تخلیقیت اور تخلیقی عمل سے گزر کر کسی شخص یا ادیب کا فن کارانہ جوہر معرضِ وجود میں آتا ہے۔ جوہمیں تحقیق ، تنقید، فکشن ،شاعری اور فنونِ لطیفہ کی مختلف اصناف میں نظر آتا ہے، بسا اوقات ایک شخص کے باطن میں بیک وقت فنونِ لطیفہ کی کئی جہتوں میں طبع آزمائی کی صلاحیت ودیعت من جانب اللہ ہوتی ہے ۔ مگر ایسا کم ہی لوگوں کا مقدر ہوتا ہے۔ زیادہ تریک صنفی یا یک فنی خوبیاں اور صلاحیتیں ہی ہوتی ہیں۔ ایسی ہی مختلف الجہات اور متنوع بیانیہ پر قادر غضنفر علی سے میری ملاقات غالباً ۲۰۰۰ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبئہ اردو میں ہوئی۔ اکثر میں انہیں شعبئہ لسانیات ( Linguistic) کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھتا، لمبے بال، مسکان بھرا چہرہ، اندازِ بیان ادیبانہ ،چال ڈھال میں ظرف اور مزاج میں تفاعل شعری، مجھے یہ سوچنے پر مجبور کررہے تھے کہ یہ خوش مزاج، خوش لباس، ہنس مکھ اور باتوں باتوں میں تکنیک، علامت، اظہار اور سائنٹفک و لسانی گفتگو کرنے والا یہ وجیہہ شخص ضرور فنونِ لطیفہ کا دل دادہ ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ شعبئہ لسانیات کی سیڑھیاں چڑھنے والے اس شخص کا تعلق پروفیسر علی رفاد فتیحی اور پروفیسر شافع قدوائی سے ہے۔ جب میں نے استاد مرحوم اسعد بدایونی سے ان کے بارے جاننا چاہا تو انھوں نے تفصیلی تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک اچھے فکشن نگار ہیں۔ مگر شاعری کا ذکر انھوں نے نہیں کیا۔ غالباً وہ غضنفر کی شا عری کا دورِ اول رہا ہو۔ مجھے بہت جلد اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ غضنفر فکشن کی دنیا کا ایک اہم نام ہے۔ اب تک ان کے اردو کے نوناول منظرعام پر آچکے ہیں۔ پانی، کینچلی، کہانی انکل، دویہ بانی، فسوں، وش منتھن، جم، شوراب ، مانجھی اردو ہندی میں دویہ بانی اور کہانی انکل اور ایک افسانوی مجموعہ حیرت فروش، ایک ڈرامہ کوئلے سے ہیرا۔ خاکوں کا مجموعہ ، سرخ رو اور خاکے، روئے خوش رنگ، اسی طرح چار تنقید کی کتابیں، مشرق معیار نقد، زبان و ادب کے تدریسی پہلو، تدریس شعر و شاعری اور فکشن سے الگ قابلِ ذکر ہیں۔ ان تخلیقات کی قدروقیمت اپنی جگہ مسلم ہے، مگر غضنفر کو ’’مانجھی‘‘ سے جو شہرت ملی اس نے ادبا اور فکشن نگاروں کے اس انبوہِ عام میں منفرد مقام عطا کیا۔ اس ناول نے غضنفر کے فکر وفن کے ساتھ ان کے طبعی میلان کابھی تعین کردیا۔ جس سے ہمیں یہ اندازہ ہوا کہ وہ ترقی پسند مصنفین کی فہرست میں شامل تو نہیں مگر وہ اپنے ترقی پسندانہ نظریے کو بروئے کار لاکر سماج، معاشرے اور پچھڑے طبقے کے لوگوں کی کس خوبی سے منظر کشی کرتے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ اور بات ہے کہ آج بچے کھچے ترقی پسند مصنفین انہیں اپنی صف میں شامل کرتے ہیں یا نہیں۔ مگر میری حقیر رائے یہ ہے کہ انہیں ترقی پسند مصنفین کی صفِ اول میں ضرور شامل کرلینا چاہیے۔
غضنفر کی فکر، مزاج اور طبیعت میں نیرنگی کے ساتھ تنوع پایا جاتا ہے۔ ان کے مزاج میں بلا کا ترفع اور انفعالیت پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف فکشن رائٹر ہی نہیں بلکہ ایک اچھے شاعر بھی ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ ’’آنکھ میں لکنت‘‘ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے ان کے اندر بے پناہ صلاحیتیں ودیعت کر رکھی ہیں۔ اس مجموعے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں محمد عربیؐ کی محبت وعقیدت میں کہی گئی ایک طویل نعت شامل ہے، جس سے خیرالبشر حضرت محمدؐ سے ان کی محبت اور عقیدت آشکارہ ہوتی ہے۔ اس نعت میں ۵۳ اشعار ہیں۔جب کہ نعت کہنا تلوار کی دھار پر چلنے کے برابر ہے۔ باوجود اس کے انھوں نے پاکیزہ اور صاف ستھری طویل نعت کہہ کراپنے راسخ عقیدے کی دلیل پیش کی ہے۔ کمال یہ ہے کہ شاعر نے اس میں پچاس قافیے باندھے ہیں۔اور صرف چار بند میں ایک جگہ پر تکرار قافیہ ہے۔
نعت پر سرخی کا مصرعہ ہے ’’ہے کس طرح خامے سے مرے خاکہ محمدؐ کا‘‘۔ قافیے اس طرح ہیں، روضہ ، نقشہ، خضرا، ہالہ، سایہ، میخانہ، شعلہ، سرمہ، سکہ، چشمہ، کوچہ، کونا، حجرہ، قصہ، دیوانہ، رشتہ، خطبہ، جلوہ، چرچا، رتبہ، کوچہ، خطہ، زینہ، در والا، جذبہ، شہرہ، رشتہ، گبخینہ ، اسوہ، کتنا، جامہ، مکہ، خاکہ، رتبہ، نشہ، دورہ، سینہ، جادہ، دریا، کوزہ، پارہ ، نکتہ، فقرہ، جملہ، ورثہ، عقدہ، شیوہ، تحفہ، طیبہ، چہرہ۔
نعت کی ابتدا روایتی طور پر روضہ اقدس کی زیارت اور گنبدِ خضرا کی زیارت کے بعد ایک مسلمان کے دل و دماغ پر جو ایک عجیب اور کبھی نہ طاری ہونے والی کیفیتوں کا ذکر ہے۔ مگر روایتی اندازِ روش میں نعت کا اس طرح کہنا یقینا کمالِ فن ،پختہ عقیدے اور سچے وصادق محبِ رسول کی بہترین مثال ہے۔
عجب اک چاندنی کے عکس سے بھرتی رہیں آنکھیں
عجب اک چاند میں ڈھلتا رہا سایہ محمدؐ کا
شاعر نے اس نعت میں آپؐ کی توصیف اور مکہ مکرمہ کی نورانی کیفیت کا خوبصورتی سے اظہار کیا ہے۔ گنبدِ خضرا کی شادابی باشندگانِ مکہ کی صفات، پھر آپؐ کی صلہ رحمی کا ذکر اور ہر مسلمان کی طرح دیدارِ محمدی کی تمنا کا دل پذیر اظہار ہے ۔ اس نعت کے چند اشعار بطور نمونہ پیش ہیں۔
ہر اک دیدے میں پتلی مضطرب پھرتی ہے رہ رہ کر
کہ مل جائے کسی صورت کوئی کونا محمدؐ کا
ملائک بھی سماعت کے لیے تشریف لاتے ہیں
کسی بھی بزم میں ہوتا ہے جب چرچا محمدؐ کا
٭٭٭
مدینہ ہو کہ مکہ کہ پھر عرشِ معلی ہو
مکاں سے لا مکاں تک ہر جگہ شہرہ محمدؐ کا
٭٭٭
مدینے سے چلوتو راہِ مکہ دیکھ کر لگتا
کہ دینِ حق کی خاطر خوں جلا کتنا محمدؐ کا
٭٭٭
یہ صحرائے دل و جاں بحر میں تبدیل ہو جائے
جو آجائے کسی کے ہاتھ میں کوزہ محمدؐ کا
٭٭٭
ستم سہنا کرم کرنا، محبت بانٹنا سب کو
خدایا بخش دے ہم کو بھی یہ شیوہ محمدؐ کا
٭٭٭
خدا ایسا کرم کردے کبھی عاصی غضنفر پر
کہ دیکھے خواب میں وہ بھی کبھی چہرہ محمدؐ کا
٭٭٭
’’آنکھ میں لکنت‘‘ غضنفر کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ اس میں حمد، نعت، غزلیں، نظمیں ، نثری نظمیں ، بچوں کی نظمیں اور سوانحی کوائف شامل ہیں۔ بیشِ قیمت نعت کے بعد اس کتاب میں اہم اور قابلِ قدر سرمایہ تقریباً ستاسی غزلوں کا ہے۔ ان میں طویل اور چھوٹی بحر کی غزلیں بھی ہیں،ان غزلوں کی خاص بات یہ ہے کہ چار ، پانچ ، سات اشعار کی غزلیں کم ہیں۔ زیادہ تر آٹھ اور اس سے زیادہ اشعار پر مبنی ہیں۔ اس سے شاعر کی قادر الکلامی کے ساتھ سخن گوئی اور فن پر دسترس کا اندازہ ہوتا ہے۔ غزلیں مختلف رنگ، کیفیات ، آہنگ اور مذاق کی ہیں۔ ان تمام میں قدرِ مشترک شے ان غزلوں کا تسلسل، روانی اور پر کیفی ہے۔
غضنفر کے یہاں جدت، پر کاری اور لہجے میں شگفتگی دل کو چھولیتی ہے۔ ان کا شعری سفر تجربے اور جدوجہد سے مملو ہے۔ مجھے یہ حیرت ہے کہ ایک فکشن رائٹر ایسے شعارکہتا ہے تو آیا وہ پہلے شاعر ہے یافکشن نگار۔ ان کاشعری منطقہ پختہ اور وسیع ہے۔ فکری جولانی اور جودت ِطبع انہیں ہر وقت کچھ کر گزرنے پر آمادہ رکھتی ہے۔ وہ سہل اور آسان لفظوں میں اکثر چونکا دینے والے اشعار کہہ جاتے ہیں شاید اس کا انہیں بھی اندازہ نہ ہو مگر وہ اشعار بہت قیمتی اور بہت معیاری اشعار سے کم نہیں ہیں۔ غضفر کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اکثر وہ اپنی زبان سے بولتے ہیں۔ اپنے مشاہدات اور تجربات کو آسان لفظوں میں کرامت کی شکل میں صفحہ قرطاس پر اتار دیتے ہیں۔ ان کی معجز بیانی کا ہمیں جابجا احساس ہوتا ہے۔ ا گر وہ کہانی کار کی حیثیت سے معروف نہ ہوتے تو وہ اپنی غزلوں کی وجہ سے شعر و ادب میں ایک منفرد شاعر کے اعتبار سے ضرور شہرت پاتے۔ نمونے کے چند اشعار ملاحظہ کریں۔
یہ کس کی آنکھ ٹکی ہے اداس منظر پر
یہ کون ہے کہ جسے دیکھنے کی فرصت ہے
٭٭٭
دفتر میں ذہن ، گھر میں نگہ، راستے میں پائوں
جینے کی کاوشوں میں بدن ہاتھ سے گیا
٭٭٭
ہمارے ہاتھ سے وہ بھی نکل گیا آخر
کہ جس خیال میں ہم مدتوں سے کھوئے تھے
٭٭٭
دنیا کو جب بھی دیکھنا چاہا قریب سے
بتی بجھا کے آنکھ کو ظلمت سے بھرلیا
٭٭٭
آگے جانا بھی کٹھن پیچھے پلٹنا بھی محال
منتخب میں نے کیا جان کے رستہ ایسا
٭٭٭
دفتر میں گھر، گھر میں دفتر ہوتا ہے
ہم جیسوں کے ساتھ یہ اکثر ہوتا ہے
٭٭٭
ہر ایک رات کہیں دور بھاگ جاتا ہوں
ہر ایک صبح کوئی مجھ کو کھینچ لاتا ہے
٭٭٭
میں کتنا بے بدن لگتا ہوں خود کو
کبھی جب دوسروں سے تولتا ہوں
٭٭٭
کیا پتا نیند کب چلی جائے
مختصر خواب کا سفر کر لوں
مذکورہ اشعار کس قدر پریکٹیکل ہیں اور کس ہنرمندی سے شاعر نے جذبہ اندروں کو شعر کی زبان میں پیش کیا ہے وہ دیکھنے والی بات ہے۔ اشعار کی جدت ،روانی اور تخیل کی کارفرمائی اپنی مثال آپ ہے۔ ان اشعار میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ، اپنی ذاتی زندگی ، ناگفتہ بہ حالات، زمانے کی سفاکی، محرومی، بے بضاعتی، ناکامی، نامرادی، دنیا کی بے ثباتی، نامساعدِ حالات، احساسِ کرب، کربِ ذات ، حالات کی سنگینی اور انسانی Existence کے مسائل کو کس خوبی سے پیش کیا ہے و ہ قابلِ ستائش ہے۔ وہ نیک جذبوں اور نئے امنگوں کے ساتھ سفرِ زندگی کو آگے لے جانا چاہتا ہے۔ اسے خوش منظر ی سے دلچسپی ہے۔ وہ اداس منظر میں کھونا ساعتِ زیست کے قیمتی لمحات کو ضائع کرنا تصور کرتا ہے۔ یہ وہ جدید فکر وفلسفہ کے اشعار ہیں جن کے ذریعے تجربے، مشاہدے اور زیست کی گہماگہمی کو پیش کیا گیا ہے۔ یہ منتخب اشعار جذبہ شاعری اور جدت کا خوبصورت حوالہ ہیں۔ انہوں نے جدید دور کی زندگی، مصروفیت اور چکی کی مشقت کو اپنے گداز لفظوں کے سہارے کس کوملتا سے بیان کیا ہے،یہ حد درجہ کمال کی بات ہے۔ لفظوں کی نرمی شاعر کی فکرِمندی اور سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے کہ شاعر دورِ نو کے مسائل سے کس قدر فکر مند ہے، غضنفر نے اپنے بیان کے لیے منطقی دلائل اور سائنٹفک نظریے کو بروئے کار لایا ہے۔ ورنہ شاعر دنیا کو جانچنے ، پرکھنے اور قریب سے دیکھنے کی تمنا میں بتی بجھا کر ظلمت کو اپنی آنکھ میں بھرنے کا کام نہیں کرتا۔ ان اشعار میں زندگی اور دنیا ومعاملاتِ دنیا کے مابین ایک عجیب طرح کی کشمکش دیکھنے کو ملتی ہے۔ جس سے دورِ نو کے مسائل اور اس دور کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے، ایک دھند کا سماں ہے جس میں بالکل ہلکا سا عکس ابھرتا ہے، جس سے دنیا کی تصویر آئینے کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ چند ایسے اشعار کوبھی دیکھیے ۔ جن سے شاعر کے ایک الگ موڈ، مزاج اور طبعی میلان کا اندازہ ہوتا ہے۔ نمونے کے اشعار ملاحظہ کریں:
یاد اس میں بھی وہ نہیں آیا
ایک لمحہ یہی تھا فرصت کا
٭٭٭
کون کس کا ہے کس کو کیا خبر
ایک جیسے لوگ ہر خیمے میں ہیں
٭٭٭
لوگ وراثت میں پاتے ہیں دولت، عزت شہرت ، نام
اور ہم کو ورثے میں اپنے ایک گراں گھر بار ملا
٭٭٭
لذت قرب ہے احساسِ دوئی میں مخفی
فاصلہ بیچ کا کچھ اور بڑھائیں آئو
٭٭٭
پاس سے دیکھا تو دوری درمیاں
دور سے دیکھاتو اک رشتہ ملا
٭٭٭
نہ جانے کس طرح بستر میں گھس کر بیٹھ جاتی ہیں
وہ آوازیں جنہیں ہم روز باہر چھوڑ آتے ہیں
٭٭٭
لوٹ کر پھر یہیں آنا ہے غضنفر تجھ کو
اپنے اس گھر کا کوئی در تو کھلا رہنے دے
٭٭٭
برسوں سے اک مکاں میں رہتے ہیں ساتھ ساتھ
لیکن ہمارے بیچ زمانوں کا فاصلہ
٭٭٭
اشک آنکھوں سے بہنے لگتے ہیں
جب مراحال پوچھتا ہے کوئی
٭٭٭
بکریاں آ کے چاٹتی ہیں بدن
اے غضنفر تجھے ہوا کیا ہے
اس انتخاب میں کچھ اشعار معجزاتی ہیں، جن کی تفہیم یا اس کی معنیاتی تہہ تک پہنچنا ایک طالب علم کے بس کا نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ شعر گوئی کسی کرامت یا معجزے سے کم نہیں ہوتی۔ جب شاعر فکر وخیال کی معراج کو پہنچتا ہے توایسے ہی شعر ہوتے ہیں۔ دراصل یہ دنیا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ اس کا سارا نظام عجیب و غریب اور فہم انسانی سے بالاتر ہے۔ یہ ست رنگی دنیا ہے، یہاں کہیں حزن ہے تو کہیں ملال، کہیں خوشی ہے تو کہیں رنج و الم، کہیں ہریالی ہے تو کہیں ویرانی،کہیں خوشی کے شادیانے بج رہے ہیں تو کہیں کسی کے جدا ہو جانے کا ماتم ہے۔ کیا کھونا ہے اور کیا پانا ہے سب کا حاصل یہ دنیا ہے، جسے آقا ئے دوجہاں نے ’’الدنیا مزرعۃ الاخرۃ‘‘ دنیا آخرت کی کھیتی ہے ،سے تعبیر کیا ہے۔ شاعر وہ سچا انسان اور تخلیق کارہوتا ہے جو ست رنگی دنیا کے ساتوں رنگ کاعکس اپنے کلام میں پیش کردیتا ہے۔ شاعر ہی ایسا انسان ہے جو دنیا سےd Inspire ہوکر اس سے اپنی قلمی غذا حاصل کرتا ہے اوراس دنیا ،انسان ،سماج اور حالات کو جیسا دیکھتا ہے اور جو کچھ وہ محسوس کرتا ہے وہ شعر کی زبان میں پیش کردیتا ہے۔ اس کا پورا عکس غضنفر کے درج بالا شعروں میں آپ دیکھ سکیں گے کہ انھوں نے کس سچائی کے ساتھ اپنے محسوسات کو شعر کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ آج کے پرآشوب دور میں ہر شخص مسافرت کی زندگی بسر کررہا ہے۔ کسی کو گھر میں سکون نہیں ہے تو کسی کو بازار میں چین نہیں ہے۔ اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ عدیم الفرصتی کے اس عالم میں شاعراپنا پل پل استعمال کرنا چاہتا ہے۔ مذکورہ بالا اشعار میں شاعر نے انسانی زندگی تہذیبی ، معاشرتی، مذہبی اور دیگر معاملات میں در آنے والی خرابیاں، بگاڑ اور فساد پر بھرپور تبصرہ کیا ہے۔ چونکہ اس دور میں انسانی زندگی سے معیار، اقدار،اخلاقی اور تہذیبی قدریں یکسر خالی ہوتی جارہی ہے۔ اسی طرح حالات اتنے نامساعد اور مشکلات سے پر ہیں کہ انسان پوری زندگی چند روٹی، کچھ جوڑا کپڑے اور گزر بسر کرنے کے لیے ایک چھوٹے سے آشیانے کے لیے وقف کردیتا ہے،مگر صد افسوس کہ وہ بھی اسے حاصل نہیں ہوپاتاہے۔ خاندانی نظام اس قدر کمزور اور خود غرضا نہ ہوگیاہے کہ اپنا اپنے کو نہیں پہچانتا۔ لوگ قریب رہ کے بھی دور رہتے ہیں۔ آپسی خاندانی شادی بیاہ کی رسمیں تقریباً ختم ہوگئی ہیں۔ ایک دوسرے کی خیرخواہی ، دل جوئی ،صلہ رحمی اور معاملاتِ حسن و سلوک کا قدیم رویہ ناپید ہوچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اپنا غیر اور غیر اپنا ہوتا جارہا ہے۔ ایک رشتے کی ڈور ہمارے ہاتھوں سے چھوٹ رہی تو ایک ڈور کو ہم پکڑنے کی کوشش میں ہیں۔ آخر یہ جدید دور کے انسانوں کی کون سی عقلمندی اور دانش مندی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آج اس جدید دور میں سائنس و ٹکنالوجی کے ترقی یافتہ عہد میں ہر شخص اندر سے ٹوٹا ہوا ہے۔ غضنفر نے جس فنی خوبی اور لسانی رچائو کے ساتھ اپنے خیالات، محسوسات اور مشاہدات کو شعر کی زبان میں پیش کیا ہے۔ یہ ان کا کمال ہے۔ ان کے یہاں لفظوں کا برملا اظہار ہوا ہے۔ جس سے شعری حسن دوآتشہ ہوگیا ہے۔ انھوں نے لفظیات، جملے اورمحاورے کا استعمال برمحل اوربے ساختگی کے ساتھ کیا ہے، جس سے مصرعے کی چمک دوبالا ہوگئی ہے۔ کہیں کہیں تو لفظوں کا استعمال اچھوتے انداز میں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے لفظوں کی صحت مستحکم ہوگئی ہے۔ نمونے کے طور پرلفظیات دیکھیے۔ گھور کہرے، شوراب، سیاہ رات، کہنہ سالِ شجر، گمان گزیدہ، کفِ وصل ، حدِ مسطر، سراسیمہ، منظرِ سبز، لمس، کریہہ المنظر، جیون ، دشت، حرف ِاعتبار، خرابے، صورتِ سیماب، لقمہ گرداب، کتابِ بے بسی، خنجر، بے بدن، کوکھ، ضیا سے صبح ، سردیِ وصل، تودۂ ریت، پانی کی ردا، کالی بلا وغیر خاص ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ غضنفر کی شاعری شعور و وجدان اور آگہی سے معمور ہے ،ان کا تخیل قاری کو حیرتوں کے نئے آفاق سے رو شناس کراتا ہے ، شاعر کے باطن میں تجربات ومشاہدات کی صدہا قندیلیں منور ہیں ، ان کی شاعری ذات اور ذات کی جستجو سے مامور ہے ،جا بجا نکتہ آفرینی کا احساس شعر کا حسن خوب سے خوب تر کردیتا ہے ، خاص بات یہ ہے کہ غضنفر اپنی ذات کے خول میں کبھی مقید نہیں رہے ، وہ باخبر انسان ہیں جس کی وجہ سے انھیں لمحہ بہ لمحہ تبدیلیوں سے آگہی اور امنِ عالم کی بد تر صورت سے پیدا شدید تہذیبی و ثقافتی ، معاشی اور سماجی بحران سے واقفیت کے نتیجے میں انسانیت کا تحفظ اور بقاکے غم نے کبھی کبھی لفظوں میں تلخی اور لہجے میں کرختگی پیدا کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری قاری کی سائیکی اور شعور سے ہم آہنگ ہوجاتی ہے ،کیوں کہ انہوں نے زندگی کو ایک اہم اور بڑی حقیقت کے طورپر پیش کیا ہے۔زندگی اور اس کے پر پیچ مسائل کا ادراک بھی انھوں نے تلخ حقائق کے ساتھ کیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ اقبال نے زندگی کا سراغ پاجانے کی سعی کی تھی مگر غضنفر نے زندگی کے حقائق کی نئے سرے سے بازیافت کی ہے۔انھوں نے یہ واضح کیا ہے کہ انسانی ہستی تہذیبی وثقافتی وحدت کا خوبصورت عکس ہے۔جسے وقت کے تیز رو بہاو نے اس کی چمک کو ماند کردیا ہے ،انسانی ہستی دراصل وجود کائنات کا اصل راز ہے، مگر کیا کیجے آج یہ سرمایہ داروں کے ظلم کی چکی کا خوراک بنی ہوئی ہے۔ غضنفر کے شعری سرمائے میں ایسے لاتعداد اشعار ہیں جو زندگی کے تلخ حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں اور بذور قوت ان باتوں کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں،ان کے یہاں ہمیں ہستی کے ابدی حقائق کی بازیافت کا خوبصورت اشارہ ملتا ہے۔خود کلامی ان کی شاعری کا اہم وصف ہے اور امیجری کا دلکش نمونہ ان کی شاعری میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔ جس کے ذریعہ باطن کے احساس کا بے ساختہ اظہار ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں ہمیں جا بجا معجزاتی پہلوکا عکس نظر آتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی شعری قدر وقیمت دو چند ہوگئی ہے ۔
Mail:afeefrizwan@gmail.com
9810862283
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

