خیبر پختونخوا کے جدید اردو غزل گو شعرا میں ڈاکٹر اسحاق وردگ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔آپ کی ولادت 24اپریل 1977ء کو پشاور میں تازہ گل مرحوم کے ہاں ہوئی۔ڈاکٹر اسحاق وردگ ایک شاعر،افسانہ نگار، کالم نگار،نقاد،محقق اورماہر تعلیم کی حیثیت سے ملک بھر میں خیبر پختونخوا کی نمائندگی کرنے والے جواں سال ادیب ہیں۔انہوں نے صنف خاکہ نگاری میں اعلیٰ پائے کے خاکہ نگاروں کو متاثر کیا ہے۔ ان کے خاکوں میں احمد فراز، طہٰ خان، منور ہاشمی، محسن احسان ، خاطر غزنوی، تاج الدین تاجور جیسی ادبی شخصیات کے خاکے شامل ہیں۔ وہ پچاس کے قریب فکاہیہ کالم لکھ کر طبقہ اہل قلم سے داد وصول کرچکے ہیں۔ان کی فکاہیہ کالم نگاری پر پشاور کی ایک یونی ورسٹی میں ایم اے لیول کا مقالہ بھی زیر ترتیب ہے۔آپ کو حلقہ اربابِ ذوق پشاور کی تاریخ کے کم عمر جائنٹ سیکرٹری اور سیکرٹری کا شرف بھی حاصل ہے۔انہوں نے چار سال تک سیکرٹری کے فرائض انجام دے کر نئے ادبا کو متعارف کرواکر ان کی تخلیقات کو پہلی بار حلقہ کی میزوں پر پیش کیا۔ان میں ڈاکٹر زبیر شاہ، پروفیسر گوہر رحمان نوید، پروفیسر ضیغم حسن، ڈاکٹر رئیس مغل، عمران یوسفزئی، پروفیسر عبد الحمید آفریدی،پروفیسر ولی محمد، پروفیسر سیدہ رجیعہ بخاری ، ڈاکٹر سمیرا سمیع وغیرہ اہم ہیں۔
جدید خیالات و سوچ رکھنے والے اسحاق وردگ نے معروف شاعر ظفر اقبال کے زیر اثر روایتی غزل کے اثر سے نکلتے ہوئے جدید غزل کے اثرات جذب کیے۔اور ان کی نصیحت پر عمل کرکے اب غزل پر اپنی توجہ مرکوز کی رکھی ہے۔ان کا یہ فیصلہ یقینی طور پر جدید اردو شاعری کے لیے کار آمد ثابت ہوگا کیونکہ اسحاق کی شاعری جدید رجحانات کی حامل ہے جس میں کلاسیکیت کے رنگ سمیت جدت پسندی کی تازگی موجود ہے۔ ڈاکٹر اسحاق وردگ اردو ادب کی ترویج کے لیے کالج کے وقت سے مصروفِ عمل ہیں۔ان کے فکاہیہ کالم،ادب اطفال، تنقیدی مضامین، افسانے یعنی ہر ادبی جہت قابلِ ستائش ہے لیکن یہاں عنوان کی مناسبت سے صرف ان کی شاعری کو موضوعِ بحث بنایا جارہاہے۔
غزل کے میدان میں اسحاق وردگ نے نہایت کم عرصے میں اپنا نام اردو ادب کے اُن مایہ ناز شاعروں کی فہرست میں درج کروایا ہے۔جن کی خدمات کا اعتراف ان کی زندگی ہی میں کیا جا رہا ہے وہ ایک بھرپور ادبی زندگی گزار رہے ہیں۔یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ جواں عمری ہی میں ان کی شاعری کی پذیرائی ملک سے باہر بھی ہونے لگی ہے۔اردو ادب کی مایہ ناز ویب سائیٹ”ریختہ“ پر ان کی غزلوں سے دنیا بھر کے شائقینِ ادب محظوظ ہورہے ہیں۔اس کے ساتھ دہلی سے معروف نقاد ،شاعر غنی غیور کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب” نئی اردو غزل”میں آپ کی شاعری پر ایک مضمون شامل ہے۔ڈاکٹر اسحاق وردگ کے مطابق ادب زندگی کے ساتھ چلتا تو ہے مگر زندگی کے مطابق بدلتا نہیں۔وہ زندگی کو خود میں جذب کرلیتا ہے۔اس کے ساتھ پیش ہونے والے ہر واقعے اور ہر منظر کواپنے اندر سمولیتا ہے۔اسی مناسبت سے آج کا ادب جدید و ما بعد جدید موضوعات بیان کرنے میں پیش پیش ہے۔
ڈاکٹر اسحاق جدت پسند ہیں، وہ جدید غزل کے شاعر ہیں۔انہوں نے اپنی غزلوں میں آنکھوں دیکھے واقعات کا ذکر بخوبی کیا ہے۔ انہوں نے فن کے لحاظ سے اساتذہ کی روایت توبرقرار رکھی مگر فکری لحاظ سے کسی کی پیروی نہیں کی اور اپنے لیے ایک نئے راستے کا تعین کیا۔11/9 کے واقعات نے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ ان سے دہشت گردی اور بدامنی پروان چڑھی ۔ دنیا کے دیگر شعبہء جات کی بہ نسبت ادب نے اس واقعے کا اثر جلدی قبول کیا۔دنیا کا سارا ادب مذکورہ سانحے کو اپنے انداز میں بیان کرنے لگا۔اردو ادب بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔مختلف ادبا نے اپنے اپنے انداز میں ان حالات کو الفاظ کا جامہ پہنا کر پیش کیا۔ خیبر پختونخوا کے اردو ادب میں مذکورہ واقعے سمیت جدت پسندی کوسب سے زیادہ ڈاکٹر اسحاق وردگ نے قبول کیا۔ ( یہ بھی پڑھیں اسحاق وردگ : جدید حسیات کا شاعر- ڈاکٹر طارق ہاشمی )
اکیسویں صدی جہاں ٹیکنالوجی کی صدی ہے،اردو ادب میں یہ بھی غزل ہی کی صدی ہے۔مختلف نظموں پر تجربات کے باوجود غزل کی بادشاہت و مقبولیت میں کوئی فرق نہیں آیا۔آج بھی غزل سے محبت کرنے والوں کی ایک بڑی تعدادموجود ہے۔جس طرح کے تجربات نظموں میں ہوئے،اسی طرح غزل میں بھی موضوعات کے لحاظ کافی تجربے ہوئے۔ یہی تجربات و نئے موضوعات تو اسحاق وردگ کو نئی پہچان دے گئے ہیں۔ اسی بنا پر موصوف کو طبقہ اہل ادب میں ”اکیسویں صدی کا شاعر“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس حوالے سے ممتاز نقاد ڈاکٹر طارق ہاشمی اپنی کتاب "شعریات خیبر عصری تناظر” میں لکھتے ہیں:
"اسحاق وردگ کے ہاں ایک توازن نظر آتا ہے۔تو ساتھ ہی وہ جدید پیرایوں کا شعور بھی رکھتا ہے”
ڈاکٹر اسحاق وردگ کی ایک خوبی کے سبھی قائل ہیں کہ انہوں نے حقیقت بیانی پر زیادہ زور دیاہے۔انہوں نے معاشرے کے درد کو سمیٹ کر،اسے اشعار کا جامہ پہنا کر ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔ ان کی غزل میں مختلف سماجی،سیاسی،معاشی،موجودہ عالمی مسائل کاتذکرہ،دہشت گردی،خوف، ظلم و بربریت کا ذکربارہا ہوا ہے۔
اردو دان طبقہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ ڈاکٹر اسحاق وردگ کی کئی غزلیں ملکی و غیر ملکی سطح پرکافی معروف ہوچکی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے بعض اشعار ضرب المثل کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔مثال کے طور پر:
خیرات میں دے آیا ہوں جیتی ہوئی بازی
دنیا یہ سمجھتی ہے کہ میں ہار گیا ہوں
۔۔۔۔۔
دیوانوں کے مانند مرے شہر کے سب لوگ
دستار کے قابل کوئی سر ڈھونڈ رہے ہیں
اس مضمون میں راقم الحروف نے ڈاکٹر اسحاق وردگ کی ان مشہور و معروف غزلوں کی جگہ ان کی نئی غزل کا مختلف پیرایوں سے جائزہ لیا ہے۔اس میں حتی الامکان ان غزلوں یا ان اشعار سے شعوری طور پر دامن بچانے کی کوشش کی گئی ہے جو زبان زد عام ہیں اور جن کا مختلف ناقدین نے بارہا اپنی کتابوں یا مضامین میں ذکر کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیاہے۔ اسے کائنات میں توجہ کا مرکز قرار دیا ہے۔اس کے باوجود انسان اپنی خصلتوں کے باعث حیوان سے بھی بدتر بن گیاہے۔آج کے انسان کا خون سفید ہوگیا ہے۔اسے رشتوں کی قدر نہیں۔ نہ ہی وہ لوگوں کے لیے سہولیات پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا کام دوسروں کے لیے مسائل پیدا کرنا رہ گیا ہے اور بس۔انہی تلخیوں کو الفاظ کے لبادے میں اوڑھ کر ڈاکٹر اسحاق وردگ اس طرح بیان کرتے ہیں:
؎ زمیں پہ خیر کے کاموں سے دور ہیں اب تک
زمیں پہ صرف مسائل بنا رہے ہیں لوگ
ڈاکٹر اسحاق وردگ اکیسویں صدی کے شاعر ہیں۔وہ بار بار اپنی غزلوں میں نئی صدی کا ذکر کرتے ہوئے پچھلی صدی کی چند خوب صورت روایات کو یاد کرتے ہیں۔شاعر کی نظر میں موجودہ صدی میں جو چیز کم سے کم تر ہونے والی ہے، وہ محبت ہے۔ اس خدشے کا اظہار موصوف نے کچھ یوں کیا ہے:
؎ نئی صدی میں روایات مٹنے والی ہیں
بطورِ خاص محبت مٹا رہے ہیں لوگ
ڈاکٹر اسحاق وردگ کی شاعری میں جگہ جگہ ترغیبی عناصر کارفرما ہیں۔ وہ قارئین کو امید،خوشی اور روشنی کادرس دیتے ہیں۔ان کی مثال اس راہنما کی ہے جو مشکل راستوں پر خود چل کر،تکالیف کا سامنا کرکے دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔وہ رات کو دن بنانے کی سعی میں مصروف ایک پُر امید شاعر ہیں۔
؎ میں چلا تھا رات کو بھی دن بنانے کے لیے
سر پہ میرے دھوپ کو پھر سائباں ہونا ہی تھا
اور دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ:
؎ تتلیوں کو خبر کرو صاحب
اب خزاں میں بھی پھول ہوتے ہیں
۔۔۔۔۔۔
ان اندھیروں سے دشمنی ہے مجھے
اس لیے روشنی بناتا ہوں
جس انسان کو اللہ تعالیٰ طاقت سے نوازتا ہے، وہ انسان گھمنڈ میں آکر خود ہی خدائی کا دعوے دار بن جاتا ہے۔ہمارے معاشرے میں ایسے کئی کردار ہیں جن پر رب نے کرم کیا مگر انہوں نے فرعون کی صورت اختیار کرتے ہوئے عوام پر ظلم و بربریت کے پہاڑ گرائے۔اسحاق وردگ اسی معاشرے کے حساس فرد ہیں۔ایسے لوگوں سے ان کا واسطہ پڑتا رہا ہے۔ انہوں نے ایسے منفی رویوں کا عمیق جائزہ لے کر انہیں اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے۔
؎ میں زمیں ٹھہرا تو اس کو آسماں ہونا ہی تھا
آسماں ہوکر اسے نامہرباں ہونا ہی تھا
دنیا میں پریشانیوں کا سامنا ہر کوئی کرتا ہے۔شاعر اس حوالے سے بڑا حساس ہوتا ہے۔ اسے جب امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی تو مجبوراََ اس کے دل سے آہ نکلتی ہے جس میں کم تری الجھاؤ سمیت مایوسی کا خوف بھی ظاہر ہوتا ہے۔زندگی کی ناہمواریوں اور تلخیوں کو بیان کرتے ہوئے اسحاق وردگ کے انداز میں بھی مایوسی صاف طورپر محسوس کی جاسکتی ہے۔اپنے ان مشاہدات و تجربات کو انہوں نے رمز و کنایوں میں پیش کرنے کی بجائے سادہ انداز میں بیان کیا ہے۔
؎ پاس منزل کے ہمیشہ سے ہی تھک جاتی ہے
روشنی میری کہانی میں بھٹک جاتی ہے
؎ خوف کی چیخ دبانے کے لیے ہنستا ہوں
ہاں وہی چیخ جو آنکھوں سے چھلک جاتی ہے
یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ مکمل ذات صرف خدا کی ہے۔انسان ہمیشہ نامکمل رہا ہے۔اس حوالے سے انسان کو زندگی کے مختلف مراحل میں ناکامی و محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ڈاکٹر اسحاق وردگ کی شاعری میں جا بجا دنیا کے فانی ہونے کا اور خدائے کامل کی طاقت و حکومت کا درس ملتا ہے۔حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے موصوف آخرت کا ذکر کچھ اس انداز سے کرتے ہیں:
؎ خدائے کن نے اچانک سمیٹ لینی ہے
زمیں کا کام یہاں کچھ دنوں کا ہے سائیں
اسی طرح خود کو مخاطب کرتے ہوئے سرکاری کرسیوں کو دائمی سمجھنے والوں کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے وردگ صاحب کہتے ہیں کہ آج ایک کی حکومت ہے، کل کسی اور کی ہوگی۔دنیا بھی صاحب مسند کی قدر کرتی ہے۔انسان کی قدر ختم ہوگئی ہے:
؎ جو احترا م ملا ہے مجھے حکومت میں
یہ احترام یہاں کچھ دنوں کا ہے سائیں
یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کسی حال میں بھی خوش نہیں رہتا مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے خواب مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ وہ ہمیشہ عصری ہنگاموں میں پھنس کر اپنی خواہشات کو ساحل تک پہنچانے میں ناکامی کا سامنا کرتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے اپنی بے بسی و ناکامی کا اظہار اس شعر میں کچھ یوں کیا ہے۔
؎ خواب تو خواب ہے تاخیر سے جانا افسوس
عمر تعبیر کے پیچھے ہی لگا دی میں نے
ڈاکٹر اسحاق وردگ نے 11/9 کے بعد کی دنیا کے حالات کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔انہوں نے ان سخت حالات کو قریب سے دیکھا جب پُر امن گاؤں کے گاؤں بد امنی کے نمونے بن گئے۔جہاں شر پسندوں نے موت کا کھیل کھیل کر گاؤں کے سادہ باسیوں کے ہاتھوں میں تلواریں تھما دیں۔
؎ گاؤں میں امن ضروری تھا مگر لالچ میں
گاؤں کے ہاتھ میں تلوار تھما دی میں نے
دنیا باہر سے جتنی خوب صورت نظر آتی ہے،اندر سے ویسی ہوتی نہیں۔اس کا اندازہ وہی شخص بخوبی لگا سکتا ہے جنہوں نے دنیا میں ناکامی و نامرادی کا سامنا کیا ہو۔شاعر یہاں دنیا کے مکینوں کو زندگی کی اصلیت سمجھاتا ہے:
؎ سب مسافر یہ سمجھتے ہیں مگر سچ یہ ہے
چاند چلتا تو نہیں ہے کبھی رہ گیر کے ساتھ
پہلے بھی ذکر ہوچکا کہ ڈاکٹر اسحاق وردگ کی شاعری کلاسیکیت و جدیدیت کی حسین امتزاج ہے۔ انہوں نے غزل میں نئے موضوعات کو زیر بحث لانے کے ساتھ ساتھ کبھی بھی اپنے اساتذہ کو نہیں بھولا۔اس حوالے سے انہوں نے بادشاہ غزل میر تقی میر کو یاد کرتے ہوئے نہایت ہی منفرد پیرائے میں اپنے جذبات و گریہ زاری کو بیان کیا ہے:
؎ گریہ کرتا ہوں سہولت سے تو حیرت کیسی
عمر گزری ہے مری میر تقی میر کے ساتھ
ڈاکٹر اسحاق وردگ دنیا کی بے ثباتی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہاں ہم مہمان ہیں اور مہمان کچھ ہی دنوں کے لیے آتے ہیں نہ کہ مستقل۔
؎ مرا قیام یہاں کچھ دنوں کا ہے سائیں
کہ انتظام یہاں کچھ دنوں کا ہے سائیں
ٹیکنالوجی کی اس صدی کی پہچان مادہ پرستی بھی ہے۔جس کی وجہ سے دنیا میں انسان دوستی کے آثار کم سے کم تر ہوتے جارہے ہیں۔اسی حوالے سے ڈاکٹر اسحاق وردگ مایوسی اور خوف کا اظہار کرتا ہے کہ یہ دنیا انسانیت سے خالی ہوتی جارہی ہے۔لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد کو بھولنے لگے ہیں۔ان کے دلوں سے احساسِ ترحم نکلتا جارہا ہے۔یہاں کسی کی کامیابی کو حسد بھری نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔لوگوں کو نیچا دکھانے کی خاطر انسان کو خود نیچا ہونا پڑتا ہے۔لوگوں کی تضحیک کرنا سب کا وتیرہ بن چکا ہے۔ادیب چونکہ بڑا حساس ہوتا ہے لہٰذا وہ کسی کا مذاق برداشت نہیں کرسکتا، نتیجے کے طور پر وہ شہر،گاؤں چھوڑنے پر اکتفا کرتا ہے۔ایسی ہی کٹھن حالات کا سامنا ڈاکٹر اسحاق وردگ کو بھی کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے دبے الفاظ میں شہر پشاور کے ادبا سے شکوے بھی کیے ہیں کہ یہاں ان کو وہ عزت و شہرت نہیں ملی، یاجان بوجھ کر نہیں ملنے دی، جس کے موصوف حق دار تھے۔ ایک جگہ وردگ صاحب لکھتے ہیں کہ:
؎ ہر گھڑی شہر سے جانے ہی کی تحریک ملی
جب یہاں خواب کے بدلے مجھے تضحیک ملی
ڈاکٹر اسحاق وردگ جدید سوچ رکھنے والے شاعر ہیں۔ انہوں نے اپنی غزلوں میں محبوب کی زلفوں، آنکھوں اور مختلف اداؤں کی بجائے فرد اور سماج کی پیچیدگیوں کو پیش کیا ہے، کہ یہی وقت کا تقاضہ ہے۔ان کی جدت پسندی کی اصل وجہ بھی شاید یہی ہے کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں سانس لینے پر مجبور ہیں جہاں ایک طرف غربت و افلاس،بھوک پیاس اور پیٹ کی آگ بجھانے میں غریب اور مزدور طبقہ خون پسینہ ایک کررہا ہے۔اتنی محنت کے بعد بھی وہ بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ان کا سامنا ایسے لوگوں سے ہے جن کا کاروبار معاشرے میں آگ لگاکر پیسہ کمانا ہے۔ جو دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔جن کی وجہ سے پوری اسلامی دنیا میدان کارزار بن چکی ہے۔ایسے حالات میں ان کا قلم محبوب کی اداؤں کا ذکرکیسے کرسکتا ہے۔وہ تو اپنے اندر کے خوف ہی کو بیان کرے گا۔اس لیے ان کا انداز دیگر شعرا سے جدا کہ انہوں نےموضوعات کا چناؤ ہی الگ انداز سے کیا ہے۔اسحاق وردگ اپنے اس دعوے پر پورا اترتے ہیں:
؎ لگ رہے ہو جدا زمانے سے
ایک درویش نے کہا تھا مجھے
مختلف موضوعات کو بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر اسحاق وردگ نے خیبر پختونخوا کی اردو شاعری میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔ان کی شاعری میں کافی فکری تنوع پایا جاتا ہے۔اس مناسبت سے ان کو کسی خاص تحریک یا روایتی حسیات سے نہیں جوڑ اجاسکتا۔وہ اپنی شاعری کے ذریعے تڑپتی،سسکتی اور مختلف سماجی مسائل میں گھرے عوام کی آواز بن کر خدمت کی خاطر اس میدان میں آئے ہیں۔ان کی شاعری عوامی مسائل کی ایوان بالا تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ثابت ہوئی ہے۔وہ ا پنے خیالات،افکار اور سوچ کو نئی پود میں منتقل کرنے کی اپنی بھرپور سعی کررہے ہیں۔مختصریہ کہ اکیسویں صدی کے اردو شعرا میں ڈاکٹر اسحاق وردگ اپنے جدید لہجے اورمنفرد موضوعات کی مدد سے خیبر پختونخوا کے صف اول کے شاعروں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
راج محمد آفریدی
درہ آدم خیل
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


5 comments
ادب کے فروغ میں”ادبی میراث” کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ دعا ہے یہ سلسلہ تا دیر یونہی چلتا رہے۔
بے حد شکریہ محترم
ادبی میراث کی مجلس انتظامیہ کا انتہائی ممنون ہوں۔۔راج محمد آفریدی کی تنقیدی بصیرت نے میری شاعری کی معنویت سے بھرپور وضاحت کی ہے۔
The critical analysis of Ishaq Wardag poetry by Raj Afridi is as beautiful as the poetry stands tall among the contemporary works of Urdu poets across the globe.
بہت خوب آپ کا تبصرہ جاندار ہے ۔ وردگ صاحب کی تکنیکی اور فنی اعتبار سے شناسائی ہوئی ۔ عمدہ