۴اپریل ۲۰۲۰ کی صبح ایک ایک افسوسناک سانحے کے ساتھ طلوع ہوئی۔خبر ملی کہ چلتے پھرتے پرچی تقسیم کرنے والا شاعر ،،اسرار جامعی،،آج ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ گیا۔ تمام چاہنے والوں اور دانشوران ادب نے اپنے اپنے طریقے سے پوسٹ لگا کر خراج عقیدت پیش کی۔اس بار ان کے موت کی خبر سچی نکلی پر دل چاہتا تھا کہ کاش یہ خبر بھی پہلے کی طرح جھوٹی نکلے۔ حالانکہ مرحوم کو خود کو زندہ ثابت کرنے میں جو مشکلیں پیش آئیں اس کا اندازہ خود ان کی گفتگو سے ہوا۔یہ سب سن کر بہت غصہ بھی آتا اور افسوس بھی ہوتا لیکن ایسے وقت میں ان کا ہم سب کو الوداع کہ دینا اس جھوٹی خبر سے بھی افسوسناک ہے۔ایک طرف ساری دنیا اس مہلک مرض سے پریشان ہے،لاک ڈاون کا عذاب مسلط ہے ۔ ایسے وقت میں آخری رسومات میں کیا معاملہ در پیش آیا ہوگا؟ خبر نہیں۔
عجیب شخصیت کا مالک شخص تھا، کبھی کسی کا احسان لینا گوارا نہیں کیا اور بڑے بڑوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔ دوہری شخصیت کا مالک شخص تھا وہ، اس کی شخصیت کا دوسرا پہلو ہے۔ پہلا پہلو وہ ہے جو ان کو دیکھتے ہی ذہن میں آتا ہے ۔ دوسرے پہلو سے تو میں بہت بعد میں واقف ہوئی ورنہ تو ان کو طلبہ و طالبات کے درمیان گھرے ہوئے پرچی بانٹتے یا کبھی کوئی کلام سناتے دیکھا۔ پرچی بانٹنے والا مزاحیہ شاعر۔ درمیانہ قد جو بڑھاپے کی وجہ سے تھوڑا جھک سا گیا تھا۔(حالانکہ ان کی ڈکشنری میں جھکنا اور خوشامد کرنا جیسے الفاظ تھے ہی نہیں) ۔ چھوٹا سا معصومیت چھلکاتا چہرہ جس پر عمر کے ساتھ ساتھ غور و فکر کے آثار بھی نمایاں رہتے۔ عینک کے پیچھے چھوٹی چھوٹی دو گول آنکھیں اور ایک چھوٹی تیکھی ناک،کسی سوچ میں غرق،بغل میں ایک چھوٹا بیگ دبائے،چھوٹے چھوٹے قدم لیتے( اپنی زندگی میں بڑے بڑے قدم بنا سوچے سمجھے اٹھائے) ، کہیں سے آتے یا کہیں کو جاتے،اکثر و بیشتر ملاقات ہو جاتی ۔ سلام کرنے پر بیگ سے ایک پرچی نکال کر دیتے ،کبھی کبھی وقت ہو تو کچھ کلام بھی سنا دیتے۔پرچی پر کوئی شعر یا قطعہ ہوتا اور نمبر ایڈریس ہوتا۔یہ لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتی تھیں۔ خود میرے پاس اتنی پرچیاں جمع ہو گئیں کہ مجھے لگتا کہ وہ دن دور نہیں جب میرے پاس پورا دیوان پرچی کی شکل میں موجود ہوگا۔اور یہ صرف میری کہانی نہیں بلکہ جامعہ کے علاقے کا ہر طالب علم،استاد،اسکالر اس کی گواہی دیں گے اور شاید پچاس فیصدی ان کو صرف اسی حیثیت سے جانتے ہوں گے۔ میں بھی اتنا ہی جانتی تھی کہ دو سال قبل ایک خاکوں کے مجموعہ میں ،، ابو المزاح،، کے نام سے ایک خاکہ پڑھا۔ ابتدا میں:
’’اسرار کا انداز کچھ عجیب اور پر اسرار ہے۔محفل میں دبے پاوں اچانک نمودار ہوں گے،اول تو ان کا کوئی نوٹس ہی نہیں لیتاکیونکہ شخصیت میں ان کی کوئی چونکا دینے والی بات ہے بھی نہیں لیکن جو انہیں بخوبی جانتے ہیں،خصوصا وہ جن کی دنیائے ادب میں بقول ممتاز مفتی جن کی انٹری چور دروازے ( back door) سے ہوئی ہے،ہربڑا جاتے ہیں کہ نہ جانے کس غریب پر نزلہ گرے۔ وہ کسی نہ کسی کا کمزور یا قابل مزاح بیان لے اڑیں گے،وہیں فی البدیہ کہیں گے اور چھوٹی سی پرچی پر لکھ کر صاحب صدر کو تھما آئیں گے۔ ان کے واقف کار اس تجسس میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ نہ جانے کس کی شامت آئی ہے۔ بقول شمس الرحمٰن فاروقی،، ہم لوگ انہیں علامہ کہتے ہیں کیونکہ وہ شکل سے سیدھے سادے اور اندر سے بڑے خطرناک ہیں۔شاعروں اور استادوں کے وہ خاص دشمن ہیں اللہم احفظنا‘‘
یہ پڑھ کر بڑی حیرت ہوئی لیکن یہ ماننے کو دل تیار نہیں کہ یہ وہی معصوم سی صورت والے اسرار صاحب ہیں۔ کئی بار آنکھیں کھول کھول کر اور ذہن پر زور ڈال کر یاد کرنے کی کوشش کی کہ ان صاحب کے علاوہ کوئی اور اسرار صاحب تو نہیں ہیں ۔ مزید آگے پڑھنا شروع کیا کہ شاید اس عبارت میں مبالغہ کیا گیا ہو لیکن آگے والی عبارت تو بالکل ان کے تعلق سے ہی معلوم ہوتی تھی:
،، لا ابالی،مفلوک الحال اور عامیانہ حلیے کے ساتھ کھوئے کھوئے انداز میں پیدل سڑکیں ناپنے والے شخص کو دیکھ کر کون یہ کہ سکتا ہے کہ یہ کروڑوں کی جائیداد کا مالک ہے۔ ان کی شان ہی نرالی ہے۔ان کو قریب سے جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ درویش صفت انسان کتنی بے نیاز اور غیرت مند فطرت کا مالک ہے۔اس کی شان استغنا ہی نرالی ہے۔دنیا کے نمود اور آرام و آسائش کو اس نے سدا جوتے کی نوک پر رکھا ہے،،
یہ باتیں تو خیر بنا کسی مبالغہ کے ہیں کیونکہ ہم خود گواہ ہیں۔اتنی بات تو ہر شخص جانتا ہے لیکن آگے کا صفحہ یہ ماننے پر مجبور کرتا ہے:
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
اس خاکے میں منظور عثمانی نے ان کی شخصیت سے وہ پردہ اٹھایا ہے یا ایسے ایسے کارنامے بیان کیے ہیں کہ یقین نہیں ہوتا کہ واقعی یہ آدمی اتنا بڑا فنکار ہے۔
فن کا دعویٰ ہے تو کچھ جراٗت اظہار بھی ہو
زیب دیتا نہیں فنکار کا بزدل ہونا
انہوں نے جس جرأت کا مظاہرہ کیا ہے اس کی مختصر فہرست منظور عثمانی کی زبانی پیش کرتی ہوں:
(۱) ۱۹۷۵کا واقعہ ہے عظیم آباد (پٹنہ) میں جمیل مظہری کے اعزاز میں،، جشن جمیل،، منایا جا رہا تھا۔ اس کے روح رواں کی شومئی قسمت کہیے کہ ایک نوجوان غیر معروف شاعر کو بھی دعوت سخن دی گئی۔ منتظمیں کو کیا معلوم کہ انجانے میں خود انہوں نے اپنی رسوائی کا سامان پیدا کر لیا تھا۔ انہوں نے آتے ہی صاحب صدر کو مخاطب کرتے ہوئے پہلا نشانہ سادھا ۔۔
ہر ذرہ چمکنے کی سیاست میں ہے مصروف
یہ جشن جمیل آپ کا انعام نہیں ہے
بیچارے حواس باختگی کے حصار سے نکل بھی نہ پائے تھے کہ دوسری باڑھ:۔۔۔
بیچو نہ انہیں مصر کے بازار میں لوگو
اس عظمت یوسف کا کوئی دام نہیں ہے
جس طرح ایکbig bang دنیا کے عالم وجود میں آنے کا پیش خیمہ بن گیا تھا، یہ دو اشعار بھی ایک طنزیہ و مزاحیہ شاعر کے منصئہ شہود پر آنے کا سبب بن گیا۔یہ شاعر اسرار جامعی تھا۔قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جشن کس کے لیے اور مرکز نگاہ کون قرار رپایا۔
اتفاق سے اگلے دن ایک مشاعرہ اور بھی تھا۔مشاعرہ کے کرتا دھرتا جو پہلے ہی دن کی غلطی بھلا کیوں دہراتے چنانچہ اس مشاعرے میں اسرار کو نظر انداز کر دیا گیا۔لیکن وہ سامعین کی نظروں میں اتنا چڑھ گئے تھے کہ انہیں اسٹیج پر نہ پاکر مجمع بپھر گیا۔انہوں نے احتجاج کا عجیب حربہ استعمال کیا کہ شعر کو سننے سے یکسر انکار کر دیا۔جو شاعر مائیک پر آتا پبلک کی ایک ہی رٹ ،، اسرار کو لاو،اسرار کو لاو،، بقول انور جمال :
،، جب میدان شعر و نغمہ میں شاعر پر شاعر شہید ہونے لگے تو منتظمین کو مجبورا انہیں گھر سے بلانا پڑا۔علامہ کا ہر شعر آسمان توڑتا ثابت ہوا،چھتیں الٹ گئیں۔ ان کے کلام کے صید نے مشاعرے میں کسی کو نہیں چھوڑا، بار بار پڑھوائے گئے بلکہ اخیر پڑھوائے گئے،، اس واقعے کے بعد وہ عوام میں جتنے مقبول ہوئے بہار کے شعرا میں اتنے ہی نامقبول۔انہیں ملنے والی ہر داد دیگر شعرا کے لیے بیداد سے کم نہ تھی۔
(۲)فتنوں نے اسرار صاحب کا گوشہء داماں ڈھونڈھ رکھاتھا۔کتنے ہی بگولے ان کے ہمراہ چلا کرتے ہیں۔اونٹ کی کمر پر آخری تنکے کی شکل میں،، اردو گھر ،، کا واقعہ رونما ہوا۔سب جانتے ہیں کہ ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا اردو کے مسیحا کے طور پر جانے جاتے ہیں۔آپ نے ہی اپنے دور میں اردو گھر کو منظوری دی تھی لیکن جب یہ بن کر تیار ہوا تو ان کی جگہ چندر شیکھر وزیر اعلیٰ تھے۔اردو گھر کی افتتاحیہ تقریب میں سرکاری عہدے داران چندر شیکھر سنگھ اور وزیر تعلیم ناگیندر جھا کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے تھے۔کوئی جھوٹے منہ سے جگن ناتھ آزاد کا نام لینے کو تیار نہ تھا۔ اسرار جیسا حق گو خاموش کیسے رہ سکتا تھا۔آپ اٹھے اور ایک پرچی وزیر تعلیم کو دے آئے۔
اردو نہ جاننے کے سبب انہوں نے وہ پرچی اناونسر ریاض عظیم آبادی کو تھما دی۔انہوں نے اسے گرین سگنل سمجھتے ہوئے اسرار جامعی سے درخواست کر ڈالی کہ اسرار صاحب اردو بھون سے متعلق کچھ قطعات پیش کریں گے۔ چند اشعار پر سبھوں نے خوب تالیاں بجائیں لیکن جب علامہ نے یہ شعر پڑھا:
ڈاکٹر مشرا کی آنکھوں میں جو رقصاں خواب تھے
بس انہی خوابوں کی اک تعبیر ہے اردو بھون
تو ایک بھونچال سا آ گیا۔وزیر تعلیم نے اپنے گلے سے ہار چھنتے دیکھ کر چلاتے ہوئے کہا : اسے کس نے بلایا ہے،، اناونسر نے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اسرار کے ہاتھ سے مائیک چھیننے کی کوشش کی لیکن اس مرد حق گو نے اسٹیج اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک نظم پوری نہ کر لی۔
یہ حادثہ بارود میں چنگاری ثابت ہوا۔ اسرار صاحب نے جن جن کی پگڑیوں کو اچھالا تھاان کے خلاف سارے یکجا ہو گئے۔وہ تو غنیمت تھی کہ جمہور کا زمانہ ورنہ مسیحا کی طرح اسرار کا سر بھی اپنے کندھوں پر نہ رہتا۔ بہر حال اتنا ضرور ہوا کہ اسرار ساحب بہار کے شاعروں میں بلیک لسٹیڈ قرار پائے اور انہیں کروڑوں کی جائیداد اور مشہور میڈیکل،انجینیرنگ،جرنلزم اور ٹائپنگ انسٹیٹیوٹ کو اپنے چھوٹے بھائی کے سپرد کر کے دہلی آنا پڑا۔چنانچہ اب بقول پروفیسر خالد محمود:
میں اپنے گھر کے اندر چین سے ہوں
کسی شئے کی فراوانی نہیں ہے
(۳) آپ نے راجیو گاندھی کی ہجو لکھی۔ امکان تھا کہ موصوف سزا کے طور پر داخل زنداں ہوں گے لیکن ہوا بالکل الٹ۔راجیو گاندھی نے نہرو خاندان کی روایت کے مطابق دلی بلا کر تین دن تک انہیں مہمان رکھا اور ان سے کئی بار وہ نظم سنی۔
(۴) اسرار صاحب نے وزیر اعظم چندر شیکھر اور وی پی سنگھ کو بھی نہیں بخشا۔لیکن کمال تو اس وقت ہوا جب آپ نے نرسمہا راو کو اپنے رسالے ،، پوسٹ مارٹم،، کی ایک کاپی جلسے میں پیش کی جس کے صفحہ اول پر قطرے کے نشان کی طرح ایک کارٹون تھا جس میں وزیر اعظم نرسمہا راؤ کی کھوپڑی کو دو کراس کے درمیان دکھایا گیا تھا۔تصور کیجیے کیا ہوا ہوگا لیکن وزیر اعظم اپنے مزاج کے خلاف مسکرائے اور علامہ کے ساتھ بمع کارٹون فوٹو کھنچوائی۔
(۵) ٹاڈا کی مارا ماری اور پکڑ دھکڑ چل رہی تھی۔اسی دوران وزیر داخلہ ایس بی بی چوان کی افطار پارٹی میں آنریبل منسٹر نے بھائی چارہ پر تقریر فرمائی۔اسرار صاحب سے رہا نہیں گیا،آپ وزیر داخلہ کی کرسی تک پہنچے اور زور دار آواز میں کہا،، آپ وزیر داخلہ ہیں قانون اور نظم کے آقائے نامدار۔میں ایک مظلوم اردو شاعر فریادی بن کر آیا ہوں،حاضر باشوں کے اوسان خطا ہو گئے۔پر وزیر کو کہنا پڑا ،، ہاں کہیے،، اسرار صاحب نے اپنا مشہور قطعہ بعنوان ،، بھائی چارہ ،، پڑھا۔
کیا پتے کی بات کہہ دی جامعی اسرار نے
کیوں ادا کرنا پڑا ہے اس کا کفارہ ہمیں
بھائی چارے کا تو مطلب یہ نہ ہونا چاہیے
ہم تو ان کو بھائی سمجھیں اور وہ چارہ ہمیں
سامعین پر سکتہ طاری ہو گیا۔اسی رو میں اسرار صاحب نے اپنی نظم ،، ٹاڈا میں بند کر دو ،، کے بھی کچھ اشعار سنائے:
جب ہم پولیس کے ڈر سے ہم پولیس میں بھاگے
داروغہ بڑبڑایا ٹاڈا میں بند کر دو
چشتی کے اس چمن میں اس رام کے وطن میں
راون کا دور آیا ، ٹاڈا میں بند کر دو
اور ایسے ہی زہر میں ڈوبے ہوئے کچھ اور اشعار سنائے۔وزیر موصوف جھنجھلائے تو بہت پر انہیں کہنا پڑا ،، ہاں،ٹاڈا کا غلط استعمال ہو رہا ہے،، اگلے دن ،، جن ستا،، میں آیا کہ اسرار صاحب کی نظم کے جواب میں چوہان صاحب نے مان لیا کہ ٹاڈا کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔
(۶) انہوں نے این ڈی اے سرکار سے بھی خوب لتے لیے۔ایک بار اٹل بہاری واجپئی جی کی موجودگی میں یہ کہہ کر دھماکہ کر دیا :
دادا گیری حد سے گزری بندہ پروہ کب تلک
ایک مسجد تو گرائی اور گروائیں گے کیا ؟
اس کے علاوہ بھی نہ جانے کتنے معرکے ہیں جن کو اسرار صاحب نے تن تنہا سر کیے ہیں۔ مجھے حبیب جالب کے علاوہ کوئی ایسا فرد بیباک نظر نہیں آتا جو اسرار صاحب کی طرح ہتھیلی پر سر لیے گھومتا ہو۔
سولی پر عیاں ہوتی ہے مصور کی عظمت
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
میں تو یہاں تک کہنے کو تیار ہوں کہ اقبال کے اس مصرعے کہ
آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی،،
کی پیروی جتنی اسرار نے کی ہے اس کی مثال مشکل سے ہی مل پائے گی۔
منظور عثمانی صاحب کے خاکے سے چند کارنامے مختصر آپ کے لیے پیش کیے گئے تاکہ ان کی شخصیت سے بھرپور پردہ اٹھ سکے اور یہ واقعات ان کی زبانی سن کر ویسے ہی محظوظ ہوں جیسے میں پہلی بار پڑھ کر ہوئی تھی۔اس لیے نقادوںسے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ واقعات ان کی زبانی تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ من و عن نقل کرنے کا مقصد صرف قارئین کے لطف کا سامان بہم کرنا ہے۔
رہی بات یہ کہ اسرار جامعی پہلی رونمائی میں ہر دلعزیز ہو گئے جس کی وجہ ان کی بیباکی،راست گوئی اور صاف بیانی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو ،،خاموش دہشت گرد،، کا لقب بھی ملا۔ پروفیسر شکیل الرحمٰن نے تو یہ بھی کہ دیا کہ : ،، علامہ اسرار جامعی ون مین آرمی ( one man army ) ہیں ،، ۔
(یہ بھی پڑھیے بلراج کومل اور رسالہ ’شاہراہ‘ -نوشاد منظر)
ان کو بھی اس بات کا اعتراف ہے اس سلسلے میں لکھتے ہیں:ـ‘‘ ڈاکٹر مردوں کا آپریشن کرتے ہیں تو میں زندوں کا’’
اسرار صاحب صرف بڑے شاعر ہی نہیں، دس صفحوں پر مشتمل ہندی اور اردو میں رسالہ،، پوسٹ مارٹم بھی نکالا۔ انہیں ،، فخر بہار، علامہ اور ابولمزاح،، جیسے خطاب سے بھی نوازا گیا ۔ اس کے علاوہ اگر نظر ڈالیں تو ایک بڑی تعداد ہے ان دانشوران ادب کی جنہوں نے ان کے مقام کو دل کھول کر سراہا ہے اور ان کے خاموش دہشت گرد طبیعت کے قائل رہے۔
مجروح سلطانپوری نے ان کی دہشت گردی کا اعتراف کچھ اس طرح کیا ہے:
،، عالمی ماحول کو دیکھتے ہوئے آپ کے لیٹر بم سے میرے گھر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی تو کچھ غیر فطری بھی نہ تھا۔ بہرحال آپ کا تشدد پسندانہ طریقہ دیکھ کر میں نے بھی عافیت اسی میں دیکھی کہ تعاون ہی سے کام لیا جائے’’
شاعری اور ان کے فن کے متعلق محمد حسن رقمطراز ہیں:
‘‘ دور حاضر میں جو خلا پیدا ہوا تھا ،اسے اسرار جامعی کی شاعری نے پر کیا ہے اور اس انداز سے کہ اس میں رشید احمد صدیقی اور مشتاق یوسفی کے نثری طنز کی طرفگی اور نادر کاری جا بجا در آئی ہے۔اسرار صاحب سودا سے لے کر اقبال تک سبھی سخنوروں سے فیضیاب ہوئے ہیں اور اپنے کلام کے رنگ و آہنگ سے نئے مضامین پیدا کرتے ہیں مگر کمال یہ ہے کہ ان کے کلام کو اس طرح اپناتے ہیں کہ خود اصل شاعر بھی دعویٰ کرے تو قابل قبول نہ معلوم ہو’’
کلیم الدین احمد کی رائے ہے کہ :
اسرار جامعی نے اپنے حس مزاح کو اپنے کلام میں نہ صرف رکھا ہے بلکہ اس کے اظہار کے نت نئے طریقے اور اسلوب نکالے ہیں۔۔۔۔۔ اسرار جامعی کے مایہ ناز مزاح کا معیار بہت بلند اور کینوس بہت وسیع ہے۔۔۔۔۔۔وہ بات سے بات پیدا کرنے کا فن جانتے ہیں،،۔
پروفیسر نثار احمد فاروقی کے مطابق:
‘‘ جناب اسرار جامعی کا فن اپنی لطافت ، شگفتگی،شائستگی،سلاست اور طنز کی خاموش مگر گہرہ مار کے اعتبار سے اپنا منفرد مقام رکھتا ہے۔ وہ قدرت کلام کے ساتھ سادہ اور بلیغ انداز میں اپنی بات کہتے ہیں اور بعض اہم معاشرتی مسائل میں اپنی جاں سوزی کی وجہ سے شمشیر عریاں بن جاتے ہیں،،۔
شمشیر عریاں سے یاد آیا کہ شاعر اعظم میں احمد جمال پاشا کا نہایت دلچسپ مضمون بعنوان،، ابو المزاح علامہ اسرار جامعی کے ادبی معرکے ،، موجود ہے۔ اس مضمون سے معرکوں کی ایک چھوٹی سی جھلک بھی پیش کرتی چلوں ۔ جشن جمیل کے بعد رضا نقوی واہی ملاقات کے خواہاں ہوئے اور بلا بھیجا،اسرار صاحب جب وہاں پہنچے تو ایک نظم کہی جس کے چند اشعار دیکھیں:
فخر عظیم آباد ہیں اسرار جامعیؔ
اس دور نو کے شاد ہیں اسرار جامعی
ترشی ہوئی ہے فکر تو نکھرا ہوا کلام
خوش گو ہیں خوش نہاد ہیں اسرار جامعی
کیا کیا نہ ان کی دھوم تھی جشن جمیل میں
اب تک سبھی کو یاد ہیں اسرار جامعی
شہرت کنیز بن کے خواصی میں آ گئی
خوش بخت با مراد ہیں اسرار جامعی
قسمت پہ ان کی رشک ہے اہل جدید کو
گو ان کے مستزاد ہیں اسرار جامعی
ان کا عروج دیکھ کے دل میں کھٹک سی ہے
گویا کہ زہر باد ہیں اسرار جامعی
زندہ دلان شہر کا مرکز ہے ان کی ذات
مرہم برائے داد ہیں اسرار جامعی
ہر مکتب خیال کے لوگ ان کے قدر داں
زنجیر اتحاد ہیں اسرار جامعی
ٹوٹا جمود شہر ہوئے جب سے یہ طلوع
مفتاح انجماد ہیں اسرار جامعی
واہی کی یہ نظم بہت سارے اخبارات کی زینت بنی لیکن ساتھ ہی اسرار صاحب پر ان کے حریفوں نے حملہ بول دیا۔ سپاہی کیواں شکوہی نے ایک نظم کہی جو ،، عظیم آباد ایکسپریس ،، میں شائع ہوئی۔ کچھ اشعار دیکھیں:
محفل کے ایک چراغ ہیں اسرار جامعی
یعنی ادب کے داغ ہیں اسرار جامعی
ہر ایک منڈیر پرنہیں جاجا کے بیٹھتے
ایسے اصیل زاغ ہیں اسرار جامعی
اس وقت اہل بزم کے سچ مچ جو پوچھیے
گردہ،جگر،دماغ ہیں اسرار جامعی
اسی دوران کسی نے جنابؔ عظیم آباد ی کے فرضی نام سے اسرار صاحب پر حملہ کیا ۔ اشعار بہت سخت تھے:
سمجھو نہ یہ سراب ہیں اسرار جامعی
ویرانے کے گلاب ہیں اسرار جامعی
جس میں نہ نون مرچ نہ کوئی ہے ذائقہ
آلو کے بس کباب ہیں اسرار جامعی
لالی دکھائی دے کبھی کالی دکھائی دے
وسمہ ہیں اور خضاب ہیں اسرار جامعی
واہی کے واسطے تو ہیں دریائے بے کنار
سب کے لیے سراب ہیں اسرار جامعی
گردن پہ جوں سوار ہو ایک پیر تسمہ پا
اس طرح کے عذاب ہیں اسرار جامعی
چاروں طرف سے چمچوں کی یلغار جس پہ ہے
مرغوں کی ایسی قاب ہیں اسرار جامعی
علامہ پر حملہ ہوتا دیکھ ان کے حلیف حرکت میں نہ آتے ایسا ممکن نہ تھا، حلیفوں کی جماعت متحرک ہوئی اور بہترین انداز میں جوابی حملے کیے۔ ظہیر صدیقی نے سپاہی پر حملہ کرتے ہوئے کہا:
واہی نے ان کو شاد کہا بھی تو کیا کہا
میں کہ رہا ہوں میر ہیں اسرار جامعی
سوچا بہت تو داغ سپاہی کی عقل کیا
اقبال اور نظیر ہیں اسرار جامعی
نظم و غزل کی تھاک لگا دی ہے میز پر
الفاظ کے امیر ہیں اسرار جامعی
محفل میں کیف و عاجز و سلطان کے لیے
ایک خطرہ خطیر ہیں اسرار جامعی
اسی کے ساتھ طلحہ رضوی برق نے بھی زبردست جوابی کاروائی کی ۔ انہوں نے کہا:
اک ضرب لاالٰہ ہیں اسرار جامعی
اللہ کی پناہ ہیں اسرار جامعی
میدان پانی پت میں پچھاڑا غنیم کو
وہ نادری سپاہ ہیں اسرار جامعی
تاج پیامی نے چٹکی لیتے ہوئے کہا:
فخر عظیم آباد کی ترکیب ہے درست
اک شاعر عظیم ہیں اسرار جامعی
کانٹوں کے حق میں بڑھ کے ہیں باد سموم سے
گل کے لیے نسیم ہیں اسرار جامعی
ماہر آروی نے ٹکڑا لگایا:
چلتی ہوئی ردیف ہیں اسرار جامعی
انساں عجب شریف ہیں اسرار جامعی
منیر سیفی نے کہا:
کتنے سپاہیوں نے دیں آکر سلامیاں
داروغۂ بہار ہیں اسرار جامعی
جوہر سیوانی نے بھی زبردست جوابی حملہ کیا :
رخ موڑنا ہے فتنہ لیل و نہار کا
کرنا ہے توڑ ایک سپاہی کے وار کا
اسرار جامعی کا بنا ہے حریف وہ
راکٹ سے ہے مقابلہ ایک گھوڑ سوار کا
فخر عظیم آباد کو کہتا ہے داغ و زاغ
یہ حوصلہ تو دیکھیے تہمت شعار کا
بھٹی سے پی کے نکلا ہے بکتا ہے اول فول
کہرا دماغ سے نہ چھٹا ہے خمار کا
شمیم قاسمی نے لکھا:
لڑتے ہو کیوں سپاہی اسرار جامعی سے
خوش ہیں جناب واہی اسرار جامعی سے
داغ ادب وہ خود بنتے ہیں جو سپاہی
دھل جائے گی سیاہی اسرار جامعی سے
،،رحمانیہ ،، میں چائے مدت سے پی رہے ہیں
کھائیں گے بالو شاہی اسرار جامعی سے
تنکا چھپا ہوا ہے داڑھی میں ان کی لیکن
بنتے ہیں خانقاہی اسرار جامعی سے
علامہ کے حلیفوں کے جوابات کی بوچھاڑ دیکھ کر اعجاز حسن، مظہر حسین اور ارشد علی نے فرضی نام سے حملہ کیا:
معدے کا انتشار ہیں اسرار جامعی
بد ہضمی کی ڈکار ہیں اسرار جامعی
گھوڑا کسی کا اور بصد ناز و تمکنت
کس شان سے سوار ہیں اسرار جامعی
(اعجاز حسن)
پروردۂ بہار ہیں اسرار جامعی
واہی کی پیداوار ہیں اسرار جامعی
پٹنہ سے جس کی خوشبو گئی کاشمیر تک
وہ دال کی بگھاڑ ہیں اسرار جامعی (مظہر حسین)
نہ صاد ہیں نہ ضاد ہیں اسرار جامعی
واہی کے مستزاد ہیں ناسرار جامعی
زنجیر اتحاد یہ ہوں گے کبھی مگر
اب بانئی فساد ہیں اسرار جامعی
(ارشد علی)
ادھر فتنہ معاصرین میں ایک حشر بپا تھا ادھر علامہ بہار کے مشاعرے مارتے ہوئے بھوپال پہنچے۔ اہل بھوپال نے سر آنکھوں پر بٹھایا۔انہوں نے اپنے ظریفانہ کلام کے قہقہوں سے آسمان اڑا دیے۔ فاتح بھوپال کی واپسی پر اخباروں سے جب مخالفین عظیم آباد کو ان کی تابڑ توڑ کا علم ہوا تو وہ کباب ہو گئے۔
یہ سلسلہ مزید چلتا رہا جس کی فہرست کافی طویل ہے لیکن آخر میں منظور عثمانی کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے بات ختم کرتی ہوں:
،، اسرار صاحب کے والہانہ و عامیانہ انداز نے بھی انہیں ہلکا کرنے میں اچھا خاصا پارٹ پلے کیا۔ قدرت نے انہیں باوقار زندگی گزارنے کے لیے وسائل سے نوازا تھا۔ جب بطور شاعر ان کا ورود ہوا تو وہ ایک بڑے ادارے کے مالک اور سربراہ تھے لیکن آہستہ آہستہ اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے، انہیں سوچنا چاہیے تھا کہ سارے مشاہیر رشید احمد صدیقی، پطرس بخاری،مشتاق احمد یوسفی،ابن انشاء ، کنہیا لال کپور ، شفیق الرحمٰن ،کرنل محمد خان اور مشفق خواجہ وغیرہ طنز و مزاح نگار ہونے کے علاوہ بھی بہت کچھ تھے۔ارے صاحب،، شاعری تو ذریعہ عزت غالب کے لیے بھی نہ بن سکی( چہ جایئکہ مزاحیہ شاعری)
مختصر ، اسرار صاحب نے جتنی کوشش اپنے کو کم کرنے کی کی،اس سے آدھی بھی ابھارنے کی کی ہوتی تو ان کا مقام بہت اونچا ہوتا۔وہ تو کہیے کہ ان کی پختہ مشقی، فنی رچاو، بلیغ نظری،تضحیک سے پاک ،بلاغت ، نادر مزاجی سے بھرپور شاعرانہ عظمت، نایاب حس مزاح،ستھرے خیالات ایسی خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے آنے والی نسلیں انہیں فراموش نہیں کر پائیں گی۔
پرفیسر جگن ناتھ آزاد کے لفظوں میں:
یہ ناقدری زمانے کی جو ہم پر آج ہنستے ہیں
ہمیں یہ روئے گی یہاں جب ہم نہیں ہوں گے
حوالہ جات:
منتخب خاکے (طنز و مزاح) ،منظور عثمانی ،اردو اکادمی دہلی2016
شاعر اعظم، اسرار جامعی، مرتب محمد صغیر حسین،لبرٹی آرٹ پریس پٹودی ہاؤس 1996 طنزپارے،اسرار جامعی، مرتب ابرار کرت پوری،اے زیڈ کلاں محل پریس پٹودی ہاؤس دریا گنج دہلی2013
meharekta88@gmail.com
نوٹ: مضمون نگار شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

