عہدِ حاضر میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی فتوحات روز افزوں ہے۔ہم تہذیبی اور معاشرتی سطح پر ٹیکنالوجی کے اسیر ہوتے جارہے ہیں، وہ نظریات جو کسی زمانے میں حتمی سمجھے جاتے تھے آج ایک ایک کرکے ٹوٹ رہے ہیں، ہمارے زمان و مکان کے تصورات نہ صرف تبدیل ہورہے ہیں بلکہ ہمارا World Viewیا نظریۂ کائنات بھی بدل رہاہے۔حتیٰ کہ ٹیکنالوجی پوری طرح ہمارے اعصاب پر سوار ہوگئی ہے۔ لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی صورتِ حال میں ادب کیا کردار ادا کررہا ہے؟ بلکہ کیا ادب کااس صورتِ حال میں کوئی کردار ادا کرپانا ممکن بھی ہے؟کیا مستقبل میں ادب کی اہمیت ختم ہوجائے گی؟یامستقبل قریب میں سائنس ادب کی جگہ لے کر اسے معاشرے کی زندگی اور مزاج سے بے دخل کردے گی؟ کیا ادب تیزی سے اس بڑھتی اور پھیلتی زندگی کا ساتھ دے سکے گاجسے سائنس اور ٹیکنالوجی کہیں سے کہیں پہنچائے دے رہی ہیں۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور ٹیلی فون تو ماضی کا قصہ ہوا چاہتے ہیں اب اطلاعات روشنی کی رفتار کے ساتھ سفر کررہی ہیں۔ دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہونی والی سرگرمی پلک جھپکنے سے پہلے ہم تک پہنچ جاتی ہے۔کورونا وبا کو قابو میں کرنے میں ناکام یو پی کی ندیوں میں تیرتی لاشیں ہوں ، افغانستان میں طالبان کا دوبارہ اقتدار پر قبضہ ہو یا امریکہ اور چین کے مابین ایک نئی سرد جنگ کا آغاز۔۔۔۔اس طرح کے واقعات اطلاعات کی برق رفتار ترسیل کی وجہ سے پوری دنیا کے لوگوں پر اپنے اثرات مرتسم کرتے ہیں۔
اب تو یہ بھی کہا جانے لگا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی جدید تحریکوں کے مقاصد اور طریقۂ کار میں مکمل طورسے شریک ہے لہٰذا جمہوریت اساس ہے اور ادب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اپنی روح اور رویے کے اعتبار سے اشرافی ہے اور صرف چند لوگوں کے لیے ہے جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی بہت سوں کے لیے ہے ۔ اس طرح سے دیکھیں تو یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد قرار پاتے ہیں۔ لیکن اس تعلق سے جان بروز کانکتۂ نظر کچھ الگ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ دنیا کے عظیم عہد سائنس کے عہد نہیں تھے ، نہ ان میں وہ عظیم ادب پیدا ہوا تھا جس میں انسانی تہذیب کی قوت رواں دواں ہے، اور نہ ہی وہ ان ذہنوں کی تخلیق تھا جو طبعی کائنات کے بارے میں صحیح نظریات رکھتے تھے۔ بلاشبہ اگر انسان کی اخلاقی و عقلی نشونمااور بلوغت کا تعلق مادی آلات اور سہولتوں سے یا جمع شدہ قطعی علم سے ہے تو پھر آج کی دنیا کے انسان کو بطور انسان ماضی کے مقابلہ بہتر کردار و افعال کا مظاہرہ کرنا چاہیے لیکن وہ ایسا نہیں کر پا رہا ہے۔ شیکسپیئر نے اپنے ڈرامے ان لوگوں کے لیے لکھے تھے جو شاید جن اور بھوتوںپر ایمان رکھتے تھے اور امکان یہ ہے کہ وہ بھی ان پر ایمان رکھتا ہوگا۔دانتے کی لافانی تخلیق devine comedy کسی سائنسی عہد میں لکھی ہی نہیں جاسکتی تھی۔‘‘
یہاں سائنس اور ٹیکنالوجی کی عیب جوئی نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ سائنس اور ادب کے مابین براہ راست کوئی تصادم نہیں ہے اور دونوں کی ماہیئت ، تقاضے اور محرکات مختلف ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہر آدمی کی طرح ہر زمانے کا بھی ایک شیطان ہوتا ہے۔ لوگ اپنے اپنے زمانے کی ساری برائیاں اُس کے سر منڈھ دیتے ہیں اور اپنے ضمیر کو یہ سوچ کر مطمئن کرلیتے ہیں کہ اگر یہ شیطان موجود نہ ہوتا تو ان کی زندگی جنت ہوتی۔ ہمارے زمانے کا شیطان ’’ٹیکنالوجی‘‘ ہے۔ اگر ہماری اخلاقی قدریںزوال پذیر ہیں ، اگر ہماری معاشرتی و تہذیبی روایات ٹوٹ رہی ہیں ، اگر ہمارا طرز عمل اور رویہ بدل رہا ہے تو ہم ان سب چیزوں کی ذمہ داری ٹیکنالوجی کے سر تھوپ دیتے ہیں۔ ادبی دنیا بھی اس سوچ سے مبرّا نہیں ہے۔ یہاں بھی ادب کے زوال اور انحطاط کا ذمہ دار ٹیکنالوجی کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ جبکہ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ادب اور ٹیکنالوجی میں براہِ راست کوئی آویزش نہیں ہے ۔ ادب کا تعلق انسانی ذہن سے ہے جبکہ ٹیکنالوجی باظاہر یہ انسانی اعضاکی کارکردگی میں توسیع سے عبارت ہے۔ فون اور سیلولر ٹیکنالوجی کا تعلق ہمارے سمعی کارکردگی میں اضافے کو پیش کرتی ہیں۔ ٹیلی ویژن ، دوربین یا خوردبین وغیرہ ہماری بصری کارکردگی میں اضافہ کی مثال ہیں تو کاریں ، ریل ،جہاز، کمپیوٹروغیرہ کاتعلق بھی ہماری دیگر کارکردگی میں توسیع سے عبارت ہے۔اس کے برعکس ادب کا تعلق انسانی جذبات ، محسوسات اور احساسِ جمال سے ہے۔ ادب انسان کی جسمانی ضروریات کے بجائے اس کے باطن اور اس کی روح کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں عالمی ادبیات کی شناخت اور ترجمے کے مسائل- ڈاکٹر صفدر امام قادری )
اس بات میں شک نہیں کہ ادب زوال پذیر ہے لیکن یہ زوال صرف اردو تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ رونا تو دنیا کی ہر زبان کا ہے۔ اس زوال کا ٹھیکرا اکثر و بیشتر ٹیکنالوجی کے سر پھوٹتا ہے۔ لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ ٹیکنالوجی ادب کے فروغ میں معاونت کرہی ہے۔ کتابوں کی اشاعت اور ای بُک کی صورت اس کی پوری دنیا میں بہ آسانی ترسیل ، فیس بک اور واہٹس ایپ جیسے سماجی رابطے کے ذرائع کی مدد سے تخلیقات کا آدان پردان وغیرہ ایسی مثالیں ہیں جس کے ذریعے ادب میں ٹیکنالوجی کی برکت کومحسوس کیا جاسکتا ہے۔ تو پھر مسئلہ کہاں ہے؟ مسئلہ در اصل ہمارے رویے اور ترجیحات کا ہے۔ مادہ پرستی کی رو میں بہتے ہوئے ہم ادب میں بھی براہِ راست افادیت تلاش کرنے لگے۔ ماضی میں علی گڑھ تحریک کے ذریعے اصلاحِ معاشرہ اور ترقی پسند تحریک کے زیرِ سایہ مزدوروں کے حقوق جیسے کام ادب سے لیے جاچکے تھے لہٰذا ہمارے زمانے میں بھی یہ تاثر عام ہواکہ ادب سے براہِ راست افادیت حاصل کی جاسکتی ہے۔ ہمارے عہد میں جب افادیت تلاش کرنے کی بات پیدا ہوئی تو ظاہر ہے اس عہد میں مقابلے میں ٹیکنالوجی تھی۔ادب بے چارہ جاڑوں کی سرد رات میں نہ تو کمروں کو گرم کرسکتا ہے، نہ ہمیں ممبئی ، دلی اور حیدر آباد پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی ہماری قوتِ سماعت کو اتنا تیز کرسکتا ہے کہ ہم طول طویل فاصلوں سے باتیں کرسکیں۔ جب ادب کو بھی اسی پیمانے سے ناپنا شروع کردیاگیاتو ہم ادب کے مستقبل سے مایوس ہونے لگے۔ حالانکہ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ سائنس’’سچائی‘‘ کو تجربہ گا ہ میں جانچنا چاہتی ہے جبکہ ادب اس کو رویو ں اور افکار کی روشنی میں دیکھنے کا خواہاں ہوتا ہے۔ ’’سچائی‘‘ اور’’سائنسی سچائی‘‘ دونوں میں خاصا فرق ہے مگر دونوں اپنے اپنے افکار و نظریات کے ضمن میں درست معنی رکھتے ہیں۔دراصل رویے اور عوامل ادب اور سائنس دونوں کو اپنے اپنے فکری اور منطقی رشتے میں باندھے ہوئے ہیں۔
تغیر و تبدل ادب اور سائنس دونوں کے لیے یکساں ضروری ہیں۔معاشرتی تبدیلیاں ادبی ماحول میں تہذیبی آمیزش پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں جبکہ سائنسی طرزِ فکر ٹیکناجی کی سیڑھی استعمال کرکے انسانی فکر کو آسائشوں سے آشنا کر دیتی ہے۔ادب ہمارے سائنسی انداز فکر کو کیسے متاثر کرتا ہے یا سائنس ہمارے ادبی میلانات میں کس طرح دخیل ہے؟ اس بات کو فہم وادارک اور شعوری کوششوں سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ادب اور سائنس کے مابین یگانگت کی نوعیت کو سمجھاتے ہوئے جان بروز نے سچ ہی کہا ہے کہ: ’’ ادب ہمارے ذہن کے دروازے وا کرکے اس کو اعلیٰ جذبات و خیالات سے معمور کرتا ہے اور دل میں اتر کر کردار میں تبدیلی لاتا ہے ۔یہ سب کچھ سائنس کی رسائی سے یکسر ماورا ہے۔ جس طرح جانور، پودے ، بارش اور شبنم زمین کو کچھ نہ کچھ دیتے رہتے ہیں اسی طرح سائنس ذہن میں کچھ نہ کچھ اضافہ تو کرتی ہی ہے ۔ لیکن جب تک سائنس جذبات کے ساتھ مل جل نہ جائے ، دل اور تخئیل کے لیے قابلِ قبول نہ ہوجائے وہ ایک مردہ اور غیر نامیاتی مادے کی طرح ہے اور جب وہ مل جل جاتی ہے اور ایک ہوجاتی ہے تو ادب بن جاتی ہے۔‘‘
٭٭٭
مضمون نگار ممتاز ادبی جریدہ ’’اردو چینل‘‘ اور ویب پورٹل ’’ اردو چینل ڈاٹ ان‘‘ کے ایڈیٹر ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
Very good
بہترین تحقیقی تنقیدی اور معلوماتی مقالہ ہے-
قابلِِ تحسین ہے۔ اللّٰہ کرے زور قلم اور زیادہ!
شکیل نائطی چینئی۔