Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

’’غبار خاطر‘‘ کا اسلوبیاتی تناطر – ڈاکٹر قسیم اختر

by adbimiras اگست 24, 2021
by adbimiras اگست 24, 2021 0 comment

موضوعات ومواد کے برخلاف مولانا ابوالکلام کی نثر کی پہلی خصوصیت ان کا پرشکوہ اسلوب ہے۔ان کے اسلوب میں علم کی گہرائی کا احساس بسا ہے تو ان کی علمی انانیت کا پس منظر بھی ۔کیوں کہ تشکیلِ اسلوب کا معاملہ انسان کی داخلیت سے بھی جڑا ہوتا ہے۔اس لیے یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ لفظی انتخاب کا معاملہ نفسیاتی معاملات سے بھی متعلق ہوتا ہے۔ حالاں کہ بہت سے اسلوبیاتی ناقدین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اسلوب کا مطالعہ دراصل معروضی مطالعہ ہوتا ۔ ہمیں بھی یہ تسلیم ہے کہ اسلوبیاتی مطالعہ ایک معروضی مطالعہ ہے تاہم یہ بات بھی اہم ہوسکتی ہے کہ اسلوبیات، لسانیات سے حددرجہ قریب ہونے کے باوجود لسانیاتی سروکار سے قدرے مختلف ہوتی ہے۔ کیوں کہ لسانیات میں فقط الفاظ کے استعمال اور صوتی آہنگ سے زیادہ رابطہ رکھا جاتا ہے تاہم اسلوبیات میں صوت مزاج کے ساتھ معنیاتی نظام کو بھی زیر بحث لایا جاتاہے۔ ظاہر ہے جب معنیاتی نظام کو زیر بحث لایا جائے گا تو ازخود اسلوبیاتی کی معروضیت میں لچک پیدا ہوگی ۔ اسلوبیاتی کے تناظر میں پروفیسر گوپی چند نارنگ نے اپنی کتاب ’’’ادبی تنقید اور اسلوبیات‘‘ میں لکھا ہے ـ’’صوتیات ، لفظیات ، نحویات اور معنیات ‘‘ کا تعلق اسلوبیاتی تجزیے سے ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں:

’’زبان ان چاروں سے مل کر متشکل ہوتی ہے۔ خالص لسانیاتی تجزیوں میں کسی بھی سطح کو الگ سے بھی لیا جاسکتا ہے لیکن ادبی اظہار کے تجزیے میں ہر سطح کے تصور میں زبان کا کلی تصور شامل رہتا ہے۔ اس لیے معنی لفظ ہے اور لفظ معنی ۔ معنی کی اکائی کلمہ ہے اور کلمہ لفظ یا لفظوں کا مجموعہ ہے۔ اور خود لفظ آواز یا آوازوں کا مجموعہ ہے۔ یعنی اسلوبیاتی تجزیے میں خواہ ایسا ظاہر نہ کیا گیا ہواور سائنسی طور پر محض کسی ایک سطح کا تجزیہ کیا گیا ہو‘‘۔ (1)

اس اقتباس سے تشکیلِ اسلوب کے معاملات سامنے آتے ہیں، یعنی اسلوب کا معاملہ فقط لفظی انتخاب سے نہیں ہوتا ہے بلکہ معانی سے بھی اسلوب میں زور پیدا ہوتا ہے۔ اسلوب اور معنی ہم آہنگ ہو کر صوتیات کو مضبوطی فراہم کرتے ہیں۔گوپی چند نارنگ کا  خیال ہے کہ زبان کو معانی سے الگ نہیں کرسکتے۔ اسلوبیات میں نتائج اخذ کرتے ہوئے اس طرح کے خطرے سے آگاہ رہنا ضروری ہے کہ اسلوبیاتی تجزیہ محض ہیئتی تجزیہ نہیں جس پر ’’نئی تنقید ‘‘کا دار ومدار ہے۔ اردو میں مسعود حسین خان اور پروفیسر نارنگ نے اسلوبیاتی حوالوں سے بہت کام کیا ہے ۔ ان کے اسلوبیاتی تجزیے میں ہم اس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ انھوں نے اسلوبیاتی نظام کو معنیاتی نظام سے الگ نہیں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اسلوبیاتی مطالعے میں تنقیدی احساس بھی بسا ہوا ہے اور لسانیاتی معاملات بھی۔ اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خبار خاطر کے مطالعے میں ہم ادبی اسلوبیات کے اصولوں سے ہی سروکار رکھیں۔ (یہ بھی پڑھیں مولانا آزاد کا تصوّرِ تعلیم – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

مولانا ابوالکلام کے نثر ی اسلوب میں ان کی زندگی اور خاندانی پس منظر کا بھی بڑا عمل دخل ہے اور ان کے خطیبانہ آہنگ کابھی۔ اسی طرح کم عمری میں انھوں نے جو کچھ حاصل کیا ہے ، اس سے بھی کسی خود اعتمادی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مولانا ابوالکلام آزادؔ ایک ایسی ہی شخصیت کا نام ہے جو آج بھی ہماری بے توجہی کے باوجود زندہ ہے۔ وجہ ظاہر ہے کہ مولانا آزادوہ دیدہ ور تھے جونرگس کے ہزاروں سال آنسو بہانے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صرف چودہ سال کی عمر میں مشرقی علوم کا نصاب مکمل کرلینا اور پندرہ سال کی عمر میں ماہنامہ جاری کرنا ان کے لیجینڈ ہونے کا ثبوت ہے۔ وہ ایک جادو بیان خطیب، بے مثال صحافی، اصول پسند سیاست داں، قوم وملت کا ہمدرد رہنما اور مفسرقرآن ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی طرز کے ایک منفرد انشائ پرداز بھی تھے۔ ان کے خطوط کا مجموعہ’’غبار خاطر‘‘ ان کے اسلوب کا نادر تحفہ ہے۔قلعہ احمد نگر میں اسیری کے دوران مولانا آزاد نے یہ خطوط لکھے تھے۔ حالانکہ یہ اسیری بڑی سخت تھی۔ کسی سے ملنے اور خط و کتابت پر بھی پابندی تھی۔مولانا کسی سے مراسلت نہیں کرسکتے تھے مگر دل کا غبار نکالنے کے لیے قلم و قرطاس تو تھے ہی۔یہ ’’غبار‘‘ جب یکجا ہو گئے تو ’’غبار خاطر‘‘ کی صورت میں سامنے آئے اور آج بھی اس کا’’ غبار‘‘ ہر قاری اپنے دماغ میں محسوس کرتاہے۔

مولانا ابوالکلام آزاد کی زندگی کی مذکورہ خصوصیات کا سرا اگر ان کے اسلوب سے جوڑیں تو از خود واضح ہوگا کہ ان کے اندر خود داری اور خود اعتمادی کا جوہر تھا۔دانشورانہ روایت اور خاندانی وجاہت کے ساتھ ان کے اندر صحافیانہ مزاج تھا۔ ظاہر ہے جب یہ تمام خصوصیات مدغم ہوکر ایک انسان کا اسلوب ٹھہرے تو اس میں پرشکوہ انداز ہوگا، جیسا کہ ہم مولانا ابوالکلام آزاد کے اسلوب میں پاتے ہیں۔اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ کسی صاحب قلم کے اسلوب میں موضوعات ومواد کی وجہ سے معمولی تبدیلی تو آتی ہے، تاہم اس تبدیلی میں صاحب قلم کی انفرادیت ڈھونڈلیتے ہیں۔

مولانا ابوالکلام نے مختلف موضوعات پر خامہ فرسائی کی ہے۔اسلامی موضوعات اور سیاسی معاملات کو زیربحث لایا ہے۔ ’’ غبار خاطر‘‘ دراصل خطوط کا مجموعہ ہے ، تاہم ان خطوط کی نوعیت علمی اور تحقیقی مزاج سے مل جاتی ہے۔ اس لیے ہم اس مجموعے میں اسلوب کے مختلف رنگ دیکھتے ہیں اور دیگر مقامات پر بھی ان کے اسلوب کے مختلف رنگ نظر آتے ہیں، تاہم ہر جگہ ان کا پرشکوہ انداز ہمیں متوجہ کرتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں تذکرہ: مولانا ابوالکلام آزاد – پروفیسر کوثر مظہری )

الہلال اور البلاغ کے اداریے دیکھیں ان کا الگ ہی انداز ہے۔ ’’تذکرہ‘‘ کے لیے جو اسلوب اختیار کیاجانا چاہیے مولاناآزاد وہاں وہی اسلوب اپناتے ہیں۔اسی طرح غبار خاطر میں ہمیں کوئی ایک اسٹائل نہیں ملتا بلکہ مکتوبات کے موضوعات جدا جدا ہونے کی بنا پر طرز نگارش بھی جدا جدا اختیار کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہماری ملاقات کہیں آسان اور عام فہم نثر سے ہوتی ہے تو کہیںشاعرانہ چاشنی کچھ اور ہی لطف دے جاتی ہے اور کہیں فارسی آمیز علمی زبان ہماری فہم  ولیاقت کا امتحان لیتی نظر آتی ہے۔ مولانا آزاد کی اسی طرز نگارش کا ذکر کرتے ہوئے عبدالقوی دسنوی لکھتے ہیں:

’’ان میں کبھی وہ انشائیہ نگار بن جاتے ہیں،کبھی کہانی کار، کبھی مورخ، کبھی فلسفی، کبھی محقق، کبھی ناقد، کبھی موسیقی نواز، کبھی انسانیت کے علمبردار اور کبھی محض ایک خط نگار۔ یہ سارے خطوط غبار خاطر میں جمع ہیں اور اردو ادب میں اہم اضافہ ہیں۔‘‘ (2)

عبدالقوی دسنوی کی ان تمام باتوں سے اتفاق کیا جاسکتاہے۔ کیوں کہ انشائیہ دراصل زبان کی ترنگ ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے لفظوں کے انتخاب میں جہاں صوتی آہنگ سے سروکار رکھا ، وہیں انھوں نے تشکیل زبان میں ترنگ کو بھی سمویا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خبار خاطر کی قرأت کے دوران ہم زیر لب مسکرابھی دیتے ہیں۔ یہی وہ خصوصیت ہے کہ ہم ان کے اسلوب کو انشائیہ سے جوڑتے ہیں۔اسی طرح کہانی کے لیے بیانیہ ایک لازمی عنصر ہے اور بیانیہ اس وقت دل چسپ ہوتا ہے جب پلاٹنگ کا خیال رکھا جائے۔ ’’چڑیا چڑے‘‘ میں بیانیہ اور واقعات کے معروضی ارتباط کا طریقہ موجود ہے ۔ اس لیے ہم ’’ خبار خاطر‘‘ میں ایک بیان کنندہ ابوالکلام کو بھی دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ مولانا اس میں مورخ بھی نظر آتے ہیں، وہ بھی نہ صرف ایسے مورخ جو فقط اپنے زمانے کی تاریخ بیان کررہا ہو ، بلکہ اپنے سے ماقبل تاریخ کا بھی تجزیہ بھی ۔ تاریخی تجزیہ نہ صرف ابوالکلام آزاد کی علمیت کا ثبوت ہے بلکہ ان کی یاد داشت پر عش عش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ رہی بات موسیقی کی تو اس کے متعلق طویل ترین مضمون اس میں موجود ہے۔ یہ مضمون جہاں ان کی علمیت کی طرف اشارہ کرتا ہے ، وہیں اسلام اور موسیقی کے متعلق آگاہی اور علمی استحضار کی دلیل فراہم کرتا ہے۔ اس لیے یہ عبدالقوی دسنوی کے ہر اشارے سے ان کے لیے اتفاق کرنا آسان ہے جس نے گیرائی کے ساتھ ’’ غبار خاطر ‘‘ کا مطالعہ کیا ہے۔

مولانا ابوالکلام آزاد کے اسی اسلوب کی تحسین کرتے ہوئے عبدالماجد دریابادی نے قلم توڑ دیاہے۔ ان کے الفاظ میں:

’’خدا جانے کتنے نئے اور بھاری بھرکم لغات اور نئی ترکیب اور نئی تشبیہیں اور نئے اسلوب ہر ہفتے اسی ادبی اور علمی ٹکسال سے ڈھل ڈھل کر باہر نکلنے لگے اور جاذبیت کا یہ عالم تھا کہ نکلتے ہی سکہ رائج الوقت بن گئے۔ حالی وشبلی کی سلاست، سادگی سر پیٹتی رہی اور اکبر الہ آبادی اور عبدالحق سب ہائے ہائے کرتے رہ گئے۔‘‘(3)

یہ سچی بات ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کا اسلوب فقط بھاری بھرکم الفاظ سے ہی تشکیل نہیں پاتا ہے بلکہ نئی نئی ترکیبوں اور تشبیہوں نے ان کی نثرکو تازگی عطا کی ہے۔ شاعری میں تراکیب کی اپنی معنویت اور گیرائی ہوتی ہے ۔ شاید ان ترکیبوں اور تشبیہوں نے ان کی نثر کو مالامال کیا ہے۔

مولاناابوالکلام آزاد نے غبار خاطر کے کئی خطوط میں عام فہم زبان استعمال کی ہے۔ بعض علامتی کہانیوں میں بھی ان کا اسلوب سادہ اورسلیس ہے۔ اس لیے کہ بظاہر مکتوب ہونے کے باوجود یہ ایک کہانی ہے۔ اورمولانا آزاد کہانی کے فن سے واقف تھے۔ مثال کے طو رپر’’چڑیا چڑے کی کہانی‘‘ کو دیکھاجاسکتاہے۔ (یہ بھی پڑھیں آزادبھارت میں ہندو مسلم اتحاد کا مشعل بردار:  مولانا ابو الکلام آزاد – ڈاکٹرعبدا لرزاق زیادی )

دوسری طرف جیسا کہ اوپر عرض کیاگیا شاعرانہ انداز بیان بھی اختیار کیاگیا ہے۔ یہ انداز غبار خاطر کا وصف خاص ہے۔ اس انداز بیان کے ساتھ اشعار کا استعمال بھی کثرت سے ملتا ہے۔لیکن مولانا آزاد کو پورے طور پر سمجھنا ہر کس وناکس کے بس کی بات نہیں ہے۔ کیوں کہ اس میں عربی کے اشعار کے ساتھ ایسے نامانوس الفاظ اور ترکیبات کا استعمال بھی ملتا ہے جنہیں عربی زبان سے پوری واقفیت کے بغیرنہیں سمجھا جا سکتا۔مولانا نے عربی فقرے، ضر ب الامثال اور ترکیبوں کوتو اپنایا ہی ساتھ ہی فارسی تراکیب اور الفاظ کا استعمال بھی کثرت سے کیا ہے۔غبار خاطر کا آغاز ہی فارسی کے ایک شعر سے ہوتا ہے۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مولانا آزاد اردو کے ہی نہیں عربی و فارسی کے بھی جید عالم تھے اوران کی علمیت ان کی تحریروں میں عودعود کر آتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

مولانا آزاد کے ان مکتوبات میں طنز و مزاح کی چاشنی بھی ہے جو زبان کی مشکل پسندی کے باوجود ان کی تحریر کو دلچسپ اور دل نواز بناتی ہے۔ ان تحریروں میں مولانا آزاد کی شخصیت بھی جھلکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔سب سے حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ قید و بند کی صعوبت میں بھی مولانا کی رومان پسندی نہیں جاتی۔وہ اس انداز سے شرح دل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جیسے نہایت خوشگوار ماحول میں قلم کاغذ لیے بیٹھے ہوں۔ اوردنیا و مافیہا سے بے نیاز یادوں کے تہہ خانے کا در وا کر کے ہیرے جواہرات لٹالٹاکر خوش ہورہے ہوں۔ ان کے اسلوب کی یہی دلکشی ہے کہ حامدی کاشمیری ان خطوط کو خطوط نہیں انشائیہ قرار دیتے ہیں۔یہ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’ غور سے دیکھاجائے تو’’غبار خاطر‘‘ کے مکتوبات، مکتوبات سے زیادہ انشائیہ نگاری کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ایسامعلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے حالت اسیری میں قلم ہاتھ میں لے کر اپنے حافظے میں محفوظ واقعات اور مشاہدات کو سپرد قرطاس کیا ہے اور ساتھ ہی اپنی علمیت، عقاید، افکار اور نظریات کا اظہار بھی کیا ہے۔ چنانچہ’’غبار خاطر‘‘ میں مذہب، خدا، کائنات او رغم و مسرت جیسے گمبھیر مسائل سے لے کر حریفان سقف و بام یعنی چڑیوں سے محاذ آرائی جیسے مزاحیہ واقعے کے بیان تک مصنف نے پوری ذہنی آزادی اور طبیعت کی ترنگ کے مطابق اپنے خیالات و تاثرات کو قلمبند کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی نگارشات انشائیہ نگاری ہی کے ذیل میں آتی ہیں…‘‘(4)

 

اب تک میں نے ’’غبارخاطر‘‘ سے کوئی اقتباس درج کرنے سے گریز کیا لیکن اس کے بغیران کے اسلوب پر گفتگو نامکمل ہوگی۔ چند خطوط سے منتخب یہ اقتباسات ملاحظہ فرمائیں جو ان کے الگ الگ انداز بیان کو واضح کرتے ہیں:

اقتباس نمبر ۔۱

’’موتی کے گھونسلے سے ایک بچے کی آواز عرصہ سے آرہی تھی۔ جب وہ دانوں پر چونچ مارتی تو ایک دو دانوں سے زیادہ نہ لیتی اور فوراً گھونسلے کا رخ کرتی وہاں اس کے پہنچتے ہی بچے کا شور شروع ہوجاتا۔ ایک دو سکنڈ بعد پھر آتی اور دانہ لے کر اڑجاتی۔ ایک مرتبہ میں نے گنا تو ایک منٹ کے اندر سات مرتبہ آئی گئی۔‘‘

اقتباس نمبر۔۲

’’… اصحاف کہف کی نسبت کہاگیا ہے۔ فَضَرَبۡنَا عَلٰی أذَانِھِم فی الۡکَھۡفِ سِنِیۡنَ عَدَداً توایسی ہی ضرب علی الاذان کی حالت ہم پربھی طار ہوگئی۔ گویا جس دنیا میں بستے تھے وہ دنیا ہی نہ رہی:

کانَ لَم یَکُن بَینَ الۡحَجُون اِلی الصَّفَا

اَنیسٗ  وَلَم یَسۡمَرۡ بَمَکّۃَ سَامِرُ!

اقتباس نمبر۔۳

’’ایں رسم و راہ تازۂ حرمان عہد ماست

عنقا بہ روزگار کسے نامہ بر نہ بود

صدیق مکرم!

وہی چار بجے صبح کا جانفزا وقت ہے ، چاے کا فنجان سامنے دھرا ہے ، اور طبیعت دراز نفسی کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے۔ جانتاہوں کہ میری صدائیں آپ تک نہیں پہنچ سکیںگی تاہم طبع نالہ سنج کو کیا کروں کہ فریاد وشیون کے بغیر نہیں رہ سکتی۔آپ سن رہے ہوں یا نہ سن رہے ہوں، میرے ذوق مخاطبت کے لیے یہ خیال بس کرتا ہے کہ روے سخن آپ کی طرف ہے:

اگر نہ دیدی تپیدن ِدل، شنیدنی بود نالۂ ما

ان تین اقتباسات میں تین طرح کے اسالیب ہمارے سامنے ہیں۔ ایک بالکل عام فہم ، دوسرا عربی شعر اورعبارت سے مملو اور تیسرا فارسی آمیز۔ ایک چوتھا اسلوب بھی ہے۔ اور یہ اس قدر دلکش ہے کہ سر دھننے کو جی چاہتاہے۔ملاحظہ ہو یہ اقتباس:

’’قید خانے کی چار دیواری کے اندر بھی سورج ہر روز چمکتاہے اور چاندنی راتوں نے کبھی قیدی اور غیر قیدی میں امتیاز نہیں کیا۔ اندھیری راتوں میں جب آسمان کی قندیلیں روشن ہوجاتی ہیں، تووہ صرف قید خانے کے باہر ہی نہیں چمکتیں ، اسیران قید و محن کوبھی اپنی جلوہ فروشیوں کا پیام بھیجتی رہتی ہیں۔ صبح جب طباشیر بکھیرتی ہوئی آئے گی اور شام جب شفق کی گلگوں چادریں پھیلانے لگے گی ، تو صرف عشرت سرائوں کے دریچوں ہی سے ان کا نظارہ نہیں کیاجائے گا، قید خانے کے روزنوں سے لگی ہوئی نگاہیں بھی انہیں دیکھ لیاکریں گی۔ فطرت نے انسان کی طرح کبھی یہ نہیں کیا کہ کسی کو شاد کام رکھے، کسی کو محروم کرے۔ وہ جب کبھی اپنے چہرے سے نقاب الٹتی ہے ، تو سب کو یکساں طو رپر نظارۂ حسن کی دعوت دیتی ہے۔‘‘(5)

مولانا آزاد کے اس اسلوب میں شجاعت اور درس کا عنصرپایا جاتا ہے تاہم تبلیغی معاملات کو بھی انھوں نے ایسا شگفتہ انداز عطا کیا جو کبھی ہمیں تبلیغی تناظر اور فرحت ومسرت کے تناظر میں ملتفت کرتا ہے، توکبھی اسلوب کا سہل ترین نمونہ ہمیں اپنی جانب متوجہ کرتا ہے ۔ اس لیے یہ کہا جاسکتاہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے موضوعات کے مدنظر اسلوب کو تشکیل دیا ہے ۔

امام الہند کا یہ اسلوب انہی کے لیے مخصوص تھا۔ الہلال کی اشاعت کے دوران دوسرے لکھنے والوں کی بھی یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ ابوالکلام جیسی نثر لکھیں مگر اصل اور نقل کا فرق واضح ہے۔اوپر دیے گئے یہ اقتباسات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مولانا آزاد کے اسلوب کو کسی ایک طرز اظہار کانام دے کر محدود نہیں کیاجاسکتا۔عبدالقوی دسنوی نے ٹھیک ہی کہاہے کہ وہ اپنے خطوط میں انشائیہ نگار بھی ہیں، محقق بھی، فلسفی اور مورخ بھی ،ناقد اور موسیقی نواز بھی۔کم لفظوں میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ابوالکلام آزاد نے موئے قلم سے جو نقش و نگار بنائے ہیںوہ ہر نظر کو حیرت اور روح کو تازگی عطا کرتے ہیں۔’’غبار خاطر‘‘ کی دلکشی اس کی حیات آفریں طرز تحریر ہے۔اسی دلکشی کے قربان جاتے ہوئے نیاز فتح پوری نے مولانا آزاد کو ایک خط میں لکھاتھا’’آگر آپ کی زبان میں مجھے کوئی گالیاں بھی دے تو ہل من مزید کہتارہوں گا۔‘‘اور حسرت موہانی نے اپنی حسرت کا اظہار اس طرح کیا:

جب سے دیکھی ابولکلام کی نثر

نظم حسرت میں کچھ مزا نہ رہا

’’ غبارخاطر‘‘ یہ اشکال یہ بھی ہوتاہے کہ کیا خطوط بے ساختگی اس میںباقی ہے یا فقط تصنع ہی تصنع ہے۔ مولوی عبدالحق نے لکھا ہے ’’خط دلی جذبات وخیالات کا روزنامچہ اور اسرارحیات کا صحیفہ ہے۔‘‘ آل احمد سرور نے لکھاہے۔ ’’اچھا خط وہ کہا جاسکتاہے کہ جس میں لکھنے والا اپنے مخاطب سے باتیں کرتا ہوا نظر آئے ، جس میں بے تکلفی ، بے ساختگی ، خلوص فطری رنگ ، انفرادیت اور ذاتی تاثرات کی جھلک ہو ‘‘۔ (6)

ان معززناقدین کی رائے اپنی جگہ اہم ہے، مگر پہلی بات یہ ہے کہ مولانا ابوالکلام نے ’’ غبار خاطر‘‘ میں کتنے لوگوں کو مکتوب الیہ بنایا ؟ دوسری بات یہ ہے کہ کیا واقعی ان خطوط کے تبادلے ہوئے ؟ تیسری بات یہ کہ ان خطوط کو لکھتے وقت مولانا ابوالکلام آزاد نے کتابوں سے استفادہ کیا ؟ چوتھی بات یہ کہ قید وبند کی زندگی میں کتنی رنگا رنگی ہوسکتی ہے کہ ہر خط میں ذاتی احوال ہوں ؟

ان چارسوالوں میں سے دو باتیں انتہائی اہم ہیں ۔مکتوب الیہ کے تناظر میں ، دوم کتابوں کے استفادے کے معاملے میں ۔ مکتوب الیہ کے تناظر میں نواب صدر یارجنگ مولانا حبیب الرحمن شیروانی کا نام ہے ۔ ظاہر مولانا ابوالکلام آزاد نے جن مباحث کو خطوط میں پیش کیا وہ ان دونوں کے درمیان بے تکلفی کی حیثیت رکھتے ہوں ۔ ایسی بحث کو ایک سادہ بحث مانتے ہوں ۔ اسی طرح مولانا ابوالکلام آزاد نے علمیت کے لیے اظہار کے لیے خط لکھتے وقت کسی کتاب سے استفادہ نہیں کیا۔ گویا عملی مباحث ان کی تکلفی کے زمرے میں آتے ہیں۔ پھر جیل کی زندگی میں کوئی رنگا رنگی نہیں ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے جیل کی زندگی کے مناظر بیان کرتے تھے اور اسی تناظر میں علمی گفتگوکرتے تھے۔ رہی بات غالب کے خطوط کی تو ان کے یہاں مکتوب الیہ بہت ہیں اور سب کی ذہنی سطح ان کے سامنے تھی اور وہ قیدوبند کی زندگی میں مبتلا نہیں تھے۔ اس کے لیے ان کے یہاں بے تکلفی زیادہ اور مولانا آزاد کے یہاں کچھ کم ۔ یہی وجہ ہے کہ ’’ غبار خاطر‘‘ کے اسلوب میں ایک علمی فضا ہے اور یہی اس کی انفرادیت بھی ہے۔

ترکیب ، تشبیہ ، صوتی آہنگ اور فکری ارتباط سے ایک شعری ڈھانچہ تیار ہوتا ہے ۔ ابوالکلام کی نثر میں یہ تمام خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نثر کو لوگوں نے شاعری اور الہامی زبان سے ملانے کی کوشش کی ہے۔ مولانا آزاد کے اس اسلوب کے پرشکوہ انداز کی دراصل یہ تھی کہ وہ ایک متضادشخصیت تھے۔ کیوں کہ انھوںنے میدانِ سیاست ، اسلامی تناظر ، ادبی سروکار اور فکری معاملات کو یکساں طور پر وقت دیا ۔ ظاہر ہے جس انسان کے اندر متضاد صلاحیتوں اور خصوصیتوں کا انضمام ہووہ نہ صرف اپنی فکر سے ہمیں متاثر کرے گا بلکہ ان کے اظہار کے رویے بھی ہمیں سوچنے پر مجبور کریں گے ۔اس کے علاوہ مولانا ابوالکلام کی مشق ومزاولت بھی اپنی جگہ ہے ۔ کیوں کہ انھوں نے قید وبند کی زندگی کے باوجود بہت کچھ لکھا ۔ ظاہر ہے لکھتے لکھتے ایک صاحب قلم کا اپنا اسلوب متعین ہوتا چلا جاتا ہے ۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے متعلق مرزا خلیل احمد بیگ نے لکھا ہے:

’’خطبات کے اسلوب کی سادگی کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ یہ اسلوب آزاد کی شعوری کوشش کا نتیجہ نہیں، بلکہ زبان کے فوری اور برجستہ استعمال کے نتیجے میں معرض ِ وجود میں آیا ہے۔‘‘(7)

یہ سچی بات ہے کہ مولانا آزاد کے اسلوب میں برجستہ پن ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی تفہیم ہر ایک کے لیے آسان نہیں ۔ کیوں کہ ان کی علمیت نے ان کے اسلوب کو گہرا اور تہہ دار بنایا ہے۔ گویا ان کو سمجھنے کے لیے مختلف میدانوں کے استعارے اور کنایوں کو سمجھنا ہوگا۔ اس لیے یہ کہنا ہے کہ ان کے اسلوب میں ثقالت ہے، کوئی مناسب ومعقول بات نہیں ہوگی۔ کیوں کہ ان کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان تمام پہلوؤں کو نظر میں رکھنے کی ضرورت ہے جن پہلوؤں کو بروئے کار لاتے ہوئے مولانا آزاد اپنی نثر کو تشکیل دیتے ہیں۔ گویا جو چیزیں اور معاملات ہمارے لیے علمیت کے زمرے میں آتی ہیں وہ چیزیں مولانا آزاد کی زندگی کے عام معاملات سے متعلق ہیں۔ اس لیے ان کی تفہیم وترسیل ہماری ذہنی سطح سے نہیں ہوسکتی ہے بلکہ ان کی ذہنی سطح کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ (یہ بھی پڑھیں مولانا ابو الکلام آزادؔ کی نگاہ میں عورت کا مقام – ڈاکٹر شیخ نگینوی )

جیسا کہ ابتدائی سطور میں یہ مفروضہ قائم کیا گیا تھا کہ معروضیت کے باوجود اسلوب کے مطالعے میں یک گونہ لچک کی کیفیت پائی جاتی ہے۔پروفیسر خلیل احمد بیگ نے مولانا ابوالکلام آزاد کی زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے جس طرح ان کے اسلوب کا مطالعہ کیا ہے اس سے بھی اندازہ کرنا کوئی مشکل نہیں کہ اسلوب کی تشکیل میں خاندانی پس منظر اور انسان کی داخلیت کا معاملہ پوشیدہ ہوتا ہے۔ اسلوب یا لفظی انتخاب کے معاملے میں اگر مولانا آزاد شعوری کوشش نہیں کرتے تھے تو گویا لاشعوری معاملات کا ان کے یہاں عمل دخل ہوتا تھا۔وہ بغیر تامل کے ایسے الفاظ اور استعارے استعمال میں لاتے تھے جو بہت قلم کار سوچنے کے باوجود استعمال میں نہیں لاسکتے تھے۔ اس لیے یہ کہنا پڑے گا کہ اسلوب کی تشکیل دراصل لاشعور سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ مولانا کے لاشعوری نظا م میں ایسے بھاری بھرکم الفاظ پیوست تھے جنھیں وہ بلا تکلف و کوشش استعمال میں لے آتے تھے۔

 

٭٭٭٭

حواشی

(1)گوپی چند نارنگ، ادبی تنقید اور اسلوبیات ، سنگ میل پبلی کیشنز دہلی 1991، ص 17۔

(2)عبدالقوی دسنوی، ابوالکلام آزاد(مونوگراف)،ساہتیہ اکادمی دہلی،1987،ص ص 177-78۔

(3)ابوالکلام آزاد: ایک ہمہ گیر شخصیت(مرتبہ رشید الدین خاں)بحوالہ تاریخ ادب اردو۔ وہاب اشرفی۔

(4)مولانا آزاد کی ادبی شخصیت( غبا رخاطر کے آئینے میں) ایوان اردو۔ مولانا ابوالکلام آزاد نمبر،ص169۔

(5)ابوالکلام آزاد، غبار خاطر، ساہتیہ اکادمی دہلی،1967، ص69۔

(6)ملک زادہ منظور احمد، غبا رخاطر کا تنقیدی مطالعہ، لارٹوش روڈ لکھنو،ص 55۔

(7)مرزا خلیل احمد بیگ، اسلوبیاتی تنقید : نظری بنیادیں اور تجزیے،این سی پی یو ایل دہلی ، 2014، ص226۔

 

ڈاکٹر قسیم اختر

اسسٹنٹ پروفیسر

شعبہ اردو، ڈی ایس کالج کٹہیار

854105

Mob. 9470120116

E-mail: qaseemakhtar786@gmail.com

 

 (مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

 

 

غبار خاطرقسیم اخترمولانا ابو الکلام آزاد
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
پالکی – شمع عظیم
اگلی پوسٹ
اعزاز افضل کے صحافتی قطعات – ڈاکٹر ارشاد شفق

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں