خطوط غالب کے ادبی مباحث (طبع دوم )/ ڈاکٹر مشیر احمد – وسیم احمد علیمی
یوں تو اردو ادب میں خطوط غالب کے جہات و ابعاد مختلف ہیں ۔غالب کے خطوط جدید اردو نثر کی بنیاد ہیں ،زوال آمادہ سلطنت مغلیہ کی بے چارگی اور انگریز سامراج کے ظلم و استبداد کی آنکھوں دیکھی تصاویر ہیں ،مراسلے کو مکالمہ بنانے کی جانب اولین کوشش کا سرا بھی انہیں خطوط سے وابستہ ہے لیکن غالب جیسے نابغۂ روزگار ادیب کے رشحات قلم سے نکلا ہوا ایک ایک ادب پارہ ہنوز تشنۂ ہزار تشریح و تاویل ہے ۔
اس لیے ادب کے کسی طالب علم کو خطوط غالب کے تقریبا تمام مباحث کی تلاش صرف دو دفتیوں کے مابین ہو تو میں ‘خطوط غالب کے ادبی مباحث’(طبع دوم)کی قرات کا مشورہ دوں گا۔زیر نظر کتاب ڈاکٹر مشیر احمد (اسسٹنٹ پروفیسر ،شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی ) کی خطوط غالب میں بے پناہ دلچسپیوں کا نتیجہ ہے ۔
غالب کے خطوط پر اس قدر جامع اور بسیط کتاب اس سے پہلے نہیں تحریر ہوئی ۔خود شمس الرحمن فاروقی مرحوم نے بھی اس کتاب پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مصنف کی سب سے عمدہ کتاب ہے ۔دس سالہ دورانیہ مکمل ہونے کے بعد 2021 میں یہ کتاب دوبارہ مکمل تزئین و آراستگی کے ساتھ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی سے شائع ہو کر منظر عام پر آئی ہے ۔
اس کتاب میں خطوط ِ غالب کا مطالعہ بالکل الگ زاویے سے کیا گیاہے ۔کتاب کا مرکزی حصہ خطوط غالب کے لسانی اور ادبی مباحث پر مشتمل ہے جہاں تحقیق لغت ،مفردات،مرکبات، تذکیر و تانیث ،املا کے مسائل ،اشعار کی تفہیم ،غالب کے اپنے اشعار کی تفہیم خود غالب کی زبانی ،دوسرے شعرا کے اشعار کی تشریح و تاویل ،شعروں پر غالب کی اصلاح ،علم عروض ،قافیہ ،بلاغت اور غالب کے ہمعصر وں پر اظہار رائے پر نہایت آسان ،سلیس اور تدریسی زبان میں مبسوط مباحث موجود ہیں۔
کتاب کی افادیت کی بات کریں تو ایک طرف خطوط غالب کے حوالے سے تمام تر موجود تحقیقات کی تلخیص یہاں مل جاتی ہے تو دوسری طرف یہ کتاب یو جی سی نیٹ ، یوپی ایس سی اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کر رہے طلبہ کے لیے خطوط غالب کے مباحث سمجھنے میں نہایت ممدو معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ شاید اسی نکتے کو ذہن نشیں رکھتے ہوئے گورکھپور یونیورسٹی کے شعبۂ اردو نے اس کتاب کو نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں غالب کے خطوط میں طبی اصطلاحات والفاظ – ڈاکٹر مشیر احمد )
طالب علموں کے لیے اس کتاب کی افادیت اس لیے بھی مستزاد ہو جاتی ہے کیوں کہ آغاز باب میں خطوط غالب کی تدوین و تحقیق اور اس کی تاریخ کا خوش اسلوبی سے احاطہ کیا گیاہے ۔جس سے آئندہ بحثوں کی تفہیم نہایت آسان ہو جاتی ہے ۔
اور پھر اختتامی ابواب میں ان خطوط کی تنقید اور بنیادی مسائل شرح و بسط کے بیان ہوئے ہیں ۔ اخیر میں ماحصل کے طور پر اسی کتاب سے ایک اقتباس ملاحظہ کریں :
‘‘غالب نے اپنے خطوط میں معاصر تاریخ ،سیاسی واقعات اور ادبی مباحث کے علاوہ اپنی زندگی کی ہر بات تحریر کی ہے ،اس کے علاوہ ان کے خطوط میں کہیں کسی کی مدح ہے تو کہیں کسی کی مذمت ہے ،کہیں کسی سے ہمدردی کا اظہار ہے تو کہیں کسی کی مخالفت ہے ،کہیں سنجیدہ مسائل ہیں تو کہیں کسی بڑٰ ی بات کو چٹکیوں میں اڑادیا ہے ،کہیں پر مذہب اور فلسفہ کی گفتگو ہے تو کہیں کٹر پن کا مذاق اڑایا ہے یعنی غالب کے خطوط ان کی سرگزشت حیات ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے اور بھی مسائل کا مجموعہ ہیں ’’۔
بحیثیت مجموعی ڈاکٹر مشیر احمد کی کتاب ‘‘خطوط غالب کے ادبی مباحث ’’ محققین ،طلبہ ،اساتذہ اور ادب نواز سبھوں کے لیے یکساں کار آمد اور مفید ہے ۔ خطوط تنقیدات میں دلچسپی رکھنے والے ہر فرد کو ایک مرتبہ اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے ۔ (یہ بھی پڑھیں غالب کے خطو ط میں طنز و مزاح – ڈاکٹر مشیر احمد )
کتاب کا سابق نسخہ آن لائن قرات کے لیے ریختہ پربھی موجود ہے ۔ اہل شوق اپنی تشنگی وہاں سے بجھا سکتے ہیں ۔
***
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

