حدیث و سنّت کے بارے میں مستشرقین کے نظریات – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
مستشرقین کے نظریات کے تحقیقی مطالعہ پر ایک نئی کتاب موصول ہوئی ہے ۔ اس میں حدیث و سنّت سے متعلق ان کے شبہات و اعتراضات نقل کرکے ان کا علمی محاکمہ کیا گیا ہے اور ان کی کم زوری ظاہر کی گئی ہے ۔ یہ ترکی کی ایک یونی ورسٹی سے وابستہ عالم و محقق ڈاکٹر عالم خاں کا تحقیقی مقالہ ہے ۔ موصوف نے تحقیقی اصولوں اور آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے بڑے اچھے انداز میں یہ کتاب تصنیف کی ہے ۔
مستشرقین ، جنہیں انگریزی میں Orientalistsکہتے ہیں ، مغرب کے ان اصحابِ علم کو کہا جاتا ہے جنھوں نے مشرقی یعنی اسلامی علوم میں تحقیق و تصنیف کی خدمت انجام دی ہو ۔ یہ واقعہ ہے کہ مستشرقین نے اسلامیات میں اہم ترین کام کیے ہیں ۔ انھوں نے تاریخ ، سیرت ، ادب ، علم الانساب اور دیگر موضوعات پر بہت سے مخطوطات ایڈٹ کرکے ان سے استفادہ ممکن بنایا ہے ۔ حدیث کی نو(9) بنیادی کتب کا انڈکس تیار کیا ہے ۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ان کی ان خدمات کا اعتراف کیا جائے ۔ لیکن ساتھ ہی اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ یہ مستشرقین عموماً یہودیت یا عیسائیت کے پیروکار تھے ۔ اسلامی معتقدات اور اساسیات پر ان کا ایمان نہیں تھا ۔ مزید یہ کہ صلیبی جنگوں کے نتیجے میں اہل مغرب کے ذہنوں میں جو اسلام دشمنی پائی جاتی تھی اس کا یہ مستشرقین بھی شکار تھے ۔ اس کا اثر اسلامیات پر ان کی تحقیقات میں ظاہر ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر وہ قرآن مجید کو انسانی کلام مانتے ہیں ، اس کے جمع و تدوین پر اشکالات ظاہر کرتے ہیں ، اس کی قراءتوں کو مشکوک قرار دیتے ہیں ، اس کے بیانات پر اعتراضات کرتے ہیں ، تدوینِ حدیث کو مشتبہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ، اس کی حجّیت کا انکار کرتے ہیں ، وغیرہ۔
حدیث پر کام کرنے والے مستشرقین میں نمایاں ترین نام گولڈ زیہر (م1921ء) کا ہے ، جس نے اسے پہلی صدی میں مسلمانوں کے درمیان سیاسی ، مذہبی اور فقہی اختلافات کا نتیجہ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ بہت سی احادیث مفادات کی تکمیل کے لیے گھڑی گئیں ۔ اس کے بعد دوسرے مستشرق جوزف شاخت(م1969ء) نے اس کام کو آگے بڑھایا اور علم حدیث پر بہت سے اعتراضات کیے ۔ گولڈ زیہر نے زیادہ تر متونِ حدیث کو تحقیق کا موضوع بنایا تھا اور شاخت نے اسانید کو بنیاد بنا کر اعتراضات کیے تھے ۔ اس موضوع پر کام کرنے والا تیسرا معروف مستشرق گیٹیر ہینڈرک البرٹ جونبول (م2010 ء) ہے ، جس کا تعلق ہالینڈ سے تھا ۔ اس نے لیڈن یونی ورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی ۔جونبول نے زیہر اور شاخت دونوں سے استفادہ کرتے ہوئے احادیث کی متون اور اسانید دونوں سے بحث کی ہے ۔
ڈاکٹر عالم خاں کی زیر نظر کتاب میں علم حدیث کے بارے میں جونبول کے افکار سے بحث کی گئی ہے ۔ یہ کتاب دو ابواب پر مشتمل ہے ۔ باب اوّل میں اسانیدِ حدیث اور باب دوم میں متونِ حدیث پرجونبول کے اعتراضات نقل کیے گئے ہیں اور علمی و تحقیقی انداز میں ان کا رد کیا گیا ہے ۔
یہ کتاب اصلاً ڈاکٹریٹ کا مقالہ ہے ، جو عربی زبان میں لکھا گیا تھا ۔ اس پرشعبۂ علوم اسلامیہ ، فیکلٹی آف تھیالوجی ، گوموش یونی ورسٹی ترکی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی ہے ۔ اب اسے اردو زبان میں پیش کیا گیا ہے ۔ موضوع سے دل چسپی رکھنے والوں کے لیے یہ ایک قیمتی کتاب ہے ۔ امید ہے ، اس سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا ۔
َََ___________
نام کتاب : استشراق اور علم حدیث
مصنف : ڈاکٹر عالم خاں
ناشر : ملّت پبلی کیشنز، حیدر پورہ، سری نگر ، کشمیر
صفحات :232 ، قیمت : 250 روپے
رابطہ :
موبائل : 9419561922-91+
ای میل :mafzallone@gmaul.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

