سکتا تھا اور اس کے ذہنی اضطراب میں اضافہ بھی کرسکتا تھا مگر اشوک نے فطری مسیحا نفسی اور اپنے ڈاکٹری پیشے کی قدروں کا پاس رکھتے ہوئے شوبھنا کے ساتھ بہت خوب صورت سلوک کیا اور یہ احساس دلایا کہ شوبھنا کے دل میں چاہے جیسے بھی جذبات رہے ہوں مگر اشوک کا دل خالص محبت سے معمور ہے۔
کہانی کا کلائمکس یہ بتاتا ہے کہ فتح ہمیشہ حقیقی محبت ہی کی ہوتی ہے اور یہاں بھی فتح حقیقی معنوں میں اشوک کی ہی ہوئی ہے کہ شوبھنا جھک کر اس کے پاؤں چھوٗ لیتی ہے۔ کہانی کار نے ایک طرح سے پورے معاشرے کو یہ پیغام دیا ہے کہ حقیقی محبت کبھی فنا نہیں ہوتی۔ وہ انسانی وجود کے کسی نہ کسی اَنش میں زندہ رہتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ماورائے ازدواج رفاقتوں کا بیانیہ (پرویز شہریار کے دو افسانوں کے حوالے سے) – حقانی القاسمی )
اس کہانی میں ایک مثبت اور بامقصد پیغام بھی ہے۔ کہانی ایک پازیٹو نوٹ پر ختم ہوتی ہے— دو متخالف کرداروں کا وصال کہانی کا ایک معنیاتی حسن ہے۔کہانی یہ بھی بتاتی ہے کہ عورت کی معراج ممتا ہے اور اس کی تکمیل ماں بننے کے بعد ہی ہوتی ہے۔ ماں بننے سے محرومی کا احساس عورت کے وجود کو ادھورا کردیتا ہے۔ کہانی کار نے کہانی کے اختتامیے میں شوبھنا کی تقلیبی صورتِ حال کو پیش کیا ہے۔
جہاں تک کیول دھیر کے اسلوب کا تعلق ہے تو ان کا بیانیہ سیدھا سادہ ہے۔ اِس کہانی میں نہ کوئی علامت ہے، نہ تجرید، نہ اسطور، جس طرح کی کہانیاں پریم چند یا ان کے دبستان سے وابستہ لوگ لکھا کرتے تھے یہ اسی نوع کی کہانی ہے۔ کیول دھیر زبان کی لطافتو ںاور نزاکتوں سے واقف ہیں اس لیے الفاظ کے استعمال میں بھی خیال رکھتے ہیں کہ لفظ کا بیجا یا بے مصرف استعمال نہ کیا جائے۔ ان کی زبان میں نہ ژولیدگی ہے نہ ابہام۔ وہ سیدھی سادی معاشرتی اور عوامی زبان کو اپنے جمالیاتی احساس کے ساتھ فنکارانہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ان کی پیکر تراشی، سراپانگاری کا انداز بھی خوبصورت ہوتا ہے جس سے پورا منظرنامہ نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے۔ ان کے مزاج میں چونکہ رومانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اس لیے ان کے جملوں میں بھی رومانی حسن ہوتا ہے جو قاری کو اسیر کرلیتا ہے۔ ان کی زبان میں تسخیر اور تاثیر کی پوری قوت موجود ہے۔ ان کی سراپانگاری کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو:
’’شوبھنا بلا کی خوبصورت تھی۔ متوازن وصحت مند جسم، بھرپور جوانی، غضبناک کشش اور لامثال حسن کا مجسمہ….. جیسے قدرت نے اس کے وجود کی تشکیل میں حسن و شباب کی تمام تر رعنائیاں یکجا کردی تھیں۔ مدمست نگاہوں کی مستی و شوخی، معصوم سے چہرے پر پھیلی شرارت، انگ انگ سے ٹپکتی بھرپور جوانی، لطیف آوازکی مٹھاس، قاتل اداؤں کی نزاکت….. ‘‘
یہ اس کہانی کا ابتدائیہ ہے اور یہی حسنِ بیان قاری کو کہانی کے اختتام تک پہنچنے پر مجبور کرتا ہے۔ کیول دھیر کہانی کہنے کے آداب سے واقف ہیں۔ ان کے پاس مختلف تہذیبوں اور زبانوں کے بیانیے بھی ہیں۔ وہ حسب حال ان بیانیوں کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ ان کے فن میں مقصدیت، محبت اور انسانیت ہے اور ان کا نقطۂ نظر ہمیشہ مثبت رہتا ہے۔ معاصر زندگی اور زمانے کے مسائل و متعلقات پر بھی ان کی نظر گہری ہے۔ ان کی کہانیوں میں اخلاقی تہذیبی قدروں کی کشمکش ملتی ہے اور انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کا بہت ہی عمدہ بیانیہ ملتا ہے۔ وہ افسانے کے فنی لوازمات اور شرائط کا بھی پاس رکھتے ہیں۔ ان کی لفظیات میں بھی کوملتا اور نزاکت ہوتی ہے۔
کیول دھیر کی کہانیوں میں کئی طرح کے تہذیبی اور ثقافتی رنگ نظر آتے ہیں خاص طور پر پنجاب جیسی سرزمین کا وصفی اور منظری عکس ان کی کہانیوں میں بہت خوب صورت رنگ بھر دیتا ہے۔ تہذیبی رنگوں کے امتزاج پر ان کا مکمل ایقان ہے اسی لیے ان کی کہانیاں کسی خاص تہذیبی یا ثقافتی دائرے میں قید نہیں ہیں۔وہ عام انسانی جذبات و احساسات کی عکاسی کرتی ہیں۔ وہ عام انسانی فرد جس کا تعلق زمین کے کسی بھی خطے، مذہب یا کسی بھی تہذیب سے ہوسکتا ہے۔ آفاقی انسانی صورتِ حال کی اسی عکاسی نے کیول دھیر کو اردو افسانے کے میدان میں اعتبار اور امتیاز بخشا ہے۔
Cell: 9891726444
Email: haqqanialqasmi@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

