رائے بریلی کا قصبہ جائس علمی و ادبی اعتبار سے بڑا زرخیز ہے۔ جو بڑے بڑے علما و فضلا کا مولد و مسکن ہونے کے ساتھ ساتھ ہندی کے معروف شاعر و کوی ملک محمد جائسی اور فارسی و اردو زبان و ادب کے معروف شاعر و ادیب پروفیسر کبیر احمد جائسی کا وطن ہے، جس کی وجہ سے اس قصبہ کواہم مقام حاصل ہے۔
جب اہم اردو شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے بیسویں صدی میں داخل ہوتے ہیں تو اس صدی میں ایک اہم نام سید کلب احمد مانی جائسی کا نظر آتا ہے۔ مانی جائسی عالی نسب سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی پیدائش علمی گھرانے میں ہوئی ۔ آپ کے خاندانی بزرگوں کا سلسلہ ہندوستان سے لے کر عراق تک پھیلا ہوا ہے۔ آپ کے والد ماجد مولوی سید کلب جعفر صاحب عربی و فارسی کے جید عالم تھے اور انگریزوں کے ملازم تھے اس تعلق سے ان کی ملازمت کا سلسلہ پورے ہندوستان میں پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔ مانی جائسی کی ولادت کے وقت ان کے والدین بانس گائوں ضلع گورکھپور میں تھے جہاں ان کے والد بانس گاؤں تحصیل میں ملازم تھے ۔ چنانچہ مانی جائسی کی پیدائش گورکھپور میں ہوئی۔ اپنی ولادت کے سلسلے میں مانی جائسی نے ایک جگہ تحریر کیا ہے:
’’والد ماجدجناب مولوی کلب جعفر صاحب قبلہ مدظلہ العالی نے ملازمت انگریزی اختیار فرمائی اور اس ذریعہ سے ۔۔۔۔۔ ضلع گورکھپور میں قیام فرما تھے ۔ جب راقم کستم عدم سے منصہ شہود پر آیا۔ ‘‘
(مانی جائسی : حیات و شاعری۔سید صفدر حسین عابدی ، ص۔19، دانش محل ، امین الدولہ پارک ، لکھنؤ ، جون 1975)
مندرجہ بالا سطور میں گورکھپور کا ذکر ہوا ہے چونکہ راقم الحروف کا تعلق بھی گورکھپور سے ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ گورکھپور کا ہلکا سا تعارف پیش کردیا جائے۔
شہر گورکھپور علم و ادب کا مرکز اور تہذیب کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے۔ علمی و ادبی اعتبار سے یہ علاقہ بڑا زرخیز ہے۔ یہ شہر مہدی افادی، مجنوں گورکھپوری، فراق گورکھپوری، ریاض خیر آبادی ، گورکھ پرسادعبرت، پریم چند، حفیظ جونپوری، فطرت واسطی، اصغر گونڈوی ، احمر گورکھپوری، عمر قریشی اور شبنم گورکھپوری وغیرہ کے نام سے پہچاناجا تا ہے۔ ان حضرات کے علاوہ شہر گورکھپور پروفیسر محمود الٰہی ، پروفیسر احمر لاری، ڈاکٹر اختر بستوی وغیرہ کی بھی آماجگاہ رہا ہے ۔ اردو زبان و ادب کی ترقی میں ان حضرات کا اہم رول ہے۔
مانی جائسی پیدائش کے بعد دو برس کی عمر تک گورکھپور میں رہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم بانس گائوں کے ایک مدرسے اور قصبہ جائس میں ہوئی ۔ کاس گنج ضلع ایٹہ سے مڈل کلاس پاس کیا۔ مانی کی تعلیم کاسلسلہ ہائی اسکول انٹر سے آگے نہ بڑھ سکا۔ جیسا کہ بعض تحریروںسے اندازہ ہوتا ہے ۔ بیس برس کی عمر سے ہی ملازمت شروع کردی۔ اس تعلق سے آپ نے ہندوستان کے مختلف شہروں میں قیام فرمایا۔ جن میں ملیح آباد، لکھنؤ، پورنیہ، بھوپال، گوالیار، کلکتہ، آگرہ وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ زندگی کے آخری ایام اپنے وطن میں گزارے۔
اس مختصر تعارف کے بعد اب ہم ان کی شاعری پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ جو اس تحریر کا اصل مقصد ہے۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی طرح بیسویں صدی بھی باکمال شعرا کی شاعری سے گنگناتی نظر آتی ہے۔ اٹھارہویں صدی میں میرودرد کی شاعری گلستان اردو کو معطر کیے ہوئے تھی اور انیسویں صدی میں غالب، ذوق ، مومن، انیس و دبیر اور دیگر ممتاز شعرا اردو شاعری کا گیسو سنوار رہے تھے۔تو بیسویں صدی میں بھی ہمیں بہت سے ایسے شعرا نظر آتے ہیں جنھوں نے ترقی پسندی و جدیدیت کے منجدھار میں رہتے ہوئے بھی اپنی شاعری میں کلاسیکی رچائو کو باقی رکھا۔ انھی شعرا میں ایک اہم شاعر مانی جائسی کا بھی ہے۔ انھوں نے ایسے دور میں بھی اپنی غزلوں پر افادیت و مقصدیت کا سایہ نہیں پڑنے دیا۔ انھوں نے اپنی شاعری میں انھی عناصر کو داخل کیا جو ہمیں ولی دکنی سے لے کر غالب تک کی غزلوں میں مستعمل نظر آتے ہیں۔
صنف غزل میں جو عناصرہمیشہ پیش کیے جاتے رہے ہیں مثلاً محبوب کے قاتل ہونے کا بیان، اس کی سنگ دلی، بے رحمی کا تذکرہ، عاشق کے ہجر کی المناک داستان، اسی طرح محبوب کے حسن وجمال ، ناز و انداز ، لب و رخسا، گیسوو مژگاں کے دھار اور اس پر عاشق کے جنون و دیوانگی کی کیفیت کا بیان، غرض کہ گلستان غزل کے تمام پھول، پنکھڑیاں، بلبل وصیاد سب کے سب عناصر ہمیں مانی جائسی کی شاعری میں نظر آتے ہیں۔
مانی جائسی نے اپنے شعری سرمایہ میں غزلوں کے ساتھ ساتھ دیگر اصناف شاعری کو بھی جگہ دی ہے۔ ان کے یہاں ہمیں حمد ونعت ، سلام، منظومات، قصائد، چاربیت، قطعہ تاریخ کے علاوہ غالب کی شاعری پر تخمیس کردہ اشعار بھی ملتے ہیں۔ ان کی شاعری کا بیشتر سرمایہ تو غزلوں پر ہی محیط ہے جس میں کلاسیکی رچائو کے ساتھ ان کی اپنی انفرادیت بھی ہے۔
اردو شاعری میں غزلوں کے موضوعات تقریباً ایک جیسے ہی رہے ہیں اور تمام شعرا نے مختلف انداز میں انھی موضوعات کو شعری پیکر عطا کیا ہے۔ مانی جائسی کی غزلوں کو پڑھ کر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انھوں نے دنیائے غزل کو نئے رنگ و آہنگ اور نت نئی ترکیبوں سے اس کے گیسو سنوارے ، اور اپنی شاعری میں جاذبیت اور چمک دمک پید اکی ہے۔
محبوب کے گیسو کا مضمون ایسا سدا بہار موضوع ہے جس پر تقریباً تمام شعرا نے طبع آزمائی کی ہے ، کسی نے اسے ناگن سے تشبیہ دی ہے اور کسی نے اسے کالی گھٹاؤں سے تعبیر کیا ہے۔ اور سب کے یہاں تقریباً یہی پہلو حاوی نظر آئے گا کہ عاشق محبوب کے گیسوؤں کا گرویدہ ہے اور اس کی آرزو ہے کہ گیسوئے محبوب اس کے دوش پر دراز رہے۔ مانی جائسی کی انفرادیت دیکھیے کہ کس طرح انھوں نے اس مضمون کو باندھا ہے کہ محبوب خود بخود اپنے گیسو کو دوش عاشق پر دراز کرنے کے لیے فکر مند ہوجاتا ہے اور آسانی سے عاشق کی مراد پوری ہوجاتی ہے ؎
مشتری تک نہ جو پہنچے جنس بے مصروف ہے وہ
دوش عاشق پر نہ بکھرے جو وہ گیسو ہی نہیں
مانی جائسی نے غزلیہ شاعری کی جملہ روایات کا لحاظ رکھتے ہوئے محبوب کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی کوشش کی ہے اور محبوب سے وابستہ تمام لوازمات کا بیان اپنی شاعری میں احسن طریقے سے کیا ہے ۔ جب وہ محبوب کی سنگ دلی اور بے مروتی کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس طرح ؎
ان کی پلکیں تک نہ بھیگیں سن کے افسانہ مرا
یعنی گویا وہ محبت کی حکایت ہی نہ تھی
ستم نہ ترک کرو، زحمت ستم نہ کرو
مجھے ہے ظرفِ دلِ درد آشنا معلوم
آج تو ظالم کی آنکھوں میں مروت ہی نہ تھی
مجھ میں اور اس میں کبھی جیسے محبت ہی نہ تھی
محبوب کی چال کو قیامت کہنا اردو شاعری میں کوئی جدت نہیں رکھتا لیکن مانی جائسی نے اس مضمون کو جس نرالے انداز سے باندھا ہے اس میں جدت ہے ؎
اب بھی اے واعظ وہی تخویفِ دار و گیر حشر
آپ کے نزدیک چال ان کی قیامت ہی نہ تھی
مانی جائسی کی غزلوں کا مطالعہ کرتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاں عشق و محبت کا تصور میر کی طرح نہیں ہے ؎
دور بیٹھا غبار میر اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا
بلکہ مانی کے یہاں عاشق ، غالب و مومن کے گلستان تغزل کا خوشہ چیں معلوم ہوتا ہے ۔ جس طرح غالب کی غزلوں میں پروان چڑھنے والا عاشق محبوب کے ساتھ دھول دھپا کرنے کی ہمت رکھتا ہے ؎
دھول دھپا اس سراپا ناز کا شیوہ نہیں
ہم ہی کر بیٹھے تھے غالب پیش دستی ایک دن
اسی طرح مانی جائسی کے گلستان غزل کی سیر کرنے والا عاشق بھی معشوق کو دھمکی دینے کی جرأت رکھتا ہے کہ دنیا میں ایک ہی حسین نہیں بلکہ لاکھوں حسینائیں اس دنیا میں موجود ہیں لیکن ہم اپنی وضع داری سے مجبور ہیں۔ کہ ہر جگہ دل لگی نہیں کر سکتے ؎
مثل بلبل گل بہ گل جانا مری خو ہی نہیں
ورنہ سنتا ہوں حسیں لاکھوں ہیں اک تو ہی نہیں
مانی جائسی کی غزلوں میں عشق مجازی کی نیرنگیوں کے ساتھ ساتھ عشق حقیقی کی شفافیت بھی نظر آتی ہے اور ان کے اشعار میں میدان محشر، آخرت اور تقدیر کا بیان بھی ملتا ہے۔ اسی طرح ان کی غزلوں میں تصوف کی جھلکیاں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
ذرے افسانے سناتے ہیں، کہیں تم تو نہیں
جان عالم یہ تمھارا ہی تکلم تو نہیں
جلوہ گر بھی وہ اگر ہوں تو کہاں تابِ نظر
طالب دید ترے ہوش کہیں گم تو نہیں
سارے عالم کی رقابت کا جنوں ہے مجھ کو
اور بنیاد جنوں آپ کی یکتائی ہے
دیر و کعبہ، دشت و دریا، کوہ و صحرا، ہر جگہ
ذرے ذرے کا تقاضا ہے سجدا کیجیے
مانی جائسی نے میدان محشر میںلوگوں کی آمد کی کیفیت کا بیان کتنے حسین پیرائے میں کیا ہے کہ اس وقت سب کے جسم سے کپڑے اتر ہوئے ہوں گے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جس کا بیان قرآن و حدیث میں ہوا ہے، لیکن اس میں مانی جائسی نے ایسی علت پیدا کردی ہے جس سے دنیاوی زندگی کا نقشہ بھی ہماری نظروں کے سامنے آگیا ہے ؎
حشر میں بھی رہ زنی کا خوف دامن گیر ہے
آرہے ہیں لوگ، مرقد سے کفن چھوڑے ہوئے
مرنے کے بعد انسان قبر کی کھائی میں خالی ہاتھ جاتا ہے یہ بھی ایک بدیہی امر ہے لیکن مانی جائسی نے اس مضمون کو بیان کرنے میں کیسی اثر انگیزی پیدا کردی ہے وہ قابل تحسین ہے ؎
خاک مرقد میں ہے مانیؔ کس قیامت کی کشش
چپ چلے آتے ہیں انساں مال دھن چھوڑے ہوئے
مانی جائسی کی غزلوں میں ایسے اشعار جا بجا نظرآجاتے ہیں جو انسانی زندگی میں رہبری کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں۔ وہ شخص جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنی دلی مراد نہ پاسکے ایسے شخص کے لیے مانی کا یہ شعر یقینا دلجوئی کرے گا ؎
وقت آتا ہے گزرنے کے لیے اے مانیؔ
عیش کا ذکر ہے کیا غم کی شکایت کیسی
جب ازل ہی سے کوئی اور ہے دل کا مالک
پھر جو دل چاہے وہ ہو جائے یہ حسرت کیسی
ایک تخلیق کار زندگی کو مختلف زاویوں سے دیکھتا ہے اور دنیا کی بے ثباتی کا بیان مختلف پیرائے میں کرتا ہے۔ کوئی زندگی کو پانی کے بلبلے سے تشبیہ دیتا ہے تو کوئی خواب سے تشبیہ دے کر یہ بتانا چاہتا ہے کہ زندگی اور موت کے بیچ دوری کتنی مختصر ہے۔ فانیؔ بدایونی نے زندگی اور موت کی قربت یوں بیان کی ہے ؎
اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
اور امیر مینائی نے اس حقیقت کا اعتراف کچھ اس طرح کیا ہے ؎
زیست کا اعتبار کیا ہے امیرؔ
آدمی بلبلہ ہے پانی کا
لیکن زندگی اور موت کے بیچ فاصلہ کتنا کم ہے اس کا بیان جب مانی جائسی کرتے ہیں تو ان کا انداز کچھ اور ہے ملاحظہ کیجیے ؎
زندگی سے موت تک ہے فاصلہ اک سانس کا
پھر بھی کیا معلوم کتنی دور ہیں منزل سے ہم
مانی جائسی کے کلام میں تلمیحات کا بھی بہت خوبصورتی کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں تمام قرآنی واقعات اور اسلامی علوم سے کس حد تک واقفیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں قرآنی واقعات سے متعلق تلمیحات بھی نظر آتی ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎
فراز طور انھیں پیارا، نشیمن مجھ کو پیارا تھا
مجھی کو بعد موسیٰ برق نے اہل نظر جانا
زلیخا عصمت دیوانگی تیری مسلم ہے
کہ ہے پیوندِ دامانِ نبی چاکِ گریباں پر
حضرت یوسف ؑ کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا تھا اس کی ساری تفصیلات مانی جائسی نے یہاں اجمالاً جمع کردی ہیں کہ یوسفؑ کس طرح عزت بچا کر زلیخا کے چنگل سے آزاد ہوئے اور پھر جب الٹا زلیخا نے ہی ان پر الزام تراشی کی تو کس بنیاد پر یوسفؑ کے حق میں فیصلہ ہوا۔ قاضی نے جب دیکھا کہ یوسفؑ کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے تو اس نے فیصلہ کیا کہ اگر یوسفؑ مجرم ہوتے تو ان کا گریبان چاک ہوتا نہ کہ ان کا پچھلا دامن۔ پچھلے حصہ کا دامن پھٹنا اس بات کی علامت ہے کہ یوسفؑ بھاگ رہے تھے اور پیچھے سے زلیخا نے پکڑنے کی کوشش کی۔ اسی واقعہ کی طرف مانی جائسی نے مصرعۂ ثانی میں اشارہ کیا ہے۔
مانی جائسی غالبؔ سے بہت متاثر تھے۔ ان کی شاعری کے مطالعہ سے شدت سے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ مرزا غالب سے انھیں ذہنی مناسبت تھی اور انھوں نے غالب کی شاعری سے استفادہ بھی کیا ہے۔ انھوں نے غالب کی مختلف غزلوں پر تخمیس کی ہے اور مختلف اشعار میں غالب کے قول کو بنیاد بنا کر اپنی بات کہی ہے، مثلاً یہ شعر ؎
اور کچھ دن صبرمانیؔ یاد رکھ غالب کا قول
قیدِ عمر و بندِ غم کی ایک ہی معیاد ہے
مانی جائسی نے اکثر جگہ غالب کا ذکر کیا ہے۔ ایک شعر ملاحظہ ہو ؎
تو نے مانی دلِ غالب سے یہ غم دور کیا
کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد
مانی جائسی کی شاعری اس بات کی غماز ہے کہ انھوں نے غالب کی بہت پیروی کی اور ان تک پہنچنے کی بہت کوشش کی ہے لیکن وہ خود ہی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم غالب کے فن کو نہیں پہنچ سکے۔ اس کا اظہار انھوں نے اس شعر میں کیا ہے ؎
اپنے ہی فن پہ مجھے ناز ہے اب اے مانیؔ
کیا کروں جب اسداللہ کو پا ہی نہ سکوں
مانی جائسی نے غالب کی پیروی اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کس حد تک کوشش کی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے غالب کی مختلف غزلوں کے ہر شعر کو تخمیس کی صورت دے دی ہے۔ اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ مانی جائسی کا ذہن اور سوچنے کا انداز غالب سے قریب تر تھا ورنہ غالب کی غزلوں کو سمجھنا اور اس کی تہ تک جانا ہی ایک مشکل امر ہے چہ جائے کہ ان کی غزلوں کے اشعار کو تخمیس کی شکل دینا۔ اور غزلوں کے ہر شعر کی مناسبت سے ایسے اشعار کہنا جن میں غالب کی اصل غزل کی معنویت اور اثر آفرینی موجود ہو اور غالب کے اصل شعر اور مانی جائسی کے تخمیس کردہ شعر میں ایسی ہم آہنگی اور منطقی ربط ہو کہ جسے غالب کی اصل غزل تک رسائی نہ ہو وہ یہ فیصلہ ہی نہ کرسکے کہ غالب کا شعر کون سا ہے اور مانی کا کون سا۔ یہ ایسی ذہانت اور مہارت ہے جسے مانی جائسی جیسے باکمال شاعر ہی کرسکتے ہیں۔ جنھیں غالب سے قلبی لگائو اور ذہنی ہم آہنگی ہو اور جنھوں نے غالب کی شاعری کے سمندر میں خوب غوطہ زنی کی ہو۔ بطور مثال چند اشعار پیش خدمت ہیں۔ غالب کی ایک مشہور غزل کا مطلع ہے ؎
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے
اس کی تخمیس مانی جائسی نے اس طرح کی ہے ؎
خود اپنی زندگی کو پریشاں کیے ہوئے
آنکھوں کو انتظار میں درباں کیے ہوئے
بیٹھا ہوںکب سے جشن کا ساماں کیے ہوئے
’’مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے‘‘
دوسری مثال ملاحظہ ہو۔ غالب کا شعر ہے ؎
مانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوس
زلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے
اس پر مانی جائسی نے اس طرح تخمیس کی ہے ؎
قسمت سے بزم ناز میں پایا تھا دسترس
نظارۂ جمال میں گزرے تھے کچھ نفس
اب آرزو ہے پھر اسی جلوے کی اور بس
’’مانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوس
زلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے‘‘
اس میں مانی جائسی نے جو ربط اور ہم آہنگی پیدا کردی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں کوئی شعر الگ سے بعد میں نہیں جوڑا گیا ہے بلکہ پورا شعر ایک ہی شاعر کا کلام معلوم ہوتا ہے۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دوچار اشعار مزید درج کردیے جائیں تاکہ جو مانی جائسی کے منتخب کلام کا مطالعہ نہ کرسکے وہ بھی ان کے کلام کی لطافت سے محروم نہ رہے ۔ غالب کا شعر ہے ؎
شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے
شعلۂ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد
مانی جائسی کی تخمیس ؎
جب زمانے سے کوئی سوختہ جاں اٹھتا ہے
ساتھ ہی ساتھ اثر سوزِ نہاں اٹھتا ہے
بیٹھ جاتا ہے دل اور درد فغاں اٹھتا ہے
’’شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے
شعلۂ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد‘‘
غالب کی مشہور زمانہ غزل کا شعر ؎
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
اس شعر کی تخمیس مانی جائسی نے نرالے انداز میں کی ہے ؎
جو ذرا بھی ان پہ قابو، جو کچھ اختیار ہوتا
تو دلِ حزیں کا اپنے نہ یہ حالِ زار ہوتا
ہمیں کیا سکون ہوتا، ہمیں کیوں قرار ہوتا
’’یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا‘‘
غالب کی غزلوں پر مانی جائسی کے تخمیس کردہ اشعار کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ غالب کی تقریباً دس مکمل غزلوں کے ہر شعر پر مانی جائسی کی تخمیس ’’انتخاب کلام مانی جائسی، مرتبہ وقار مانوی‘‘ میں ہی موجود ہے جو مانی جائسی کی شاعرانہ صلاحیت کی غماز ہیں اور ان کی فن کارانہ بصیرت کی عکاس بھی۔
اس گفتگو کی روشنی میں ہم یقینا مانی جائسی کو بیسویں صدی کا بڑا شاعر کہہ سکتے ہیں اور انھیں مذکورہ صدی کے اہم شعرا کی فہرست میں شامل کرسکتے ہیں۔ جو ش ملیح آبادی نے جہاںاپنی خودنوشت ’’یادوں کی بارات‘‘ میں دیگر اہم شعرا کا تذکرہ کیا ہے وہیں مانی جائسی کی شاعرانہ صلاحیت اور ذہانت کو بھی سراہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’قیامت کے ذہین، نہات خوش فکر غزل گو اور ایسی رحم انگیز دردمندی سے غزل پڑھنے والے انسان تھے کہ یہ گمان ہوتا تھا کہ ان کے سینے میں ایک ایسا دل ہے کہ صبح ازل سے شام ابد تک برابر پھٹتا ہی چلا جائے گا۔‘‘
(بحوالہ: انتخاب کلام مانی جائسی، مرتبہ: وقار مانوی، 2015، ص۔10)
ماحصل یہ کہ مانی جائسی ہماری شعری روایت بالخصوص غزلیہ شاعری میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان کے بیشتر اشعار گرچہ زمانہ کی خرد برد کے شکار ہوگئے تھے اور منظر عام پر نہ آسکے تھے لیکن اب جب کہ ان کا منتخب کلام محترم وقار مانوی کی کاوشوں سے ادبی منظر نامے پر آچکا ہے تو اہل علم و ادب ضرور اس سے مستفید ہوں گے اور اس کی ادبی قدروقیمت کا تعین کریں گے۔
٭٭٭
Dr. Musheer Ahmad
Department of Urdu
Jamia Millia Islamia, New Delhi-25
dr.musheer1978@gmail.com
9560786298
9452187872
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

