چودہ برس پہلے وہ کالج میں کلاس کی طرف جا رہا تھا کہ کوئی شے اُس کے سرسے آکر ٹکرا گئی اور وہ زمین پر گر گیا۔ اس نے اپنے وجود میں ٹھنڈک محسوس کی اور آس پاس کچھ شور سنائی دیا۔ لیکن کچھ لمحے میں ہی اس نے اپنے قریب کسی کا لمس محسوس کیا کوئی اپنے ہاتھوں سے اُس کا چہرہ ہلا رہا تھا اور تب تک اس کو مسلسل اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا جب تک وہ پورا بے ہوش نہیں ہوا۔ اُس نے جب اپنی آنکھیں کھولیں تو وہ ہسپتال میں تھا اور کوئی اس کے سرہانے کھڑا تھا شاید اس کا دوست اس نے آواز سے تعاقب لگانے کی کوشش کی لیکن نہیں کوئی اور بھی ہیں اس کے کانوں میں نسوانی آواز پڑی تو اس نے نظر اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی۔
زید آپ ہوش میں آگئے اوہ خدایا کتنا ڈرا دیا آپ نے، آج تو جان ہی نکال دی تھی۔ اب کیسا محسوس کر رہے ہیں، زیادہ درد تو نہیں ہو رہا۔
زید جواب دو یار آنسہ کچھ پوچھ رہی ہیں۔ اس کی خاموشی پر فوراً اس کے دوست نے مداخلت کی۔
آنسہ! لیکن یہ یہاں۔۔۔۔۔۔ زید نے قدرے حیرانگی سے پوچھا؟
زیادہ حیران نہ ہو تمہارے گرنے کی اطلاع اسی نے مجھے دی تھی اور تمہیں یہاں لے کر بھی یہی آئی ہیں، تمہیں بے ہوش پاکر اس کی تو حالت غیر ہوگئی تھی تب سے مسلسل روئے جا رہی ہیں میں نے اس سے کہا بھی کہ گھر چلی جائے مگر اس نے میری ایک نہ سنی۔ زید کے سوال پر اس کے دوست نے فوراً وضاحت دی۔
لیکن میں اب ٹھیک ہوں تم گھر چلی جاؤ آنسہ ظفر تمہیں فون پر اپ ڈیٹ کرتا رہے گا، تمہارا اس طرح یہاں رہنا مناسب نہیں اس لئے کہہ رہا ہوں۔ زید نے قدرے حاکمانہ لہجے میں کہا۔
ٹھیک ہیں آپ کہہ رہے ہیں تو میں چلی جاتی ہوں لیکن پلیز آپ اپنا خیال رکھیں گا
آنسہ وہاں سے چلی گئی تو ظفر رازداری سے زید کو کہنے لگا میں نا کہتا تھا زید کہ آنسہ بھی تمہں پسند کرتی ہیں آج تو اس نے ثابت کر دیا مبارک ہو دوست تمہاری محبت یکطرفہ نہیں ہیں آگ دونوں طرف سے برابر کی لگی ہے۔ میری مانو تو جتنا جلدی ہو سکیں اپنی محبت کا اظہار کر دو دیکھنا وہ انکار نہیں کریں گی۔
ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے پورا ایک ہفتے بعد وہ کالج گیا اور ظفر کے ساتھ صحن میں بیٹھا تھا دونوں گپ شپ میں مشغول تھے کہ پیچھے سے کسی کی سلام سنائی دی دونوں نے مڑ کر دیکھا تو وہ آنسہ تھی جو بڑی خوش مزاجی کے ساتھ زید سے مخاطب ہوئی۔ آپ کو دوبارہ کالج میں دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہیں میں نے تو جیسے ہی سنا میں کلاس چھوڑ کر بھاگ آئی۔ اب کیسی طبیعت ہیں آپ کی؟
پہلے سے بہتر ہوں
آجاؤ بیٹھو زید نے اشارے سے بیٹھنے کا کہا
جی شکریہ
دوستوں میں یہ تکلفات نہیں ہوتے آنسہ
دوست! آنسہ ہکا بکا ہو کر زید کو دیکھنے لگی۔
ہاں دوست، کیوں میں تمہارا دوست نہیں ہوں کیا اور جو تم نے میرے لئے کیا وہ ایک دوست کی ہی تو نشانی ہوتی ہیں۔
جی میں بھی آپ کو دوست ہی سمجھتی ہوں آنسہ نے سر جھکا کر کہا۔
یوں دونوں میں دوستی ہوگئی اور وقت کے ساتھ جب دونوں کی دوستی گہری ہوگئی تو زید نے موقعہ دیکھ کر آنسہ سے محبت کا اظہار کیا تو اس نے ہاں کر دی
اس کے بعد دونوں کی زندگی بدل گئی جہاں دونوں ساتھ نہیں ہوتے تھے وہاں اُن کا خیال ہوتا تھا، دونوں گھنٹوں ایک دوسرے کو سوچتے رہتے، ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہتے اور زید اکثر آنسہ سے کہتا تھا آنسہ میں نہیں جانتا تھا کہ محبت کیا ہوتی ہے لیکن جب سے تم ملی ہو تو میں نے یہ جانا کہ محبت زندگی میں بہار لے آتی ہیں، محبت جینا سکھاتی ہیں اور تمہاری محبت میں قبر میں جا کے ہی بھلا دوں گا۔
ایک دوسرے کی محبت میں کس طرح چودہ سال نکل گئے پتہ ہی نہیں چلا ویسے بھی محبوب ساتھ ہو تو وقت کا خیال کہاں رہتا ہے اور یہی حالت اُن دونوں کی بھی تھی۔ اب دونوں شادی کا خواب دیکھ رہے تھے زید نے آنسہ کو بتایا تھا کہ وہ کل رشتہ بھیج دے گا اور آنسہ کے تو پاؤں زمین پر نہیں رک رہے تھے وہ تو خوشی سے پاگل ہو رہی تھی بلآخر چودہ سال بعد اس کی محبت کو منزل ملنے والی تھی۔
وہ جب بھی آنسہ سے پوچھتا تھا آنسہ تم مجھے کبھی چھوڑ کر تو نہیں جاوں گی نا تو آنسہ جھٹ سے ہر بار ایک ہی جواب دیتی نہیں زید میں آپ کی ہوں صرف آپ کی اور مجھے کوئی اور فتح نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی چیز مجھے آپ سے جدا کر سکتی ہیں تو صرف موت ہیں اس لئے زید میاں بے فکر ہو جائیں کیونکہ آنسہ ایک بار کسی کو اپنا لے نا تو اتنی آسانی سے اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی اور ہر بار آنسہ کی زبان سے ایک ہی جواب سن کر اس کے آنکھوں کی چمک چوگنی ہو جاتی۔
آج پورا گھر چمک رہا تھا، کیچن سے لذیذ کھانوں کی خوشبو آرہی تھی، امی ابو مہمانوں کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ آنسہ اپنے کمرے میں تیار ہورہی تھی کہ دروازے کی بیل بجنے لگی اس نے جلدی سے ڈوپٹہ لیا اور کیچن کی طرف داخل ہوگئی اور اپنی ماں سے پوچھنے لگی امی مہمان آگئے؟
ہاں بیٹا آگئے ہیں تم یہ ٹرے لو ذرا پیچھے مڑتے ہوئے اس نے آنسہ کو دیکھا تو لمحے بھر کے لئے جذبات میں بہہ گئی اور اپنی آنکھ سے کاجل نکال کر بیٹی کو لگاتے ہوئے کہا بہت خوبصورت لگ رہی ہو بیٹا کہیں تمہیں میری ہی نظر نہ لگ جائے۔ اللّٰہ میری بیٹی کے نصیب اچھے کریں۔
امی کہاں جذبات میں بہہ گئی آپ، جائیں مہمان انتظار کر رہے ہیں میں چائے لے کر آتی ہوں۔ اپنی امی کو بھیج کر وہ ٹرے پر چیزیں سجا کر خوشی خوشی مہمان خانے کی طرف چلی گئی لیکن دروازے کے قریب پہنچ کر اس کے قدم رک گئے اس کا باپ زید کے باپ سے اونچی اونچی آواز میں کچھ کہہ رہا تھا۔
کیا آپ کا بیٹا کوئی کام نہیں کرتا، وہ کچھ کرتا نہیں ہیں تو میری بیٹی کی ذمہ داری کیسے سنبھال پائے گا۔ آپ کو کیا لگتا ہے وہ میری بیٹی کو خوش رکھ پائے گا۔
دیکھیں آپ جذباتی ہو رہے ہیں یہ بات سچ ہیں کہ زید ابھی کچھ کام نہیں کرتا ہے لیکن وہ پڑھا لکھا ہے اور نوکری کی تلاش میں ہیں اس کو بہت جلد نوکری مل جائے گی۔ زید کا باپ آنسہ کے گھر والوں کو منانے کی کوشش کر رہا تھا
آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں اپنی بیٹی کو ایک بیکار شخص سے بیاہ دوں گا۔ آنسہ کے باپ نے بیکار لفظ پر زور دیتے ہوئے پوچھا؟
آپ سمجھنے کی کوشش کریں وہ دونوں بہت خوش رہیں گے ایک ساتھ، پسند کرتے ہیں ایک دوسرے کو اور برسوں کی محبت بھی تو ہیں۔ میرا یقین کریں آپ کی بیٹی ہمارے گھر میں بہت خوش رہیں گی۔ زید کے باپ نے ایک بار پھر معاملے کو سنھبالنے کی کوشش کی۔
ہونہہ، ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ تو کیا آپ کا بیٹا میری بیٹی کو محبت کھلا کھلا کر زندہ رکھے گا۔ آج کے دور میں انسان کے پاس ضروریات زندگی پوری کرنے کے لئے کسی نہ کسی وسائل کا ہونا بہت ضروری ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے میری بیٹی کو رشتوں کی کمی ہیں جو آپ کے کنگال بیٹے سے میں آنکھیں بند کر کے اس کو بیاہ دوں گا۔ معاف کیجئے گا یہ رشتہ نہیں ہوسکتا آنسہ کے باپ نے اپنا فیصلہ سنایا۔
لیکن ایک بار بچوں کی خوشی کے بارے میں بھی تو سوچ لیجئے۔ وہ کیا چاہتے ہیں یہ بھی دیکھیں۔ میں گذارش کرتا ہوں کہ آپ ایک بار پھر سے سوچ لیجئے۔ زید کا باپ بے بسی سے کہنے لگا۔
اس میں سوچنے کی کوئی گنجائش نہیں، میں اس رشتے کو نہیں مانتا آپ جاسکتے ہیں مجھے یہ رشتہ نامنظور ہیں۔
آنسہ نے باپ کا فیصلہ سن لیا تو اس کے ہاتھوں سے ٹرے گر پڑی تو سب لوگ اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔ وہ دوڑتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی اور رو رو کر اپنا بُرا حال کیا، کئی دنوں
تک کھانا پینا چھوڑ دیا۔ ادھر زید کی حالت بھی ناقابلِ برداشت تھی۔
لیکن آخر کار ماں باپ کے سمجھانے پر آنسہ نے خود کو سنبھال لیا اور کسی اور کے ساتھ شادی کے لئے راضی ہوئی اور زید کو یہ پیغام بھیجا۔
زید میں نے امی ابو کو منانے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہی۔ شاید قسمت کو ہمارا بچھڑنا ہی ” منظور تھا اسی لئے ابو کی عزت کی خاطر شادی نام کا سمجھوتہ کر رہی ہوں لیکن میرے دل میں آج بھی آپ ہی ہے اور ہمیشہ آپ ہی رہیں گے۔ زید مجھے بے وفا مت سمجھیں گا میں بے وفا نہیں ہوں بس وقت کے ہاتھوں مجبور ہوں میں جانتی ہوں یہ آپ کے لئے مشکل ہوگا لیکن ہوسکیں تو مجھے بھول جائیں گا کیونکہ میں اب کسی اور کی عزت بننے جا رہی ہوں۔ مجھے معاف کیجئے گا زید اور آپ بھی قسمت کے اس فیصلے کو قبول کیجئے اور اپنی زندگی میں آگے بڑھ جائیں گا“۔
زید نے آنسہ کا پیغام دیکھا تو جیسے پاگل ہی ہوگیا۔ اُس نے آنسہ سے رابطہ کرنے کی لاکھ جتن کیے لیکن اُس کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔ وہ یہ سب کچھ برداشت نہیں کر پایا اور اُس نے اپنے آپ کو کمرے میں قید کرلیا، دوستوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا، اُس کو اب صرف تنہائی راس آتی تھی۔ اب اُس کے ہاتھ میں ہر وقت سگریٹ نظر آتا تھا۔
جس دن آنسہ کی شادی تھی وہ دن جیسے اس کے لئے قیامت کا دن تھا۔ اُس دن اُس نے پہلی بار ہیروئن کو منھ لگایا اور پھر اُس کے بعد سے اُس کی زندگی ہی بدل گئی۔ اُس نے آنسہ کی محبت میں خود کو مکمل طور پر تباہ کر لیا۔ اب وہ ہر وقت مدہوشی کی حالت میں رہتا ہیں۔
کچھ عرصے بعد آنسہ کو کسی کام سے کالج جانا پڑا تواُس نے دیکھا کہ کالج کے باہر ایک جوان ملنگ بیٹھا ہے اُس کے بال لمبے ہیں، میلے کچیلے کپڑے پہنے، سگریٹ کے لمبے لمبے کش لئے ہر آنے جانے والوں کو گالیاں دے رہا ہے ، فحش بک رہا ہے، اور اُس کی آواز دور دور تک جا رہی ہیں۔ قریب پہنچ کر اُس نے جب زید کو پہچان لیا تو اُس کے قدم لڑکھڑا گئے اور اُس کے شوہر نے پیچھے سے اُس کو سنبھالتے ہوئے کہا، گھبراؤ مت میں ساتھ ہوں،بیچارہ کوئی دیوانہ ملنگ لگ رہا ہے کچھ نہیں کریگا۔
الف عاجز اعجاز
کلسٹر یونیورسٹی سرینگر
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

