علامہ شبلیؔ نعمانی جیسی نابغۂ روزگار شخصیت پر قلم کاروں نے متعدد کتابیں قلم بند کر چکے ہیں لیکن دنیا میں کچھ شخصیات ایسی گزری ہیں کہ ان کے حوالے سے لکھنا پڑھنا بعد میں آنے والوں کے لیے باعث فخر اور معیار علم وادب بن جاتا ہے اور بلاشبہ شبلی کی شخصیت انھیں میں سے ایک ہے۔
اس مضمون میں شبلی کی شخصیت سے پردہ اٹھانے کے لئے میں نے ان کی زندگی کو چار ادوار میں تقسیم کیا ہے،اور اس بات کی کوشش کی ہے کہ اسی ضمن میں ان کا سوانحی خاکہ بھی سامنے آجائے،اس غرض سے میںنے ان کی پیدائش سے لے کر طالب علمی کی زندگی کے تمام مراحل کو پہلے دور میں شامل کیا ہے،دوسرے دور میں ان کی زندگی کا وہ درمیانی وقفہ شامل ہے جب وہ علی گڑہ سے منسلک ہونے سے پہلے روزگار کی تلاش میںوکالت اور قرق امینی جیسے مختلف پیشے سے وابستہ ہوئے،ان کی زندگی کا تیسرا دورعلی گڑھ کی علمی زندگی پر محیط ہے،چوتھے دور میں حیدرآباد اور ندوہ کی علمی زندگی سے لے کر وفات تک کے حالات درج ہیں۔
سر زمین ہندوستان میں جس وقت سیاسی کشمکش جاری تھی۱۸۵۷ئ کی بغاوت پورے ملک کو اپنے لپیٹ میں لینے کے لئے تیار تھی،اور انقلابی اعظم گڑھ جیل کا پھا ٹک توڑ کر قیدیوں کو آزاد کرا رہے تھے اسی دن ۴؍جون ۱۸۵۷ئ کو اعظم گڑھ کے ’’بندول‘‘گائوں میں اپنے وقت کے مشہو ر وکیل وزمیندارشیخ حبیب اللہ کے گھر میں علامہ شبلی کی ولادت ہو ئی ،علامہ شبلی کے والد شیخ حبیب اللہ اپنے خاندان میں سب سے معزز ،ممتاز اور خوش شخص تھے ،چنانچہ علامہ شبلی نے اپنا بچپن بہت ہی عیش وعشرت میں بسر کیا،علامہ شبلی کی والدہ ایک دیندار اور مذہبی خاتون تھیں ، ان کے والد کو بھی مذہب سے گہر ا تعلق تھا،اس لئے انھوں نے اپنے سب سے بڑے بیٹے کی تعلیم مذہبی بنیادوں پر رکھی ،اس طرح علامہ شبلی نے ابتدائی تعلیم حکیم عبداللہ اور مولوی شکراللہ سے حاصل کی ۔
حروف شناسی اور ختم قرآن کا سلسلہ جب مکمل ہو ا تو انھوں نے عربی وفارسی کی ابتدائی تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کیا ،چنانچہ عربی وفارسی کی ابتدائی کتابیں انھوں نے اپنے گائوں’’ بندول ‘‘ سے نکل کر جون پور اور غازیپور کے بعض مدرسوں میں مکمل کی ،اسی طرح علامہ شبلی تحصیل علم کے لئے مولانا فاروق چریاکوٹی کی خدمت میں مدرسہ چشم رحمت غازیپوربھیجے گئے ،لیکن جب شبلی کے والد نے اعظم گڑھ شہر میں ایک عربی مدرسہ قائم کیا تو وہاں پر انھوں نے پہلے مولوی فیض اللہ مئوی سے اور پھر مولانا فاروق چریا کوٹی سے بھی تعلیم حاصل کی جنھیں شیخ حبیب اللہ نے مدرسہ عربیہ اعظم گڑھ میں استاد مقرر کر دیا تھا،اس کے علاوہ شبلیؔ چند روز مدرسہ حنفیہ جون پور میں بھی زیر تعلیم رہے ۔
اس طرح مختلف اساتذہ کی خدمت میں رہ کر جب شبلی نے درسیات کی تکمیل کر لی،تواس کے بعدانھوں نے ۱۸۷۴ئ میں مزید علم کی تلاش میں رام پور کا تعلیمی سفر کیا، اور وہاں مولانا ارشاد حسین رام پوری سے فقہ اور اصو ل فقہ کی تعلیم حاصل کی ۔اور اسی سال علامہ شبلی نے دارالعلوم دیوبند کابھی سفر کیا ،اس وقت شبلی براہ راست وہاں کے اساتذہ سے فیض یاب تو نہ ہوئے، لیکن وہاںکے کتب خانہ سے شبلی نے خوب استفادہ کیا ،اور شبلی کو یہیں علم فرائض سے دلچسپی پیدا ہوئی۔
یہی وہ زمانہ تھا جب شبلی کے والد چاہتے تھے کہ وہ اب دنیوی امور میں ان کا ہا تھ بٹائیں، لیکن شبلی جسے مستقبل میں شمس العلمائ بننا تھا،علمی سفر سے پیچھے ہٹنے کو تیا ر نہیں تھے ،چنانچہ جب والد صاحب علمی سفرمیں حائل ہوئے تو شبلی کو سخت صدمہ پہونچا اور وہ گھر میں افسردہ رہنے لگے ،لیکن شبلی کی والدہ نے انھیں افسر دہ دیکھ کر ان کی ہمت افزائی کی ،چنانچہ ماں کا ساتھ پاکر شبلی علمی تشنگی کو بجھا نے کے لئے گھر سے نکل گئے ،اور مولانا ارشاد حسین سہارنپوری سے مستفید ہونے کے بعد لاہور کاقصد کیاجہاں عربی زبان وادب کے ماہر شاعر وادیب مولانافیض الحسن سہارنپوری کی شخصیت شبلی کو اپنی طر ف کھینچ رہی تھی ۔
چنانچہ شبلی زاد سفر مختصر ہونے کے باوجو د لاہور تشریف لے گئے ۔لیکن جب وہاں پہونچے تو ایک مشکل یہ پیش آئی کہ مولانا فیض الحسن سہارنپوری اس قدر مصروف تھے کہ استفادہ کی کو ئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ لیکن شبلی کا شوق و اشتیاق اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ مولانافیض الحسن سہارنپوری بھی اس گوہر یک دانہ کو علمی موتیوں سے مالامال کرنے کی ترکیب سوچنے لگے ،بالآخر مولانا نے خودیہ تجویز رکھی کہ گھر سے کالج تک کی مسافت طے کر نے میں جو وقت صرف ہوتاہے ،اس میں شبلی درس لے لیا کریں ،اس طرح اب شبلی گھر سے کالج تک کے راستہ میں مولانا سہارنپوری سے استفادہ کرنے لگے۔ابھی شبلی نے استفادہ کرنا شروع ہی کیاتھا کہ کالج دوماہ کے لئے موسم گرماکی تعطیل کی مناسبت سے بند کردیاگیا ،اور مولاناسہارنپوری اپنے وطن سہارنپور واپس آگئے ،شبلی بھی استاد کے ساتھ سہارنپورآگئے اور مسلسل ان سے استفادہ کرتے رہے ،اس صحبت کااثر شبلی پر ایسا ہو اکہ وہ عربی زبان و ادب کے ماہرین میں شمارکئے جانے لگے ،شبلی نے مولانا فاروق چریاکوٹی سے فارسی وعقلی علوم میں مہارت حاصل کی ،اور مولانا ارشاد حسین رام پوری سے فقہ اور علم فقہ میں دسترس حاصل کی اور عربی زبان وادب کی باریکیوں اور شعر وشاعری کی نغمہ سنجیوں کا فن مولانافیض الحسن سہارنپوری سے سیکھا، لیکن ابھی تک شبلی علم حدیث سے تقریبابیگانہ تھے،چنانچہ علم حدیث کی باریکیوں سے متعارف ہونے کے لئے انھوں نے اپنے وقت کے معروف محدث مولانا احمد علی سہارنپوری کی خدمت میں ۱۸۷۶ئ میں حاضر ہوئے اور ان سے انھوںنے حدیث کی تعلیم حاصل کی ،یہاں شبلی کی زندگی کاایک دور ختم ہوتا ہے ۔
انیس بر س کی عمر میں جب شبلی نے مختلف علوم وفنون میں مہارت حاصل کر لی تو ان کے سامنے سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ آگے کا سفر کس سمت میں کر یں ،اس وقت سے لے کر علی گڑھ کالج سے منسلک ہونے تک کا زمانہ شبلی کی زندگی کا دوسرادورہے،شبلی کی زندگی کا یہ زمانہ شاید شبلی کے لئے سخت آزمائش کے دن تھے ،ایک طرف ان کے سامنے روزگار کا مسئلہ تھا تو دوسری طر ف ان کا علمی ذوق انھیں علمی راستوں سے مختلف راستہ اختیار کرنے میں حائل تھا ۔
چنانچہ والد کے اصرار پر انھوں نے وکالت کا راستہ اختیا رکرناچاہا اور اس کے لئے انھوں نے خوب محنت بھی کی ،ایک مرتبہ امتحان میں ناکام ہونے کے بعد دوبارہ وکالت کا امتحان دیا اور کامیابی بھی حاصل کی ،لیکن وہ پیشہ ور وکیل کے طور پر زیادہ دنوں تک کام نہ کرسکے،وکالت کے بعد قرق امینی اور نقل نویسی کے عہدہ پر بھی کچھ دنوں تک کام کیا ،لیکن جسے مستقبل میں ادیب وناقد اور شاعروکلامی بننا تھا وہ کیسے قانونی موشگافیوں اور قرق امینی ونقل نویسی کے عہدہ پر مطمئن ہو کر زندگی گزار سکتا تھا ۔
چنانچہ چھ سات سال تک شبلی مختلف قسم کے کام سے منسلک رہے اور ۱۸۷۸ئ میں اعظم گڑھ میں درس وتدریس کا فریضہ بھی نجی طور پر انجام دیتے رہے،مولاناحمید الدین فراہی (صاحب تفسیر نظام القرآن) مولوی محمد سمیع اور مولانا محمد عمر (بینا پارہ) وغیر ہ ان کے اسی دور کے شاگرد تھے ۔انھیں اوقات میں شبلی نے اہل حدیثوں سے خوب مناظرہ بھی کیا چنانچہ ان کی ابتدائی کتابیں جن کاتعلق فرقہ ٔاہل حدیث کے رد سے ہے ،ان کی زندگی کے اسی دوسرے دور سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔
ایس ،ایم ،اکرام’’یادگارشبلی‘‘میں لکھتے ہیں :
’’اس زمانے میں اعظم گڑھ کے ضلع میں تقلید اور عد م تقلید کا خاص طور پر چرچاتھا جب مولانا یہ سن پاتے کہ ضلع کے کسی گائوں میں کوئی شخص غیر مقلد ہو گیا ہے یاکوئی غیر مقلدباہر سے آیا ہے تو گھوڑے پر سوار ہوکر وہاں پہونچ جاتے اور مناظرہ کا چیلنج دیتے ‘‘۔(۱)
اس زمانے میں شبلی نے جو کتابیں تصنیف کیں ان میں پہلی عربی کتاب اسکات المعتدی علی انصات المقتدی ہے جو مطبع کانپور سے شائع ہو ئی ،یہ در اصل ایک رسالہ ہے اس میں شبلی نے یہ ثابت کر نے کی کو شش کی ہے کہ نما ز میں اما م کے پیچھے قرآتِ فاتحہ نہ صرف یہ کہ واجب نہیں بلکہ مکر وہ ہے ،اس کتاب میں شبلی نے بہت ہی انشاپردازانہ زبان استعمال کی ہے ،زبان مسجع اور انداز ِتحریر متکلمانہ ،مناظرانہ اور کسی قدر واعظانہ بھی ہے ،اس دور میں شبلی نے اسی موضو ع پر ایک اور رسالہ لکھا اور’’ظل الغمام فی مسئلۃ القرائ ۃ خلف الامام‘‘ اس کا نام رکھا ۔
علی گڑھ سے منسلک ہونے سے پہلے شبلی نے ایک موقع پر سر سید احمد خان کی شان میں بہت ہی خوب عربی قصید ہ بھی لکھاتھااور وہ ۱۵؍اکتوبر ۱۸۸۱ئ میںعلی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں شائع بھی ہوا،اسی طرح شبلی نے اپنی زندگی کے اسی دور میں ایک انگریزی نظم کا منظوم اردو ترجمہ ’’ر زمیہ کابل وقندھار‘‘ کے عنوان سے کیا۔(۲)
شبلی اسی طرح زندگی کی مختلف سر گرمیوں میں سر گرداں تھے اور اپنی زندگی کو کو ئی ایک سمت دینا چاہتے تھے، لیکن ان کے سامنے کو ئی ایسا راستہ نہ تھا جس پر وہ اپنی زندگی کا سفر اطمینان کے ساتھ کر سکتے ،شبلی کیلئے یہ انتہائی کو فت اور کشمکش کا زمانہ تھا ،اسی دوران ۱۸۸۲ئ میں علی گڑھ کالج میں عربی کے اسسٹنٹ پروفیسر کی اسامی خالی ہوئی ،شبلی نے بھی اس کیلئے عرضی دی اوربالآخر ایک دلچسپ انٹریوں کے بعد شبلی کا اس عہدے کے لئے انتخاب ہو گیا،اورجنوری ۱۸۸۳ کی کسی تاریخ میں ان کے تقرر کا حکم جاری ہو ا ،اور اس طرح یہ کشمکش کا دور اپنی انتہا کو پہونچا۔تیسرا دور
یہاں سے علامہ شبلی نعمانی کی زندگی کا بہت ہی اہم اور تیسر ا دور شروع ہوتا ہے ،علامہ شبلی نعمانی کی تعیناتی علی گڑھ کالج میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر کے چالیس روپئے کی تنخواہ پر ہوئی تھی ،ان کے بعض اقربا اس تعلق کے خلاف تھے ،طورخاص پران کے والدتوچاہتے تھے کہ وہ جم کر وکالت کر یں ،لیکن مولانا شبلی کو وکالت سے اس قدر کوفت تھی کہ وہ پندرہ روپے کی قرق امینی کو وکالت پر تر جیح دیتے تھے۔
ایسانہیں ہے کہ شبلی اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر چالیس روپئے کی تنخواہ پرخوش تھے ،بلکہ خود شبلی بھی اس کو اپنے اور اپنے خاندا ن کے رتبے سے فروتر سمجھتے تھے ،جیسا کہ ان کے قیا م علی گڑھ کے ابتدائی خطو ط سے بے اطمینانی کا اظہار ہوتا ہے ۔
لیکن شبلی کی یہ بے اطمینانی کیفیت زیادہ دنوں تک نہ رہی ،چنانچہ جب سر سید کے کتب خانے میں موجود نادرونایاب کتابوں کے ذخیرے تک ان کی رسائی ہوئی ،اور علم وفن کی ایک نئی دنیا ان کے سامنے نمو دار ہوئی تو اس علم کے متوالے کی ساری کوفت جاتی رہی ،اور بالآخر ان کو یقین ہو چلا کہ علی گڑھ کالج کا تعلق ا ن کی آئندہ عظمت کا پیش خیمہ ثابت ہوگا ۔
شبلی کی زندگی کا یہ تیسر ادور جو علی گڑھ کالج اور سر سید کی صحبت میں گزرا پندرہ سال کے عرصے پر محیط ہے، علامہ شبلی نے ۲۶؍سال کی عمر میں علی گڑھ کالج میں قدم رکھا اور پندرہ سال کی مدت میں انھوں نے جو علمی ترقیاں کیںاس کا اندازہ ان کی ان کتابوں اور تحریروں سے لگایا جا سکتا ہے جو انھوں نے علی گڑھ کالج کی زندگی میں ہی تصنیف کیں ۔
علی گڑھ کالج سے علامہ شبلی کا تعلق جنوری۱۸۸۳ تا مئی ۱۸۹۸ رہا۔ اس زمانے میں انھوں نے سات ایسی کتابیں تصنیف کیں جن میں سے ہر ایک ایسی جامع اور پر مغز ہے کہ آج تک اس جیسی کوئی تصنیف اس موضو ع پر نہیں لکھی گئی ،وہ تمام کتابیں آج بھی اسی آب وتاب کے ساتھ موجو د ہیں ۔ (۱)مسلمانوں کی گزشتہ تعلیم (۲) المامون (۳) الجزیہ(۴) سیرۃ النعمان (۵) کتب خانہ اسکندریہ(۶) سفرنامہ روم ومصر وشام(۷) الفاروق
علی گڑھ کالج سے وابستہ ہونے کے بعد علیحدگی اختیار کرنے تک شبلی کے ہاتھوں صر ف یہی تحریریں منظر عام پر نہیں آئیں،بلکہ ان تصانیف کے علاوہ سر سید احمد خان اور علی گڑھ تحریک کی حمایت میں شبلی نے مثنوی’’صبح امید‘‘اسی طرح سالار جنگ اول حیدرآباد کے انتقال پر فارسی مرثیہ بھی لکھا،خلیفہ سید محمد حسن ریاست پٹیالہ کے وزیر الدولہ علی گڑھ تشریف لائے تو سید محمود کی فرمائش پر قصیدہ پیش کیا ،اس کے علاوہ ’’قصیدہ بہاریہ ‘‘اور’’ قصیدہ حمیدیہ‘‘ الگ سے ہیں ،ان کے استا د فیض الحسن سہارنپوری نے جب وفات پائی تو فارسی میںان کا بھی بڑا پردرد مرثیہ لکھا،اسی طرح ان کا مشہور مقالہ ’’تراجم ‘‘بھی اسی دور کی یادگارہے ،اسی طرح جب نواب سر آسماں جاہ بہادر وزیر اعظم حیدر آباد علی گڑھ تشریف لائے تو ان کی شان میں سر سید احمد خاں کی فرمائش پر رودکی کے مشہور قصیدہ پر قصیدہ لکھ کر پڑھا ،علی گڑھ کالج کے لئے ’’تاریخ بدئ الاسلام‘‘ مرتب کی جو عرصہ تک کالج کے نصاب میں شامل رہی ،شبلی کا مشہور مقالہ حقوق الذمین،تحقیقی مقالہ (اسلامی کتب خانے) رسالہ (حسن )اور ’’مجموعہ نظم فارسی‘‘ بھی اسی تیسرے دور سے متعلق ہیں ،اسی طرح شبلی نے اپنا مشہور مقالہ (اسلامی حکو متیں اور شفاخانے )بھی علی گڑھ کی زندگی میں ہی تحریر کیا،نیز’’آرمینیا‘‘ کے نام سے اسی مدت میں ایک اہم مضمون بھی لکھا جس میں شبلی نے ترکی کی انصاف پروری اور یورپ کی دروغ گوئی واضح کی ہے ،اسی طرح اسی مدت میں شبلی نے ’’دستور العمل وہدایت برائے مدرسین ‘‘ کے عنوان سے نصابِ تعلیم اور نظام الاوقات تیا رکیا نیز تاریخی تحقیقات کامجموعہ ’’رسائل شبلی‘‘بھی اسی وقت کی یادگارہے ۔
یہ تورہی وہ چیزیں جن کا تعلق شبلی کے قلم سے ہے ،یہاں یہ بات گوشِ گزار رہے کہ جو تحریری چیزیں یہاں پیش کی گئی ہیں وہ کل نہیں ہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت سی تحریریں خطوط ،قصائد ،مرثیہ اور دیگر اصناف پر مشتمل ہیں جن کا ذکر یہاں نہیں ہواہے ۔
بہر کیف شبلی کی زندگی علی گڑھ میں صرف تصنیف و تالیف میں نہیں صرف ہورہی تھی،بلکہ اس کے علاوہ شبلی عملی زندگی میں بھی پیش پیش تھے،چنانچہ ان دنوں میں ان کے ذریعے بہت سے علمی مراکز کو بھی فائدہ پہونچا، چنانچہ انھوں نے ۱۸۸۳ئ میںاعظم گڑھ کے مسلمانوںمیں تعلیمی ترقی کیلئے مجلس موازنہ ’’ترقی قومی‘‘ قائم کی، جنرل عظیم الدین خان رام پور کی فرمائش پر ۱۸۸۸ میں کتب خانہ رام پور کا معائنہ کیا اور کتب خانہ کی تر تیب وتنظیم سے متعلق سفارشات پیش کی ۔اور بعد میں انہیں خطو ط کی روشنی میں کتب خانہ کی ازسر نوتنظیم کی گئی، ۱۸۸۹ میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے چوتھے اجلاس بمقام علی گڑھ میں شرکت کی اور فارسی ترکیب بند پیش کیا ۔علی گڑھ کالج کی طلبہ یونین کے مباحثہ میں گزشتہ طرز تعلیم کی حمایت میں تقریر کی، ۱۸۹۲ میں سر سید احمد خان نے جب صیغہ اغلاط تاریخی کی تصحیح قائم کی تو شبلی کو ہی اس کا سکریڑی بنایا اور ان کے تاریخی مقالات کو اس صیغہ میں شامل کیا ۔
اعظم گڑھ شہر میں اپنے باغ میں ’’شبلی منزل ‘‘قائم کی جہاں آج دارالمصنفین قائم ہے ،ایک علمی رسالہ المعارف کا خاکہ تیار کیا ۱۸۹۴ میں تحریک ندوۃ العلمائ کے پہلے اجلاس (’’جو کانپور میں منعقد ہواتھا ‘‘)میں شرکت کی اور مجلس ندوۃ العلمائ کا دستور العمل تیار کیا اور نیشنل اسکول اعظم گڑھ میں والدہ مرحومہ کی یادمیں ایک ہال ’’ صدرالمنازل ‘‘ کے نام سے تعمیر کیا ۔
اس طرح علی گڑھ کالج کے قیام کے دوران شبلی کی شخصیت میں زبر دست نکھار آیا اور ان کی شہر ت دور دور تک پھیل گئی ،عوام وخواص دونوں طبقوں میں ان کی علمیت کا سکہ بیٹھ گیا ،ان کو مختلف انعام واکرام اور تمغوں سے بھی نوازا گیا،نیز مختلف عہد وں پر ان کو بٹھا یا گیا ،اور مختلف کمیٹیوں کا صدر اور ممبر بھی نامزد کیا گیا ۔
چنانچہ خلافت عثمانیہ کی طر ف سے ۸؍اگست ۱۸۹۲ کو ’’ تمغہ مجیدیہ ‘‘ سے سر فراز ہوئے ۔ ۱۸۹۴ میں حکومت نے ’’شمس العلما‘‘ کے خطاب سے نوازا، اور ۱۷؍فروری کوعلی گڑھ کے اسڑیچی ہال میںجلسہ منعقد ہوا مسٹر ہونگٹن کمشنر میرٹھ نے ’’شمس العلما ‘‘ کی سند کے ساتھ عمامہ ،عبا اور تمغہ عطا کیا ،علی گڑھ کی تاریخ میں علامہ شبلی پہلے پروفیسر تھے جنھیں شمس العلما کا خطاب ملا، ۱۸۹۵ میں الہ آباد یونیورسٹی نے انھیں بورڈ آف اسٹڈی کا رکن اور فیلومنتخب کیا ،اور پھر انھوں نے نصاب فارسی برائے امتحانا ت الہ آباد یونیورسٹی مرتب کرنے کی تجویز منظور کی، اسی طرح بیگم بھوپال نے عربی مدارس کی تنظیم ’’نظارۃ المعارف ‘‘ کا رکن نامزد کیا، علامہ شبلی کی زندگی کا تیسرا دوربہت اہم ہے اسی لئے تاریخ نگار اور تنقید نگار بھی اس دور کو شبلی کی زندگی کا سب سے اہم حصہ شمار کرتے ہیں ۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ شبلی کی زندگی میں جو اٹھان علی گڑھ کی علمی فضا میں آئی وہ کسی دوسرے ماحول میں تقریباً نا ممکن تھی ،لیکن حیر ت ہوتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی صاحب قلم شبلی کی شخصیت میں موجو د فضل وکمال کو نظر انداز کر تے ہوئے شبلی کی کامیاب زندگی کا سہرا سر سید کے گلے میں ڈال دیتا ہے ،سر سید کی عظمت، ان کا فضل وکمال یقینابہت اعلی مقام پر ہے ،لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ اگر سر سید کے سامنے دوسرا صاحب فضل وکمال کھڑا ہوجائے تو اس سے سر سید کے فضل وکمال میں کوئی نقص پیدا ہوجائے گا،اور میرے خیال سے وہ تمام افراد جو ہر حال میں شبلی کے علم وکمال کا سہرا سر سید کے گلے میں ڈالنا چاہتے ہیں وہ اسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اگر برملا شبلی کے فضل وکمال اور ان کی خداداد صلاحیت کا اظہار کیا جائے گا تو اس سے سر سید کی فضیلت میں کمی واقع ہو جائے گی او روہ کسی بھی حال میں ایسا ہونے نہیں دینا چاہیں گے ۔
ہاں یہ ایک حقیقت ہے کہ علی گڑھ کی سر زمین اور سر سید کی صحبت نیز محمڈ ن اینگلو اورینٹل کا لج کی علمی فضانے شبلی کی شخصیت سازی میں اہم رول ادا کیا ہے ،لیکن ہمارے بہت سے ادبائ اور دانشور جب شبلی کی زندگی اور ان کی شخصیت پر قلم اٹھا تے ہیں تو علی گڑھ کا ذکر آتے ہی وہ شبلی کی ذات میں موجو د علمی قابلیت، خدا داد صلاحیت اور ان کی خلاقانہ طبیعت وذہانت پر پر دہ ڈال دیتے ہیں،اور میرے خیال سے ایسا وہ بالارادہ نہیں کرتے ،بلکہ وہ علی گڑھ کالج کے روح رواں سر سید احمد خان کے فضل وکمال شمار کرانے میں منہمک ہوجاتے ہیں ،دوسرے لفظو ں میں اگر میں کہوں تو یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ سر سید کے ذکر سے اس قدر مسحور ہوجاتے ہیں کہ انھیں شبلی کی شخصیت کے جواہر یا تو بالکل نظر ہی نہیںآتے ،اور اگر نظر آتے بھی ہیں تو سر سید کے سامنے شبلی کی شخصیت کو قابلِ اعتنانہیں سمجھتے ،اسی لئے ہم شبلی کی شخصیت اور ان کی زندگی پر لکھے گئے مضامین اور کتابوں میں دو طرح کی تصویر دیکھتے ہیں ،چنانچہ سید سلیمان ندوی ’’ حیات شبلی ‘‘ میں ان تما م افراد پر طنز کستے نظر آتے ہیں جو شبلی کی شخصیت کو سر سید کے مر ہون منت کے طور پر دیکھتے ہیں ۔
سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں ۔
اگر علی گڑھ نے شبلی کو شبلی بنا دیا ،تو کیا وجہ ہے کہ اس بزم میں آکر کسی اور کا قدوقامت نہیں بڑھا ۔(۳)
یاد گار شبلی کے مصنف ایس،ایم ،اکرام بھی سید سلیمان ندوی کے اس طنز کو قبو ل کر تے ہیں
چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’فی الحقیقت سید صاحب کا طنز بے جانہیں ‘‘۔(۴)
اور یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ شبلی کی ذات میں ہی ایسے جواہر ریزے موجود تھے جو سر سید کو شبلی سے قریب کر رہے تھے ،ورنہ کیا وجہ تھی کہ ایک پینسٹھ سالہ انسان محض چھبیس سال کے نوجوان سے اس حد تک قربت اختیار کرتا ہے کہ وہ اس نوجوان کو اپنے ہی رہائش گاہ میں ایک کمرہ دے دیتاہے ۔
کیا سر سید کا شبلی کو اپنی رہائش گاہ سے متصل رہنے کے لئے مکان دینا اس بات کا غماز نہیںہے کہ سر سید خود شبلی کی ذات میں موجود قابلیت کو پرکھ چکے تھے ؟
سر سید نے شبلی کو نہ صرف اپنی رہائش سے متصل مکان بر ائے رہائش دیا ،بلکہ دونوں حضرات اکثر شام کا کھانا ایک ساتھ کھاتے، اور مختلف موضوعات پر علمی گفتگو بھی کرتے ،اور اس میں کو ئی شک نہیں کہ اگر شبلی نے سر سید کی صحبت سے فائدہ اٹھا یا ہے تو سر سید بھی شبلی کی علمیت سے ضرور بہرہ ور ہوئے ہیں ۔
چنانچہ اسی کی طرف اشارہ کر تے ہوئے ایس ،ایم ،اکرام لکھتے ہیں:
لیکن چونکہ شبلی اور سر سید کا تالیف تفسیرکے دوران دن رات کا ساتھ تھا اور شبلی بھی ’’جیسا کہ ان کے بعد کی تصانیف مثلا الکلام ،علم الکلام سے صاف نظر آتاہے ‘‘ سر سید کی طرح آزاد خیال تھے ،اس لئے قرین قیاس ہے کہ تفسیر کی تالیف کے دوران اکثر دونوں میں تفسیری مباحث پر گفتگو ہوتی ہوگی اور اگر سر سید کی تفسیر میں مصنف کے سوا کسی اور کا ہاتھ ہے تو وہ صرف مولانا فاروق کے بھا ئی کا نہیں بلکہ ان کے جان استاد شاگر د شبلی کا بھی ہے‘‘(۵)
سر سید اور شبلی کے درمیان اکثر شام میں کھانے پر علمی گفتگو ہونے کی بات محض دعوی نہیں ہے بلکہ اس کی دلیل ہمیں ایک عینی شاہد یعنی ’’البر امکہ‘‘ کے مصنف مولوی عبد الرزاق کان پوری کی کتاب ’’ یاد ایام ‘‘ میں ملتی ہے ۔مولوی عبدالرزاق لکھتے ہیں:
چنانچہ شب کو کھانے پر سر سید صاحب کے ہمر اہ مولانا شبلی اکثر ہوتے اور تقریبا یہ دو ڈیڑھ گھنٹے نہایت پر لطف ہوتے تھے ۔اور مذہبی، ادبی ،سیاسی تذکرے چھڑجاتے تھے۔ اتفا ق سے ایک مر تبہ میں بھی کھانے میں شر یک تھا ،اس روز اصحاف کہف کی ان آیتوں پر بحث شروع ہوئی ،جو قرآن کریم میں ہیں ،اور بڑی آزادی سے گفتگو ہوئی جو سننے کے قابل تھی ،اور مباحثہ میں جو متفقہ فیصلہ ہوتا تھا ،اس کو فریقین تسلیم کرلیتے تھے (۶)
مولوی عبدالرزاق کانپوری کا یہ بیان پورا معاملہ صاف کر دے رہا ہے کہ اگر سر سید سے شبلی نے استفادہ کیا توسر سید بھی شبلی کی خداداد صلاحتیوں سے بہرہ ور ہوئے ہیں، اور اس بیان سے ایس ،ایم ،اکرام کی یہ بات بھی صحیح ثابت ہو تی ہے کہ ’’ سر سید کی تفسیر میں مصنف کے سوا کسی اور کا ہاتھ ہے تو وہ صر ف مولانا فاروق کے بھائی کانہیں بلکہ ان کے جانِ استاد شاگرد شبلی کابھی ہے ‘‘
اب اتنی بات تو صاف ہو گئی کہ شبلی کی شخصیت میں موجو د قابلیت اور لیاقت جس کا ظہور مختلف اصناف سخن میں ہوا کلیہ طور پر سر سید کی صحبت سے پیدا نہیں ہوئی تھی ،لیکن اس بات سے بھی انکا ر نہیں کیا جا سکتا کہ شبلی نے علی گڑھ کالج کی علمی فضا اور سر سید کے کتب خانے سے خوب استفادہ کیا تھا،اور اپنی شخصیت کو جلابخشنے میں انھوں نے مغرب سے آنے والی ان کتابوں سے خوب مددلی تھی جو علی گڑھ کے علاوہ شاید ہندوستان کے دوسرے مقام پر شبلی کو میسر نہ آتیں۔
علامہ شبلی نعمانی کی زندگی کا چوتھا اور آخری دور مختلف لحاظ سے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے ،چنانچہ ایک طرف حید رآباد کے قیام کی زندگی تصنیف وتالیف کے لحاظ سے اہم ہے، تو دوسری طر ف ندوہ سے وابستہ ہو کر انھوں نے قوم مسلم کی ترقی کے لئے جو خواب بنے وہ بھی سنہرے حروف سے لکھے جانے کے لائق ہے،اسی طرح اسی دور میں انھوں نے تصنیف وتحقیق کا مذاق پیدا کر نے اور قلم کاروں کی ایک جماعت تیار کرنے کے لئے جو دارالمصنفین کا قیام کیا وہ بھی ان کی کامیاب زندگی کا اہم باب ہے ،اس کے علاوہ شبلی نے اس دور میں مختلف مراکز اور کتب خانوں کابھی دورہ کیااور مدارس اسلامیہ کے نصاب میں بطور خا ص دارالعلوم ندوۃالعلمائ میں انھو ں نے جو نصابی اصلاحات کیں وہ بھی حالاتِ حاضرہ سے ان کی واقفیت کا پتہ دیتی ہیں ۔
شبلی کی زندگی کا آخری دور چونکہ حیدرآباد،ندوۃالعلمااور اعظم گڑھ، تین مقامات سے متعلق ہے اس لئے آسانی کی غرض سے میں اسے تین خانو ں میں تقسیم کر تا ہوں ،تاکہ ان کی زندگی کا صحیح رخ میں پیش کر سکوں ۔
علامہ شبلی نعمانی ؒ مئی ۱۸۹۸ میں علی گڑھ کی ملازمت سے مستعفی ہو گئے ماہ جون میں اعظم گڑھ آئے اور شبلی منزل میں قیام کیا ،اس دوران ان کی طبیعت میں عجیب ہیجان پیدا ہوئی ،طبیعت اس طرح بگڑی کہ انھوں نے وصیت نامہ بھی تیار کر لیا ،لیکن کافی علاج ومعالجہ کے بعد جب طبیعت سنبھلی تو دوبارہ از سرنو وہ قومی کاموں میں حصہ لینے لگے ،یہ زمانہ شبلی کی زندگی کا بہت تکلیف دہ زمانہ تھا ،اسی دوران انھوں نے جب معالج کے مشورہ پر دوسری شادی کا ارادہ کیا تو ان کے بیٹے حامد شبلی نے بغاوت کی اور وہ گھر چھوڑ کر بہار’’ پٹنہ‘‘ پہونچ گئے ،اسی دوران شبلی کے والد کا بھی انتقال ہو گیا اور وہ سخت صدمہ سے چار ہوئے۔
بہر کیف علامہ شبلی نعمانی کسی طرح ۱۹۰۱ میں حیدرآباد وارد ہوگئے ،ان کی آمد پر علم وادب کے حلقوں میں بڑی خوشی کا اظہار کیا گیا،اپریل میں ان کے لئے صیغہ امور مذہبی کا ایک عہد ہ جس کا ماہوار مشاہرہ ۴۲۵؍روپے تھا تجویز ہو ا،لیکن مولانا نے اسے قبول نہ کیا اور بالآخر ۲۲؍مئی ۱۹۰۱ کو ان کا تقرر سر رشتہ علوم وفنون کی نظامت پر ہو ا،اس محکمہ کا مقصد اردوزبان میں بذریعہ تصنیف وتالیف و ترجمہ علمی کتب کا ذخیرہ بہم پہونچانا تھا ،اس محکمہ سے منسلک ہونے کے بعد شبلی کو ایک طرف مالی مشکلات سے راحت ملی اور دوسر ی طر ف انھیں تصنیف وتالیف کا بھی اچھا موقع ملتا رہا ،چنانچہ ساڑھے تین سال کے قیام میں انھوں نے کوئی پانچ کتابیں مکمل کیں ۔(۱) الغزالی(۲) علم الکلام(۳) الکلام(۴) سوانح مولانا ئے روم(۵) موازنہ انیس ودبیر
اسی دوران انھوں نے دہلی میں ’’ اسلام کی بے تعصبی‘‘ کے موضوع پر لکچر دیا ،علامہ اقبال کی پہلی کتاب ’’علم الاقتصاد ‘‘ کی زبان کی اصلاح کی ،اور شعر العجم کا خاکہ بھی تیا ر کیا ۔
شبلی کو امیر کابل نے ابن خلدون کے تر جمہ کی پیش کش کی اور دارالترجمہ قائم کرکے شبلی کو اس کی سربراہی عطا کرنے کا اظہار کیا، لیکن انھوں نے بوجوہ منظور نہیں کیا، مولانا حبیب الرحمن شیروانی نے ندوہ کی نظا مت کی پیش کش کی مگر شبلی نے نا منظور کر دیا ،اسی دوران شبلی نے ماہنامہ ’’الندوہ۔ لکھنؤ‘‘ کا خاکہ بھی پیش کیا ۔البتہ بعد میں ایسے حالات بنے کہ شبلی باقاعدہ طور پر ندوہ سے نا صرف منسلک ہوے بلکہ خود کو مکمل طور پر ندوہ کے حوالے کردیا ۔
علامہ شبلی نعمانی تو اسی وقت سے ندوۃالعلما سے جڑے ہوئے تھے جب تحر یک ندوۃ العلما کا خاکہ تیا ر کیا جارہا تھا ،چنانچہ جب مدرسہ فیض عام کان پور میں تحر یک ندوۃ العلما کا پہلا جلسہ منعقد ہوا تو شبلی بھی اس میں شریک ہوئے اور مجلس ندوۃ العلما کا دستورالعمل بھی تیا رکیا ،اس کے بعد شبلی اور بعض دیگرذمہ داران ندوہ میں اختلافات بھی رہے ،لیکن شبلی نے کبھی بھی ندوہ کی فکر اپنے دل ودماغ سے جانے نہیں دیا ،حتی کہ اختلاف کی نوعیت اس حد تک بڑھ گئی کہ منشی اطہر نے ندوہ کے جلسوں میں علامہ شبلی کی تقریروں پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پیش کی،جسے ارکان ندوہ نے نامنظور کر دیا ،اسی طرح مولانا محمد علی جوہر سے بھی شبلی کے سخت اختلافات رہے ،لیکن یہ اختلا فات شبلی کو ندوہ سے دور نہ کرسکے،مولانا شبلی گرچہ حیدرآباد میں مقیم تھے لیکن وہاں سے وہ مولانا حبیب الرحمن شیروانی کے توسط سے ندوہ میں اصلاح و ترمیم کا مشورہ دیتے رہے ۔
اور جب ۱۹۰۵ میں باقاعدہ طور پر ندوہ سے وابستہ ہوئے،تو انھوں نے ہر طرح سے ندوہ کی ترقی کا سامان فراہم کیا،چنانچہ ندوہ کی مالی حالت بہتر بنانے کے لئے انھوں نے ۱۹۰۵ میں ندوہ کے لئے بھوپال سے پچاس روپئے ماہوار کی امداد حاصل کی،ندوہ کا مدرسہ ابھی تک لکھنؤ کے اند ر ایک پرانے طرز پر بنے ہوئے مکان میں تھا، اور منتظمین کا خیال تھا کہ ندوہ کے مکان کی بد حیثیتی اس کو ابھر نے نہیں دیتی، اس لئے انھوں نے اس پر خاص توجہ شروع کی اور اپریل ۱۹۰۷ میں کارکنا ن ندوہ کی طرف سے ایک اپیل شائع ہوئی ،بالآخر نواب بہاولپورکی والدہ ماجدہ نے اپنے نجی خزانے سے پچاس ہزار روپیہ کی رقم ندوہ کے لئے ایک عالیشان عمارت بنا نے کے لئے عطا کی اور ۲۸؍ نومبر ۱۹۰۸ کو جلسہ ٔ سنگ بنیا د منعقد ہوا اور صوبہ کے لفٹنٹ گورنر کے ہاتھوں دارالعلوم ندوۃ العلما کا سنگ بنیا د رکھا گیا ۔
ندوۃ کے مالی استحکام کے علاوہ شبلی نے اس کی عام شہر ت اور مقبولیت پر توجہ کی،انھوں نے ندوۃکے ایک بالکل ابتدائی اجلاس میں یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ علماندوہ کے پلیٹ فارم پر متحد ہو کر قومی معاملات کی باگ ڈوراپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں، چنانچہ انھوں نے تعلیمی مشغلوں کے علاوہ بعض دوسرے کاموں میں بھی ہاتھ ڈالا اور ان معاملات میں ندوہ کو قوم کی آواز بنا نا چاہا ، ان میں سے ایک مفید کام قانونِ وقف علی الاولاد تھا ،اس کے ساتھ مولانا نے ندوہ ہی سے اشاعت ِاسلام کی تحریک کو چلانا چاہا اور اس میں انھیں کامیا بی بھی ملی ،غرضیکہ شبلی کے دل میں قومی بہی خواہی کاجو جذبہ ابل رہا تھا وہ ان کے جسم کے ہر حرکت سے نما یاں تھا ،اور پھر جب انھیں اگست ۱۹۰۴ میں رسالہ ’’الندوہ‘‘ کا ایڈیٹر بنا یا گیا تو اپنے قلم سے بھی وہ ندوہ اور قوم کی خدمت میں بھر حصہ لیتے کرتے رہے ۔
علامہ شبلی نعمانی کی زندگی کا مطالعہ کرتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری دور میں بہت زیادہ سر گرم ہوگئے تھے،چنانچہ ان کی زندگی کی چند جھلکیاں پیش کرتا ہوں تاکہ اندازہ ہوسکے کہ وہ کتنے متحرک اور الوالعزم انسان تھے۔
۱۹۰۵ میں ندوہ کی معتمدی قبول کرنے کے بعد ایک طر ف وہ ندوہ کی ترقی کے لیے سر گرداں نظر آتے ہیں تو دوسری طرف مختلف سماجی ومعاشرتی سرگرمیوں میں بھی مشغول دکھائی دیتے ہیں ،معتمد تعلیم منتخب ہوتے ہی انھوں نے ندوہ میں جدید نصاب تعلیم نافذ کیا ،سلطان جہاں بیگم سے ملاقات کی اور ندوہ کے لئے امداد حاصل کی ،ندوہ میں درس قرآن کا سلسلہ شروع کیا، رسالہ’’الندوہ‘‘ میں مضامین عالمگیرلکھنے کا آغاز کیا،نواب سلیم اللہ خان ڈھاکہ کی فرمائش پر ڈھاکہ کا سفر کیا اور وہاں ’’تاریخ اسلام ‘‘ پر لکچر دیا ، ندوہ میں کتابوں کی کمی کا احسا س ہوا تو ۱۹۰۷ میں اپنا ذاتی کتب خانہ ندوہ پر وقف کر دیا ،وقف علی الاولاد کے لئے تحریک چلائی اور رسالہ وقف علی الاولاد سپرد قلم کیا ،جامعہ عثمانیہ یونیورسٹی کا نصاب تیا رکیا ،ندوہ میںہندی اور سنسکرت شعبہ قائم کیا اوراس طرح ندوہ میں بھا شا کی تعلیم کا آغاز بھی کیا ،اس کے علاہ شبلی نے تصنیفی کام میں شعر العجم جیسی کتاب تصنیف کی نیز ان کے فارسی غزلوں کا مجموعہ ’’دستہ گل ‘‘اور اردوکلام کا مجموعہ ’’نالہ شبلی ‘‘ بھی منظر عام پر آیا ،انھیں دنو ں میںشبلی نے عیسائی مورخ جر جی زیدان ایڈیٹر الھلال مصر کی کتاب تاریخ التمدن الاسلامیکے رد میں عربی تصنیف الانتقاد علی تاریخ التمدن الاسلامی لکھی ،ان کی فارسی غزلوں کا دوسرا مجموعہ’’بو ئے گل ‘‘بھی شائع ہو ا،اسی طرح انھوں نے مشہو رسیا سی مقالہ’’ مسلمانوں کی پو لیٹکل کروٹ لکھا‘‘۔ ۱۹۱۲ میں انھوں نے سیرت نبوی ؐ کی تالیف کا اعلان کیا اور مجلسِ تالیف ِسیرت نبوی قائم کی ،اگست ۱۹۱۳ میں جب مچھلی بازار کان پور کی مسجد کا وضوخانہ حکومت نے منہدم کر ادیا تو شبلی نے اس پر اپنی نظموں میں شدید ردعمل ظاہر کی ،فروری ۱۹۱۴ میں سیرۃ النبی جلد اول پایہ تکمیل کو پہو نچی اور دوسری جلد کی تصنیف کا آغا ز بھی ہوا ، ۱۹۱۳ میں جب ماہنامہ ’’الندوہ‘‘ میں مولوی عبدالکریم نے حکومت مخالف مضمون لکھا تو حکومت کے عتاب سے بچنے کے لئے تمام ارکان ندوہ نے مل کر انھیں معطل کر دیا اور جب ان کی معطلی کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو اس کی تما م ترذمے داری علامہ شبلی کے سر ڈال دی، اور اس طرح ان کے خلاف ایک طوفان بر پا کر دیا گیا ،جس سے دل بر داشتہ ہوکر ندوہ کی معتمد تعلیم کے عہدہ سے مستعفی ہوگئے ،معاملہ مزید آگے بڑھا تو وہ اسی سال جولائی میں ندوہ سے مستعفی ہوگئے ۔
شبلی ندوہ میں مچے طوفان اور ریشہ دوانیوں سے تنگ آکر جب مستعفی ہو گئے تو اپنے وطن اعظم گڑھ کا رخ کیا،لیکن یہاں بھی چین سے نہ بیٹھے بلکہ یہاں بھی وہ علمی سر گرمیوں میں جٹ گئے ،اورتحقیق و تصنیف کا ادارہ کھولنے کی غرض سے انھوں نے مارچ ۱۹۱۴ میں دارالمصنفین کا خاکہ مرتب کیا جو الھلا ل کلکتہ میں شائع ہوا اور اس کے لئے اعظم گڑھ میں اپنا بنگلہ ،باغ اور اعزہ کی جائداد یںبھی وقف کیں۔
یہ ہے علامہ شبلی نعمانیؒ کی زندگی کی چند جھلکیاں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ کبھی بھی حادثات سے متاثر نہیں ہوئے ،بلکہ تمام حالات میں یکسو ہوکر اپنے مقصد کی طرف قدم بڑھاتے رہے۔
علامہ شبلی کی زندگی میں ہم نے یہ بات دیکھی ہے کہ وہ ہمہ وقت کسی نہ کسی مہم پر ہوتے تھے،انھوں نے کبھی بھی اپنی زندگی میں فارغ الوقت جیسا کوئی پہلو داخل نہیں ہونے دیا، دوسری چیز ان کی فکر کے حوالے سے جو ہم نے محسوس کی ہے وہ یہ ہے کہ ان پر زندگی کے مختلف مراحل میں مختلف افکار غالب رہے ،عہد جوانی میں جب وہ علی گڑھ کالج سے منسلک نہیں ہوئے تھے تو وہ کٹر مولو ی تھے ،شدت سے ان پر مناظرانہ فکر غالب تھی ،اسی لئے وہ ہر وقت ’’اہل حدیث‘‘ فرقہ کے خلاف مناظرہ کے لئے تیار رہتے تھے۔
لیکن جب وہ علی گڑھ کالج میں آئے تو ان پر تاریخ نگاری کا پہلو غالب تھا ،اسی لئے تقریبا تمام لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ علی گڑھ کا قیام علامہ شبلی کی تاریخ نویسی کا عہد زریں ہے ،ہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت بھی یہ تاریخ نگاری قومی یا مذہبی مقاصد کے تابع تھی ،اور پھر جب علی گڑھ سے مستعفی ہو کر حیدرآباد میں مقیم ہوئے تو اس وقت ان پر کلامی رنگ پوری طرح چھا گیا ،یہاں انھوں نے علم الکلام میں قدیم علم الکلام کی تاریخ لکھی اور الکلام میں ایک نیا علم الکلام یا جدید مسائل پر قدیم متکلمین کے خیالات کو پیش کرنا چاہا،ان پر یہ کلامی رنگ اس حد تک غالب تھا کہ انھوں نے امام غزالی اور مولانا روم کی سوانح عمریوں کو بھی کلامی مسائل کی توضیح کا ذریعہ بنایا ۔اسی کے ساتھ ساتھ وہ فارسی او ر اردو ادب سے بھی منسلک رہے چنانچہ فارسی ادبیات کے حوالے سے انھوں نے ’’شعر العجم ‘‘ جیسی بیش بہا چیز یادگار چھوڑی،اور یہی واحدکتاب ہے جو ان کے تنقیدی نظریہ کی وضاحت کرتی ہے، چنانچہ اس کتاب کی چوتھی جلد بطورخاص اردو تنقید کے حوالے سے ہے،مرثیہ کے حوالے سے ان کی معروف کتاب’’موازنہ انیس ودبیر‘‘ بھی اردو ادب میں ایک اہم کتاب شمار کی جاتی ہے۔
لیکن اخیر عمر میں ان کا شغف سیرت نبوی سے بہت زیادہ بڑھ گیا تھاجس کے نتیجے میں انھوں نے ’’سیرۃ النبی ‘‘ کا ایک اہم خاکہ تیا رکیا اور پھر سیرت نبوی لکھنے میں ہمہ تن مشغول ہوگئے ،لیکن افسوس کہ وہ اپنے اس مشن کوپایہ تکمیل تک نہ پہونچاسکے اور ابھی وہ دوجلد یںبھی مکمل نہیں کر پائے تھے کہ ان کی طبیعت بگڑی اور ۱۸؍نومبر ۱۹۱۴ کو وہ اس دارِفانی سے کوچ کر گئے۔
حواشی و کتابیات
۱۔یادگار شبلی،ایس ،ایم،اکرام:مکتبہ جدید پریس ،سن اشاعت ۱۹۹۴ ص:۷۲
۲۔آثار شبلی،محمد الیاس اعظمی:معارف پریس، شبلی اکیڈمی،اعظم گڑھ،سن اشاعت ۲۰۱۳ئ ص: ۲۷
۳۔یادگار شبلی،ایس ،ایم،اکرام:مکتبہ جدید پریس ،سن اشاعت ۱۹۹۴ ص :۸۷
۴۔ایضا
۵۔ایضاً ،ص :۹۹
۶۔ایضاً،ص:۱۰۲
آثار شبلی، محمد الیاس اعظمی معارف پریس، شبلی اکیڈمی،اعظم گڑھ ۲۰۱۳
اورنگ زیب عالم گیر پر ایک نظر،شبلی نعمانی :معارف پریس، شبلی اکیڈمی،اعظم گڑھ،۲۰۱۲
اردو سفرناموں کا تنقیدی مطالعہ، خالد محمود جے۔کے۔آفیسٹ پرنٹرز،بازار مٹیا محل،جامع مسجد ۲۰۱۱
جدید اردو نثر کے معمار (حالی،شبلی اور محمد حسین آزاد)،پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی،غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی سن اشاعت ۲۰۱۶
حیات شبلی ،سید سلیمان ندوی،دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ ۱۹۹۳
سرسید اور ان کے نامور رفقائ،سید عبد اللہ،ایجوکیشنل بک ہاوس ،علی گڑھ ، ۱۹۹۴
شبلی کی علمی وادبی خدمات، خلیق انجم،انجمن ترقی اردو (ہند)نئی دہلی سن اشاعت ۱۹۹۶ئ
شبلی کے مقالات کا تنقیدی جائزہ ڈاکٹر عبد الرحیم دی آزاد پریس سبزی باغ پٹنہ ۱۹۹۰
۔شبلی کی آپ بیتی خالد ندیم معارف پریس، شبلی اکیڈمی،اعظم گڑھ ۲۰۱۴
شبلی شناسی کے اولین نقوش،ظفر احمدصدیقی پرم آفسیٹر،اوکھلا ۲۰۱۶
شبلی کی ادبی وفکری جہات ،ڈاکٹر شمس بدایونی ،دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ سن اشاعت ۲۰۱۳
شبلی معاندانہ تنقید کی روشنی میں،سید شہاب الدین دسنوی،انجمن ترقی اردو (ہند) ۱۹۸۷
مولانا شبلی پر ایک نظر، سید صباح الدین عبدالرحمٰن معارف پریس، شبلی اکیڈمی،اعظم گڑھ ۲۰۱۳
ماضی آگاہ، مستقبل نگاہ ،شبلی نعمانی، اختر الواسع،فرحت احساس البلاغ پبلیکیشنر،نئی دہلی۲۰۰۹
یادگار شبلی،ایس ،ایم،اکرام ۔مکتبہ جدید پریس۱۹۹۴
ڈاکٹر تجمل حسین
R256 2nd Floor ,Gali Number 3, Near Qadri Masjid, Batla House Jamia Nagar, New Delhi-110025
Mobile Number 9716422138
EmailId: tajammulhusain1@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

