اکیسویں صدی سائنس اور ٹکنالوجی کی صدی ہے۔ جدید ایجادات اور جدید دریافتوں کے سبب روز نئے نئے انکشافات ہو رہے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ سائنسی انکشافات، دریافتیں اور نئی نئی تحقیقات ابھی اپنی آخری منزل کو نہیں پہنچی ہیں، بلکہ جب تک دنیا ہے۔ اس وقت تک ایسے انقلابات ہوتے رہیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہر وہ شئے جو آج انسان کی ضروریات میں شامل ہے۔ کل وہ بیکار ثابت ہو جائے اور اس کی جگہ کوئی دوسری ایجاد قابض ہو جائے۔ آج جدید سائنسی ٹکنالوجی نے دنیا کو جام جم میں تبدیل کر دیا ہے اور انسان کی زندگی کے تصوّر کو بد ل کر رکھ دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب زندگی جینے کے طریقے بدلیں گے تو اس انقلاب سے اس کی تہذیب اور زبان بھی لازمی طور پر اثر انداز ہوگی۔
اکیسو یں صدی میں زبان و ادب کے سامنے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ آخر ادب کس طرح بدلتے ہوئے زمانے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرے۔ عالمیت کی وجہ سے زندگی کے تمام شعبوں میں انقلاب بر پا ہو گیا ہے اور جس کی شدّ ت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ اب چونکہ دنیا ایک بازار بن چکی ہے ،اس لیے زندگی کے ہر ایک میدان میں مقابلہ بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے روایتی زندگی کا توازن بھی یکسر بدل گیا ہے۔ ادب میں بھی کچھ اس طرح کی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب زندگی جینے کے طریقے بدل رہے ہیں تو زندگی کا آئینہ، یعنی ادب میں بھی ہماری تصویر بدلیگی اورضرور بدلے گی۔یہ ایک فطری عمل ہے۔ عہد جدید میں وہ ادب اور ادبی صحافت اپنا وجود قائم رکھ سکتی ہے جو وسیع سے وسیع تر ہو تے بازار کی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کی قوت رکھتے ہوں جو معقولیت پسندی پر مبنی فروغ انسانی و سائل کے تو سط سے مہارت پیدا کرتے ہوں۔
صحافت لفظ ’’صحیفہ‘‘ سے نکلا ہے، جس کے لغوی معنی رسالہ یا مقدس کتاب ہیں۔بہر حال عملاً ایک عرصۂ دراز سے صحیفے سے مراد ایسا مطبوعہ مواد ہے جو مقررہ وقفوں کے بعد شائع ہوتا ہے۔ چنانچہ تمام اخبارو رسائل صحیفے ہیں اورجو لوگ ان کی ترتیب و تحسین اور تحریر سے وابستہ ہیں۔ انھیں ’’صحافی‘‘ کہا جاتا ہے اور ان کے پیشے کو ’’صحافت‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ (ڈاکٹر عبد السلام خورشید’’فن صحافت‘‘ صفحہ 12)
گویا صحافت کے دائرۂ کار میں وہ تمام مطبوعہ مواد آجاتا ہے۔ جو مقررہ وقفوں سے شائع ہوتا ہے۔ اس تعریف کے مطابق تمام روز نامے،، ہفت روزے، پندرہ روزے ، ماہ نامے، دوماہی یا سہ ماہی، ششماہی یا اسی طرح کسی بھی مقررہ وقفے سے شائع ہونے والی تمام مطبوعات صحافت کے دائرے میں شامل ہیں اور ہم اپنی سہولت کے لیے آسان الفاظ میں صحافت کی تعریف اس طرح کر سکتے ہیں کہ ایسی تمام مطبوعات ،جو مقررہ وقفے کے بعد شائع کی جاتی ہیں، وہ صحیفے ہیں اور ان کی ترتیب و تنظیم کے فن کا نام صحافت ہے۔ (ڈاکٹر انوار حسن اسرائیلی، صحافت میں مرادآبا د کا حصہ ،صفحہ19)
صحافت کی بہت سی قسمیں ہیں۔ اکثر اخبار و رسائل سیاسی، ادبی ، اطفال، خواتین، کھیل،فلم، سائنس، طب، مذہب، اقتصادیات، جنسی اور جرائم صحافت پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان میں ادبی صحافت سب سے اہم ہے۔ ادبی صحافت کے دائرے میں صحافت کا وہ حصہ آتا ہے، جس کا تعلق زبان و ادب سے ہو۔ گویا ایسے تمام رسائل ادبی صحافت کے دائرے میں آئیں گے ،جن میں زبان و ادب کے مختلف شعبوں سے متعلق تحریریں شامل ہوتی ہیں۔ ایسے رسائل میں زبان و ادب سے متعلق تحقیقی و تنقیدی مضامین، شاعری اور نثری ادب کے نمونے، کتابوں پر تبصرے، زبان و ادب کے مسائل پر فیچر، ادبی اور لسانی صورتِ حال پر ادیبوں اور صحافیوں کی رائے وغیرہ شامل ہوتی ہے۔
ادبی صحافت کا بنیادی مقصد ادب کی تفہیم میں مدد کرنا او ر عوام میں ادب کا ذوق پیدا کر نا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے فن کا روں اور ادیبوں کو منظر عام پر لانا بھی اس کے مقصد میں شامل ہے، جو اپنی بعض مجبوریوں کی بنا پر عوام کے سامنے نہیں آپاتے ہیں ۔ اردو میں ایسی صحافت تقریباً سبھی اخبارو رسائل کرتے ہیں۔
اردو میں ادبی صحافت کا آغاز’’خیر خواہ ہندو‘‘ سے ہو تاہے، جو 1937میں مرزا پور سے پادری آرسی ماتھر کی ادارت میں شائع ہو ا تھا۔ آج ادبی صحافت کی عمر کم و بیش 180برس ہو چکی ہے اور اس طویل عرصے میں اردو کے سینکڑوں رسالے جاری ہوئے اور بند ہو گئے۔ چونکہ ادبی رسالہ شائع کرنا خالص تحقیقی نوعیت کا کام ہے ، اس لیے اس کی ادارت کے لیے اسی طرح کے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو ادب اور زبان کی سب باریکیوں سے واقف ہو۔ بہت سے تخلیقی میدان میں نا اہل جب ادبی صحافت میں داخل ہوتے ہیں تو وہ بہت جلد میدان چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ۔ نتیجتاً ادبی اخبار و رسائل بندہو جاتے ہیں۔
’’اکیسویں صدی میں ادبی صحافت‘‘ کے سامنے کئی بڑے چیلنج ہیں۔ ٹیکنالوجی کی سطح پر اخبارات اور رسائل ترقی توکر رہے ہیں لیکن زبان و بیان اور مواد اور معیار کے اعتبار سے پچھڑ رہے ہیں۔ خاص طور پر ادبی صحافت شمالی ہند میں مسلسل زوال آمادہ ہو رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ شمالی ہندوستان کے بیشتر اخبارات و رسائل میں کام کرنے والے تجربہ کار اور جید صحافیوں کی پوری نسل اللہ کو پیاری ہو گئی۔ اس سے تجربہ کار صحافی، اچھے اور تیز لکھنے والے مدیران اور تجزیہ نگاروں کا مسلسل بحران پیدا ہو رہا ہے۔ دوسرے یہ کہ اردو میڈیم اسکولوں کے شمالی ہندوستان میں بند یا کم ہونے نے بھی صحافت کو بڑا نقصان پہنچا یا ہے۔ صحافت چونکہ اکیسو یں صدی میں کار و بار بن گئی ہے لٰہذا کاروبار کے لیے مالی وسائل کا ہو نا ضروری ہے ۔ آج اردو پڑھنے والوں کی کمی ہے۔ جو اردو پڑھے ہوئے ہیں ،وہ اردو اخبار و رسائل خریدنا، پڑھنا یا ا پنے ڈرائنگ روم کی ٹیبل پر رکھنا احساسِ کمتری کا شکار ہونے کی وجہ سے معیوب سمجھتے ہیں۔ کم تعداد اشاعت ہونے کی وجہ سے ان رسائل پر خرچ ذیادہ آتا ہے اور جلد ہی وہ دم توڑ دیتے ہیں۔
اس کے بر عکس اکیسو یں صدی میں ادبی صحافت کا فروغ بھی ہو ا ہے۔ جس ادبی رسالے نے اپنا معیار قائم رکھا ہے، وہ آج بھی اپنی اشاعت کے دسیوں سال بعد بھی پوری آب و تا ب کے ساتھ شائع ہو رہا ہے اور عوام و ادبی حلقوں میں مقبول ہے۔ اردو کے تقریباً سبھی روز ناموں اور ہفتہ روزہ اخبارات میں بھی ادبی صحافت کو جگہ دی جا تی ہے ۔ کچھ اخبارات میں روزانہ ادب کا کالم ہوتا ہے تو کچھ اخبارات نے ادبی صحافت کے لیے دن اور صفحات طے کر رکھے ہیں۔ روزنامہ انقلاب، روزنامہ راشٹریہ سہارا، روزنامہ عزیز الہند، روز نامہ صحافت، روز نامہ اخبار مشرق، روزنامہ سیاسی تقدیر، روز نامہ ہمارا سماج، روز نامہ ہندوستان ایکسپریس ، روزنامہ آگ لکھنؤ ، تنظیم پٹنہ، رہنمائے دکن حیدرآباد، روزنامہ ہند سماچار، روز نامہ مصنف، روز نامہ اردو ٹائمز ممبئی، روز نامہ اور نگ آباد، تاثیر پٹنہ، روزنامہ روشنی شری نگر، روزنامہ چٹّان شری نگری، تعمیراردو مہار ا شٹر، روزنامہ آبشار کو لکاتہ، روز نامہ اُڑان جموں، روز نامہ انوار قوم کا نپور، ترجمانِ اردو مالیگائوں،آزاد ہندوجسارت اور سیاست وغیرہ اخباروں میں ادبی صحافت سے متعلق معیاری مضامین و مواد ملتا ہے۔ اردو کی صحافت یعنی اخبارات و رسائل کی اشاعت کے معاملے میں ہندوستان میں تیسرے نمبر پر آتی ہے۔ کل ساڑھے پندرہ کروڑ کی اشاعت میں اردو اخبارات و رسائل کی تعداد انگریزی ،ہندی کے بعد سوا دو کروڑ ہے۔ تقسیم کے بعد 1957میں اردو اخبارات و رسائل کی تعداد 513اور سر کویشن 7.48لاکھ تھا،جو آج اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں تعداد 14ہزار اور سر کویشن سوا دو کروڑ سے زائد پہنچ چکا ہے۔ جس سے یہ بات ثابت ہے کہ اردو صحافت کا مستقبل روشن ہے۔جسے توانائی اور جلابخشنے میں ادبی صحافت کا پورا دخل ہے۔
صوبہ آندھرا پردیش اردو صحافت کا ایک بڑا مرکز ہے۔ یہاں سے سب سے زیادہ اخبار و رسائل شائع ہوتے ہیں۔ صحت مند روایات، زبان و بیان کو ترسیلی انداز میں اپنا نے والی حیدرآبادی صحافت اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ حیدرا ٓباد کے سب رس حسن کار، ہندوستانی ادب، مجلّہ مکتبہ وغیرہ ماہنامہ ادبی رسائل ادب کی تحقیق کے ساتھ ساتھ ادب کی تفہیم و تعبیر کرتے ہوئے تنقید ادب کا بھی حق ادا کر رہے ہیں۔ ’’بزم آئینہ، کو رنول 2011 سے شائع ہو رہا ہے، جس میں ادبی صحافت کے نقوش ملتے ہیں۔
بہار کی ادبی صحافت پر نظر ڈالی جائے تو انجم مانپوری کے’’ ندیم ‘‘،قاضی عبد اودود کے ’’معیار‘‘، کلیم الدین احمد کے ’معاصر‘ ،و فا ملک پوری کے ’صبح نو‘ نعیم خضر کے ’اشارہ‘، کلام حیدری کے ’آہنگ‘ ،ظفر اوگانوی کے ’اقدار‘ ،طارق، متین کے ’علم و ادب‘،وہاب اشرفی کے ’مباحثہ‘ ،عبد المغنی کے ’ مریخ اور سہیل عظیم آبادی کے رسالہ’ تہذیب ‘کا تذکرہ لازمی ہے۔ یہ سبھی رسائل ادبی صحافت کے نمونہ ہیں لیکن ان کا دائرہ اتنا بڑا کبھی نہیں رہا کہ انھیں ملک کے نمائندہ ادبی رسائل میں شامل کیا جا سکے۔
صوبہ مدھیہ پردیش کی سماجی و معاشرتی اور ادبی زندگی کے لیے اردو صحافت نے تعمیری اور تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ ادبی صحافت کے تحت مدھیہ پردیش سے سہ ماہی’’ کا روانِ ادب‘‘،کوثر صدیقی کی ادارت میں، سہ ماہی ’انتساب‘ سیفی سرونجی کی ادارت میں سہ ماہی ’شاخیں‘،’اندور‘، ماہنامہ اردو ہلچل (جاوید یزدانی) ماہنامہ صدائے اردو (نعیم کوثر) ندیم، ادبی کرن، وغیرہ مشہور رسائل ہیں۔اور پابندی سے شائع ہو رہے ہیں۔’ کاروان ادب‘ کے خصو صی شماروں کو عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر رضیہ حامد کی ادارت میں نکلنے والے ’فکر وآگہی‘ رسالے کے نمبرات کی اردو کی ادبی دنیا میں بے حد و قعت ہے۔ ماہنامہ صدائے اردو نے نعیم کوثر کی ادارت میں اردو کی متعدد تحریکات کو نہ صرف جنم دیا، بلکہ اردو مسائل کو موضوع بحث بھی بنایا۔
اکیسویں صدی میں جہاں بہت سے حضرات اردو کی بدحالی پر آنسوں بہاتے ملتے ہیں، وہیں تمل ناڈو جیسے صوبے میں بھی اردو اخبارات اور ادبی صحافت کو فروغ مل رہا ہے۔ یہاں روز نامہ ’’مسلمان‘‘ تمل ناڈو کی اردو صحافت کی نمائندگی کر رہا ہے۔ اس اخبار میں ادبی خبروں اور مضامین کو جگہ ملتی ہے۔ اکیسویں صدی کے شروع میں علیم صبا نویدی کی ادارت میں شروع ہوا ماہنامہ ’’نورِ جنوب‘‘ سہ ماہی میں تبدیل ہوا اور چینیٔ کی تہذیبی، علمی ، ادبی دنیا کا منظر نامہ بنا ہے۔
’ندائے نیز اور نشانِ منزل‘‘ بھی تمل ناڈو میں ادبی صحافت کو فروغ دے رہے ہیں۔ 2011میں حکیم یعقوب اسلم نے ’چراغِ اردو‘ جریدہ شروع کیا اور 2013میں ماہنامہ ’فروغِ ادب‘ نے تمل ناڈو کے ادبی پس منظر اور پیش منظر کو اپنے صفحات میں جگہ دی اور دے رہے ہیں۔
مہاراشٹر بھی اکیسو یں صدی میں ادبی صحافت کا ایک اہم مرکز ہے۔ روز ناموں کے علاوہ یہاں افتخار امام صدیقی کے ’’شاعر‘‘، شاداب رشید کے ’’نیاورق‘‘ عبد النعیم عظمیٰ کا ’فنون‘ اور رنگ آباد،ماہنامہ تحریر نو ممبئی، سہ ماہی ’’اسباق‘‘ پونہ وغیرہ رسائل ادبی صحافت کو فروغ دے رہے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں بہار میں اردو صحافت – صفدر امام قادری)
سرکاری سطح پر بھی کئی صوبوں سے ادبی صحافت پر مبنی رسائل و جریدے شائع ہو رہے ہیں جن میں ’’نیا دور‘‘ لکھنؤ’’ ایوان اردو ‘‘دہلی، ’’اردو دنیا‘‘ دہلی، تمثیل بھوپال، فکرو تحقیق دہلی، امنگ دہلی، خبر نامہ لکھنؤ، زبان وادب پٹنہ، پروازِ ادب چنڈی گڑھ، آج کل دہلی، بہت مشہور ہیں اور معیاری ادبی صحافت کے نمونے ہیں۔
ان کے علاوہ پاکیزہ آنچل، خاتونِ مشرق، بیسویں صدی، مستقبل ،تہذیب الا خلاق علی گڑھ، شعر و حکمت، شگوفہ، پیش رفت دہلی ، ادبی محاذ، کٹک ،دستاویز دہلی، شاعری جھریا جھارکھنڈ، قومی تنظیم پٹنہ، شاندار اعظم گڑھ ،سہ ماہی اردو امراوتی، دورِ جدید پٹنہ، امکان لکھنؤ، لاریب لکھنؤ، زرّیں شعائیں بنگلور، درِّمقصود امروہہ، ضیاء و جیہہ رامپور، ترکش کو لکاتہ، شب خون الہ آباد ، گلبن لکھنؤ، بزمِ سہارا نوئیڈا، ارتباط سہ ماہی استبول، دستاویزو، عکاس انٹر نیشنل اسلام آباد وغیرہ اکیسویں صدی میں ادبی صحافت سے آراستہ رسائل شائع ہو رہے ہیں اور ان میں زبان و ادب سے متعلق معیاری مضامین منظر عام پر آرہے ہیں۔
ادبی صحافت کے اکیسو یں صدی میں بھی کچھ اپنے مسائل ہیں، جن سے ہر ادبی ماہنامہ، سہ ماہی نبر د آزما ہوتا ہے اور یہ مسائل کل بھی تھے اور آج بھی ہیں۔ ادبی رسائل کو نہ صرف نئے قلم کاروں کو روشناس کرانا پڑتاہے بلکہ با ذوق قارئین کوبھی پیدا کرنا پڑتا ہے۔ عموماً ادبی رسائل وقت پر شائع نہیں ہوتے۔ تعداد اشاعت کم ہونے کی بنا پر اخراجات کے تلے دبے رہتے ہیں ۔ بہت کم اشتہار ملتے ہیں اور ایک ایک خریدار کو پکڑ نے کے لیے سو سو جتن کرنے پڑتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سے رسائل جو نہایت آب و تاب کے ساتھ جاری ہوتے ہیں ،کچھ دنوں بعد ہی دم توڑ دیتے ہیں ۔
’’یہ بات بلا شک و شبہ کہی جا سکتی ہے کہ ادب کی ترسیل اور توسیع میں ادبی رسالوں کی جتنی اہمیت ہے، اتنی کتابوں کی بھی نہیں ہے۔ ادبی ذوق کی ترتیب و تہذیب اور تربیت میں رسائل آج اکیسویں صدی میں بھی بڑی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ محض رسائل ہی نے نہ صرف قارئین میں سنجیدہ، ذوق کو پروان چڑھانے میں غیرمعمولی کردار نبھایا ہے ، بلکہ شعرا و ادباکے معیار میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اردو میں ایسے رسالے کم نہیں ہیں، جنھوں نے بہت بڑی تعداد میں ادیب، نقاد، افسانہ نگار، انشاپرداز اور شاعر پیدا کیے ہیں۔ ادب کی نئی تحریکوں اور رجحانات کو فروغ دینے میں یا پرو پیگنڈہ کرنے میں ادبی صحافت کا غیر معمولی کردار ہے ‘‘۔ (ڈاکٹر سید فضل اللہ مکرم، ما ہنامہ آج کل ستمبر 2014صفحہ23)
بیسویں صدی تک صحافت کا مطلب محض کاغذ پر پکّی روشنائی سے چھپنے والے اخبار اور رسالے ہی تھے، جن کا حلقہء اثر بھی محدود تھا۔ خواندگی، تعلیم ،قوتِ خرید اور ٹکنالوجی کی ترقی کی سطح کم ہونے کے سبب اخبارات و رسائل کی دنیا چھوٹی سی تھی۔ لیکن آج 21ویں صدی میں اخبارات و رسائل کے ساتھ الیکٹر انک میڈیا، سو شل میڈیا جیسے نئے تیز رفتار اور بے کاغذ قلم ذرائع کو زبر دست و سعت، پھلائو اور اثر و رسوخ حاصل ہوا ہے جس نے ماس میڈیا کی دنیا کی شکل ہی بدل دی ہے۔ اکیسویں صدی میں صحافت کے سامنے ایک بڑا چیلنج جدید ٹکنالوجی کا ہے۔ اب ادبی صحافت بھی تحریری کاغذی دنیا سے اسکرین اور انٹرنیٹ پر ہے، اور یہ روشن مستقبل کی ضامن ہے۔ اکیسویں صدی میں ادبی صحافت بھی جدید ٹکنالوجی سے ہم آہنگی پیدا کرکے اس کے شانہ بشانہ ہے۔ آج’’ دستک ڈاٹ کام ، دیداور ڈاٹ نیٹ، جدید ادب ڈاٹ کام، میز راب ڈاٹ ہوم، نوائے ٹوکیو، شعر و سخن ڈیش ٹور ینٹو، تحریر نو، تخلیق نو، وقار ہند، واسطہ نیٹ ڈاٹ کام، اردو دوست ڈاٹ کام، شاہ کار اردو ڈداٹ کام، ریختہ، جدید مرکز ڈاٹ نیٹ، شگوفہ ڈاٹ کام، اردو دنیا ڈاٹ نیٹ، تریاق اردوڈاٹ کام اور بصیرت آن لائن وغیرہ بڑی تعداد میں انٹر نیٹ پر ادبی صحافت کی سائٹ ہیں ساتھ ہی فیس بک، ٹویٹر، واٹس ایپ، وائبر وغیرہ پر بھی خوب اشعار، غزلیں، افسانچے پوسٹ ہو رہے ہیں اور ان سب کا دائرہ بین الاقوامی ہے۔
اس طرح ہم پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ تمام چیلنج کے باوجود اکیسو یں صدی میں ادبی صحافت کا مستقبل روشن اور تابناک ہے بشر طیہ کہ ہم بدلتے زمانے کے ساتھ اپنی صلاحیتوں اور معیار کو قائم رکھتے ہوئے ہم آہنگی پیدا کرتے رہیں۔
٭٭٭٭٭
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

