Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

جنگ آزادی میں بی اماں کا کردار – پروفیسر صالحہ رشید

by adbimiras اکتوبر 12, 2021
by adbimiras اکتوبر 12, 2021 0 comment

بھارت کی آزادی کی ۷۵ ویں سالگرہ کے موقع پر حکومت ہند کے ذریعہ ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ منایا جا رہا ہے۔۱۵/اگست ۲۰۲۲ سے ۷۵/ہفتہ قبل اس پروگرام کی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔ایسے موقع پر ان ہستیوں کو یاد کرنا ضروری ہو جاتا ہے جن کے خون کے قطروں سے لفظ آزادی لکھا جا سکا۔جنگ آزادی میں خواتین نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور کارہای نمایاں انجام دئے۔انھیں خواتین میں ایک سر بر آوردہ شخصیت آبادی بانو بیگم کی ہے جنھیں ہم بی اماں کے نام سے جانتے ہیں۔

’ فروغ کہکشاں کو ناز ہے جن کی جبینوں پر‘جن دنوں اقبال ان روشن جبینوں کی بات کر رہے تھے جن پر فروغ کہکشاں ناز کر سکے اسی دوران یعنی بیسویں صدی کے اوائل میں بی اماں جیسی خاتون جنگ آزادی کی قیادت کرتی نظر آتی ہیں۔ جن کے لئے یہ کہنا مناسب ہوگا   ؎

ابھی روشن ہوا جاتا ہے رستہ

وہ دیکھو ایک عورت آ رہی ہے

در اصل ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلم خواتین نے بھی انتہائی اہم رول ادا کیا ۔کچھ نے اپنے شوہروں کا شانہ بہ شانہ ساتھ دیا تو کچھ بذات خود اس جنگ میں شامل رہیں ۔ان میں ایک نام آبادی بانو بیگم یعنی بی اماں کا ہے جسے سنہری حروف میں لکھا جانا چاہئے ۔آپ مولانا محمد علی جوہر کی والدہ ہیںاور بنفس نفیس اس جنگ میں شامل رہیں۔سیدالا حرار مولانامحمدعلی جوہر کی عہد ساز شخصیت کو پہچاننے کے لیے ان کی والدہ کی شخصیت سے متعارف ہونا لازمی ہے ۔ اولاً اس لیے کہ آپ ان کے  بطن سے معرض وجود میں آئے۔ دوئم اس لئے کہ انھوں نے آپ کی پرورش و پرداخت کی۔ عموماً یہ دونو ں ہی ذمہ داریاں ایک ماں کی ہوتی ہیں ۔ بچے کی پیدائش پھرپرورش، تعلیم و تربیت کا عمل اکثر ماں کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ لیکن کچھ مائیں ایسی ہیں جنھوں نے بظاہر معمولی نظر آنے والی ذمہ داری کو اس طرح نبھایاکہ جس کی بدولت ان کا نام تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لئے درج ہو گیا۔ ایسی ہی تاریخ ساز مائوں میں ایک ذات بی اماں کی ہے ۔ بی اماں یعنی محمد علی وشوکت علی کی ماں یعنی آبادی بانو بیگم جو اپنے اصل نام کی بجائے اپنی کنیت سے معروف ہویئں اورنہ فقط علی برادران بلکہ وہ تو مسلم غیر مسلم ، ہر کس و ناکس گویا پوری خلافت تحریک اور پورے ملک و قوم کی ماں ہو گیئں۔

آبادی بانو بیگم کی ولادت ۱۸۵۲ میں رامپور اتر ّپردیش میں ایک ایسے خانوادے میں ہو ئی جس کے تار لال قلعہ سے ملتے تھے۔ ۱۸۵۷ میں جب انگریز حکومت کے خلاف ہندوستانی اٹھ کھٹرے ہوئے اس وقت آبادی بانو بیگم کی عمر محض۵ برس تھی ۔ انھوں نے ایسے پر آ شوب ماحول میں آنکھ کھولی کہ اسکولی تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہیں ۔ گھر پر ہی کلام پاک ختم کیا اور اسلامی تعلیم سے مزین ہوئیں ۔ جہاں ایک طرف انھیں اللہ اور اس کے رسول ٌ سے والہانہ محبت تھی وہیں دوسری طرف وہ انتہائی با شعور اور با سلیقہ خاتون بھی تھیں ۔ مذہب اسلام جو شعوری اور غیر شعوری طور پر ان کی رگ و پی میں سمایا ہوا تھااس کی روشنی میں انھوں نے اپنے حقوق و  فرائض کی ادایگی، اپنی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی اور معاشرہ کی ذمہ داری اٹھانی سیکھ لی۔ خلوص و بے غرضی، ایثار و قربانی ، پاکیزہ فکر و عمل، اخوت ، محبت، شرافت، خدمت خوش اخلا قی اور مروت جیسی شریفانہ قدروں کی بھی حامل ہویئں ۔ انکے شوہر عبدالعلی خان بھی رام پور میں ہی ۱۸۴۸ میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کے افراد رام پور ریاست میں مختلف عہدوں پر فایز تھے وہ خود بھی رام پور اسٹیٹ میں ملازم تھے۔ (یہ بھی پڑھیں مرزا غالب ؔ کا ایک نادر خط ،الہ آباد میوزیم میں محفوظ – پروفیسر صالحہ رشید )

آبادی بیگم اور عبدالعلی خان کے رشتئہ ازدواج سے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ بیٹوں میں بندہ علی، ذوالفقارعلی، شوکت علی، نوازش علی، اور سب سے چھوٹے محمد علی اور بیٹی محمدی بیگم ہویئں۔ ان کے شوہر کا جلد ہی ہیضہ کے مرض میں مبتلاہو کر ۱۷  ِ رمضان المبارک ۱۲۹۷ ھ بمطابق ۲ اگست۱۸۸۰ فقط ۳۲  برس کی عمر میں انتقال ہو گیا ۔ اس وقت آبادی بانو بیگم کی عمر ۲۷ برس سے زیادہ نہ تھی۔ اتنی کم عمر میں بیوگی دیکھ کر لوگوں کو ان سے بہت ہمدردی ہوئی۔کچھ نے تو از راہ ہمدردی انھیں دوسری شادی کا مشورہ دے ڈالا۔ اس پر آبادی بانو بیگم نے انتہائی صبر و استقلال کا مظاہرہ کرتے ہو ئے انھیں جواب دیا  ’’ میرے شوہر نے میری کافی دیکھ بھال کی ہے اور اب میں اپنے پانچ  شوہرو ں (لٹر کوں ) اور ایک بیوی (لٹرکی)کی دیکھ بھال کرونگی ۔ اس وقت محمد علی جو سب سے چھو ٹے تھے ان کی عمر یہی کوئی پونے دو برس تھی۔ ان کے بٹرے بیٹے بندہ علی کی وفات کم عمر میں ہی ہو گئی اور نوازش علی تیرہ چودہ برس کی عمر میں گذر گئے۔ ان کی بیٹی محمدی بیگم کی شادی ان کے چچازاد بھائی یعنی عبدالعلی خان کے بھائی اصغر علی کے بیٹے یو سف علی سے ہوئی۔ جب ان کے بٹرے بچے کی موت واقع ہوئی تو آبادی  بانو نے یہ دکھ انتہا ئی صبر وتحمل سے برداشت کیا اور کہا  ’’ ہمیں اللہ کی مرضی پر سر جھکا نا چاہیے۔ ہماری زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ ہے اس نے جو دیا وہ واپس بھی لے سکتا ہے۔‘‘

شوہر کے گذر جانے کے بعد بچو ں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی پوری ذمہ داری آبادی  بانو پر آ گئی۔ وہ خود زیادہ پٹرھی لکھی نہیں تھیں لیکن نئی تعلیم کی زبردست حامی تھیں ۔ گھر میں کچھ خاص سرمایہ تھا نہیں اس پر طرہ یہ کہ شوہر کی وفات کے بعد ان پر تیس ہزار کے قرض کا بو جھ بھی آن پٹرا۔ بہ الفاظ دیگر انھیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پٹرا ۔ تنگ دستی کے با وجود وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے مز ین کرنے کا خواب مستقل دیکھتی رہیں۔ گو کہ خود انھوں نے فقط کلام پاک ناظرہ پٹرھا ہوا تھا لیکن پٹرھنے کا شوق بے انتہا تھا  وہ غیر معمولی یادداشت رکھتی تھیں اور جب کبھی ان کے شوہر کوئی کتاب گھر میں چھوڑکر چلے جاتے تھے تو وہ کسی سے وہ کتاب پٹرھوا کر سنتیں اور اسے ازبر کر لیتیں۔ وہ پردے کی بھی خاص پابندی کرتی تھیں۔ ان سب کے ہمراہ انھوں نے اپنے بچوں کو ہمت و استقلال کے ساتھ زندگی گذارنے کی تلقین کی ۔ وہ بے انتہا سخت کوش تھیں اور اپنے پاکیزہ ارادوں پر مضبوطی سے قائم رہتی تھیں ۔ اس بنا پر ان کے اپنے پرائے مخالف ہو گئے۔ انھوں نے ان کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ زندگی کے تجربات نے انھیں بیدار مغز بنا دیا تھا ۔ ان کا خواب تھا کہ ان کے بچے اعلی تعلیم حاصل کر کے ملک و قوم کی خدمت کریں۔ اس لئے انھوں نے اپنے زیور اور اپنی جاگیر کا بہت بٹرا حصہ فروخت کر ڈالا۔ وہ جاگیر جو ان کے خسر علی بخش خان کی کمائی ہوئی تھی۔ یہ سب علی بخش نے غدر کے زمانے میں روہیل کھنڈ اور کمایوں میں متعدد انگریزوں اور افسروں کی جان بچانے کے صلے میں حاصل کی تھی ۔ خاندان والوں کی مخالفت کے با وجود انہوں نے بیٹے شوکت علی کو بریلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجا ۔ کچھ عرصہ بعد محمد علی بھی بریلی پہونچ گئے۔ مولانا محمد علی جوہر کا اپنا بیان اس معا ملے پر بھر پور روشنی ڈالتا ہے ۔

’’ ہمارے چچائوں کی اولاد کے مقابلے سب سے پہلے ہمیں کو گھر سے باہر نکال کر بریلی اسکول میں داخلے کے لئے والدہ مرحومہ نے بھیجا ۔شوکت صاحب جس طرح ریاست رام پور کے باشندوں میں غالباً سب سے پہلے کسی ہندوستانی یونیورسٹی کے گریجویٹ ہوئے اسی طرح ان میں سب سے پہلے میں آکسفورڈ گریجویٹ ہوا۔ ہمارے سب سے بٹرے چچا جو ہماری جایداد کا انتظام فرمایا کرتے تھے اور ریاست میں ایک بٹرے عہدے پر فایز تھے اس وقت زندہ تھے ۔ جب میں ان کا سب سے چھوٹے بھائی کا سب سے چھوٹا لڑ کا اور ایک بیوہ کا پرورش کردہ اس ریاست میںان سے بھی بٹرے عہدے پر مقرر کیا گیا تو انھوں نے اس اعزاز پر مجھے گلے لگالیا اور پیار کیا  ‘‘

ایسی ہی ماں کی عظمت کو علامہ اقبال نے اس شعر میں نظم کیا ہے   ؎

تربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہوا

گھر میرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوا

آبادی بانو نے بچپن سے ہی اپنے خاندان اور ارد گرد ایسے حادثات دیکھے کہ انگریزوں کے خلاف غصہ اور قوم کی خدمت کا جذبہ ان کے اندر ہر دم موجزن رہتا ۔ ان کے خاندان کا تعلق چونکہ لال قلعہ سے تھا اس لئے انگریز اس خاندان کے لوگوں سے بر ملا دشمنی برتتے تھے ۔ آبادی بانو کے چچا کو ۷۰ سال کی عمر میں مرادآباد میں پھانسی دی گئی ۔ ان کی شجاعت کا یہ عالم تھا کہ انھوںنے خود ہی پھانسی کا پھندہ گلے میں ڈال لیا ۔

آبادی بانو کے تینوں بیٹے آگے چل کر بہت مشہور ہوئے۔ چھوٹا بیٹا محمد علی انتہائی قابل اور بہادر بھی تھا لیکن اس کے ساتھ اسے غصہ بھی بہت آتا تھا ۔ اس کی فطرت میں شروع سے ہی رہنمائی کے آثار نمایاں تھے ۔ بریلی اسکول ہی میں وہ بچوں کا لیڈر بن گیا ۔ اپنے بچوں کی کردار سازی میں آبادی بانو کا گہرا دخل رہا ۔ وہ اللہ سے اپنے بچوں کے لئے مومنانہ سیرت عطا کرنے کی دعائیں مانگتی تھیں۔ حتیٰ کہ حج کو گئیں تو خانہ کعبہ کا غلاف پکٹر کر دعا مانگی کہ اے اللہ میرے بچے بٹرے ہو گئے ہیں انھیں اسلام کی راہ پر چلا۔ان کے دو بیٹے شوکت علی اور محمد علی ان کے خواب کی تعبیرتھے ۔ان دونوں کی شخصیت پر ان کی والدہ کا مکمل نقش ثبت تھا ۔ جیسی با ہمت ماں ویسے ہی شجاع بیٹے ۔ محمد علی جوہر پر ان کی والدہ کی تعلیم و تربیت کا ہی نتیجہ تھا کہ انھیں کسی ریاست کی ملازمت قطعی پسند نہ آتی۔ اس لئے وہ ملازمت چھوڑ کرتحریک آزادی میں پوری شدت سے سر گرم ہوئے۔ بس پھر کیا تھا قید و بند کی صعوبتوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا ۔ یہاں تک پہو نچتے پہونچتے محمد علی کافی مشہو ر ہو چکے تھے اور ان کی والدہ یعنی آبادی بانو بیگم عوام میں بی اماں جانی جانے لگی تھیں ۔ بی اماں کو ہندوستانیوں کا انگریزوں کے رنگ میں رنگنا قطعی پسند نہیں تھا ۔ وہ لوگوں کو انگریزوں کے طرز چھوڑ نے کے لئے سمجھاتیں۔ ان کے نزدیک فرنگیوں کی خدمت اور ان کے انعام و اکرام حاصل کرنا معیوب تھا ۔ وہ انگریزوں کی چالاکی و مکاری بھانپ چکی تھیں ۔ جب محمد علی جیل جاتے بی اماں بہت جذباتی ہو جاتیں۔ وہ جیل جا کر اپنے بچے کو سمجھاتیں کہ بیٹا ! اسلام پر قائم رہنا چاہے تمھاری جان چلی جائے۔ اسی مناسبت سے کسی نا معلوم شاعرکے یہ اشعار بہت مشہور ہوئے۔

بولیں اماں محمد علی کی

جان بیٹا خلافت پہ دیدو

ساتھ میں تیرے شوکت علی بھی

جان بیٹا خلافت پہ دیدو

میرے ہو تے اگر سات بیٹے

کرتی سب کو خلافت پہ صدقے

ایک مرتبہ بی اماں کی موجودگی میں کسی نے محمد علی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ’’ اماں یہ سب آپ کی انتھک کوششوں اور تربیت کا نتیجہ ہے جس نے جوہر کو اتنی شہرت اور مقبولیت دلائی۔ بی اماں  نے فوراً جواب دیا ۔ تم غلط ہو یہ اللہ کا انعام ہے کیوںکہ وتعز من تشا و تزل من تشا۔

بی اماں کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ محمد علی تقریر کرتے ہوئے کہتے تھے کہ میں حضرت رابعہ بصریؓ کے قول کے مطابق یاد دلاتا ہوں کہ صلوٰۃ عشق کا وضو خون سے ہوتا ہے۔ بی اماں کے بچے جیل میں ہوتے تو وہ خود خلافت تحریک زندہ رکھنے کی کوشش کرتیں۔ وہ ایک ایسی  با حوصلہ خاتون تھیں جو خود بٹرھ چٹرھ کر تحریک آزادی میں حصہ لیتیں۔ نوجوانوں کی قیادت کرتیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کرتیں۔ غرض کہ ان کی سادہ زندگی ہنگامہ خیزی سے پر تھی۔ فرائض مسلسل سے بھی کبھی انھوں نے چشم پوشی نہیں کی ۔ ۱۹۱۲میں ۶۰ برس کی عمر میں بھی چاق و چونبد تھیں ۔ (یہ بھی پڑھیں اپنوں کی غربت و فرقت کا قصہ سناتی ’عمارت‘ – پروفیسر صالحہ رشید )

ایک مرتبہ علی برادران گرفتار ہوئے تو کافی لوگ فکر مند ہو گئے اور ان کی رہائی کی تدبیر کرنے لگے۔ وہ انگریزوں کے ایک معاہدہ پر بنا شرط دستخط کر دیتے تو رہاہو جاتے لیکن بی اماں اس موقع پر انتہائی سخت تیور کے ساتھ باہر آئیں اور انھوں نے کہا کہ ہمارے لٹرکے کبھی حکومت کے باغی نہ تھے ، لیکن اسلامی فریضہ اولیت رکھتا ہے اور اگروہ اس معاہدے پر بلا شرط دستخط کریںگے تو اللہ تعالیٰ میرے جھریوں بھرے ہاتھوں میں طاقت دے گاکہ میں ان دونوں کا گلا گھونٹ دوں۔

محمد علی کو اتنی با حوصلہ بی اماں کی تربیت حاصل تھی۔ ایک مرتبہ انھوں نے جامع مسجد کی سیٹرھیوں پر ایک مصور کو تصویر بناتے دیکھا۔ اس نے ایک بھکارن اور دو بچوں کو پھٹے کپڑوں میں بھیک مانگتے دکھایا ۔ مولانانے تصویر دیکھ کر مصور سے کہااس عورت کے نیچے یہ اور لکھ دو  ۔Her father built it ۔کتنا بلیغ ہے یہ جملہ اور محمد علی پر ان کے ماں کی تربیت کا ترجمان ہے۔ اپنی ماں کی محبت ممتا اور تربیت سے متاثرمحمد علی بھی اپنی زوجہ اور بیٹیوں کا بے انتہا خیال رکھتے تھے ۔ ان کی چا ر بیٹیوں میں ایک بیٹی آمنہ کا انتقال بی اماں کی زندگی میںہوا۔

بی اماں نے نہ فقط اپنے بیٹوں کے دل میں خوف خدا اورخدمت ملک و قوم کے جذبے کو سرایت کیا بلکہ وہ خود بھی قومیت کے جذبے سے سرشار ایک بھٹرکتا شعلہ تھیں ، عوام کے دل میں قومیت کا جذبہ جگانے کی خاطر وہ دور دراز کا سفر کرتیں۔ جلسے کرتیں اور پر اثر تقریریں کرتیں۔ ان کی گفتگو اتنی دلآویز ہوتی کہ مجمع کو ذہنی اور فکری طور پر تیار کرکے خلافت کی حمایت میں کھٹرا کر دیتیں۔ ۱۹۱۵ میں جب علی برادران کو نظر بند کیا گیا تو بی اماں پر اس کا بہت اثر ہوا۔ ان کی صحت کچھ خراب رہنے لگی۔ ۱۹۲۱ میں جب ان کے بیٹوں کو دوبارہ گرفتار کیا گیا تو وہ خود کو روک نہ پائیں اور تحریک آزادی کی سپاہی بن کر میدان میں آگئیں۔ وہ زیادہ عمر کے باوجود لمبے سفر کرتیں۔ نہ صرف ٹرین کا سفر بلکہ بیل گاڑی اور پیدل سفر بھی ان کے جوش میں کمی نہ لاتے۔ دوران سفر ٹرین رکتی تو اسٹیشن پر ہجوم بی اماں کو دیکھنے اور ان کی تقریر سننے کی خاطر جمع ہو جاتا ۔ دیر رات تک جلسے کرتیں، تقریریں کرتیں لیکن دیگر مذہبی و خانگی امور کی ادائیگی میں ذرہ برابرفرق نہ پٹرتا۔

۱۸/اگست ۱۹۲۰ کو بی اماں تحریک خلافت کے جلسے میں اپنے بیٹے مولانا شوکت علی کے ہمراہ کیرالہ تشریف لائیں۔یہ جلسہ کالیکٹ کے ساحل پر منعقد ہوا تھا۔انھوں نے یہاں کی عوام کو اردو میں مخاطب کیا تھا۔ ۱۹۲۲  میں بی اماں نے اپنے بیٹے محمد علی کے ساتھ یوپی کے علاقوں کا دورہ کیا تو اسی سلسلے میں آپ سہارن پورتشریف لے گئیں۔ مجلس خلافت سہارن پورکی جانب سے آپ کا پر زور استقبال ہوا ۔ مختلف پروگرام ترتیب دیے گئے، ان کے علاوہ عورتوں کا بھی ایک بٹرا جلسہ منعقد ہوا۔ اس جلسے میں بی اماں نے انتہائی پر اثر اور درد انگیزتقریر کی ۔ اس موقعہ پر عورتوں نے مجلس خلافت کوکثیر امداد کی اور یہاں تک کہ اپنے زیورات بی اماں کی پکار پر امداد کے لئے پیش کر دئے۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے ان کے اسی دورے کے سلسلے میں تحریرکیا ہے کہ ۱۹۲۳ میں ان کے والد ماجد مولانا حکیم سید عبدالحئی صاحب کا انتقال ہوا اور بی اماں رائے بریلی آئیں تو ان کے گھر ان کی والدہ مرحومہ جو عدت میں تھیں ان کی مزاج پرسی کے لئے تشریف لائیں۔ قوم کی خدمت کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے ان کی ہمدردی اور خلوص بر قرار تھا ۔ ۱۹۲۳ کا ہی واقعہ ہے بی اماں کی صحت قدرے خراب رہنے لگی تھی لیکن پھر بھی انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تقسیم اسناد کے جلسے میں شرکت کی اور ایک مختصر تقریر بھی کی ان الفاظ میں۔’’  بیٹا میں نے برقع اتار دیا ۔ اب اس ملک میںکسی کی آبرو باقی نہیں رہی جو میں برقع پہنوں۔ میں نے اپنے جھنڈے کو لال قلعہ سے اترتے دیکھا ہے۔ میری آرزو ہے کہ اس بدیسی جھنڈے کو بھی لال قلعہ سے اترتے دیکھوں۔‘‘

کامریڈ اور ہمدرد اخبارمحمد علی کے دل کے بہت قریب تھے ۔ بی اماں کا دخل ان اخباروں کی اشاعت میں تھا ۔ ۱۹۲۴میں جب کامریڈ دوبارہ چھپنا شروع ہوا تو بی اماں چلنے پھرنے میں دشواری کے باوجود خود پریس گئیں۔ پر وف دیکھا اور کارکنوں میں شیرینی تقسیم کی۔اسی دوران خلافت تحریک کا خاتمہ ہو گیا ۔ بی اماں اس کی تاب نہ لا سکیں ۔ بالآخر ۱۹۲۴ میں ہی ۱۲۔۱۳نومبر بدھ وجمعرات کی درمیانی شب دو بج کر دس منٹ پر ہندوستان کی اس مایہ ناز ہستی نے ملک بقا کو لبیک کہا ۔ وہ جو پورے ملک اور قوم کی بی اماں تھیں جو ایک بے غرض مجاہدہ تھیں اپنوں سے جدا ہو گئیں۔ یہ وہ بی اماں تھیں جنہیں نہ صرف ساری سیاسی جماعتوں کے قائدین اور عوام بی اماں کہتے تھے۔بلکہ خود  مہاتما گاندھی بھی ا نہیں بی اماں ہی کہتے تھے ان کی رحلت پر پورا ملک غم کے سمندر میں ڈوب گیا ۔تمام تعزیتی جلسے کئے گئے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔اناللہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس قوم کو پھر ایک بی اماں سے نواز دے، آمین۔

 

پروفیسر صالحہ رشید

صدر شعبہ عربی و فارسی

الہ آباد یونیورسٹی

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

بی اماںجنگ آزادیصالحی رشید
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مرحبا آمد مصطفیٰ جان رحمت، مرحبا آمد شمع بزم ہدایت صلی اللہ علیہ وسلم! – جاوید اختر بھارتی 
اگلی پوسٹ
خوف کے سائے میں – ابو الفیض اعظمی

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں