آشوب لگ گیا ہے کوئی میری جان کو سر پہ اٹھائے پھرتا ہوں میں آسمان کو شاید اسی سے ٹوٹے ہواؤں کی…
تخلیقی ادب
-
-
دل مرا اتنا بے قرار نہ تھا ہجر کی رات اشک بار نہ تھا بات میں بات ہو گئی پیدا اس پہ…
-
پل صراطوں سے ہیں ہنس ہنس کے گزرنے والے بحرِ عشقِ شہِ طیبہ میں اترنے والے جن کی بھی زندگی آقا…
-
زندگی کی رونقیں ساری کی ساری ماں سے ہیں روشنی بھی دلکشی بھی اور خوشی بھی ماں سے ہیں بجھ گئے…
-
حوصلہ ٹوٹ بھی تو سکتا ہے آسماں روٹھ بھی تو سکتا ہے مطمئن ہو کے چل رہے ہو میاں رہنما لوٹ…
-
چودہ برس پہلے وہ کالج میں کلاس کی طرف جا رہا تھا کہ کوئی شے اُس کے سرسے آکر ٹکرا گئی اور…
-
کہتے ہیں کہ آدمی کی پہچان دو باتوں سے ہوتی ہے، ایک تو اس سے لین دین کیا ہو یا اس کے…
-
یاس و الم میں ڈوبا پدر پاش پاش ہے رخصت ہوا شکیب ، جگر پاش پاش ہے وہ کیا گیا کہ…
-
دل مرا لگتا نہیں تیرے بغیر اے مرے بابو کہیں تیرے بغیر دیکھ تیری ماں بہت بے حال ہے باغِ جنت …
-
یہ بات ۱۹۹۶ء کی ہے کہ پروفیسر عبدالحق شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی کے اس وقت صدر تھے، کہنے لگے: ’’میاں! نارنگ صاحب…

