درد و غم حیات کا درماں چلا گیا
وہ خضر غصر و عیسیٰ دوراں چلا گیا
ہندو چلا گیا نہ مسلاماں چلا گیا
انساں کی جستجو میں انساں چلا گیا
اب سنگ و خشت و خاک کے سر بلند ہیں
تاج وطن کا لعل درخشا ں چلا گیا
۲ اکتوبر ۱۸۶۹کو پیدا ہونے والے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی جتنی خدمات ہندوستان کو آزا د کرانے کرانے میں تھیں، اتنی ہے جدوجہد ـــــــ’’ہندوستانی زبان‘‘کی ترقی ،بقا، اشاعت و ترویج کے لئے بھی تھیں۔گاندھی جی نے ہندوستان کی قومی زبان کے بارے میں پوری وضاحت کے ساتھ مختلف موقعوں پر اپنے خیالات بیان کئے ہیں۔ان کے خیالات سیکڑوں صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔ان کے کچھ حصے منتخب کرکے تاریخ اوراصل حوالوں کے ساتھ پیش کرتی ہوں۔
اردو اور ناگری رسم الخط؛
’’ہر ایک پڑھے لکھے ہندوستانی کو اپنی بھاشا ،ہندو کو سنسکرت،مسلمان کو عربی،پارسی کو فارسی اور سب کو ہندی جاننی چاہیے۔کچھ ہندوئوں کو عربی اور کچھ مسلمانوں اور پارسیوں کو سنسکرت سیکھنی چاہیے۔اتر اور پچھم میں رہنے والے ہندوستانی کو تامل سیکھنی چاہیے مگر سارے ہندوستان کے لیے تو ہندی ہے ہونی چاہیے۔اسے اردو میں لکھا جائے یا ناگری میں۔ہندو اور مسلمانوں کے وچاروں کو ٹھیک رکھنے کے لیے بہت سے ہندوستانیوںکے لیے دونوں لکھاوٹوں کا جاننا ضروری ہے۔ایسا ہونے پر ہم آپس کے بیوہار میں سے انگریزی کو نکال کرباہر کر سکیں گے۔‘‘
(ہند سوراج،۱۹۰۹)
سرکاری زبان؛
’’ایک خاص میعاد کے اندر صوبے کی عدالتوں اور اسمبلیوں کا کام کاج اُس صوبے کی بھاشا میں جاری ہونا چاہیے۔اپیل کی آخری عدالت کی زبان ہندوستانی قرار دی جائے۔لکھاوٹ چاہے دیوناگری ہو یا فارسی،مرکزی سرکاری اور بڑی اسیمبلیوں کی بھاشا بھی ہندوستانی ہو،راشٹریے راج بیوہار کی بھاشا انگریزی رہے۔‘‘
(ہندی نوجیون،۲۲دسمبر ۱۹۲۴)
ہندو اُردو اور مسلمان ہندی سیکھیں؛
گاندھی جی کا ماننا تھا کہ ہندو اور مسلمان اگر ایک دوسرے کے قریب آنا چاہتے ہیں تو دونو ں کو ہی اردو اور ہندی سیکھنے کی ضرورت ہے اپنے بیان میں فرماتے ہیں؛
’’اسے پھر یہاں دہرائے بنا نہیں رہ سکتا کہ اگرہندو اپنے بھائیوں کے نزدیک آنا چاہتا ہے تو انہیں اردو پڑھنی چائیے اور ہندو بھائیوں کے نزدیک آنے کی خواہش رکھنے والے مسلمانوں کو بھی ہندی ضرور سیکھ لینی چاہیے۔ہندو اور مسلمان کی سچی ایکتا میں جن کا وشواس ہے،وہ باہمی نفرت کے ان خوفناک نظاروں کو دیکھ کر پریشان نہ ہوں،اگر ان کا وشواس سچا ہے تو وہ جہاں جہاں ممکن ہوگا،وہاں وہاں موقع ملنے پر ضرور ان کورواداری ،پریم اور ایک دوسرے کے لیے انسانیت کے کام کرنے پر ابھارے گا اور دوسرے کی بھاشا سیکھنا تواس راستے میں سب سے پہلی بات ہے۔کیا ہندوؤں کے لیے اچھا نہیں کہ وہ بھکتی بھرے دل والے مسلمانوں کی لکھی ہوئی مستند کتابوں کو پڑھیں اور یہ جانیں کہ وہ قرآن اور پیغمبر صاحب کے بارے میں کیا لکھتے ہیں ۔ اسی طرح کیا مسلمانوں کے لیے بھی یہ اچھانہیں کہ بڑے بڑے ہندوبھکتوں کی لکھی دھارمک کتابوں کو پڑھ کر یہ جان لیں کہ گیتا اور شری کرشن کے بارے میں ہندوئوں کا کیا خیال ہے۔بجائے اس کے دونوں گروہ اُن تمام خراب باتوں کو جانیں جو ایک دوسرے کی دھارمک کتابوں اور ان کے بدلے جانے کے بارے میں جاہلوں اور توڑمروڑکر بات کرنے والوں کی زبانی کہی جائے۔‘‘
(نوجیون،۲۱جولائی،۱۹۲۷)
اس طرح گاندھی جی کا ماننا تھا کہ ہندوستانی زبان ہندی + اردو =ہندوستانی کا ایسا سنگم ہے جوگنگا جمنا اور سرسوتی سے بھی بڑا ہے۔مشرق کے لوگ جب مغرب میں جائیں تو اپنی بات دوسروں تک پہنچانے میں آسانی ہو اور جب مغرب کے لوگ مشرق میں جائیں تو ان کو بھی اپنی بات رکھنے میں آسانی ہو۔
اردو اور ہندی سے محبت اور اس کو ہندوستانی زبان کا درجہ دلانا ،میں یہ سمجھتی ہوں کہ گاندھی جی کو اردو سے لگائو اور محبت کا رشتہ افریقہ میں رہنے کے دوران سے ہی تھا جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے ۲۳ سال گزارے ۔۱۹۱۵میں جنوبی افریقہ سے ہندوستان واپس آنے کے بعد گاندھی جی نے کانگریس کے جلسوں میں شرکت کرنی شروع کردی۔اُن کا سامنا بہت سے اردوبولنے والوں سے ہوا،اردو اور ہندی کے رشتے ان کے ہندوستان لوٹنے سے پہلے ہی کڑوے ہو چکے تھے ۔گاندھی جی کوئی زبان کے سائنسدان نہیں تھے لیکن پھر بھی وہ ہندوستانی زبان کے بارے میں سوچنے لگے تھے ۔ہندوستانی سے گاندھی جی کا مطلب اُس زبان سے تھا جس میںہندی اور اردو کے بہت سے الفاظ شامل ہیں،ہندی میں سنسکرت ،پراکرت ،اپبھرنش الفاظوں کے ساتھ بہت سی بولیوں اور محاوروںکے ساتھ اردو ،فارسی ،ترکی،انگریزی کے الفاظ بھی شامل ہیں پر وہ دیوناگری میں لکھی جاتی ہے ،اردو میں فارسی ،عربی،محاورے شامل ہیں ،چاہے اس میں ہندی، سنسکرت کے بہت سے الفاظ شامل ہیں پر وہ فارسی میں لکھی جاتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں گاندھی جی ،اعظم گڑھ اورقومی بیداری – ڈاکٹر عمیر منظر )
مہاتما گاندھی کے ایسے سوچنے کی وجہ یہ تھی کہ ہندی اور اردو بول چال میں ایک جیسی ہی ہیں ،فرق صرف اتنا ہے کہ ہندی والے سنسکرت کی چھونک لگا دیتے ہیں اور اردو والے اپنی زبان میں فارسی ،عربی الفاظوں کا تڑکا لگا دیتے ہیں جب کہ دونوں کھڑی بولی بولتے ہیں۔۔
ہندوستانی یا اُردو،ہندی؛
گاندھی جی نے ہندوستان اور اردو پر اپنے خیالات کا کھُل کر اس طرح سے اظہار کیا ہے؛
’’میں نے اپنے دل میں کہا گجراتی ماتر بھاشا ہے پر وہ راشٹر بھاشا نہیں ہو سکتی ۔دیش میں تیسویں حصے سے زیادہ آبادی گجراتی بولنے والی ہے،اس میں مجھے تلسی داس کی ’رامائن‘ کہاں ملے گی۔تو کیا مراٹھی ماتر بھاشا ہو سکتی ہے ،مراٹھا زبان سے مجھے پیار ہے ،مراٹھی بولنے والے لوگوںمیں میرے ساتھ کام کرنے والے پکے اور سچے ساتھی ہیں ۔مہاراشٹریوں کی قابلیت،اتم بلیدان کی ان کی شکستی اور لیاقت کامیں قائل ہوں تو بھی جس مراٹھی بھاشا کو لوک ماننے تلک نے بے مثل طریقے سے استعمال کیا ہے اسے راشٹر بھاشا بنانے کی خواہش میرے دل میں پیدا نہیں ہوئی۔جس وقت اس سوال پر میں اپنے دل میں دلیلیں کر رہا تھا ،میں آپ کوبتائوں کہ اس وقت بھی مجھے خود بہ خود یہ معلوم ہوا تھا کہ ماتر بھاشا کی جگہ ایک ہندی ہی لے سکتی ہے ،دوسری زبان نہیں ۔کیا میں نے بنگلا کی تعریف نہیں کی ؟میں نے کی ہے اوررام موہن رائے،رام کرشن ،وویکانند کی ماتر بھاشا ہونے کی وجہ سے میں نے اسے عزت کی نظر سے دیکھا ہے پھر بھی مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنگلا کو انترصوبائی ویوہار کی بھاشا نہیں بنا سکتے تو کیا جنوبی افریقہ کی کوئی بھاشا بن سکتی ہے ۔ یہ بات نہیں کہ میں ان بھاشاؤں سے بالکل ہی انجان تھاپر تامل یا دوسری کوئی ہندوستان کی راشٹر بھاشا کیسے ہو سکتی ہیں ؟تب ہندی زبان بعد کو جسے ہم ہندوستانی یا اُردو بھی کہنے لگے ہیں اور جو ناگری اوراردو لکھاوٹ میں لکھی جاتی ہے،وہی ہماری زبان ہو سکتی ہے اور ہے۔‘‘
(ہری جن سیوک،۱۳اپریل۱۹۳۷)
۱۵ اگست ۱۹۴۷کو اپنے مطبوعہ مضمون میں گاندھی جی نے قومی زبان کے بارے میں لکھا تھا؛
’’لاکھوں ہندوستانی جو گاؤں میں رہتے ہیں ،ا ن کو کتابوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ،وہ ہندوستانی بولتے ہیں ،جسے مسلم اردو میں اور لکھتے ہیں اور ہندو اُردو یا ناگری میں لکھتے ہیں ۔اس لئے ہمارا اور آپ کا یہ فرض ہے کہ دونوں ہی لپیاں سیکھیں ۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں بِلاعنوان! – محمد قاسم ٹانڈؔوی )
تو اس طرح گاندھی جی کے خیالات پر اگر ہم نظرڈالیں تو معلوم ہوتاہے کہ گاندھی جی ہندوستان کو ہندوستانی زبان دینا چاہتے تھے اور اس بات سے اچھی طرح واقف ہوچکے تھے کہ قومی یکجہتی کا تانا بانا صرف اور صرف ہندوستانی زبان کے فائدے میں ہے۔آج کچھ لوگ ایسے بھی ہونگے جو صرف اردو یا صرف ہندی کا خواب دیکھتے ہیں ،میرا خیال ہے کہ یہ صرف ایک خواب ہوگا ،ایک نامبارک خواب ۔اسلام کا اپنا کلچر ہے اور ہندو مت کااپنا ۔مستقبل کا ہندوستان ان دونوں کی مکمل اور خوشگوار ملاوٹ کا نمونہ ہوگا۔جب وہ دن آئے گا تو سا جھی زبان ہندوستانی ہوگی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] متفرقات […]