مسجد میں نماز ادا کیے ہوئے کئی دن ہوگئے تھےمگر آج تو جمعہ ہے دل کسی طرح مان نہیں رہا تھا کہ جمعہ کی نماز کے بجائے ظہر کے نماز گھر میں ادا کریں ۔ایک طرف لاک ڈائون کی سختی دوسری طرف گھر میں نماز ِ جمعہ کے سلسلے میں الگ الگ مفتیوں کے الگ الگ فتوے سن کر سر ایک دم سے چکرکھا رہا تھا ۔ایسا لگ رہا تھا کہ بہتر فرقے کے مفتیان ککرمتے کی طرح میدانِ اسلامیت پر اچانک اگ گئے ہوں۔ ہر خاص و عام اپنی اپنی جیبوں میں ایک ایک فتوہ لیے گھوم رہا تھا ۔کس کو مانیںکس پر عمل کریں ۔یہ فیصلہ کر نا ذرا مشکل نظر آرہا تھا۔علاوہ ازیں ہمارے شہر میں مسجدیں بھی الگ الگ تھیں۔کوئی بریلوی مسجد تھی تو کوئی دیوبندی مسجد ،کہیں اہلِحدیث کی مسجد نظرآتی تو کسی محلے کی مسجد تبلیغی جماعت کی مسجد کے نام سے جانی جاتی ،تو کسی مسجد پر شیعہ فرقے کا مہر لگا ہوتا۔ان سب کے علاوہ بھی بہت سارے لوگوں کی اپنی اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد تھی ۔ہم تو کسی طرح روزانہ نماز کو ایک ڈیوٹی کی طرح پورا کرہی لیتے تھے مگر اس لاک ڈاؤن میں تھوڑا بہت خشوع و خضوع کا اہتمام بھی کرلیاتا کہ اللہ بھی خوش رہے اور پڑوس میں بھی ہمارے پکے نمازی ہونے کی دھاک جمی رہے۔رات بھر منصوبہ بندی کرتے گزرگئی کہ کہاں نماز جمعہ پڑھی جائے ۔ حکومت کو کیا پتہ کہ ایک مسجد والے دوسرے مسجد والے سے نفرت بھی کرتے ہیں ۔ان کی نظر میں ہم بس مسلمان ہیں۔مگر یہ تو ہم مسلمان ہی جانتے ہیں کہ دیوبند عقاید والے اگر اہل حدیث کے مسجد میں داخل ہوجائیں تو وہ تیکھی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔جماعت والے اگر بریلوی مسجد میں قدم ڈال دیں تو پوری مسجد کوصابن کے ساتھ پاک پانی سے دھو ڈالیں گے۔ بریلوی مسلک کے حامی دیوبند مسجد میں داخل ہونے ایسے کتراتے ہیں جیسے وہ مسجد نہیں مندر ہے۔ (یہ بھی پڑھیں غالب کے خطوط میں طبی اصطلاحات والفاظ – ڈاکٹر مشیر احمد )
خیرصبح صبح خبر ملی کہ دس بیس نمازی کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی جائے گی یہ سنتےہی ہم نےتازہ پانی سے غسل کیا،سرمہ و عطر لگا یااور سر پر پگڑی باندھے نکل پڑا۔ راستے میں ایک پڑوسی نے ٹوکا کہ سڑک کنارے والی مسجد کے آس پا س پولیس گشت کررہی ہے ۔ہفتہ وار نمازی بھی مسجد میں داخل ہونے کے لیے بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہے ہیں۔دو چار تو دن کے نوبجے ہی کسی طرح پولیس سے نظریں بچاکر گھس گئے۔دوتین چہار دیواری پھاند کر مسجد میں کود پڑے ۔امام اور موذن تو ہفتوں سے مسجد میں پڑے اپنی قسمت پر ناز بھی کر رہے تھے اور ہفتہ واری آمدنی نہ ہونے پر اپنی تقدیر کو کوس بھی رہے تھے۔ ایک دو نوجوان بڑی بڑی کھڑکیوں سے چور کی طرح مسجد کے اندر چپکے سے داخل ہو گئے۔چوراہے پر کھڑے ہوکرہم دائیں بائیں سلام پھیر نے والے انداز میں ایک طائرانہ نظر دوڑائ تو دیکھاکہ مین گیٹ کی طرف جانے والے دو نمازیوں کو پولیس ڈنڈے سے اس کارِخیرپر کا ثواب دے رہی تھی۔ہم نے جلدی سے ٹوپی اتاری اور ماسک کو اوپر چڑھائے پچھلے دروازے کی طرف تیز قدموں سے آگے بڑھے ۔ہم اتنے اتاولے تھے اور ایسا محسوس کر رہے تھے کہ آج اگر نماز جمعہ نہیں پڑھیں گے توہم پر کفر کا فتوا چسپاں کر دیا جائے گا۔مگر دورسے ہی پولیس جیپ کے ساتھ ایک دو گودی میڈیا پر نظر پڑ گئی ہم سمجھ گئے اب اگر مسجد میں جانے کی کوشش کی تو سلاخوں کے پیچھے صلوۃ الحاجات ادا کرنی پڑے گی اور پوری قوم ہم پر طعنہ کسے گی کہ کیا ضرورت تھی مسجد جانے کی ،بڑے آئے نمازی بننے، یہ سوچ کرالٹے پیر مہاجر کی طرح گھر کی طرف لوٹے اور اللہ اکبر کہہ کر ظہر کی نیت باندھ لی۔اس کے بعد مسلسل کتنے ہی جمعے مسجد کی میناروں کو دیکھتے گزرگئے۔ (یہ بھی پڑھیں صرف تخلیق کاروں کی خوشی کے لیے / پروفیسر سدھیش پچوری – محمد ریحان )
آئندہ کل جمعتہ الوداع ہے اور ہم نے قسم کھالی کہ چاہے ڈنڈے پڑے یا گرفتاری ہو نماز تو مسجد ہی میں پڑھیں گے ۔ رات سی ۔آئی ۔ڈی افسر کی طرح یہ معلوم کرنے میں گزرگئ کہ کل کب اور کن کن شرائط و ضوابط کے ساتھ نماز ادا کی جائے گی ۔مثلاََ اذان کے بعد کب جماعت کھڑی ہوگی ۔سوشل ڈسٹینسگ پر عمل ہوگا یا کندھے سے کندھے ملا کر قیام کرنا ہوگا۔ کتنے بجے مسجد میں پہنچنا لازم ہوگا۔سر پر ٹوپی ہوگی یا نہیں۔منھ چھپانا ہوگا یا نہیں۔اور دیگر جانکاری حاصل کرکے کل کے لیے کمر کس لئے۔صبح سویرے اٹھ گئے۔بلکہ پورے گھر کو اٹھا دیئے۔تولیہ لئے۔باتھ روم کی طرف بھاگے۔ہڑ بڑ ہڑبڑ گوریے کی طرح نہائے۔گھنٹے بھر پہلے مسجد میں داخل ہونے کے لیے پتلی گلی سے ہوکر سڑک پر آئے ۔اللہ کا شکر کہ خاکی وردی والے کہیں نظر نہیں آئے۔لیکن دور سے ہی سائرن بجاتی ہوئی پولیس گاڑی کی آواز ہماری سماعتوں سےجب ٹکرائی تو آیتہ الکرسی کا ورد شروع کردیئے۔پولیس کو یا خود کو دھوکہ دینے کے لیے ٹوپی اتار کر جیب میں رکھ لیے اور بچتے بچاتے مین گیٹ پر پہنچے ۔پھاٹک پر اتنا بڑا تالا جھول رہا تھا کہ فرشتے بھی شاید اندر جانے کے لیے سو بار سوچتے ہو ں گے۔گول چکر لگا کر پچھلے دروازے پر آئے ۔نظر دوڑائی وہاں بھی کوئی بندہ دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔ایک تالا مگر اندر کی طرف سے بند تھا۔چپکے سے دستک دی۔اندر سے ایک دھیمی سی آواز آئی ۔کون ہے؟ہم بولے ۔سیف ہیں ۔اندر سے جواب ملا کون سیف ؟ کیا کام ہے اور کس لیے دستک دے رہے ہیں؟ ہم بولے نماز پڑھنی ہے ۔اندر سے جواب آیا گھر میں ادا کرلیں۔ گھر میں ،یہ سن کر خون کھول رہا تھا ۔غصے میں ہم بول پڑے کہ دروازہ کھولیے نہیں تو اچھا نہیں ہوگا تب ایسا محسوس ہوا کہ کوئی دروازے کی ایک سوراخ سے مجھے دیکھ رہا ہے پھر دوسرے ہی لمحے ژراف کی طرح گردن نکالے نئے مو ذن صاحب نے کہا جلدی گھس جائیں۔ بغیر کسی آواز کے ہم اپنی چپل اٹھائے اندر گئے اور ایک بار پھر دروازہ مقفل ہوگیا۔ دوماہ کے بعد مسجدمیں جاکر ہم خود کو پکامسلمان سمجھ رہے تھے۔چالیس پچاس نمازی سفید پائجامہ ،کرتا پہنے، سر پر سفید ٹوپی لگائے جنات لگ رہے تھے ۔مزے کی بات یہ کہ مسجد میں بھی لوگ کالے پیلے ماسک لگائے جسمانی دوری بنائے اپنی اپنی جائے نمازپر بیٹھے تھے۔ہم خوشی خوشی صحن میں جانے لگے تو ایک خادم مسجد نے ہماری طرف سیناٹائزر کا ڈبّابڑھا تے ہوئے صحن پر آویزاں بورڈپر لکھے شرائط و ضوابط کو ایک نظر دیکھنے کا مشورہ دیا ۔ ہم پیچھے ہاتھ باندھے بورڈ کے سامنے چشمہ سنبھالے کھڑے ہو گئے اب جو پڑھتے ہیں تو ایسا لگتا تھا کہ گھر میں ہی نماز پڑھنا بہتر ہے ۔ذرا سنیے تو،لکھا تھا کہ اذان ہوتے ہی مسجد میں چلے آئیں اب ہمارے جیسے نمازی جو حی علی الصلاۃ اور حی الفلاح سنتے کبھی مسجد نہیں گئے اب دوڑ نا پڑےگا ۔جماعت کے وقت اندر سے تالا لگا دیا جائے گا۔اپنے سے پنکھے اور بلب کی سوئچ نہ دبائیں۔مسجد کی ٹوپیاں استعمال نہ کریں۔ٹنگی ہوئی تسبیح کو ہاتھ نہ لگائیں۔کسی اور کے جوتا چپل نہ پہنیں۔نماز کے بعد سنت و نوافل گھر جاکر پڑھیں وغیرہ وغیرہ۔ہماری عادت تو یہ ہے کہ خلاف آداب مسجد میں دھڑلے سے دنیاوی گفتگو کرتے ہیں ۔چپکے سے موبائل پر بات بھی کرلیتے ہیں۔پنکھے کو تو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔اے سی لگا ہو تو نماز کے بعد اطمینان سے لیٹ بھی جاتے ہیں مگر اب تو کرونا اور پولیس کے ڈر سے سب قوانین قبول تھے ۔خیر ہم ایک کونے میں بیٹھ گئے ۔ (یہ بھی پڑھیں دین و دانش کا خوبصورت استعارہ پرو فیسر ڈاکٹر شاہ عباد الرحمٰن نشاط صا حب مرحوم – فتح محمد ندوی )
بلند آواز میں خطبہ کی اذان دی گئی بہت سارے لوگ ایمانی جوش میں دروازے پر چلے آئے۔اندر سے امام صاحب کا حکم صادر ہوا باہر کھڑے لوگ اپنے اپنے گھر چلے جائیں یہ سن کر درجنوں افراد مین گیٹ کواس طرح ڈھکیلنے لگے کہ وہ اب ٹوٹے کہ تب ٹوٹے۔ایسا لگ رہا تھا کہ اگر جمعتہ الودع چھوٹ جائے تو وہ دائرہِ ایمان سے خارج ہوجائیں۔ اللہ کا ،کرونا کا،اور پولیس کا واسطہ دے کر انہیں اندر سے ہی سمجھا یا گیا تب لوگ وہاں سے ہٹے۔راستے کی طرف کھلنے والی تمام کھڑکیوں کو بند کیا گیا ۔امام صاحب دل پر پتھر رکھ کر بغیر تقریر کئے محراب پر بیٹھے رہے ۔پھر دھیمی سر میں موذن نے خطبہ کی اذان دی اور امام صاحب نے غالباََ پہلی بار مختصر ترین خطبہ پڑھا۔صف بندی ہونے لگی۔اب تو کوئی دو فٹ کی دوری پر کھڑا ہوگیا کو ئی تین گز پر قیام کے لیے تیا ر ہوگیا۔کہیں تین چار لوگ ایک ساتھ کندھے سے کندھے ملا کر کھڑے ہوگئے۔پیچھے کی دو صفوں میں لوگ یہ کہہ کر ایک ساتھ کھڑے ہوگئے کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ایک طرف سے آواز آئی شور غل نہ کریں ۔پولیس اور میڈیا کی تیرِ نظر ہم پرگڑی ہے۔موقع ملتے ہی تل کو تال کر دیں گی۔ ہم تو نہ صف بندی کے مسائل جانتے ہیں نہ ہمیں نماز کے فرائض اور سنن سے پوری طرح واقفیت ہے۔زندگی میں پہلی باراس طرح وہ جمعتہ الوداع پڑھنے کا موقع ملاکہ سب ہی لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ کیسے کھڑے ہو کر نماز پڑھی جائے۔بس سمجھ لیں کہ ہم سب اس طرح کھڑے تھے جیسے شطرنج کے کھیل میں مہرے۔ کچھ لوگ حی علی الصلاۃ اور حی علی ا لفلاح پر کھڑے ہونے کی ضد پر اڑے رہے۔ مائک کو آرام دیا گیا ۔ کسی کو زور سے تکبیر پکارنے سے منع کیا گیا ۔نماز شروع کرنے سے پہلے امام صاحب نے کہا کہ گیٹ پر تالا ضرور لگا دیں اور زور سے کھانسنے سے پر ہیز کریں۔ہم من ہی من سوچنے لگے چلو اللہ کے ڈر کے بجائے پولیس کے خوف سے خشوع و خضوع سے نماز ادا کرنے کا موقع توہاتھ آیا۔اللہ اکبر کے ساتھ نیت باندھی۔آج امام صاحب کی آواز میںکپکپاہٹ تھی ۔وہ بانگ نہیں تھی جو ہم سننے کے عادی تھے۔اسی درمیان زور سے دروازے پیٹنے کی آواز سنائی دی۔امام صاحب کی آواز مقتدیوں کی سانسوں میں گم ہو گئی۔کچھ لوگوں کی نگاہیں دروازے کی طرف دوڑ پڑیں۔کچھ کے کان کھڑے ہوگئے ۔شاید امام صاحب کے ساتھ سب لوگ اس سوچ میں پڑ گئے کہ کہیں کو ئی پولیس تو نہیں آگئی۔ جب اندازہ ہو گیا کہ خاکی وردی والے نہیں ہیں تو امام صاحب کی قرات کچھ تیز ہوئی۔ تین آیات پڑھ کر رکوع میں چلے گئے اگرتین آیات سے کم میں نماز ہوجاتی تو وہ اس پر بھی عمل کرتے ۔رکوع کی تسبیح نہ جانے کتنی رفتار میں پڑھے سمجھ میں نہیں آیا جھکے اور اٹھے ۔کچھ لوگ رکوع سے اٹھے تو نگاہیں دروازے کا طواف کر آئیں۔دوسری رکعت میں پھر ایک بار دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز سنائی دی ایک بار پھرسب کے کان کھڑے ہوگئے امام صاحب گھبراہٹ میں انّا لل اللہ وانّا اللہ راجعون پڑھ بیٹھے پھر ایک لمحہ کے لیے رکے اور ایتہ الکرسی شروع کردی۔ہم بھی رکوع میں سجدہ کی تسبیح پڑھ بیٹھے۔اور مشکل سے ایک سو پچاس بار سانس لیے ہوںگے کہ نماز ختم ہوگئی۔امام صاحب کے چہرے کا رنگ لال ہو گیا تھا ۔پیشانی سے پسینے کی بوندیں ایک دوسرے سے مل کردونوں کنپٹی پر رینگ رہی تھیں ۔جلدی جلدی میں دو چار رٹے رٹائے جملے کے ساتھ بلند آواز میں یہ دعا مانگی کہ اللہ ہم سب کی حفاظت فرما آخراس طرح ہم نے خوف کے سایہ میں نماز ادا کی۔ہم سوچنے لگے کہ شاید اللہ کے خوف سے زندگی میں ایک رکعت بھی ادا کر لیے ہوتے تو شاید ہماری بگڑی بن جاتی خیر پھر امام صاحب نے نمازیوں سے کہا ٹوپی اتار کے آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے باہر نکلیں۔کوئی کسی سے مصافحہ اور معانقہ نہ کرے۔ گھر پر جاکر بقیہ نماز ادا کرلیں۔ایکا دکّاسب ایسے نکل رہے تھے جیسے کسی کو دفن کرکے آرہے ہوں۔ ہم بھی مولاناکی باتوں پر عمل پیرا ہوئے اور دعا کی کہ اے میرے اللہ !تیرے خوف کے بجائے تیرے ہی خونخوار مخلوق کا ڈردلوں میں لئے ہم نے نماز اداکی ہےتوہماری ٹوٹی پھوٹی اور ڈری ڈرائی نماز کو قبول فرما۔ امین

