مغربی بنگال کے اردو شعرا میں اعزاز افضل کا نام محتاج تعارف نہیں ہے۔عملی زندگی میں وہ کلکتہ یونیورسیٹی کے شعبۂ اردو سے منسلک رہیں لیکن موصوف کی شناخت ان کی وہ ادبی کاوشیں ہیں جن کی بدولت اردو دنیا میں انہیں ایک الگ اور منفرد مقام حاصل ہوا۔ ’’زخم صدا‘‘ اور ’’ان پڑھ آندھی ‘‘جیسے شعری مجموعے ان سے یادگار ہیں جو اردوشاعری میں اضافے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بالخصوص بنگال میں ترقی پسند شاعری کے حوالے سے ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے ۔انہوں نے بڑی فنکاری اور سلیقگی سے شاعری کے ریشمی آنچل میں ترقی پسند موضوعات کو جگہ دے کر یہاں کی شاعری کو ترقی پسند فکر وشعور سے آشنا کیا ۔اعزاز صاحب کے ان مجموعوں میں یوں تو غزلیں اور نظمیں دونوں ملتی ہیں جو اپنی ایک الگ انفرادیت اورآب تاب سے شعری افق پراہمیت کا درجہ رکھتی ہیں لیکن ادب کی ان اصناف سے ہٹ کر بھی انہوں نے اپنی ایک الگ شناخت بنائی ۔وہ کلکتہ کے روزنامہ اخبار’’آزاد ہند ‘‘اور ہفتہ وار ’’اُجالا‘‘سے نہ صرف جڑے ہوئے تھے بلکہ ہر روز مختلف موضوعات پر ان کے قطعات ان اخبارات میں شائع ہوتے رہتے تھے، جو ایک مکمل مجموعے کی صورت میں ’’قلم برداشتہ ‘‘کے عنوان سے عثمانیہ بک ڈپو(کلکتہ )سے ۱۹۹۶ میں شائع ہوئے۔ ان اخبارات کے علاوہ روزنامہ ’’آبشار‘‘اور اس کے عید نمبر سے بھی موصوف کا تعلق رہا جس میں ان کے قطعات مسلسل شائع ہوتے رہیں۔موصوف کی صحافتی قطعہ نگاری کو جس اخبار نے سب سے زیاد فروغ دیاوہ ’’آزاد ہند ‘‘تھا کیونکہ کلکتہ کے دیگر اخبارات کے برعکس ’’آزاد ہند‘‘سے ان کا رشتہ تقریباًبارہ(۱۲)سال استوار رہاجس میں وہ اپنے مزاج کے اعتبار سے قطعات رقم کرتے رہیں۔
اعزا زافضل کے قطعات کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔انہوں نے عام قطعہ نگار سے ہٹ کر ایک صحافی کی حیثیت سے قطعات کو شعری پیکر میں پرویا ہے۔ عام قطعہ اور صحافتی قطعہ نگاری میں بہت سی باتیں مشترک ہونے کے باوجود بھی اس کے فنّی رکھ رکھاؤں میں بہت فرق نمایاں ہے۔ مثلاً عام قطعہ نگار کے یہاں کہنے کو بہت کچھ ہے ،وہ جس موضوع پر چاہے اپنے مزاج اور تخیل کو بروئے کار لاکر قطعہ رقم کرسکتا ہے لیکن صحافتی قطعہ لکھتے وقت شاعر کو بہت سی بنیادی اور فنّی پہلوؤں کو ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے۔ وہ عام قطعہ نگار کی طرح ہر موضوع پر قلم نہیں اٹھا سکتا نہ ہی وہ اس میں جذبات اور تخیل کی آمیزش کرسکتا ہے۔ایسا اس لئے کہ صحافتی قطعہ کا دار و مدار زیادہ ترترسیل سے وابستہ ہوتا ہے جس کے ذریعے عوام کو اس واقع کی طرف توجہ دلانا مطلوب ہوتا ہے جس واقع کو شاعر اخباری صفحات پر بیان کرتا ہے گویا صحافتی قطعہ میں موضوع پہلے سے شاعر کے ذہن میں طے ہوتا ہے جسے وہ بغیر کسی مزاحمت کے پیش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ عام شعری قطعات میں شاعر کے جذبات واحساسات،اس کی دلی کیفیات کا بیان ممکن ہے جبکہ صحافتی قطعہ نگار کے لئے داخلیت سے قطع نظر خارجیت کے عنصر کو نمایاں کرنا اس کاسب سے پہلا اور اہم فریضہ ہے۔ ایسے قطعات میں شعری حسن کافرما ہوسکتا ہے لیکن ان قطعات کا تعلق چونکہ عوام سے ہے اور ان کا نقطۂ نظر صحافتی ضروریات کو پروان چرھاناہوتا ہے، اس لئے صحافتی قطعہ نگار عوامی ترسیل میں مزاحمت پیدا کرنے کے بجائے براہ راست اپنی بات پیش کرتا ہے ۔اعزاز افضل کے قطعات کے مطالعے سے اس حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے کہ انہوں نے ایک عظیم شاعر ہونے کے باوجود صحافتی قطعات کی تمام تر خوبیوں کونہ صرف پیش نظررکھا ہے بلکہ اپنی ژرف نگاہی اور فنّی دروبینی سے اس میں بیش بہا اضافے بھی کئے ہیں۔ ان کے صحافتی قطعات عام شعری قطعات سے بہت حد تک الگ اور منفرد نظر آتے ہیں جس میں شاعر کا نقطۂ نظراور زبان وبیان کی سادگی کا ایک الگ عنصر موجود ہے ۔اس حقیقت کا احساس انہیں بھی تھا کہ عام شعری قطعات اور صحافتی قطعات کے فن میں واضح فرق ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ موصوف یہ کہنے پر مجبور ہوئے:
شاعری میں صحافتی انداز
کون اپنائے گا ہمارے بعد
روز سوکھی سپاٹ بحروں میں
ڈبکیاں کھائے گا ہمارے بعد
اعزا ز افضل کے قطعات میں ملک کے سیاسی،سماجی اور معاشی زندگی کی عکاسی ، سیاست دانوں کی مکاری، بستی میں رہنے والے لوگوں کی کسمپرسی،بھوک مری،رشوت خوری،بے روزگاری، عالمی سیاست ،دین فروشی اور عوامی بدحالی جیسے نازک مسائل پر باریک بیں نظریں مرکوز کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہیں ۔دراصل صحافتی قطعہ نگار کے یہاں موضوع کی بہتات ہے۔ وہ حالاتِ حاضرہ پر دو ٹوک اپنا مافی الضمیر بیان کرتا ہے۔ گویا اس کے پاس موضوع کاندھے پر چل کر آتے ہیں اور وہ محض قطعات کے فنّی خصائص کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسے پروتاجاتا ہے۔اعزاز افضل کے یہاں بھی ہمیں ہر موضوع پر اچھے اور بہترین قطعات مل جاتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں شاعراتِ بنگالہ کا تانیثی شعور – ڈاکٹرارشاد شفق )
عام طور پر اخبارات میں سیاست کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے اور بیشترسیاسی خبریں ہی لوگوں کی توجہ کا مرکز ہوا کرتی ہیں۔صحافت سے جڑا ادیب اپنے ماحول اور زندگی کے تلخ وشیریں حقائق سے نبرد آزما ہوتا ہے اس لئے سیاست کو ادب میں پرونے سے وہ گریز نہیں کرتا ۔اعزاز افضل کے یہاں اپنے عہد کے سیاسی افکار ونظریات بھر پور انداز میں موجود ہیں۔ انہوں نے اپنے قطعات میں بڑی فنکاری سے سیاست کو بے نقاب کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ سیاستدانوں کی مکاری، ان کی دوہری چال اور لوگوں سے ووٹ لے کر وعدہ خلافی کرنے کا جو طریقۂ کار ‘ان کا رہا ہے ان سب پر اعزاز افضل اپنے مشاہدے سے حاصل شدہ حقائق کوکامیابی سے پیش کرتے ہیں۔ سیاسی افراتفری پر ان کے دو قطعات ملاحظہ کیجئے:
بس جلائیں ،ٹرام کو پھونکیں
راج نیتی کا یہ مزاج نہیں
پر تشدّد مظاہرے کرنا
شرپسندی ہے ،احتجاز نہیں
(نراج نیتی)
آج وہ اشیا بھی عنقا ہوگئیں
منڈیوں میں جن کی تھی کل ریل پیل
شہر کے سینے سے اٹھتا ہے دھواں
ہائے بجلی، ہائے پانی ، ہائے تیل
(دھواں دھواں شہر)
اعزاز افضل نے معاشرے کی بدحالی کو نہ صرف اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا تھابلکہ قلب وجگر سے محسوس بھی کیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ان کے قطعات میں سماجی شعور کا عمل دخل اپنے عروج پر ہے۔ انہوں نے معاشرے کے تلخ حقائق سے دامن چھڑانے کے بجائے سماجی زندگی کی الجھن اور اس سے جڑے بے شمار انسانی مسائل کو موضوع بنایا۔ ان کے قطعات میں سماجی شعور بہت پختہ اور نکھرا ہوا ملتا ہے جس میں معاشرے کی اونچ نیچ ،عوام الناس کے نجی مسائل کے علاوہ گمبھیر سماجی زندگی کی الجھنیں دکھائی دیتی ہیں۔ ان قطعات میں انسان کے کھوکھلے رشتے اور دم توڑتی بھائی چارگی کا عکس شدّت سے ابھرتاہوا محسوس ہوتا ہے۔اس نہج کے قطات کے چند نمونے دیکھئے:
ہم تمہارے منتظر تھے ،تم ہمارے منتظر
وہ گلے ملنے کے موسم ،مل گئے سب خاک میں
اب یہ عالم ہے کسی پنگھٹ ،کسی چوپال پر
ہم تمہاری گھات میں ہیں،تم ہماری تاک میں
(سوکھا پنگھٹ)
ہم کو دیکھے تو کون مانے گا
باغ میں بودوباش کرتے ہیں
دوستی ہے گھنے درختوں سے
اور سایہ تلاش کرتے ہیں
(سبز باغ)
خدایاں دریا کا دامن پکڑ کر
کنارے لگے ناخدا کیسے کیسے
جہاں موڑ آیا وہیں ساتھ چھوڑا
ہمارے بھی ہیں رہ نماکیسے کیسے
(ہمارے رہ نما)
عورت اور اس کی بدحالی شروع سے ہمارے ادب کا موضوع رہا ہے۔ شعری اور نثری دونوں اصناف میں عورت کی زندگی کے حوالے سے ہمارے ادبا وشعرا نے ان کی معاشی،معاشرتی اور ذہنی الجھنوں کو اپنی تخلیقات میں جگہ دی ہے۔ عورت صدیوں سے مرد کی زیادتی کا شکار ہوتی آئی ہے ۔معاشرے میں ان کی اہمیت کبھی مسلم نہ ہوئی۔ اس بات کااحساس اعزاز افضل کو بھی تھا۔شاید اسی لئے موصوف نئے سال کی خوشیوں میں عورتوں کو شریک نہیں کرتے کہ کوئی بھی سال ان کی عزت وعظمت کی رکھوالی کرنے کے لئے نہیں آتا:
محفوظ کوئی گھر،کوئی تھا نہ، کوئی سرائے
شیاما کے واسطے ہے نہ پروین کے لئے
ہر لمحۂ حیات ہے مردوں کا زرخرید
یہ سال بھی نہیں ہے خواتین کے لئے
(خواتین کا سال)
اعزاز افضل اپنے قطعات میں مذہبی رواداری کے علمبردار کے طور پر اُبھرتے ہیں۔ انہوں نے مذہب کو قریب سے نہ صرف سمجھا بلکہ اپنے قلب وجگر سے اسے محسوس بھی کیاتھا۔ ان کے صحافتی قطعات میں اکثر ہمیں مذہب کے قاتلوں پر وار ملتا ہے ۔وہ شیخ وبرہمن ،شیعہ وسنّی اور ہندو مسلم کی آپسی رنجش کو بار بار موضوع بناتے ہیں۔ ایسے قطات کے مطالعے سے ان کی انکی وسیع القلبی اوربالغ نظری کا احساس ہوتا ہے۔ شیخ وبرہمن کے جعلی چہرے کو انہوں نے بڑی فنکاری سے اتارکر نوچ پھینکا ہے:
دونوں کی انتہائے سفر منزل فساد
جو شیخ کا وہی ہے برہمن کا راستہ
سڑکوں کی دیکھ بھال سے کیا کام ہے انہیں
ہموار کررہے ہیں الیکشن کا راستہ
(شیخ وبرہمن)
ہمارے خون نے بخشی ہے کیا توانائی
جو دھان پان تھے کل آج ہٹّے کٹّے ہیں
مزاج شیخ وبرہمن میں کوئی فرق نہیں
یہ دونوں ایک ہی تھالی کے چٹّے بٹّے ہیں
(شیخ وبرہمن)
جس نے گروی رکھ دیا زنّار کو
ملک میں ایسا برہمن کون ہے؟
آئینے میں اپنی صورت دیکھئے
آپ سیتا ہیں تو راون کون ہے؟
(میاں مٹھّو)
اسلامی تفریق کو اعزاز افضل نے اپنے قطعات کے ذریعہ ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ ’’قلم برداشتہ ‘‘میں ایسے بیشتر قطعات مل جاتے ہیں جس میں اسلامی سیاسیت پر طنز کے نشتر چلائے گئے ہیں اور ایک صحت مند قوم کی آس لگائی گئی ہے:
اے کاش !ہم وہ دورِ مساوات دیکھتے
جب غزنوی کی صف میں کھڑا تھا ایاز بھی
کیا ہم خیال ہوں گے یہ ملّت کے ترجمان
اب ایک ساتھ پڑھ نہیں سکتے نماز بھی
(بہتر فریق)
سب کے پیشِ نظر ہے اپنا مفاد
کون ملّت کی دیکھ بھال کرے
ہم بھی بکرے ہیں تم بھی بکرے ہو
جس کا جی چاہے وہ حلال کرے
(قربانی کے بکرے)
صحافتی قطعہ نگار کی نظر اپنے ملک اور اپنی قوم سے بلند وبالاترہوتی ہے۔ وہ ذاتی تجربے اور شعور و ادراک سے عالمی دنیا پر بھی اپنی نظریں مرکوز رکھتا ہے۔ ایسا شاعر آفاقی جذبے کاحامل ہوتا ہے جو ہر طرح کے مسائل کو شعری پیکر میں ڈھالنے کا ہنر رکھتاہے۔ اعزاز افضل کے یہاں اپنے ملک کے سیاسی اور سماجی مسائل کے علاوہ بین الاقوامی سیاست،معیشت،جنگ کے اثرات وغیرہ پر اچھے خاصے قطعات موجود ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف کی نگاہ صرف بنگال یا ہندوستان کی فضا تک محدود نہیں تھی بلکہ ایک عظیم شاعر کی طرح ان کی فکر میں عالمی منظر نامے کی گرتی ہوئی قدریں پوری شدّت کے ساتھ ان کے جذبات واحساسات میں رچ بس گئی تھیں۔چنانچہ موصوف بوسنیا کے مظلوموں کی بے بسی پر اپنے مخصوص انداز میں کفِ افسوس ملتے ہیں: (یہ بھی پڑھیں ڈاکٹر ابوبکر جیلانی کی تحقیقی وتنقیدی بصیرت (’تفہیم وتشریح‘کی روشنی میں ) – ڈاکٹر ارشاد شفق )
کون ان کے زخم دیکھے ،کون فریادیں سنے
سامراجی ذہن بہر ابھی ہے نابینا بھی ہے
ہے جہاں مرنا بھی مشکل اور جینا بھی عذاب
بے سہاروں کو وہیں مرنا بھی ہے جینا بھی ہے
(بوسنیاکے مظلوم)
اعزازافضل کے قطعات کا مطالعہ تصدیق کرتا ہے کہ انہوں نے عالمی دنیا کی تاریخ ایک روزنامچے کی شکل میں لکھ دیا ہے جسے جب بھی پڑھا جائے اس کی یاد تازہ ہوتی رہتی ہیں۔’’بغداد پر حملہ‘‘،’’کراچی کے مظلوم‘‘،’’ازلی دشمنی‘‘اور ’’جگت دادا‘‘وغیرہ جیسے قطعات ان کی عالمی سیاست پر گہری نظر کی بہتریں مثالیں ہیں جس میں پاکستان،امریکہ،سیریا،فلسطین اور لبنان جیسے ملکوں کی سیاسی افکار ونظریات نظر مرکوز کی گئی ہے۔اس نہج کے قطعات میں ان کے یہاں انسان دوستی اور اخلاقی بھائی چارگی کا عمل دخل نظر آتا ہے ۔ایسا اس لئے کہ ایک شاعر کبھی درسِ اخلاق کا خون نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی شاعری کے زریعہ اقوا م اورلوگوں کے درمیان تال میل پیدا کرکے اس میں اُخوت ومحبت کا رنگ بھرتاہے۔ اعزاز افضل کے قطعات میں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود ہے۔ اخلاقی بھائی چارگی اور انسان دوستی کے حوالے سے ان کے دو قطعات ملاحظہ ہوں:
آج کے انسان کو ہے امن گاہوں کی تلاش
زندگی کی منزل ِ مقصود اب مقتل نہیں
دشمنوں پر فتح پانے کا ہنرکچھ اور ہے
جنگ تو خود مسئلہ ہے ،مسئلے کا حل نہیں
(جیت کا ہنر)
حسد کی تیغ سے بہتر ہے بیٹ سدّھو کا
ستم کی چھوٹ سے اظہر کا کیچ اچھا ہے
وکٹ گرا نہ سکی مذہبی جنون کی گیند
سیاسی کھیل سے کرکٹ کا میچ اچھا ہے
(کرکٹ میچ)
اعزاز افضل کا مشاہدہ بہت تیز اور بات نپی تلی ہے۔انہوں نے تہذیب وثقافت کا خون ہوتے ہوئے دیکھا تھااس لئے ان کے صحافتی قطعات کے مطالعے سے اس بات کا احساس بھی ہوتا ہے کہ وہ تہذیبی گراوٹ کو مثبت انداز میں نہ صرف محسوس کرتے ہیں بلکہ اس کا برملا اظہار بھی ہمیں ان کے یہاں دیکھنے کو مل جاتا ہے۔اس ضمن میں موصوف کے ’’خون بہا‘‘،’’جشن حقوق‘‘اور ’’بارودکے ڈھیر‘‘جیسے قطعات پیش کئے جاسکتے ہیں:
بھوک ملّت کے لئے ہے،پیاس ملّت کے لئے
اور سرکاری ضیافت کا مزا لیتے ہو تم
دین و ایمان بیچ کھائے ایسی قلاشی بھی کیا
قتل ہوتے ہیں مسلماں،خوں بہا لیتے ہو تم
(خوں بہا)
ہم مذہبی جنون کو مذہب کا نام دیں
ایسے فریب خوردۂ جذبات بھی نہیں
جمہوریت کے دم سے ہے ،جتنے حقوق ہیں
جمہوریت نہیں تو مراعات بھی نہیں
(جشنِ حقوق)
غریبوں کا مسکن ،غریبوں کا مامن
کراچی، نہ دہلی ،نہ کابل نہ ڈھاکہ
لسانی تشدّد ،گروہی تصادم
سماجی سرنگیں،سیاسی دھماکہ
(بارود کے ڈھیر)
ان موضوعات کے علاوہ اعزاز افضل نے ملک کے بجٹ کے مضر اثرات،کرکٹ میچ،مغرب کا تہذیبی بحران،وطن پرستی،بنگال اور کلکتے کی سیاسی فضا،ہندو پریشد کے سیاسی اکھاڑے بازی، بم دھماکہ ، اخبار نویشوں کی قلم فروشی،سارک کانفرنس،کشمیر کا مسئلہ ،دہلی کے بنگالیوں کی حالتِ زار،ممبئی کا بم دھماکہ،صدرراج کے اثرات،سیاسی پارٹیوں کی چالیں،طیّاروں کا ہائی جیک، ادیبوں کی کرداری کراوٹ،طلبا کا درد،قوم پرستی کا ماتم ،پولیس کی مکاری، پنچایت الیکشن کے اثرات، دہشت گردی، ملک کی معیشت،ماحولیاتی آلودگی ،غریبوں کی بھوک مری،رشوت خوری، ووٹ کے دائو پیچ،ہتھیاروں کا کھلے عام لین دین،سیاست دانوں کی گھپلے بازی ،کارپوریشن کی بدحالی، دفاتر کی کام چوری،شہروں کی بدحالی،قوم فروشی، مفلسوں کی لاچاری وغیرہ جیسے موضوعات کوقطعات میں خوس اسلوبی سے سمودیا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ملک وقوم کے درد کو سہا اور ظلم و ستم کے خلاف لکھا۔بقول شاعر:
نہ برہمن سے لڑائی نہ شیخ سے جھگڑا
نہ دیر کے نہ حرم کے خلاف لکھنا ہے
یزید کا ہو زمانہ کہ ایڈوانی کا
ہمارا کام ستم کے خلاف لکھنا ہے
(ستم کے خلاف)
اعزاز افضل کے صحافتی قطعات کا ڈکشن عوام سے بہت قریب تر ہے۔ ان کے قطعات میں امکانات کی ایک دنیا آباد ہے۔ وہ صحافتی قطعہ کے مخصوص دائرہ کار میں رہ کر حقائق کی ترسیل کرتے ہیں۔ معاشرے کے ناسوروں پر انہوں نے جس خوس اسلوبی سے قدغن لگائے ہیں اس کی مثال اردو کے صحافتی قطعہ نگاری میں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان کے قطعات میں عام قطعہ کی طرح لفاظی اور صناعی کا عمل دخل نہیں ہے ۔انہوں نے عام فہم الفاظ،سادگی اور برجستگی پر زور دیا ہے۔ صحافتی قطعات میں چونکہ باطنی جذبات کا عمل دخل بہت کم ہوتا ہے تاہم اچھے قطعہ نگار اس میں بھی اپنا مافی الضمیر بیان کر کے اسے لطافت اور ترفع عطا کرتے ہیں ۔ اعزاز افضل کے قطعات میں یہ خوبی بعض قطعات میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ انہوں نے حقائق کی ترسیل میں تخیل سے حتی الامکاں گریز کیا ہے لیکن صحافتی قطعات کے شعری محاسن کو ترسیل کے لئے قربان نہیں کیا۔ ان کا مشاہدہ تیز ، بیان میں اختصار اور برجستگی نمایاں ہے ۔ ان کے قطعات میں طنز کا پہلو اور مزاح کا عنصر بھی موجود ہے جو صحافتی قطعہ کے لئے نہ صرف چاشنی کا کام کرتے ہیں بلکہ شاعر ان قطعات کے ذریعہ عوام تک اپنی بات پر لطف انداز میں پہنچاتا ہے۔موصوف کے بیشتر قطعات ادیبانہ شان وشوکت کے حامل اور زبا ن وبیان کی جملہ خوبیوں سے متصف ہیں۔ ان قطعات میں تشبیہات واستعارات کے علاوہ علامت نگاری کا استعمال اور شعری پیکر میں محاورے اور ضرب المثل کی آمیزش بھی بڑی فنکاری سے ملتی ہے جس کے مطالعے کے بعد قاری کو غیر مانوس فضا کا احساس نہیں ہوتا ۔ اس طرح ان جملہ خوبیوں کی بنا پر ہم اعزاز افضل کو بنگال کے صحافتی قطعہ نگاری کا امام کہہ سکتے ہیں کہ ان کے قطعات میں صحافت اور قطعات کی فنّی خوبیاں دونوں عروج پرنظر آتی ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں ’’باغ وبہار‘‘کے نسوانی کردار :ایک ڈسکورس -ڈاکٹرارشاد شفق )
٭٭٭
Dr.Irshad Shafaque
H.No: 1/A, BL No: 23, Kelabagan,
Po: Jagatdal, Dist: 24 Pgs(N),
Pin: 743125, (West Bengal)
Ph: 8100035441
Email: Irshadnsr5@gmail.com
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

