جس کے گلشن پہ سدا باپ کا سایہ ہو فگن
ان کے دل میں نہ کوئی غم ہے نہ ماتھے پر شکن
مشکلیں ہوتی ہیں آسان در پدری میں
ورنہ گھنگھور گھٹا چھاتی ہے لگتا ہے گہن
باپ بے مثل شجاعت کا حسیں پیکر ہے
اس کی بے لوث محبت سے کھل اٹھتا ہے چمن
اس کی پرواز میں شاہین کا انداز رہے
اس کے سایے میں ہمہ وقت رہے گھر میں جشن
آندھیاں اٹھتی ہیں ہر روز نہاخانوں میں
گر نہیں باپ تو ہوتے ہیں پھر ارمان دفن
لب پہ سومی ہے دعاؤں کا یہ انبار لئے
کردے آباد تو والد کو ہوں جنت میں مگن
ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی
آراضی باغ، اعظم گڑھ

