ہندوستانی سیاست کی تاریخ گاندھی جی کے بغیر مکمل نہیں گردانی جا سکتی۔ جنگ آزادی اور آزادی کی تاریخ ان کے بغیر نہیں لکھی جا سکتی۔ انھوں نے بیک وقت کتنے اہم کارنامے انجام دیے۔ گاندھی جی از اول تا آخر ہندوستانی رہے۔ انھوں نے لوگوں کو مذہب کی عینک سے نہیں، بلکہ ہندوستانی سپوت کے طور پر دیکھا۔ گاندھی جی کے متعلق پڑھتے ہوئے اس بات کا بار بار احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے جو کام کیا صدق دل سے کیا، اسی لیے بڑے بڑے کام انھوں نے بڑی آسانی سے کیے۔ تشدد کے بغیر کس طرح سے بڑے سے بڑا کام انجام دیا جا سکتا ہے، یہ درس گاندھی جی ہی نے دنیا کو دیا۔ آج دنیا ان کو اس عظیم کارنامے کی وجہ سے یاد کرتی ہے۔
گاندھی جی ہندوستانیوں کو کسی طرح بھی الگ الگ خیمے میں بنٹتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ اس کے بر عکس انگریز کسی بھی صورت میں ہندوستانیوں کو بانٹنے کے لیے کوشاں تھے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ بانٹ کر ہی وہ اپنی حکمرانی بر قرار رکھ سکتے تھے۔ اس لیے گاندھی جی اور ان کے رفقا نے ہندوستانیوں کو کسی بھی طرح سے الگ نہیں ہونے دینا چاہ رہے تھے۔ اس تعلق سے گاندھی جی کی تقریریں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ پیغام میں مولانا ابو الکلام آزاد نے اس تعلق سے بہت کچھ لکھا ہے۔ گاندھی جی کی دیگر کتابیں اسی ہندوستانیت کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ زبا ن کے تعلق سے جب بات ہوئی تو گاندھی جی نے جس مصلحت کا ثبوت دیا، وہ کسی سے مخفی نہیں رہا۔ ’ہندوستانی‘اسی مصلحت کا دیا ہوا نام ہے۔ جہاں مقصد صرف اتحاد کا تھا۔ اس سلسلے میں اختلاف بہر حال کیا جا سکتا ہے، لیکن اس وقت وہی زیادہ مناسب تھا، جو گاندھی جی نے کیا تھا۔ ہندی اور اردو سیاسی موضوع بن گیا تھا۔ اسی میں لوگوں کے مذہب تلاش کیے جانے لگے تھے، گو کہ وہ سلسلہ اب بھی برقرار ہے، لیکن اس شدت نے بہت نرمی اختیار کر لی ہے۔
گاندھی جی کی بیشتر تحریروں اور تقریروں کے مطالعے سے اس بات کا خاطر خواہ اندازہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وہ ’ہندوستانی‘کے نام پر ہندی کی موافقت میں ہی اپنی بات رکھتے رہے۔ ظاہر ہے کہ اس حوالے سے بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے، اور لکھا بھی گیاہے۔ زبان سے متعلق گاندھی جی نے جو کچھ لکھایا اس موضوع پر انھوں نے جو تقریریں کی ہیں، اس کو عشرت علی صدیقی نے’گاندھی جی اور زبان کا مسئلہ‘کے عنوان سے ترجمہ کیا ہے، جسے اتر پردیش اردو اکاڈمی، لکھنؤ نے ۱۹۸۰ میں شائع کیا ۔ اس مضمون کو ترتیب دینے میں راقم کے پیش نظر یہی کتاب ہے۔
زبان کے معاملے میں گاندھی جی کا ماننا تھا کہ گجراتی بنگالی سیکھیں، بنگالی گجراتی سیکھیں۔ اسی طرح سے مسلم ہندی اور ہندو اردو سیکھیں۔اور بھی دوسری زبان کو لیکر گاندھی جی کے یہی خیالات تھیـ؛ تاکہ پورا ہندوستان تہذیبی اور تمدنی اعتبار سے ایک دوسرے سے قریب آ سکے۔ لیکن یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ گجراتی ، بنگالی، تمل اور اسی طرح سے دوسری زبان کو سیکھنے کے لیے انھوں نے کسی مذہب کی قید نہیں لگائی، لیکن ہندی اور اردو کے معاملے میں انھوں نے قید لگائی کہ مسلم کو ہندی اور ہندو کو اردوسیکھنی چاہیے۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ گاندھی جی کے پیش نظر ہندی اور اردو زبان کے ساتھ ساتھ براہ راست اس کا تعلق مذہب سے بھی ہے۔ ان کے اس جملے سے اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ گاندھی جی نے جہاں ہر حال میں ہندوستانیوں کومتحد کرنا چاہ رہے تھے، وہیں انھوں نے اس طرح کے خیالات کا بھی اظہار کیا۔ گاندھی جی نے کس طرح سے ہندی کی حمایت کی ہے، خود انھیں کے خیالات ملاحظہ فرمائیں:
’’ہر ایک پڑھے لکھے ہندستانی کو اپنی زبان کا،ہندو کو سنسکرت، مسلمان کو عربی کا، پارسی کو فارسی کا، اور سب کو ہندی کا گیان ہونا چاہیے۔ کچھ ہندوؤں کو عربی اور کچھ مسلمانوں کو پارسیوں کو سنسکرت سیکھنی چاہیے۔ اتر اور پچھم میں رہنے والے ہندوستانیوں کو تامل سیکھنی چاہیے۔سارے ہندوستان کے لیے تو ہندی ہی ہونی چاہیے۔ اسے اردو یا ناگری لکھاوٹ میں لکھنے کی چھوٹ دینی چاہیے۔ ‘‘ (یہ بھی پڑھیں گاندھی جی اور ان کا لسانی نظریہ – سیدہ مریم الٰہی )
(گاندھی جی اور زبان کا مسئلہ۔مترجم، عشرت علی صدیقی۔ اتر پردیش اردو کاڈمی، لکھنؤ۔۱۹۸۰ص، ۱۳)
مندرجہ بالا اقتباس میں ایک جملہ قابلِ غور ہے۔’سارے ہندوستان کے لیے تو ہندی ہی ہونی چاہیے۔ اسے اردو یا ناگری لکھاوٹ میں لکھنے کی چھوٹ دینی چاہیے۔‘کیا دو رسم الخط میں کسی ایک زبان کاہونا ممکن ہو سکے گا۔ مسئلہ رسم الخط کا زبان کے شناخت کے طور پر سب سے اہم ہے۔ ورنہ زبان تو ایک بیانیہ ہے۔ ہم جو بولتے ہیں رسم الخط اس کا عکس ہوتی ہے۔ اگر ہم نے ایک زبان کے لیے دو رسم الخط اختیار کیا تو کیا ہماری زبان کا وجود باقی رہے گا۔ دنیا کی دوسری زبانوں کے تعلق سے جب پڑھتے ہیں تو اس بات کا احساس بالکل واضح طور پر ہوتا ہے کہ وہاں کی حکومتیں کس طرح سے اپنی زبان کے تحفظ کے لیے پیسے خرچ کرتی ہیں۔ ایک سامنے کی مثال لے لیں کہ جرمن زبان کے بارے میں یہ کب سے کہا جارا ہے کہ یہ زبان مر جائے گی، لیکن وہاں کی حکومت اور عوام نے نہ صرف یہ کہ بول چال کی حد تک اسے باقی رکھا، بلکہ رسم الخط کے طور پر بھی اسے دنیا کے سامنے اس طرح سے پیش کیا کہ وہ آج دنیا کی مختلف جامعات میں کورس کا حصہ ہیں۔
ہندی اور اردو بول چال کی حد تک تو ایک معلوم ہوتی ہیں، لیکن ان کا اصل فرق رسم الخط کے ساتھ واضح ہوتا ہے۔ اس متعلق گاندھی جی کا ایک خیال اور ملاحظہ فرمائیں:
’’میں ہندی اس زبان کو کہتا ہوں جو اتر کے ہندو اور مسلمان بولتے ہیں اور جسے یا تو دیو ناگری میں اور یا اردو لکھاوٹ میںلکھا جا تا ہے۔ اس تشریح پر کچھ اعتراض بھی کیے گئے ہیں۔
ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہندی اور اردو دو الگ الگ زبانیں ہیں۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ اتری ہندوستان میں ہندو اور مسلمان دونوں ایک ہی زبان بولتے ہیں ان زبانوں میں فرق پڑھے لکھے لوگوں نے پیدا کیاہے۔ پڑھے لکھے ہندو اپنی ہندی میں سنسکرت ملا دیتے ہیںجس کی وجہ سے مسلمان اسے سمجھ نہیں پاتے اسی طرح لکھنؤ کے مسلمان اپنی اردو میں فارسی ملا دیتے ہیں۔ اور اسے ہندو کے سمجھنے کے لائق نہیں رکھتے۔‘‘
(ایضاً۔ ص، ۱۵-۱۶)
گاندھی جی کا یہ مضمون گجراتی زبان میں لکھا گیا تھا۔ اس مضمون کو انھوں نے۲۰/اکتوبر۱۹۱۷کو دوسری گجرات تعلیمی کانفرنس میں بطور صدارتی خطبہ پڑھا تھا۔ اس میں انھوں نے گجراتی زبان کی فلاح و بہبود کے لیے کئی اہم نکات پیش کیے۔ لیکن اسی کے ساتھ گاندھی جی کا یہ کہنا کہ یہ دونوں زبانیں(ہندی اور اردو) ایک ہیں کسی بھی طور مناسب نہیں۔ اس بات پر غور کریں کہ اس وقت کیا مسلمان سنسکرت سے اس طرح سے ناواقف تھے کہ وہ پڑھے لکھے ہندوؤں کی زبان محض اس لیے نہیں سمجھ سکتے تھے کہ اس میں کچھ الفاظ سنسکرت کے ہیں، یہ بات کسی بھی طرح سے قابل قبول نہیں معلوم ہوتی۔ اس کے بر عکس مسلمان وہ بھی خالص لکھنؤ کے مسلمان اپنی زبان میں چند عربی و فارسی کے الفاظ ملا دیتے تھے، جو ہندوؤں کی سمجھ سے بالا ہو جاتی تھی، ایسا اس لیے منا سب نہیں معلوم ہوتا ہے کہ اردو زبان وادب کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہندو فارسی زبان و ادب میں مکمل دسترس رکھتے تھے۔ اس حوالے سے ان کے کام کسی سے بھی مخفی نہیں۔
ہندی اور اردو کے مسئلے پر گاندھی جی کا نظریہ واضح طور پر(اکھل بھارتیہ ساہتیہ پریشدکے دوسرے اجلاس میں جو ۱۹۳۷ میں مدراس میں منعقد کیا گیا تھا۔) ان (گاندھی جی) کے صدارتی خطبے میں بہت کچھ واضح طور سامنے آگیا تھا۔ اس صدارتی خطبے کا ایک حصہ ملاحظہ فرمائیں۔
’’کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ہم بھی یورپ کی رومن لکھاوٹ کو اپنا لیں، لیکن پھر بحث مباحثے کے بعد یہ رائے بن چکی ہے کہ ہماری مشترکہ لکھاوٹ دیو ناگری ہی ہو سکتی ہے اور کوئی نہیں۔ اردو کو اس کا رقیب بتایا جاتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اردو یا رومن کسی میں بھی دیسی کا ملیت اور صوتی (آوازپیدا کرنے والی) صلاحیت نہیں ہے جیسی دیوناگری میں ہے۔ یاد رکھیے کہ آپ کی مادری زبانوں کے خلاف میں کچھ نہیں کہہ رہاہوں۔ تامل، تیلگو، ملیالم، کنڑ تو ضرور رہنی چاہیے اور رہے گئی۔ لیکن ان صوبوں میں ان پڑھ لوگوں کو ان زبانوں کے ادب کی تعلیم دیوناگری لکھاوٹ کے ذریعہ کیوں نہ دیں؟ہم قومی ایکتا حاصل کرنا چاہتے ہیںاس کی خاطردیوناگری کو مشترکہ لکھاوٹ مان لینا چاہیے۔‘‘ (ایضاً۔ص، ۶۲)
مندرجہ بالا اقتباس سے واضح طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ گاندھی جی مادری زبان کے طور پر یقینا آزادانہ گفتگو کی ہے، لیکن قومی زبان کے سلسلے میں ان کی رائے بالکل واضح ہے کہ وہ دیو ناگری رسم الخط پر زور دیتے ہیں۔ ’ہندوستانی‘کے نام پر گاندھی جی نے بہت واضح طورپر یہ بات کہی ہے کہ مشترکہ لکھاوٹ جسے’ہندوستانی‘کا نام دیا گیا، لیکن اس کے پس پشت دیو ناگری رسم الخط کی تائید کی ہے۔ ہندوستانی کی تائید کئی اہم لوگوں نے کی ہے، جس میں سید سلیمان ندوی کا نام بطور خاص پیش کیا جا سکتا ہے۔ مشترکہ لکھاوٹ میں ایک سوال یہ ضرور قائم ہوگا کہ دنیا کی وہ کون سی زبان ہے، جس کے دو رسم الخط ہوتے ہوئے دونوں کو اولیت حاصل ہو؟ اس کی واحد مثال بھی نہیں پیش کی جا سکتی۔کیوں کہ زبان سیکھنے والا کسی ایک ہی رسم الخط کو سیکھے گا۔ایسے اور اس طرح کے بہت سے سوالات ہیں، جو ذہن میں بار بار ابھرتے ہیں۔ کیوں کہ رسم الخط کو مذہب سے جوڑ کر دیکھا گیا، ایسے یہ زبان سے زیادہ مذہبی مسئلہ بن جائے گا۔ گاندھی جی نے اس سلسلے میں جو گفتگو کی ہے، وہ یقیناً مایوس کن ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب نظریۂ ہندوستانی کتابوں کی زینت بن گیا، عام و خاص استعمال میں اس لفظ کی حیثیت محض تاریخی ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ (یہ بھی پڑھیں گاندھی جی اور ان کے پیغامات – ڈاکٹر نازیہ ممتاز )
گاندھی جی کا ایک مراسلہ’ہریجن ۱۶/مئی ۱۹۳۶‘میں شائع ہوا تھا، جس میں انھوں نے صاف طور پر لکھا ہے کہ انھوںنے دیوناگری کی ایک تحریک سے خود کو وابستہ کرلیا ہے۔ اس سلسلے کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’…..اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ دیو ناگری کی ایک تحریک سے میں نے اپنے آپ کو پورے طور پر وابستہ کر دیاہے اور وہ تحریک یہ ہے کہ اسے مختلف صوبوں میں بولی جانے والی تمام زبانوں کی، خاص کر ان زبانوں کی جن کے لغت میں سنسکرت لفظ زیادہ ہیں، مشترکہ لکھاوٹ بنا دیا جائے، بہ ہر حال اس بات کی کوشش ہو رہی ہے کہ ہندوستان کی تمام زبانوں کے بیش بہا ذخیروں کو دیو ناگری لکھاوٹ میں منتقل کر لیا جائے۔‘‘(ایضاً۔ص،۷۵)
گاندھی جی قول کے مطابق وہ مشترکہ لکھاوٹ کی اہمیت سے لوگوں کو آشنا کر رہے ہیں، لیکن ان کے کسی بھی جملے سے اس بات کی وضاحت نہیں ہو رہی ہے کہ وہ مشترکہ لکھاوٹ کے حامی ہیں۔ انھوں نے خود کو دیوناگری کی ایک تحریک سے جب وابستہ کر لیا تو ایسے میں اس کا امکان کہاں رہ جاتا ہے کہ جس تحریک سے وابستہ ہوئے ہیں،عملاً اس کے برعکس ہوں۔ اس تعلق سے بہت سے حوالے دیے جا سکتے ہیں کہ گاندھی جی نے مشترکہ لکھاوٹ یاہندوستانی کے نام پر دیو ناگری کی تائید کرتے رہے۔ ایسے میں مشترکہ ہندوستانی تہذیب وتمدن کا خواب تو دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اس خواب کو شرمندۂ تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا نہیں ہے کہ گاندھی جی کی اس سلسلے میں مخالفت نہیں ہوئی ہے۔ لوگوں نے مراسلے کے ذریعے اس نظریے کی خوب مخالفت کی ہے۔ جس کا گاندھی جی نے جواب بھی دیا، لیکن ظاہر ہے کہ وہ جواب محض جواب ہی کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس جواب میں یقین جیسی بات مفقود ہے۔
گاندھی جی اردو ہندی کے پیچیدہ مسئلہ سے نہ صرف واقف تھے، بلکہ اردو اور ہندی کے اہم نثر نگار وشاعر سے اچھی طرح واقف بھی تھے۔ اس ایک مثال ملاحظہ ہو:
’’۱۹۳۵ میں جب میں دوبارہ سمیلن کا صدر بنا تو میں نے’ ہندی‘ لفظ کی یہ تشریح کرالی کہ ہندی وہ زبان ہے جسے ہندو اور مسلمان دونوں بولتے ہیں اور جو دیو ناگری یا اردو لکھاوٹ میں لکھی جاتی ہے۔ ایسا کرنے میں میرا مقصد یہ تھا کہ میں ہندی میں مولانا شبلی کی سلیس اردو اور بابو شیام سندر داس کی سلیس ہندی دونوں کو شامل کر دوں۔‘‘ (ایضاً۔ص، ۹۰)
مندرجہ بالا گاندھی جی کے خیالات سے اس بات کی وضاحت صاف ہو جاتی ہے کہ انھیں مولانا شبلی اور بابو شیام سندر داس کے انداز تحریر اور رسم الخط کے ما بین جو واضح فرق تھا، اس سے گاندھی جی بخوبی واقف تھے۔ گاندھی جی بار بار یہ بات کہتے ہیں کہ ہندی سے مراد وہ زبان ہے، جو دونوں رسم الخط میں لکھی جائے، اس سے مراد ایک ہی ز بان ہے۔ لیکن پھر یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ اگر گاندھی جی ان دونوں رسم الخط سے ایک زبان مراد لیتے ہیں تو دیو ناگری کی تشہیر کے ساتھ ساتھ اس کی حمایت بھی واضح انداز میں کیوںکرتے ہیں؟ شاید یہی وجہ ہے کہ اس وقت بھی لوگوں نے ان کے اس نظریے پر شک کا اظہار کیا تھا۔
گاندھی جی نے زبان کے مسئلے پر مشن کے طورپر کام کیا۔قومی زبان بنانے کے لیے انھوں نے دیو ناگری کی کھل کر حمایت کی۔ اس کی ایک مثال ان کی وہ تقریرہے، جو انھوں نے ’راشٹر بھاشا پرچار سمیتی کے ٹیچرس ٹریننگ اسکول وردھا ٹریننگ پانے والوں کے سامنے ۲۴/ستمبر ۱۹۳۹ میں کی تھی۔ اس تقریر کا ایک حصہ ملاحظہ فرمائیں:
’’راشٹر بھاشا ابھی بنی نہیں ہے۔ ابھی تو اس کا جنم ہی ہوا ہے۔ ہندی میں ابھی تک ایسی کافی کتابیں نہیں ملتیں جن کے ذریعہ سائنس وغیرہ جیسے مضمونوں کو پڑھایا جا سکے۔ ہاں بنگلا اور اردو میں کچھ ایسی کتابیں تیار ہوئی ہیں۔ لیکن بنگلا سے بھی زیادہ ترقی اردو زبان نے کی ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی نے سب سے زیادہ کام کیا ہے۔ ان لوگوں نے اس کام پر لاکھوں روپیہ خرچ بھی کیا ہے۔ ان کے یہاں اونچے سے اونچے درجوں میں سائنس جیسے مشکل مضمونوں کی بھی تعلیم اردو کی معرفت دی جاتی ہے۔ ہندی میں ابھی ایسا نہیں ہوا ہے۔‘‘(ایضاً۔ص، ۱۱۱)
مندرجہ بالا جملوں پر غور کریں صاف معلوم ہوتا ہے کہ گاندھی جی نے اردو ہندی کو الگ الگ خانے میں رکھا۔ انھوں نے بھی پس پردہ دونوں کو الگ الگ زبان مانااور سمجھا۔ اس کا اندازہ مندرجہ بالا جملوں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
گاندھی جی نے ہندی ہندوستانی کی جو بات کی تھی، اس کے پیچھے ایک مقصد یہ بھی کار فرما تھا کہ کہیں لوگوں کے دباؤ میں انگریزی قومی زبان کا درجہ نہ حاصل کرلے۔ انگریزی زبان و ادب کی اہمیت سے انھوں نے انکار نہیں کیا، لیکن انھیں یہ منظور نہیں تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں ہماری قومی زبان بنے۔ اس سلسلے میں ان کے خیالات ملاحظہ ہوں:
’’…..کچھ لوگوں میں دوسری غلط فہمی یہ دیکھی کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہندی کو انگریزی زبان کی حیثیت دینا چاہتے ہیں۔ کچھ تو یہاں تک سمجھتے ہیں کہ انگریزی ہی قومی زبان بن سکتی ہے اور بن بھی گئی ہے۔
اگر ہندی انگریزی کی جگہ لے تو کم سے کم مجھے تو اچھا ہی لگے گا لیکن انگریزی زبان کی اہمیت کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ آج کل کے علم کو حاصل کرنے، آج کل کے ادب کے مطالعے، ساری دنیا کی جانکاری، روپے پیسے کی کمائی، سرکاری افسروں کے ساتھ تعلق رکھنے اور ایسے ہی دوسرے کاموں کے لیے ہمیں انگریزی کے علم کی ضرورت ہے۔ خواہش نہ رکھتے ہوئے بھی ہم کو انگریزی پڑھنی ہوگی۔ یہی ہو بھی رہا ہے۔ انگریزی بین الاقوامی زبان ہے۔
لیکن انگریزی قومی زبان کبھی نہیں بن سکتی۔‘‘ (ایضاً۔ص،۵۵)
گاندھی جی نے ہندوستان اور ہندوستانیت کا جو خواب دیکھا تھا، اسے کسی بھی طرح سے خلط ملط نہیں ہونے دیناچاہ رہے تھے۔ چونکہ زبان سب سے بڑا ذریعہ ہے، اپنے خیالات کے اظہار کے لیے۔ ایسے میں قومی زبان کے طور پر انگریزی کو قبول کرلیا گیا ہوتا تو تہذیبی اور تمدنی اعتبار سے یقینا ہندوستان کمزور ہوگیا ہوتا، جب کہ دنیا بھر میں یہ ملک اپنے اسی تہذیبی رویے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ انگریزی زبان کو قومی زبان بنانے کے اپنے کچھ فائدہ بھی ہوتے، لیکن گاندھی جی نے اپنی میراث کو سب فائدوں سے اوپر رکھا۔ اسے یقینا ان کے جذبات سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔
ہندی اور اردو کا مسئلہ صرف زبان کی حد تک ہی نہیں تھا، بلکہ اسے سیاسی، سماجی اور مذہبی تناظر میں بھی دیکھا گیا۔ جس کی وجہ سے نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ جس ملک میں اتنی ساری زبانیں بولی جاتی ہیں، اس کے باوجود لوگ ایک دوسرے سے قریب ہیں تو کیا ضرورت تھی کہ اردو پر کسی دوسرے رسم الخط(دیو ناگری)کو ترجیح دی جائے۔ جب کہ اس وقت اردو زبان کئی اعتبار سے ہندی سے بہت آگے تھی، جس کاذکر پچھلے صفحہ میں کیا جا چکا ہے۔
ہریجن سیوک ۱۴/جولائی ۱۹۴۶میں گاندھی جی کا ایک مضمون شائع ہوا تھا، جس میں انھوں نے بھائی رام نریش ترپاٹھی کے ایک خط کا کچھ حصہ بھی شائع کیا ہے، جس کے جملوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بھائی رام نریش ترپاٹھی اردو کو ہندی کے مقابلے میں زیادہ بہتر تصور کرتے ہیں انھوں نے لکھا ہے:
’’میں نے اس دن کہا تھاکہ اردو ہندی سے زیادہ صاف ستھری ہے۔ اس کی ایک مثال لکھتا ہوں۔ ہندی کے ایک مشہور لیکھک کا یہ جملہ ہے:’’سمجھ میں نہ آنے سے گھبراہٹ سی لگنے لگتی ہے۔‘‘ اردو میں گھبراہٹ ’’لگتی‘‘نہیں ’’ہوتی ‘‘ہے یا پیدا ہوتی ہے۔ اردو کا کوئی مشہور لیکھک کبھی غلط محاورہ نہیں لکھے گا۔ اور اگر لکھ دے گا تو اس کو زبر دست مورچہ لینا پڑے گا۔ ہندی میں بھاشا کو سدھارنے کی کوئی تحریک ہی نہیں ہے۔ دراصل کوئی تحریک شروع کرنے کے بجائے اردو زبان کی کتابیں یا مضمون ہندی حرفوںمیں چھپنے لگیں تو ہندی زبان کا بہت زیادہ بھلا ہوگا۔ اردو زبان کے سدھارنے اور سنوارنے میں اردو کے شاعروں اور لیکھکوں نے پچھلے کئی برسوں میں جو ہاتھا پائی کی ہے اس کا فائدہ ہندی بھاشا کو آسانی سے مل جائے گا۔ اور اس استعمال سے وہ آپ سے آپ ہندوستانی بھی بن جائے گی۔‘‘
(ایضاً۔ ص، ۱۹۶)
یہاں بھائی رام نریش ترپاٹھی سے ایک غلطی یہ ہوئی کہ انھوں نے لکھا ہے’’ اردو زبان کے سدھارنے اور سنوارنے میں اردو کے شاعروں اور لیکھکوں نے پچھلے کئی برسوں میں جو ہاتھا پائی کی ہے اس کا فائدہ ہندی بھاشا کو آسانی سے مل جائے گا۔ ‘‘یہاں انھوں نے پچھلے کئی برسوں کا ذکر کیا ہے ، جب کہ اردو میں اصلاح زبان کا معاملہ شیخ ظہور الدین حاتم (۱۶۹۹-۱۷۹۱)نے اٹھایا تھا، زبا ن کی باریکیوں، تذکیر وتانیث اور دیگر مباحث پر ان کا رسالہ بھی ملتا ہے۔ اس کے بعد عہد ناسخ سے لیکر جلال لکھنوی تک اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ایسے میں اصلاح زبان کے تعلق کئی برسوں کا ذکر سورج کو روشنی دکھانے مترادف ہے۔ لیکن انھوں نے اردو زبان کی جن خصوصیات کا ذکر کیا ہے، اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں، لیکن گاندھی جی نے ان خصوصیات کو جانتے ہوئے بھی ہندی کی حمایت کی۔ (یہ بھی پڑھیں گاندھی جی ،اعظم گڑھ اورقومی بیداری – ڈاکٹر عمیر منظر )
مندرجہ بالا اقتباسات کے تناظر میں یہ بات آسانی سے کہی جا سکتی ہے کہ گاندھی جی نے زبان کے مسئلے میں جس طرح کی گفتگو کی ہے، وہ’ ہندی ہندوستانی‘کے نام پر دیوناگری کی حمایت کی ہے۔ انھوں نے بلا شبہہ یہ بات کہی ہے کہ ہندی ہندوستانی سے مراد وہ زبان ہے، جسے یہاں کے باشندے آسانی سمجھ سکیں اور جو مشترکہ لکھاوٹ میں لکھی جائے۔ لیکن اس کے پس پردہ انھوں نے رسم الخط کے سلسلے میں دیوناگری کی حمایت کی ۔اسی لیے گاندھی جی کے ’ہندوستانی‘والے نظریے کو لوگوں نے شک کی نگاہ سے دیکھا۔ اس معاملے میں گاندھی جی کو لوگوں کی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا؛ باوجود اس کے ان کا ارادہ متزلزل نہیں ہوا۔ بہت ممکن ہے کہ اس سلسلے میں وہ لوگوں کی تائید حاصل کرنے میں بہت حد تک ناکام رہے۔ اسی لیے آج مشترکہ لکھاوٹ یا ہندوستانی کی حیثیت محض تاریخی ہے۔ لیکن اس کے پیچھے جو محرک کارفرما تھے، اس کا ایک تاریخی پس منظر ہے، جو تفصیل طلب ہے۔ نظریۂ ہندوستانی گاندھی جی کے جذبات کا ایک حصہ ہے، اس کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
[…] تحفظ مادری زبان […]
[…] تحفظ مادری زبان […]