جمعے کی نماز کے بعد محلے کے جامع مسجد میں سمیرصاحب کا عقد ہوا۔ شریک سفر کو ساتھ لئے اپنے دولت خانے پر تشریف لے آئے۔ دوسرے دن مسکینوں کو کھانا کھلایا گیا اور ہمسایوں کے گھر کھجور تقسیم کیا گیا۔ یوں رسم ولیمہ کی ادائیگی ہوئی۔
حمید صاحب علاقے کے بہت ہی معزز، شریف اور رئیس مانے جاتے ہیں۔ سمیر صاحب کو دیکھتے ہی دور سے آواز لگائی، کیوں میاں سمیر! ایسی بھی کیا مجبوری تھی جو فقیروں کے گھر نسبت کر آۓ۔ جہیز تو دور ہے لڑکی والوں نے تو ایک جوڑا بھی دے کر رخصت نہ کیا۔ اور آپ نے بھی ایسی شادی کی گویا میت ہوئی ہو۔ اجی میت میں بھی چار سے زیادہ لوگ ہوتے ہیں۔ سمیر صاحب نے نہایت انکساری سے لبوں پر مسکراہٹ سجاۓ گویا ہوئے، میت کو کاندھا دینے کے لئے چار لوگوں کی ضرورت ہوتی ہےجناب مگر نکاہ کے لئے تو دو گواہ فرض ہے۔ بہر کیف نکاہ کے ذریعے سنت کی ادائیگی تو ہوگئی۔ اب مَیں شریک حیات اور والدین کے ہمراہ حج کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اگلے جمعے کو روانگی ہے دعا کیجئے کہ فرض بھی بخیر ادا ہو جاۓ۔
حج سے واپسی کے بعد میوے اور زمزم کا تبرک لے کر سمیر صاحبَ، حمید صاحب کی رہائش گاہ پر پہنچے تو لوگوں کا ہجوم دیکھ کر تشویش ہوئی۔ تفتیش کے بعد معلوم ہوا کے جمے کے دن حمید صاحب کے صاحبزادے کی شادی ہوئی۔ لڑکی کے والد محترم نے اپنا ایک گردہ فروخت کر کے تقریباً پانچ سو وی آئی پی براتیوں کی خاطرتواضع، بیٹی کی جہیز اور دیگر لوازمات کا انتظام تو کر دیامگر کچھ جہیز باقی رہ گئے جو ولیمے کے دن دینا تھا۔ آج ولیمہ ہے بقایا جہیز ابھی تک نہیں دیا گیا۔ حمید صاحب کو سماج میں چار لوگوں کو منھ بھی دکھانا ہےاور لوگوں کے لعن طعن کے کیسے فقیروں کے گھر بیٹے کا رشتہ جوڑ آۓ۔ لڑکی اپنے والد کو دوسرا گردہ فروخت کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی تھی کیوںکہ والد محترم کے سرماۓ پر تمام اولاد کا حق ہوتا ہے۔ ابھی ایک اور بہن شادی کےلئے تیار تھی۔ دوسری جانب خسر کی عزت بھی داؤ پر لگی تھی۔ بالاآخر یہ نتیجہ نکلا کہ کلائی کی نبض کاٹ کر والد اور خسر دونوں کو اس کش مکش سے نجات دلادی جاۓ۔ سمیر صاحب زمزم ہاتھوں میں لئے ٹھہرے رہ گئے۔ انکی سماعت سے کسی کا فقره ٹکرایا۔
"اجی یہ شادی ہے یا میّت۔۔۔۔؟”


1 comment
[…] ادب کا مستقبل […]