اردو کے افسانہ نگاروں میں راجندر سنگھ بیدی اپنے مخصوص طرز اظہار اور زندگی کے تئیں مخصوص رویے کے سبب منفرد ہیں۔ بیدی نے اپنے افسانوں میں حقیقت کی جو تعبیریں پیش کی ہیں وہ اپنی ندرت اور انوکھے پن کے سبب قاری کوحیرت زدہ کر دیتی ہیں۔ حقائق کی دریافت ا ور اس کی پیش کش کے لیے انھوں نے بیشتر سکھ اور ہندو گھرانوں کی زندگی کو پس منظر کے طور پر اختیار کیا ہے۔مرد اور عورت کے رشتوں کی پیچیدگیاں ، نفسیاتی الجھنیں اور تہہ داریاں بیدی کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ عام انسانوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ، عام اور سادہ زندگی کی نظر نہ آنے والی پیچیدگیاں، کشمکش اور ان کے باطنی احوال کو تمام تہہ داریوں کے ساتھ بیدی نے کمالِ ہنرمندی سے بیان کیا ہے۔ خصوصاً نسوانی کرداروں کی باطنی کیفیت اور کشمکش کو بیان کرنے کے جتنے اور جیسے طریقے بیدی کے یہاں ملتے ہیں دوسرے افسانہ نگاروں کے یہاں کم نظر آتے ہیں۔( افسانہ لاجونتی -راجندر سنگھ بیدی کا مطالعہ کریں)
اس اعتبار سے ’لاجونتی‘نہ صرف بیدی کابلکہ اردو ادب کا نمائندہ افسانہ ہے۔ اس افسانے میں عورت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔بیدی نے یہ افسانہ تقسیم ہند کے وقت ہونے والے فسادات میں مغویہ عورتوں کی بازیابی کے موضوع پر لکھا ہے۔ ’لاجونتی‘ المیوں کا ایک سلسلہ ہے جس میں پیش آنے والے حادثات اور ان سے وابستہ جذباتی کشمکش کے ہلکے اور گہرے کئی رنگ مسلسل منظرنامے پر ابھرتے اور ڈوبتے رہتے ہیں۔
تقسیمِ ہند ایک جغرافیائی تقسیم نہیں تھی بلکہ یہ ایک جذباتی اور سیاسی تقسیم تھی۔ بہن بھائی سے، دوست دوست سے ، ماں اپنے بیٹے سے اور بیوی اپنے شوہر سے جداہو گئی تھی۔راجندر سنگھ بیدی نے افسانہ’لاجونتی‘ میں مغویہ عورتوں کے جسمانی دکھ درد سے زیادہ ان کے ذہنی ، جذباتی مسائل کو تمام پیچیدگیوں کے ساتھ اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔
افسانے کی ابتداپنجابی گیت ’ہتھ لائیاں کملاں نی لاجونتی دے بوٹے۔۔۔۔ ‘ سے ہو تی ہے جس کا مطلب ہے چھوئی موئی کے پودے ہیں اِنھیں ہاتھ بھی لگاؤ توکمہلا جاتے ہیں۔بیدی نے اس عبارت سے کہانی کے مرکزی خیال کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے کہ عورت کے جذبات واحساسات چھوئی موئی کے پودے کی طرح ہیں۔ اس کے جذبات کو ذرا بھی ٹھیس لگے تو وہ ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے۔
تقسیم کے بعد جب لوگوں کے جسمانی زخم بھر گئے تو ان لوگوں کی طرف توجہ کی گئی جن کی روحیں زخمی ہو گئی تھیں۔ گلی گلی انجمنیں بنیں کہ ’کاروبار میں بساؤ ، زمین پر بساؤ اور گھروں میں بساؤ ‘لیکن ایک صورتِ حال ایسی بھی تھی جس کی طرف عام طور پر توجہ نہیں دی گئی یعنی مغویہ عورتوں کو ’ دل میں بسانے کا مسئلہ ‘۔ اس مسئلے کی نزاکت اور پیچیدگی کے پیشِ نظر کچھ معتبر لوگوں نے محلہ ’ملّا شکور‘ میں ایک کمیٹی قائم کی تاکہ مغویہ عورتوں کو سماج میں دوبارہ قبول کیا جا سکے۔سندرلال کو اس کا سکریٹری اس لیے منتخب کیا گیاکہ اس کی بیوی بھی اغوا ہوئی تھی۔ وہ لوگوں کے اس درد کو اچھی طرح سمجھے گا اور زیادہ دردمندی کے ساتھ اس کا م کو انجام دے گا۔
جب صبح کمیٹی کے لوگ پربھات پھیری کے لیے اس پنجابی گیت ’ ہتھ لائیاں کملاں نی لاجونتی دے بوٹے‘ کو گاتے تو سندرلال کو اپنی بیوی کی یاد آجاتی اور بے ساختہ اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ۔آواز بھرّا جاتی کیوں کہ اس کی بیوی کا نام بھی اتفاق سے لاجونتی تھااور وہ سوچنے لگتا کہ پتہ نہیں وہ کہاں ہوگی؟کس حال میں ہوگی؟ انتہائی مایوسی کے عالم میں لاجوکے بارے میں سوچتے سوچتے اب اس کی کیفیت یہ ہو گئی کہ اس نے لاجو کے بارے میں سوچنابھی چھوڑ دیا تھا۔سندرلال نے اس غم سے نجات حاصل کرنے کے لیے خدمتِ خلق کا ذریعہ ڈھونڈ نکالا اور خود کو عوام کی خدمت میں لگا دیا۔ اتنی مصروفیت کے باوجود سندرلال کے دل میں یہ خیال ضرور آتا کہ انسانی دل کتنا نازک ہوتا ہے، اسے ذرا بھی ٹھیس لگے تو ٹوٹ جاتا ہے مگر اس نے تو اپنی بیوی لاجونتی کے ساتھ بدسلوکی کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا تھا۔پھر بھی لاجونتی نے ان سب باتوں کو بھول کر صبر و ضبط سے کام لیا۔ سندرلال کی بے اعتنائی اور بے رخی کا جواب محبت سے دیا۔ پربھات پھیری کے وقت جب سندرلال کو لاجونتی کی یہ سب باتیں یاد آتیں تو وہ خود سے عہد کرتا کہ اگر اسے لاجو دوبارہ مل گئی تو اسے گھر میں بسانے کے ساتھ دل میں بھی بسائے گا کیوں کہ اغوا ہونے میں ان بیچاری عورتوں کی کیا غلطی؟ وہ تو بے قصور ہیں لیکن لوگ پھر بھی ان معصوموں کو اپنانے سے انکار کر رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں سندرلال کے خیالات ملاحظہ کیجیے:
’ان بیچاری عورتوں کے اغوا ہو جانے میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ فسادیوں کی ہوس ناکیوں کا شکار ہو جانے میں ان کی کوئی غلطی نہیں۔ وہ سماج جواُن معصوم اور بے قصور عورتوں کو قبول نہیں کرتا، انھیں اپنا نہیں لیتا۔ ایک گلا سڑا سماج ہے اور اسے ختم کر دینا چاہیے۔‘ (لاجونتی، مشمولہ افسانوی مجموعہ ’اپنے دکھ مجھے دے دو ‘ از راجندر سنگھ بیدی،ص ۱۲۰)
انسانی نفسیات میں بیدی کا مشاہدہ گہرا ہے۔ انھوں نے سماج پر طنز کیا ہے کہ معاشرہ تنگ دل لوگوںکا ایک بے معنیٰ اجتماع ہے۔ لوگ حالات کا سامنا کرنے سے بھاگتے ہیں۔ یہ تک نہیں سوچتے کہ ایک تو ان بیچاری عورتوں پر ظلم ہوا ہے دوسرے انھیں نہ اپنا کر مزید ظلم کر رہے ہیں۔ان عورتوں کا المیہ یہ ہے کہ غیروں کے ظلم و ستم بر داشت کرنے کے بعد اپنے گھر واپس آکر بھی انھیںروحانی اذیت سے نجات میسرنہیں۔ مندرجہ بالا بیان سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مغویہ عورت کی بازیابی سے پہلے سندرلال کے جذبات اور خیالات کیا تھے؟ یعنی اصولی طور پر تو وہ یہی سمجھتا تھا کہ ان عورتوں کے ساتھ نہایت دردمندی اور اپنائیت کا سلوک ہونا چاہیے لیکن جب حقیقی صورتِ حال خود اس کے ساتھ پیش آتی ہے تو اس کا اپنا عمل اپنے خیالات سے مختلف نظر آنے لگتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں راجندر سنگھ بیدی کا فکر و فن -امتیاز احمد )
مغویہ عورتوں کو ’دل میں بسانے‘ کا پروگرام عروج پر تھا۔اس وقت ہند و پاک کے درمیان اغوا شدہ عورتیں تبادلے میں لائی گئیں اور محلہ ’ملا شکور‘ کے لوگ انھیں مناسب جگہوں پر پہنچانے کے لیے کمر بستہ ہو گئے۔ ان عورتوں کے عزیزان سے ملنے کے لیے ’چوکی کلاں‘ گئے ۔ کچھ لوگوں نے اپنے گھر کی عورتوںکو ا پنا لیا لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنھوں نے اپنی بیٹی ، بہن اور بیوی کو پہچاننے تک سے انکار کر دیا ۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اپنی عفّت اور عصمت بچانے کے لیے مر کیوں نہیں گئیں؟ان کے اس سلوک سے ان عورتوں کے دل پر کیا گزر رہی ہے ،انھیں اس سے سروکار نہیں تھا۔بیدی نے اس کہانی میں ایسی مجبور و لاچار عورتوں کی جذبات نگاری میں کمالِ فن کا مظاہرہ کیا ہے:
’پھر ان میں سے کوئی جی ہی جی میں اپنا نام دہراتی۔۔۔۔ سہاگ ونتی۔۔۔۔ سہاگ والی۔۔۔۔اور اپنے بھائی کو اسی جم غفیر میں دیکھ کر آخری بار کہتی۔۔۔۔ تُوبھی مجھے نہیں پہچانتا بہاری؟‘ (لاجونتی،ص۱۳)
ایک جانب کردار کا سہاگ والی ہوں ادوسری جانب اس کی صورتِ حال نے واقعہ کی ہولناکی کو مزید گہرا دیا ہے۔وہ کیسی سہاگ ونتی ہے جو سہاگ والی ہو کر بھی اُجڑ چکی ہے اور اس کا شوہر تک ا سے پہچاننے سے انکار کر رہا ہے۔ ساتھ ہی وہ بھائی جسے اس نے نہایت شفقت و محبت سے اپنی گود میں عرصے تک کھلایا ہے اور جس نے راکھی بندھوا کر یہ عہد کیا تھا کہ ہرمصیبت و پریشانی میں بہن کا ساتھ دے گا لیکن ایسے نازک موقع پر بھائی، بہن کی پریشانی دور کرنے کے بجائے اسے پہچاننے سے بھی انکار کر دیتا ہے۔ ’تو بھی مجھے نہیں پہچانتا بہاری؟‘ان الفاظ میں کتنا دردہے، کتنا سوزہے۔ اس کیفیت کو پیدا کرنے کے لیے بیدی نے جو سیاق و سباق فراہم کیا ہے اور جو فضا آفرینی کی ہے وہ جملے میں معنی کی شدت کو بڑھا دیتی ہے۔ بہن کی بہت کوششوں کے باوجود بھائی پر کسی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں پر لطیف طنز ہے جنھیں کھوکھلی سماجی قدریں انسانی رشتوں سے زیادہ عزیز ہیں۔
تبادلے میں لائی گئی مغویہ عورتوں کو دیکھنے کے بعد سندرلال نا امید ہو جاتا ہے کیوں کہ ان میں اس کی لاجونتی نہیں تھی۔ اس کے باوجود وہ مزید حوصلے اور تن دہی کے ساتھ ’دل میں بساؤ‘ تحریک کی سرگرمیوں میں مصروف رہتا ہے۔ اب اس کا غم اپنا نہ رہ کر سارے جہاں کا درد بن گیا تھا۔
سندرلال جب امرتسر جانے کی تیاری کر رہا تھا تو اسے لاجو کے واپس آنے کی خبر ملی۔ یہ خبراسے لال چند نے دی۔ لال چند سے یہ بات سن کر سندرلال کو لاجونتی کے تیندولے یاد آ جاتے ہیں جو اس نے بچپن میں خود بنوائے تھے:
’ان تیندولوں کی طرف انگلی کرتے ہی لاجونتی شرما جاتی تھی۔۔۔۔ اور گم ہو جاتی تھی، اپنے آپ میں سمٹ جاتی تھی۔ گویا اس کے سب راز کسی کو معلوم ہو گئے ہیں اور نامعلوم خزانے کے لُٹ جانے سے وہ مفلس ہو گئی ہو۔‘ (لاجونتی،ص ۱۸)
بیدی نے جسم کے تیندولوں کی طرف انگلی کے اشارے کے بعد لاجونتی کے ردِ عمل میں چھوئی موئی کے پودوں کاسا ردِ عمل دکھلا کر کہانی کی بنیادی تھیم کی طرف اشارہ بھی کیا ہے اور نا معلوم خزانے کے لٹ جانے کا بیان دراصل پیش آنے والے واقعات کا اشاریہ ہے۔
اس وقت صرف مغویہ عورتوں کا تبادلہ ہی نہیں ہو رہا تھا بلکہ لوگ پسِ پردہ جسموں کی تجارت بھی کر رہے تھے۔عورتوں کے جذبات و احساسات بے دردی اور بے ر حمی سے پامال ہو رہے تھے۔ تبادلہ بھی ایک کاروبار کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ ان میں لاجونتی خاموش کھڑی سوچ رہی تھی کہ پتہ نہیں اس کا شوہر اسے قبول کرے گا یا نہیں؟لاجونتی کی اس ذہنی کیفیت کو بیان کرکے بیدی نے دراصل تمام مغویہ عورتوں کے جذبات کی عکاسی کی ہے۔
جب سندرلال نے لاجونتی کو دیکھا تو اسے اس بات سے صدمہ پہنچا کہ وہ اس کے غم میں کمزور ہونے کے بجائے تندرست و توانا ہو گئی ہے۔ بہرحال سندرلال لاجونتی کو اپنے ساتھ گھر واپس لے آیا جیسے رام چندر اور سیتابن باس کے بعد اجودھیا واپس ہو رہے ہیں ۔ سندرلال چوں کہ ’دل میں بساؤ‘ تحریک کا سکریٹری تھا اس لیے وہ قول کے ساتھ اپنے عمل سے بھی اس کا ثبوت دینا چاہتا ہے اورلاجونتی کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے۔ مگر اب اس کا رویہ بالکل تبدیل ہو گیا ۔وہ لاجونتی کے ساتھ بدسلوکی کے بجائے نرمی اور ہمدردی سے پیش آنے لگا۔ سندرلال کی اس فراخ دلی کو دیکھتے ہوئے لاجونتی اب اسے اپنی گزری ہوئی باتیں سنا کر اپنا غم ہلکا کرنا چاہتی ہے لیکن سندرلال ماضی کی باتیں سننے سے شعوری طور پر گریزکرتا ہے۔ اچانک لاجونتی کی خوشی غم میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جب اس کاشوہر سندرلال اسے دیوی کہنے لگتا ہے اورلاجو کے ساتھ اس طرح سلوک کرتا ہے جیسے وہ کوئی نازک چیز ہو۔ سندرلال کی یہی بات لاجوکے لیے صدمے کا سبب بنتی ہے کیوں کہ وہ سندرلال کی وہی پہلے والی لاجو بننا چاہتی ہے۔ اب ان کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔ اپنائیت اور روحانی تعلق بھی ختم ہو جاتا ہے۔سندرلال کے اس رویے کی وجہ سے لاجونتی یہ سوچتی ہے کہ وہ تو بس کر بھی اُجڑ گئی۔ صورتِ حال کی یہی تبدیلی لاجوکا المیہ اور کہانی کا بنیادی مسئلہ ہے۔
’لاجونتی‘ افسانے کا پلاٹ مربوط ہے۔ بیدی انسانی نفسیات کے ماہر ہیں۔ اس کہانی میں بھی بیدی نے کمالِ فن سے سندرلال اور لاجونتی کی نفسیات پیش کی ہے۔ افسانے میں کرداروں کے مکالمے اور واقعات کے ذریعہ ان کے ذہن کو پیش کیا گیا ہے۔ فسادات کا عام لوگوں پر کیا اثرہوا؟ وہ کن پریشانیوں کا شکار ہوئے؟ غیر یقینی صورتِ حال نے لوگوں کی سماجی اور ازدواجی زندگی پر کیا اثرات مرتب کیے؟
لاجونتی جو افسانے کا مرکزی کردار ہے، کہانی کے انجام تک آتے آتے ہمہ گیر صورتِ حال کا استعارہ بن جاتی ہے۔ کہانی میں لاجونتی کے ذہنی اور جذباتی رویوں کو زیادہ نمایاں کیا گیا ہے۔ بیدی بہت کم لفظوں میں زیادہ بات کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔ مثلاً جب لاجونتی سرحد پر کھڑی یہ سوچتی ہے کہ معلوم نہیں اس کا شوہر اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا کیوں کہ وہ تو پہلے سے ہی بہت سخت تھا۔ لاجونتی کے اس سوچنے کے عمل سے قاری یہ سمجھ جاتا ہے کہ اس کے ساتھ کیا کچھ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے شوہر سے خوف زدہ ہے۔
لاجونتی نرم دل، ہنس مکھ اور محنتی عورت ہے۔ وہ اپنے شوہر سے بے انتہا محبت کرتی ہے۔ اس لیے سندرلال کے مارنے پر بھی اس سے زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہتی۔ شوہر کی خوشنودی کو لاجونتی اپنا فریضہ سمجھتی ہے۔
اس افسانے کا دوسرا کردار سندرلال بہت حساس اور درد مند دل رکھنے والا انسان ہے ۔ اس کے نزدیک انسانیت ایک بنیادی قدر ہے۔ وہ عوامی فلاح و بہبود میں سرگرم رہتا ہے۔ چنانچہ لاجو کے واپس آجانے پر بھی ’ دل میں بساؤ‘ تحریک میں فعال رہتا ہے۔ لاجو کے اتنے دن دوسرے مرد کے ساتھ رہنے پر بھی سندرلال لاجو کو اپنا لیتا ہے کہ اس میں اس مظلوم عورت کا کوئی قصور نہیں۔ اس رویے کے باوجود سندرلال لاجو کے بارے میں سب کچھ جاننا چاہتا ہے کہ لاجو کہاں تھی؟ کس کے ساتھ تھی؟ اس کے ساتھ کیا واقعات پیش آئے؟ جذباتی کشمکش اور اضطراب کی کیفیت سے لبریز ہو کر سندرلال اتنا ضرور پوچھتا ہے:
’کون تھا وہ؟‘
لاجونتی نے نگاہیں نیچی کرتے ہوئے کہا ’جماں‘۔۔۔۔
سندرلال نے پوچھا۔’ اچھا سلوک کرتا تھا وہ؟‘
’ہاں‘
’مارتا تو نہیں تھا؟‘
لاجونتی نے اپنا سر سندرلال کی چھاتی پر سرکاتے ہو ئے کہا۔’نہیں ‘اور پھر بولی۔ ’وہ مجھے مارتا نہیں تھا پر مجھے اس سے زیادہ ڈر لگتا تھا ۔ تم مجھے مارتے بھی تھے پر میں تم سے ڈرتی نہیں تھی ۔۔۔۔ اب تو نہ ماروگے؟‘
سندرلال کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے اور اس نے بڑ ی ند امت اور بڑے تاسف سے کہا۔ ’نہیں دیوی! اب نہیں۔۔۔۔ نہیں ماروں گا۔۔۔۔‘
’دیوی!‘ لاجونتی نے سوچا اور وہ بھی آنسو بہانے لگی اور اس کے بعد لاجونتی سب کچھ کہہ دینا چاہتی تھی لیکن سندرلال نے کہا۔’ جانے بھی دو بیتی باتیں۔‘ (لاجونتی، ص ۲۳ تا ۲۴)
مندرجہ بالا بیان میں بیدی نے دونوں کرداروں کی نفسیات نہایت خوبی سے پیش کر دی ہے۔ داخلی کشمکش سے مجبور ہو کر سندرلال نے لاجو سے یہ سب پوچھ تو لیا لیکن پھر خود پر وہ پابندیاں عائد کر لیتا ہے جو سماجی فلاح کے لیے اس نے شعوری طور پر اختیار کر رکھی تھیں۔ وہ لاجونتی کو دیوی کا روپ دے دیتا ہے اور اس بات پر شرمندہ ہوتا ہے کہ اس نے لاجو کی پہلے قدر کیوں نہیں کی۔وہ لاجونتی سے یہ وعد ہ کرتا ہے کہ آئندہ اسے کبھی نہیں مارے گا۔ لاجونتی کے یہ الفاظ کہ ’ وہ مجھے مارتا نہیں تھا ،پر مجھے اس سے زیادہ ڈر لگتا تھا۔تم مجھے مارتے بھی تھے پر میں تم سے ڈرتی نہیں تھی۔ ‘بیدی اس میں لاجونتی کی شخصیت اور عورت کی نفسیات کو نمایاں کرتے ہیں۔ساتھ ہی بیدی نے عورت اورمرد کے درمیان رشتے کی پیچیدہ نوعیت کو بھی نمایاں کیا ہے۔سندرلال لاجونتی کو مارتا تھا لیکن اب سب کچھ بھول کر نہایت اپنائیت سے پیش آتا ہے۔ چنانچہ مار کھا کربھی لاجونتی کو اتنا صدمہ نہیں پہنچتا جتنا کہ اسے دیوی کہنے اور محبت کے بجائے احترام کے ساتھ پیش آنے پر ۔کیوں کہ عورت، دیوی بن کر اتنا مطمئن نہیں ہوتی جتنا عورت ہو کر آسودہ اور مطمئن رہتی ہے۔ لاجو، سندرلال سے وہ سب کچھ چاہتی ہے جو ایک بیوی کا حق ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ حالات کی مجبوری کے تحت لاجو سندرلال کو اس بات کے لیے مجبور بھی نہیں کر پاتی۔وہ تو سندرلال کی احسان مند ہے کہ اس نے اسے پھر سے اپنا لیا، اپنے گھر میں رہنے کی جگہ دی اور لاجو کو بہ ظاہر اس کا سماجی وقار واپس دلایا۔ لاجونتی سندرلال کو اپنے غم میں شریک کرنا چاہتی ہے جسے سننے کے لیے سندرلال تیارنہیں۔کیوں کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس پر بات کرنے سے لاجو کو تکلیف ہوگی اور اس کے زخم پھر تازہ ہو جائیں گے ۔ بیدی نے اس افسانے میں ایک صورتِ حال کے تئیں دونوں کرداروں کے ذہنی رویوں میں کشمکش کو نمایاں کیا ہے۔لاجو کی ظاہری زندگی تو آباد ہو جاتی ہے لیکن اس کا باطن اور اس کی روح ویران رہتی ہے کہ مرد اور عورت کا باہمی اعتماد اور بے محابا تعلق باقی نہیں رہا۔ (یہ بھی پڑھیں راجندر سنگھ بیدی کا فکر و فن -امتیاز احمد )
بیدی نے مکالموں کی مدد سے بنیادی مسئلے کی پیچیدگیوں کو نمایاں کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ افسانہ بیانیہ تکنیک میں شروع ہوتا ہے۔ پھر داخلی خود کلامی کی تکنیک کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ اس کے بعد سندرلال اور اس کے دوست لال چند کے درمیان مکالمہ ہے۔ سندرلال اور لال چند کا مکالمہ دراصل تقسیم ہند کے بعد عورتوں کے تبادلے میں معاشرے کے غیر انسانی رویوں کو واضح کرتا ہے۔ عورتیں فقط نفسانی شہوت کی تسکین کا آلہ تھیں۔ بیدی نے اس پوری صورتِ حال میں عورت کے ذہنی کرب اور اس کے وجود کی معنویت کو سندرلال اور لال چند کے مکالمہ کے ذریعے واضح کیا ہے۔ بیدی نے کرداروں کی عمر، رشتے اور محلِ وقوع کی مناسبت سے مکالمے لکھے ہیں۔
افسانے کی تشبیہات بھی اپنے مخصوص سیاق و سباق میں غور و خوض کا مطالبہ کرتی ہیں:
’لاجوایک پتلی شہتوت کی ڈال کی طرح نازک سی دیہاتی لڑکی تھی۔‘(لاجونتی،ص ۱۰)
’اس کا اضطراب شبنم کے اس قطرے کی طرح تھا جو پارہ بن کر اس کے بڑے پتے پرکبھی ادھر کبھی ادھر لڑھکتا رہتا ہے۔‘ (لاجونتی، ص ۱۱)
’وہ عورتیں جو بڑی محفوظ اس پار پہنچ گئی تھیں ۔ گوبھی کے پھولوں کی طرح پھیلی پڑی تھیں۔‘ (لاجونتی، ص ۱۲)
جس طرح سے شہتوت کی ڈالی نازک اور لچیلی ہوتی ہے اسی طر ح سے لاجو بھی نازک تھی۔ لاجونتی کے مزاج کی عکاسی کے لیے بیدی نے پارے کی تشبیہہ استعمال کی ہے جیسے پارے کو قرارنہیں ہوتا ویسے ہی لاجونتی کی طبیعت میں بھی سیمابیت تھی۔وہ عورتیں جو تقسیم میں اپنے شوہروں کے ساتھ دوسری طرف محفوظ پہنچ گئی تھیں وہ گوبھی کے پھولوں کی طرح کھلی ہوئی تھیں لیکن بے مزہ اور بے کیف۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دوسری طرف محفوظ پہنچ گئی تھیں۔
اس طرح بیدی نے برمحل اور مناسب فنی خصوصیات کا استعمال کرکے افسانے کے حسن میں اضافہ کیا ہے۔ یہ بیدی کا ہنر ہے کہ انھوں نے کمالِ فنکاری سے اپنی بات قارئین تک پہنچا دی ہے۔ اگر وہ براہِ راست اپنا کوئی ردِ عمل ظاہر کرتے تو اس میں شاید وہ حسن پیدا نہ ہوتا جو انھوں نے سندرلال ، لاجونتی اور دوسرے کرداروں کی مدد سے پیدا کیا ہے۔
ڈاکٹر حنا آفریں
اسسٹنٹ پروفیسر
اکادمی برائے فروغِ استعدادِ اردو میڈیم اساتذہ
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

