موہن داس کرم چند گاندھی2؍اکتوبر 1869کو پور بندر گجرات میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کرم چند اتم چندر پور بندرراج کوٹ کے دیوان تھے۔گاندھی جی کے داد ا پور بندر اور جونا گڑھ کے دیوان رہ چکے تھے ۔ ان کی والدہ پتلی بائی بڑی مذہبی خاتون تھیں۔ گاندھی جی پر ان کا اثر زندگی بھر رہا۔
گاندھی جی بھارت کے سیاسی اور روحانی رہنما اور آزادی کی تحریک کے اہم ترین کردار تھے۔ انہوں نے ہمیشہ ستیہ گرہ اور اہنسا کو اپنا کردار بنایا۔ یہی طریقہ کار ہندوستان کی آزادی کی وجہ بنا ۔ بھارت میں انہیں احترام سے مہاتما گاندھی یا باپوکہا جاتا ہے، جبکہ انہیں سرکار کی طرف سے راشٹر پتا کے لقب سے نوازا گیا۔ گاندھی جی کی یوم پیدائش بھارت میں قومی تعطیل کا درجہ رکھتی ہے۔ اس دن گاندھی جی کے نظریۂ عدم تشدد کو اس طرح سے بیان کیا جاتاہے کہ نئی نسل بھی ان کے اس فلسفہ سے آگاہ ہو سکے۔
عدم تشدد کے پیشوا کے طور پر گاندھی جی نے سچ بولنے کی قسم کھائی تھی اور دوسروں سے ایساکرنے کی تلقین بھی کی۔ لباس کے طور پر روایتی ہندوستانی دھوتی اور شال کا استعمال کرتے جو وہ خود سے چرخے پر بنتے تھے۔ انھوں نے کھادی و چرخے کی اہمیت پر زور دیتے تھے تاکہ ہندوستان خا ص کر گاؤں جب کھیتی باڑی کے کام میں نہ لگے ہوں تو چرخہ کات سکیں تاکہ اس سے گاؤں والے اپنی قلیل آمدنی میں تھوڑا سا اضافہ کرسکیںاور اپنے کپڑے پر خرچ کی بچت کرسکیں۔ اس لیے انہوں نے ہاتھ سے کپڑا بنا تاکہ لوگوں کو احساس ہو کہ ہاتھ سے کام کرنا کوئی برا کام نہیں ۔
مہاتما گاندھی ایک تاریخ ساز شخصیت کے مالک تھے ۔ انہوں نے اپنے قول ، مضبوط عزائم اور اصولوں کی پابندی کا مظاہرہ کر کے ہندوستان کو غیر ملکی حکومت سے نجات دلانے کے ساتھ ساتھ دنیا کے کئی دوسرے ملکوں کو بھی غیروں کی غلامی سے آزاد ہونے کی راہ دکھائی ۔
گاندھی جی نے ہمیں جوپیغام دیا اور جس پر خود زندگی بھر عمل پیرا رہے ، جن میں قومی اتحاد ، فرقہ وارانہ خیر سگالی، عدم تشدد کا فلسفہ ، ستیہ (صداقت)اورستیہ گرہ اس قابل ہیں کہ ان پر پوری دیانت داری کے ساتھ آج بھی اگر ہم عمل کیا جائے تو ملک کے اندر اور ملک کے باہر پنپنے والے تشدد اور عدم برداشت کے ماحول کو ہم دور کرسکتے ہیں۔
گاندھی جی ’’ستیہ اور اہنسا‘ اور ’’ قومی اتحاد‘‘ پر یقین رکھتے تھے اور بڑے خلوص اور سچی لگن کے ساتھ اس پر عمل کرتے رہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ستیہ اور اہنسا کے ہتھیاروں سے ہی غیرملکی طاقتوں کو ہرایا جاسکتا ہے۔ اسی لیے ان ہتھیاروں سے کام لینا اپنے ہندوستانی بھائیوں کو سکھانا ہی انہوں نے اپنی زندگی کا خاص مقصد بنا لیا تھا۔ گاندھی جی اپنے ساتھ دوبنیادی خیال دنیا میں لائے ، جو اس وقت کی دنیا کے لیے یہ دونوں بالکل نرالے تھے۔ ایک یہ کہ آتم بل (روحانی طاقت) ،جس کا دنیا کی سب طاقتیں مل کر بھی مقابلہ نہیں کرسکتیں ۔ دوسرا یہ کہ یہ آتم بل عام لوگوں میں بھی پیدا کیا جاسکتا ہے اور اس کی مدد سے دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتوں ، ان کے مظالم اور حکومتوں کا اہنسا کے اصول پر چل کر مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔ یہ طاقتیں چاہے ملک کے اندر کی ہوں یا ملک سے باہر کی۔
گاندھی جی نے ستیہ اور اہنسا کے اصولوں کو عملی جامہ پہنا کر ہندوستان کو ذہنی اور سیاسی غلامی سے نجات دلایا۔ اس عظیم طاقت سے ، جس کی حکومت میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا ۔یعنی برطانوی سامراج سے پورے پچاس سال تک لڑنا۔ یہی نہیں کہ وہ صرف برطانوی سامراج کے خلاف لڑتے رہے اور اپنے ملک کے سماجی مسئلوں اور کمزوریوں کو جوں کا توں چھوڑ دیا ۔ ان کی عظمت تو اسی طرح بڑھتی ہے کہ وہ آزادی کے لیے ایک مثالی سپاہی کی طرح لڑتے رہے اور دوسری طرف سماج کی اصلاح اور اس کی فلاح و بہبودکے لیے کام کرتے رہے۔ آزادی کی جنگ کو انہوں نے اتنی جلدی سماج سے قریب تر کر دیا کہ سماج صدیوں کی غلامی کے لباس کو اتارنے کے لیے فوراً تیار ہوگیا۔ (یہ بھی پڑھیں گاندھی جی ،اعظم گڑھ اورقومی بیداری – ڈاکٹر عمیر منظر )
گاندھی جی دنیا کی راہ سے ہٹ کر اپنے طریقے سے کس طرح کام کرتے تھے اس کی مثال اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ جب دنیا ایٹمی اور نئے ہتھیاروں کے پیچھے دوڑ لگارہی تھی تب گاندھی جی اہنسا کو اپنا ہتھیار بناکر پورے ملک میں گھوم رہے تھے۔ دنیا توپوںکی دھند میں کھڑی تھی اور گاندھی جی اس میں امن و آتشی کا علم لیے کھڑے تھے۔ گاندھی جی نے اہنسا ستیہ کو بڑے نپے تلے انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں :
’’ اہنسا میرا خدا ہے اور سچائی بھی ۔ جب میں اہنسا کی تلاش کرتا ہوں تو سچائی کہتی ہے اسے میرے ذریعہ تلاش کرو۔ اور جب میں سچائی کی تلاش کرتا ہوں تو اہنسا اورکہتی ہے اسے میرے واسطے سے ڈھونڈھو۔ اہنسا اور ستیہ ایک ہی سکے کے دورخ ہیں ۔ یا دھات کی ایک ایسی گولائی کے مانند ہیں جو دونوں طرف سے سادہ ہو، کون کہہ سکتا ہے کہ کون سارخ سیدھا اور کون سا رخ الٹا ہے ؟ تاہم اہنسا ذریعہ ہے اور سچائی مقصد ہے۔ ‘‘
(مہاتما گاندھی کا پیغام ، مرتب یو۔ ایس ۔ موہن رائے، 1969، ص36-37)
گاندھی جی ہندوستان سے اہنسا (عدم تشدد) پر عمل کرنے کی اپیل کرتے تھے اور اس لیے نہیں کہ ہندوستان کمزور ہے، بلکہ اس لیے کہ ہندوستان اپنی طاقت کو محسوس کرتے ہوئے عدم تشدد کی راہ پر چلے۔ وہ ہندوستانیوں کو احساس دلانا چاہتے تھے کہ انہیں کسی قسم کے ہتھیاروں کی تربیت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔ بقول گاندھی جی۔:
’’ہمیں ہتھیاروں کی ضرورت اس لئے محسوس ہوتی ہے کیوں کہ ہم اپنے آپ کو محض گوشت کا لوتھڑا سمجھتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ہندوستان اس بات کو پہنچانے کہ اس کی بھی روح ہے جو کبھی تباہ نہیں ہوسکتی او رجو تمام جسمانی کمزوریوں کے باوجود تمام دنیا کی جسمانی طاقت کا مقابلہ کرسکتی ہے ۔ ‘‘ (ایضاً، ص39)
عدم تشدد کا مقصد یہ ہے کہ غلط کام کرنے والے کو صحیح راستے پر لایا جائے اور پھر ایک نیا اور منصفانہ سماجی نظام قائم کرنے میں اس کی مدد کی جائے ، عدم تشدد کے ذریعے لڑی جانے والی جنگ کا خاتمہ آپس کی رضامندی پر ہوتا ہے، اس میں کسی پر حکم نہیں چلایا جاتا ہے اور نہ ہی مخالف کو کوئی ذلت اٹھانی پڑتی ہے۔
گاندھی جی نے بہت سے موقعوں پر ستیہ گرہ کی، جس میں ملک کے لاکھوں مردوں اور عورتوں نے حصہ لیا۔ ان کو قابو میں رکھنا اور اہنسا کے راستے پر چلانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ اس کے باوجود ان لوگوں نے جس طرح سے( گاندھی جی کے کہنے کے مطابق ) عمل کیا وہ ایک معجزہ ہی ہے۔
سچائی اور اہنسا پر مبنی ستیہ گرہ پر عمل کرنا ان معنوں میں ایک بالکل نیا تجربہ تھا کہ سماجی اور سیاسی نا انصافیوں کو دور کرنے کے لیے اتنے وسیع پیمانے پر اس وصول کو انسانی تاریخ میں پہلی باربروئے کار لایا گیا ۔ گاندھی جی کا کہنا تھا کہ : ۔
’’ ستیہ اور اہنسا دونوں کی مدد سے آپ دنیا کو اپنے قدموں میں جھکا سکتے ہیں ۔ ستیہ گرہ کا نچوڑ اس کے سوا کچھ نہیں کہ سیاسی وقومی زندگی میں سچائی اور شرافت کو داخل کیا جائے ۔‘‘۔(ایضاً، ص ۔45)
ایک ستیہ گرہی کو برائی اور برائی کرنے والے کے درمیان فرق کو کبھی بھولنا نہیں چاہیے ۔ ستیہ گرہی کو برائی کرنے والے کی ذات کے خلاف کوئی تلخی دل میں نہیں رکھنی چاہیے۔ ایک ستیہ گرہی ہمیشہ بدی پر نیکی سے ، غصے پر محبت سے ، جھوٹ پر سچائی سے اور ہنسا پر اہنسا سے غالب آنے کی کوشش کرے گا۔ گاندھی جی کا ہمارے لیے یہی پیغام تھا کہ دنیا کو بدی سے نجات دلانے کا اہنسا سے بہتر اور کوئی راستہ نہیں۔ گاندھی جی ساری عمر سچائی اور نیکی کی راہ پر چلتے رہے ، اسی کی وہ اپنے قوم کی تلقین کرتے رہے ۔
گاندھی جی نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے کام کرنے کے سبھی طریقے اور اصول ستیہ اور اہنسا کی کسوٹی پر کھرے اترنے چاہیے۔ وہ ہر ہندوستانی کو تن من دونوں سے صحت مند بنانا چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنا پیغام ہم ہندوستانیوں کو سونپا او ریہ ہدایت کی کہ ستیہ (صداقت ) کو اپنی منزل سمجھتے ہوئے ، اہنسا کے راستے پر چل کر ، انسانیت کو فروغ دیتے رہنا۔
گاندھی جی کے مطابق اہنسا انسانیت کا اولین تقاضا ہے جبکہ ہنسا حیوانیت کا ۔ وہ کہتے تھے کہ اگر ہندوستان تلوار کو اپنا اصول تسلیم کر لے تو اسے فوری جیت تو مل سکتی ہے ، لیکن تب ہندوستان کی عظمت میرے دل سے نکل جائے گی۔ میرے مذہب کی کوئی سیما نہیں ، میری محبت کسی جغرافیہ کی پابند نہیں ہے۔
گاندھی جی نے اپنی کتاب ’’ ہند سوراج‘‘ میں اپنے ہم وطنوں سے یہ سوال کیا تھا کہ:
’’ سیلف گورنمنٹ‘‘ اور ’’ہوم رول‘‘ سے تمہاری کیا مراد ہے؟ کیا تم چاہتے ہو کہ ملک کا نظام جیساہے ویسا ہی رہے مگر وہ انگریزوں کے ہاتھ میں نہ ہو بلکہ ہندوستانی سیاسی لیڈروں اور حاکموں کے ہاتھوں میں ہو؟ اگر ایسا ہے تو گو یا تمہاری خواہش یہ ہے کہ شیر کے پنجے سے چھوٹ جاؤ مگر شیر کی بہیمی خصلت اپنے اندر باقی رکھو، یا تم سوراج کا وہ مطلب سمجھتے ہو جو میں سمجھتا ہوں ۔ کہ ہندوستانی تہذیب کے سب سے اونچے نصب العین کو عملی جامہ پہنایا جائے ان لوگوں کے ہاتھوں جو انفرادی طور پر اپنے نفس پر قابو رکھتے ہیں اور اجتماعی طور پر ستیہ گرہ کے اصول اورطریقے کے مطابق عمل کرتے ہوں۔‘‘
بحوالہ: (گاندھی جی اور ان کے خیالات ، مرتبہ عبد الطیف اعظمی ، 1970، ص 47)
گاندھی جی کی زندگی اور تعلیمات نے ہمیں یہ پیغام دیا کہ کسی بھی شخص کے خلاف کوئی برائی یا دشمنی کا جذبہ نہیںہونا چاہیے۔ کسی کو بھی اپنا دشمن نہیں سمجھنا چاہیے۔ کسی شخص کے دل میں جو زہر ہے ہمیں اس کے خلاف لڑنا چاہیے اور اس کو ختم بھی کرنا چاہیے ۔ مختصر سے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اہنسا گاندھی جی کا سادھن تھا۔ سیوا کا کرم تھا۔ اہنسا کا دوسرا نام وہ پریم مارگ (محبت کا راستہ) دیا کرتے تھے۔ اور اسی عمل کی وہ ہندوستانیوں سے امید بھی کرتے تھے۔
اسی طرح گاندھی جی نے مذہب پر بھی زور دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ہرشخص دوسرے مذاہب کا اتنا ہی احترام کرے جتناوہ خود اپنے مذہب کا کرتا ہے۔ گاندھی جی ایک ہندو تھے، لیکن انہوں نے بڑی عقیدت کے ساتھ دوسرے مذاہب کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ عیسائیت کے بلند پایہ اخلاقی اصول اور اسلام کا مکمل برابری اور مساوات کا سبق ان کی زندگی کا حصہ بن گیا تھا۔ اسی طرح بدھ مت کی محبت ، نیکی اور امن کے پیغام نے بھی ان پر گہر اثر ڈالا تھا ۔ بار بار انہوں نے تمام مذاہب کی صداقت کا اعلان کیا ہے۔ اس تناظر میں یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
ــ’’ میں دنیا کے تمام بڑے مذاہب کی بنیادی سچائی کا معتقد ہوںمیں مانتا ہوں کہ یہ سب خدا کے دیئے ہوئے ہیں ۔اور ان لوگوں کے لئے ضروری تھے جن پر ان مذاہب کا نزول ہوا۔ میرایہ بھی عقیدہ ہے کہ اگر ہم مختلف مذاہب کی مقدس کتاب کو ان مذاہب کے پیرؤں کے نقطۂ نگاہ سے پڑھ سکیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ بنیادی طور پر یہ تمام مذاہب ایک ہی ہیں اور ایک دوسرے کے معاون ہیں۔‘‘
(مہاتما گاندھی کا پیغام ، مرتب ، یو۔ ایس ۔موہن راؤ، 1969، ص 70)
گاندھی جی لوگوں سے یہ اپیل کرتے تھے کہ وہ ہر مذہب کامطالعہ اس مذہب کے پیروؤں کے زاویہ نگاہ سے کریں۔ وہ کہتے تھے کہ مذاہب انسان کو انسان سے جد اکرنے کے لیے نہیں، بلکہ ان کو باہم ملانے کے لیے ہیں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ تمام مذاہب کے لوگ شانہ بشانہ کام کریں اور ان میں پورے طور پر رواداری ہو۔ میں کثرت میں وحدت دیکھنا چاہتا ہوں۔
گاندھی جی ہندو مسلم اتحا دکے زبردست حامی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر ہندو اور مسلمان امن و بھائی چارہ کے ساتھ زند گی گذارنا نہیں سیکھ لیتے تو اس ملک کا جسے ہم بھارت کے نام سے جانتے ہیں اس کا وجود ختم ہوجائے گا۔ انہیں اس بات کا احساس تھا کہ ہندوستان کو اس وقت تک آزادی نہیں مل سکتی جب تک کہ یہاں رہنے اور بسنے والے دو بڑے فرقے آپس میں مل جل کر رہنا نہیں سیکھ لیں ۔ اگر آزادی مل بھی گئی تو حقیقت میں وہ آزادی نہیں ہوگی، جس کے ہم سب خواہش مند ہیں۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو جس میں گاندھی جی کی ہندوستانیوں کے لیے فکردکھائی دے رہی ہے:
’’میری اپنے ہم وطنوں سے درخواست ہے کہ وہ فرقوں کے باہمی تعلقات کو درست کرنے اور سوارج حاصل کرنے کے لئے عدم تشدد کو مستقل عقیدے کے طور پر اختیار کرلیں۔‘‘(ایضاً 81)
مندرجہ بالا باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ گاندھی جی نے ذات ، مذہب، علاقائیت، رنگ و نسل اور لسانی سطح پر مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی ایک دیانت دارانہ کوشش کی تھی۔ قومی یکجہتی کا یہی نظریہ ان کی فکر کی بنیاد ہے ۔ جس پر وہ ایک خوشحال قوم کی تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ (یہ بھی پڑھیں بِلاعنوان! – محمد قاسم ٹانڈؔوی)
گاندھی جی نے تعلیم پر بہت ہی زور دیا ۔ ان کو یقین تھا کہ تعلیم ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے ہندوستانی سماج ترقی کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق سماج ایسا ہو جس میں سب مل کر رہ سکیں اور یہ کام تعلیم کے ذریعہ ہی ممکن تھا۔ انہوں نے محنت مزدوری کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے کے لیے تعلیم کو ایک بہت ہی اہم اوزار بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری تعلیم سماجی ضرورتوں کا آئینہ ہوتی ہے اس لیے تعلیم سماجی ضرورتوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ گاندھی جی کی عظیم شخصیت نے ہماری زندگی کے جن متعدد اور متنوع پہلوؤں کو متاثر کیا ہے ، ان میں سے ایک تعلیم بھی ہے، جہاں ان کے افکار و خیالات کی بدولت نمایاں نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ان کے تعلیمی تصورات کی تشکیل میں ان کا نظریۂ حیات پورے طور پر کار فرما نظرآتا ہے۔ یوںتو ہمیشہ انہیں اپنے سیاسی اور سماجی کاموں میں انسانی شعور کی بیداری کا خیال دامن گیر رہا، لیکن اپنی زندگی کے آخری دس گیارہ سال میں تو وہ ایک مدبر اور معمار قوم کی حیثیت سے بخوبی جان چکے تھے کہ نظریے کی درستی اور زندگی کی استواری میں سب سے زیادہ اہمیت تعلیم ہی رکھتی ہے۔
وہ ایسا نظام تعلیم چاہتے تھے جوہندوستان کو اپنی روح دریافت کرنے میں مدد پہنچائے اور حق و صداقت کی آواز بلند کرسکے ۔ گاندھی جی کی رائے میں تعلیم کا کام ہے کہ:
’’زندگی کے تمام گوشے روشن کرے، ان سب میں ہم آہنگی پیدا کرے اور انہیں اپنے نقطۂ عروج تک پہنچائے ۔‘‘ (ایضا، 57)
گاندھی جی عدم تشدد کے مبلغ اورپجاری تھے ۔ ان کا پیغام محبت تھا۔ اور شعار حق و صداقت کی جستجو۔ ان کے تعلیمی نظریات میں اسی ذہن کی کار فرمائی نظرآتی ہے۔ وہ سماج سیوا پر زور دیتے تھے اور خدمت خلق کو نجات کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
گاندھی جی ہمیں آگے چلنے کے راستے دکھا گئے ، کام بتا گئے، کام شروع کر گئے، مگر کام ختم کرکے نہیں گئے ، اب اس کام کو کرنا ہمارا فرض ہے۔ کاش! ہم سب یہ عزم کر سکیں کہ اس کام کو پورا کریں گے ، اپنی زندگیاں اس کام میںلگائیں گے، اس کے لیے زندگی وقف کر دیںگے ۔ ضرورت ہوگی تو اس کے لیتے مریں گے بھی۔
گاندھی جی کی زندگی اور تعلیمات ساری دنیا کے لیے ہیں ۔ وہ بنیادی طور پر ایک روحانی اور اخلاقی طاقت تھے، جس نے انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے۔ وہ مذہب، قوم یا نسل کے نام کوئی تفریق روانہ رکھتے تھے۔ وہ بین الاقوامیت میں گہرا یقین رکھتے تھے اور بنیادی طور سے تمام انسانوں اور قوموں کو ایک سمجھتے تھے۔
مندرجہ بالانظریے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ گاندھی جی نے تشدد کے بغیر ہندوستان کی آزادی میں ناقابل یقین کردار ادا کیا ۔انگریزوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا، ان کو ناکوں چنے چبوادیے اور کسی پرہاتھ بھی نہیں اٹھایا۔ ظلم و زیادتی برداشت کیں ، لیکن اپنے اصولوں پر قائم رہے ، آنے والی نسلوں کے لیے اپنے قدموں کے نشان چھوڑ گئے ، جو کا میابی کے کلید ہیں۔ یقینی طور پر موہن داس کرم چند گاندھی کی بڑی قربانی اور ناقابل فراموش کارنامہ ہیں ، جس نے گاندھی جی کو مہاتما کے لقب سے سرفراز کیا۔ اس میںہر ہندوستانی کے لیے یہ پیغام بھی پنہاں ہے کہ نفرت، تشدد و تعصب کے بغیر بھی اپنی منزل کو حاصل کیا جاسکتا ہے ۔
گاندھی جی کی تعلیمات سے ہمیں یہ روشنی ملتی ہے کہ صداقت اور حق پر ستی کے نور کو اپنے دلوں میں پیدا کی جائے۔ اس کی روشنی میں زندگی کے مسائل کو دیکھو اور جو کچھ دیکھو اسے دوسروں کو دکھاتے رہے ، یعنی صداقت کی روشنی کو پھیلاتے رہو اوریہی ان کا پیغام ہے ۔
ہر سانس سے درس امن دیا ہر جبر پہ داد الفت دی
قاتل کے بھی گو لب ہل نہ سکے آنکھوں سے دعائے رحمت دی
ہنسا کو اہنسا کا پیغام سنانے آیا تھا
نفرت کی ماری دنیا میں ایک پریم سندیسا لایا تھا
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

