یہ اک چھوٹی دعا ہے میری میرے خداوند قبول کردے خوشی کا ایک پل مجھے بھی یارب نصیب کردے کسی کے دل…
افسانہ
-
-
سیاہ رنگت مبہم فضائیں روانسی سی زہر آلودہ دھند کی دبیز پرتوں کے بوجھ تلے گھُٹ رہی تھیں۔کالے آسمان میں ایک بیزار…
-
مہلک بیماری اور سفاک موت مل کر بھی شمع کے چہرے کی کشش کو ختم نہیں کرسکے… جمال نے فرش پر رکھی…
-
میں نماز تہجد سے فارغ ہو کر اپنے رب کے ذکر و افکار میں لگی ہوئی تھی ،رات کی تنہائیوں میں عبادت…
-
بھوک کی جبلت نے ان دونوں کو ایک کروڑ بیس لاکھ کی گنجان آبادی والے بڑے شہر میں ایک چھت کے نیچے…
-
میں تمھارا واٹس ایپ نمبر بند کرنے جارہاہوں شائستہ! یہ ہماری واٹس ایپ پر آخری ملاقات ہے۔تم نے مجھے پچھلے دو سال…
-
برف کی سیلوں کے درمیان شوکت میاں کی نعش رکھی تھی۔ پنکھا تیزی سے چل رہا تھا۔ برف کے گھلنے سے پانی…
-
’’تیرے ماتھے پہ یہ آنچھل بہت ہی خوب ہے لیکن ،تو اس آنچل سے ایک پرچم بنالیتی تو اچھاتھا‘‘۔مجاز کایہ شعرنصیبن نے…
-
اُس نے دیوار پر لگی ہوئی گھڑی پر نظر ڈالی تو ساڑھے چار بجنے والے تھے ،حالانکہ دفاتر میں اوقاتِ کار چار…
-
صبح سویرے فجر اذان کی مدھر اور میٹھی آواز سنتے ہی آنکھیں کھل گئی اور میں فوراً وضو کرکے مسجد چلا گیا۔…

