ہمارے لیے منٹو صاحب :ایک تبصرہ – ڈاکٹر نورالصباح
کئی چاند تھے سر آسماں والے شمش الرحمان فاروقی وہ جو چاند تھا سر آسماں کی صف میں شامل ہوگئے اور یہ صف بھی خاص ان کے لیے ہی مختص ہے کہ چاند کی چاندنی جب بھی بکھرے گی ذہن کے پردوں پر چھن چھن کر جائے گی اور تازگی کا احساس کراتی رہے گی۔یہ شخصیت عہد ساز تھی جس نے پرتاپ گڑھ میں اپنی پہلی سانس لی اور یہ سانسیں جب گویائی کی منزلوں تک پہنچیں تو نجانے کتنے گلستانوں میں نغمہ سنج بن گئیں۔کبھی افسانوی دنیا میں ساز کے تار چھڑے تو کبھی شاعری کی دنیا میں تانیں سنائی دینے لگیں، کبھی تنقیدی دنیا کو تہ وبالا کیا تو کبھی چاند کے رتھ پر سوار ہوکر مغلیہ عہد میں سانسیں لیں اور نجانے کتنے ایوارڈ و انعام سے نوازے بھی گئے۔انھوں نے دلدل پر سوار ہوکر گلستاں تک کا سفر بھی کیا اور شب خون بھی مار لیا۔ عروضی بھی بنے اور افسانے کی حمایت بھی کی ،لفظ ومعنی کے لبادے بھی پیش کیے اورلگات روز مرہ سے آشنائی عطا کرکے نئے نام سے آگاہی بہم پہنچا کر ا ٓسمان محراب کی بلندیوں تک پہنچ کر خورشید کا سامان سفر بھی کیا اور چاند کو بھی سر کر لیا اور منٹو صاحب کو بھی ہمارا کردیا۔
تاریخ کا جائزہ لیجیے اور تاریخی ناولوں کی طرف نظر کیجیے تو ہمیں بہت سے ایسے قلمکار مل جائیں گے جو تاریخ کو اپنے ناولوں میں سمونے کی کوشش کرتے ہوئے دستیاب ہوجائیں گے جیسے فلورا فلورنڈا اور فردوس بریں والے عبد الحلیم شرر کو دیکھ لیجیے ، داستان ایمان فروشوں کی، اور نیل بہتا رہا اور شمشیربے نیام والے عنایت اللہ التمش کو دیکھ لیجیے،خاک اور خون ،یوسف بن تاشقین اور کلیسا اور آگ والے نسیم حجازی کو دیکھ لیجیے،توبۃ النصوح والے نذیر احمد کو دیکھ لیجیے، آنگن والی خدیجہ مستور کو دیکھ لیجیے صلاح الدین ایوبی، دارا شکوہ اور غالب والے قاضی عبدالستاراداس نسلیں والے عبداللہ حسین کو دیکھ لیجیے،پاکستان ایکسپریس والے خوشونت سنگھ کو دیکھ لیجیے،ہر ایک نے اپنے اپنے نظریے کے مطابق تاریخی حوالوں کو سمیٹنے کی کوشش کی اور اسے زندہ رکھنے کا ہنر بھی دیا ان سے مختلف موجودہ عہد کے ایک باوقار شخصیت شمش الرحمٰن فاروقی کی بات کی جائے تو وہ بیک وقت ایک معتبر ناقد، شاعر، افسانہ نگار اور ناول نگار تھے، ناول بھی ایسا جس نے انھیں زندہ و جاوید کردیا۔ہم ان کے ناول ’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ کی بات کریں گے جو زمین کو چاند عطا کرکے خود آسمانوں میں روپوش ہوگیا۔جس نے مغلیہ سلطنت کی تاریخ عوام کو سونپ کر دور دیس میں اپنی پناہ گاہ تلاش کرلی۔ہر ایک ادیب نے تاریخی واقعات کو وسعت دی لیکن موصوف نے مغلیہ سلطنت کو نہ صرف کاغذ کے اوراق پر زندہ کیا بلکہ خود کو بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ کرلیا۔ (یہ بھی پڑھیں ہند اسلامی تہذیب و ثقافت اور فاروقی کا ناول ’کئی چاند تھے سرآسماں‘ – نورین علی حق )
آئیے ہم دیکھتے ہیں انھوں نے چاند کے سرے سے اگر چاندنی پھیلائی تو تنقید کی دنیا میں کسے زندہ کیا اور کتنے علم کے دریا بہائے۔انھوں نے اشعر نجمی صاحب کے آٹھ سوالوں کے جواب میں ان کے رسالے اثبات کے لیے کچھ مقالے خطوط کے انداز میں تحریر کیے جو قسطوار شائع ہوئے اور پھر کتابی شکل میں ’’ ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئے جن میں تنقیدی جھلکیاں سر اٹھاتی ہوئی نظر آتی ہیں۔خط کیا ہیں ان کا انداز گفت وشنید جیسا ہے جس میں بارہا شاہد صاحب کو مخاطب کرکے ان کے سوالوں کے جواب دیے گئے ہیں وہ جواب کیا ہیں ایک دلچسپ تحریر ہے جس سے تنقید کی بو آتی ہے جو علمیت سے معمور ہے اگر چہ اس کی کچھ باتوں پر دوسرے بعض لوگوں نے اختلافات بھی کیے ہیں جیسا کہ عمر میمن وغیرہ ہیں ان کے اختلافات بھی بجا ہیں لیکن وہ اختلافات مذکورہ کتاب میں نہیں ہیں بلکہ فیس بک پہ موجود ہیں اگر ان کی کوئی کتاب ہوگی تو یہ مجھے معلوم نہیں مگر وہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہیں۔(یہ بھی پڑھیں آبروئے ادب:شمس الرحمن فاروقی کی یاد – ڈاکٹر عمیر منظر )
فارقی صاحب نے جوابات کو گفتار کے نام سے تحریر کیا جن میں گفتار اول سے گفتار چار دہم تک سوالات کے جوابات دیے گئے ہین جو منٹو کے افسانوں کے متعلق ہیں جن میں مختلف نقاد، وارث علوی، ممتاز شیریں،احمد راہی اور اصغر ندیم سید وغیرہ بھی نظر آتے ہیں جنھوں نے منٹو کے افسانوں پر تنقیدیں کی ہیں ۔احمد راہی صاحب کہتے ہیں کہ منٹو افسانے کی بنت روز مرہ اخباروں سے کیا کرتے تھے اور اصغر ندیم سید صاحب کا کہنا ہے کہ ’’ ساری کہانیوں میں کوئی ڈسپلن یا فارمولا ظر نہیں آتا‘‘ اس کے جواب میں فاروقی صاحب کہتے ہیں کہ:
’’ مجھے اس بات سے بالکل اتفاق نہیں۔ عجلت نویسی اور چیز ہے اور ڈسپلن کا فقدان اور چیز۔اب رہا ’’فارمولا‘‘ تو منٹو کو فارمولے ہی سے تو بیر تھا ،اور اسی بنا پر تو وہ اپنے افسانے کے انجام کو حیرت انگیز یا غیر متوقع بناتے تھے۔‘‘(ہمارے لیے منٹو صاحب ،۳۴)
یہ بات گفتار ششم میں کہی گئی ہے ۔سارے گفتار کا مطالعہ انتہائی دلچسپ ہے جس میں ان کے افسانوں کھول دو، سرکنڈوں کے پیچھے،دھواں،وغیرہ کے علاوہ ان کے مضمون تحدید اسلحہ اور گناہ کی بیٹیاں اور گناہ کے باپ سے متعلق سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے جس میں تنقید بھی ہے ،لطافت بھی ہے اور شیرینی بھی ہے کہ قاری ایک بار اگر مضمامین پڑھنے بیٹھے تو پوری کتاب پڑھ جائے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر منٹو کے اندر خود نمائی اور خود پسندی کا جذبہ نہیں ہوتا تو وہ کس طرح اپنی فکری وسعت کو لوگوں کے سامنے لاتے،یہ خود نمائی کا ہی جذبہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے خیالات کی وسعت اور فکری گہرائی کو صفحہ قرطاس پر سمیٹتے ہیں تاکہ لوگ ان کے لیے ستائش کے کلمات نکالیں فاروقی صاحب اشعر نجمی کے اس سوال( منٹو کے یہاں ’’تحسین وستائش‘‘ کی تمنا، خود پسندی کا جذبہ‘‘، خود نمائی کا افسوس ناک رجحان ،اور’’ فکر کی گہرائی ‘‘ کا فقدان نظر آیا)کے جواب میں کہتے ہیں کہ:
خود پسندی ،انانیت،تحسین کی تمنا،خود نمائی ،اپنی بات کو لوگوں کو تک پہنچانے کا شوق ،کہ لوگوں کو پتہ لگے کہ ہم بھی کچھ سوچتے اور کہتے ہیں،اس میں برائی کیا ہے؟ اگر یہ سب نہ ہو تو فنکار کہاں سے پیدا ہو؟(ص:۱۷)
مذکورہ بات کہاں تک درست ہے یہ دوسرے نقادوں کے نزدیک بحث کا ذریعہ ہے لیکن میرے نزدیک یہ بات درستگی کی حد تک صحیح ہے کہ جب تک ستائش کی تمنا دل میں جگہ نہیں پائے گی کوئی فنکار نہیں بن سکتا۔یہ الگ بات ہے کہ کچھ ادیب جب آسمان کی بلندی تک پہنچ جاتے ہیں تو اب ان کی نظر سماج کی برائیوں پر زیادہ ہوتی ہے اور انھیں مزید کا شوق بھی ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں تو بس عوام کو آئینہ دکھانا تھا سو ہم نے دکھا دیا مگر اس آئینے میں ان کی خود نمائی کا عکس بھی رقص کرتا ہے۔اگر یہ عکس نہ ہو تو فن اور فنکار بھی نہ ہوں۔اسی طرح کی باتیں کتاب کا حصہ ہیں جن میں منٹو کی جانب داری سے بھی کام لیا گیا ہے اور غیر جانبدارانہ انداز بھی اپنائے گئے ہیں۔جیسا کہ کھول دو میں ڈاکٹر کے کھڑکی کھول دو کہنے پر سکینہ کا ہاتھ حرکت میں آنا اور پھر اس پر اعتراض کرنا کہ وہ رضاکار کتنے مہذب تھے کہ اس طرح کے جملے استعمال کیے۔وہ گفتار دہم میں کہتے ہیں کہ:
’’ منٹو میری نظر میں کمزوریوں سے مبرا نہ تھے ۔انھیں لکھنے اور بیچنے کی بہت جلدی رہتی تھی خواہ افسانہ کمزور ہی نکل جائے۔‘‘
اس طرح انھوں نے ننگی آوازیں، بادشاہت کا خاتمہ،بو وغیرہ کی خوبیوں اور خامیوں کو بیان کیا ہے جو انتہائی دلچسپ ہے،جس میں تنقید تو ہے مگر تنقید بھی انتہائی لچک دار جس سے چڑ نہیں ہوتی بلکہ لطف آتا ہے یہی فاروقی صاحب کی خوبی تھی کی انھوں نے تنقید بھی کی تو ہاتھی کی طرح کسی گیٹ کو روندا اور کچلا نہیں بلکہ شائستگی سے اس میں داخل ہوئے اور اپنا مدعا بیان کردیا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
اردو کے فروغ کے لیےبہت عمدہ پلیٹ فارم ہے ۔ اس کے لیے آپ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اللہ کرے یہ ویب سائٹ ترقی کے اعلی منازل طے کرے۔
بے حد شکریہ محترمہ نور الصباح صاحبہ
آپ لوگوں کا ادبی تعاون ہی ہماری کامیابی کی ضمانت ہے۔ شکریہ